Home O Herbal

پیر, 02 19th

Last updateجمعرات, 21 جنوری 2016 6pm

آشوب چشم

سکون و آرام، حرکات اور آشوب افزا چیزوں سے پرہیز کے ذریعہ آشوب چشم کا علاج نبوی ﷺ

اس سے پہلے گزر چکا کہ جناب نبی کریم ﷺ نے صہیبؓ کو چھوہارے کا پرہیز بتایا اور اس کے کھانے سے ان کو روکا جبکہ ان کو آشوب کا مرض تھا اور حضرت علیؓ کو تازہ کھجور کے استعمال سے منع فرمایا اس لیے کہ آپ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔
اور ابو نعیم نے اپنی کتاب ”طب نبوی ﷺ“ میں لکھا ہے کہ ازواج مطہراتؓ میں سے اگر کسی کو آشوب چشم ہوتا تو جب تک اس سے شفاءنہ ہوجاتی آپ ان سے مباشرت نہ فرماتے۔
رمد (آشوب چشم) آنکھ کے طبقہ ملتحمہ کا ورم حار ہے یہ طبقہ وہ سفید حصہ ہوتا ہے جو ہمیں کھلی آنکھوں سے نظر آتا ہے اس کا سبب یہ ہے کہ آنکھ کی جانب اخلاط اربعہ میں سے کسی کی ریزش یا حار ریاح بدن اور سر میں کمیت کے اعتبار سے بڑھ جاتی ہے جس کا ایک حصہ آنکھ کی طرف رخ کرتا ہے یا دھوپ سے آنکھ متاثر ہوجاتی ہے جس سے طبعیت خون اور روح کی وافر مقدار آنکھ کو مہیا کرتی ہے۔
طبعیت اس ارسال کثیر سے آنکھ کو آفتاب کی لپٹ سے بچانا چاہتی ہے جس سے آنکھ کے کناروں پر ورم آجاتا ہے اس لیے کہ دھوپ کی لپٹ سے عضو ماﺅف ہوجاتا ہے حالانکہ قیاس اس کے خلاف چاہتا ہے۔
یوں سمجھئے کہ جس طرح زمین سے دو قسم کے بخار اٹھ کر فضا کی جانب جاتے ہیں ایک حار یا بس دوسرا حار رطب تو یہ دونوں بخارات تہہ بہ تہہ بدلی کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور ہماری آنکھوں کو آسمان نظر نہیں آتا قعر معدہ سے بھی اسی قسم کے بخارات اوپر کی طرف اٹھتے ہیں جن کی وجہ سے دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے اور اس سے مختلف بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، اگر طبعیت میں قوت ہے اور ان کو خیاشیم کی جانب پھینک دیتی ہے تو زکام ہوجاتا ہے اور اگر نتھنوں اور کوے کی جانب پھینک دیتی ہے تو خناق ہوجاتا ہے اور اگر پہلو کو روانہ کرتی ہو تو شوصہ کی بیماری ہوتی ہے اور اگر سینے کی طرف آتی ہے تو نزلہ ہوجاتا ہے اگر دل کی جانب رخ کرتی ہے تو خفقان ہوتا ہے اور اگر آنکھ کی طرف چل پڑتی ہے تو آشوب چشم ہوتا ہے اور اگر جوف کی طرف چل پڑی تو سیلان الرحم اور دماغ کے مجاری کی طرف رخ ہو تو نسیان ہوجاتا ہے اور اگر دماغ اس سے تر ہوجائیں اور اس کے عروق اس کی وجہ سے سیراب ہوجائیں تو سخت نیند کا غلبہ طاری ہوتا ہے اسی وجہ سے نیند رطوبت سے ہوتی ہے اور خشکی سے شب بیداری ہوتی ہے، اور اگر بخارات سے نکلنا چاہیں اور ایسا نہ ہوسکے تو پھر درد سر پیدا ہوتا ہے جس سے مریض کو نیند نہیں آتی اور اگر سرکے کسی جانب وارد ہوجائے تو پھر آدھ سیسی ہوجاتی ہے اور اگر سر کے بالائی حصہ اور نیچے سے اس کا تاثر ہو تو بیضہ کی بیماری ہوتی ہے اگر دماغ کا پردہ اس سے ٹھنڈا پڑجائے یا گرم تر ہوجائے اور ریاح جوش مارنے لگے تو چھینک آنے لگتی ہے اور اگر رطوبت بلغمی میں ہیجان ہوجائے کہ حرارت غریزی اس سے مغلوب ہوجائے تو بے ہوشی اور سکتہ طاری ہوتا ہے اور سوداءمیںجوش آجائے جس سے دماغ کی فضا تاریک ہوجائے تو اس سے وسواس کی بیماری ہوتی ہے اور اگر اعصاب کے مجاری کی طرف اس کا رخ ہوجائے تو طبعی مرگی ہوگی۔
اور عقود و جذور مجاری دماغ میں اس کی ریزش ہو تو فالج ہوجاتا ہے اور اگر بخارات سے پیدا ہو جس سے دماغ گرم ہوجائے تو برسام ہوتا ہے اور اگر سینہ بھی اس میں شریک ہو تو سرسام کہلاتا ہے۔ غرض اس بخار کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ اس سے متعدد امراض پیدا ہوتے ہیں مگر بنیادی طور پر یہ معدہ ہی کی عنایت ہے۔
حاصل یہ کہ اخلاط جسم انسانی خواہ اس کا کوئی حصہ بدن سے متعلق ہو یا سر سے آشوب چشم کے وقت جوش میں ہوتے ہیں اور جماع سے اس کا جوش اور اسکی حرکت اور بڑھ جاتی ہے اس لیے کہ جماع میں جسم انسانی روح اور طبعیت تینوں ہی حرکت میں ہوتے ہیں بدن میں ہمیشہ حرکت ہونے کی وجہ سے گرمی پیدا ہوتی ہے اور نفس کی تحریکات حصول و تکمیل لذت کے لیے غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ اور نفس و بدن کی تحریکات کے باعث روح میں بھی حرکت آجاتی ہے اور طبعیت کی حرارت کا سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ منی کی اس خاص مقدار کو رحم تک پہنچانے میں مشغول ہونا اپنا فرض سمجھتی ہے کہ اس کے بغیر تکمیل نطفہ ممکن نہیں۔
اور یہ بات تو معلوم ہی ہے کہ جماع ایک تحریک کلی عمومی ہے جس میں انسان کا جسم اس کی ساری قوتیں طبعیت اخلاط غرض سبھی چیزیں حرکت میں آجاتی ہیں حتیٰ کہ روح و نفس بھی متحرک ہوجاتا ہے۔ اور چونکہ ہر حرکت سے اخلاط میں جوش آتا ہے تو وہ رقیق ہوجاتے ہیں ان دونوں باتوں کی وجہ سے ان کا کمزور اعضاءکی طرف ریزش کرنا نہایت درجہ آسان ہوجاتا ہے اور آنکھ کی لطافت و ضعف آشوب کے وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے اس لیے ایسے موقع پر جماع سے بڑی حد تک نقصان و ضرر کا اندیشہ ہوتا ہے۔
بقراط نے اپنی کتاب ”الفصول“ میں تحریر کیا ہے کہ کشتی میں سفر کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ حرکت سے بدن میںہیجان پیدا ہوتا ہے۔ گو یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آشوب چشم جہاں بیماری ہے وہیں بہت سے منافع بھی اس بیماری کے ساتھ انسانی جسم کو حاصل ہوتے ہیں، آشوب سے آنکھ کا استفراغ اس کی آلائشوں کی صفائی، سر اور جسم انسانی میں پیدا ہونے والے فصولات و گندگیوں سے تنقیہ ہوجاتا ہے اور غصہ، رنج و غم، شدید قسم کی دشوار و گراں حرکت اور مشقت طلب کاموں سے نفس اور جسم کو پہنچنے والے نقصان اور اذیت کا تدارک و تلافی آشوب چشم سے ہوجاتا ہے۔ سلف کے آثار میں یہ بات دیکھی جاتی ہے کہ آشوب چشم سے گھبراﺅ نہیں، کیونکہ اس سے روشنی زائل کرنے والی رگیں منقطع ہوجاتی ہیں۔
اس کا بہترین طریقہ علاج اس بیماری کے بعد مکمل راحت و سکون ہی ہے اس طرح آنکھ ملنے اور پونچھنے سے بھی گریز کرنا ضروری ہے، اس کے بر خلاف کرنے سے مادہ کا انصباب تیزی سے ہونے لگتا ہے، بعض اسلاف نے بڑی چبھتی بات کہی ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے ساتھیوں کا حال آنکھ کی طرح ہے۔ آنکھ کا علاج اسے چھونے اور پونچھنے سے بچنا ہے۔
ایک مرفوع حدیث میں ہے، واللہ اعلم کی آشوب چشم کا علاج آنکھ میں ٹھنڈا پانی ٹپکانا ہے، اطباءنے رمد حار کی بہترین دوا ٹھنڈا پانی لکھا ہے اس لیے کہ پانی ایک سرد دوا ہے۔ جس سے آشوب چشم کی حرارت دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اسی بنیاد پر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ اگر وہ کرتی جسے رسول اللہ ﷺ نے کیا تو تمہارے لیے بہتر ہوتا اور تم آنکھ کی بیماری سے شفایاب بھی ہوجاتی اپنی آنکھ میں پانی کی چھینٹ دیتی اور یہ دعا پڑھتی:
”اے لوگوں کے رب تو تکلیف ختم کردے اور مجھے شفا عطا کر تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفاءنہیں جو کسی بیماری کو نہیں چھوڑتی“۔
ہم نے اس سے پہلے کئی بار یہ بات دھرائی ہے کہ یہ علاج خاص ممالک و منطقہ کےلئے مخصوص ہے۔ دوسرے یہ کہ درد چشم کی بعض مخصوص صورتوں میں یہ علاج شافی و کافی ہے اس لیے کہ نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے جزوی علاج کو کلی عمومی نہ سمجھا جائے اور نہ کسی کلی عام کو جزءخاص تسلیم کیا جائے، کیونکہ اس انداز سے غلطی کے وقوع کا اندیشہ ہے اور جو صورت بھی سامنے آئےگی۔ وہ کچھ درست ثابت نہ ہوگی۔

آشوب چشم
BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS