Home O Herbal

پیر, 02 19th

Last updateجمعرات, 21 جنوری 2016 6pm

بخار

پہلی قسم ادویہ طبعیہ سے علاج کرنے کے بیان میں بخار کے علاج کے متعلق ہدایات نبوی ﷺ

صیح بخاری و مسلم دونوں کتابوں میں امام نافع ؒنے ابن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
”بخار یا تیزی بخار جہنم کی لپٹ ہے، اسے سرد کر دو پانی کے ذریعہ چھینٹا، وضو، غسل کسی بھی طریقے سے“۔
اطباءکے ایک طبقہ کے درمیان اس حدیث کا مفہوم کم علمی کی وجہ سے زیر بحث رہا کہ آیا یہ بھی کوئی طریقہ علاج ہے بلکہ ناواقفیت نے انہیں انکار پر ابھارا اور انہوں نے اس طریقہ کو بخار کے علاج میں نافی علاج کہنا شروع کردیا، جس کی وضاحت ہم ذیل میں کر رہے ہیں تاکہ اس سے اس طریقہ علاج کی خوبیاں آئینہ ہو کر سامنے آجائیں، آپ کو اس کے سمجھنے سے پہلے رسول اللہ ﷺ کے طریق تخاطب کو سمجھنا چاہیے ان کا انداز دو طرز پر ہوتا ہے ایک پوری روئے زمین کے با شندوں کے لیے دوسرے مخصوص باشندوں اور محدود لوگوں کے لیے جیسے کہ اس حدیث میں ہے:
”کہ قبلہ رخ ہو کر نہ پاخانہ کرو نہ پیشاب نہ ان دونوں فعل کے وقت قبلہ کو پشت کی طرف کرو، بلکہ اپنا رخ ان دونوں حالتوں میں مشرق یا مغرب کی طرف کر لو“
ظاہر ہے کہ اس خطاب میں نہ اہل مغرب نہ اہل عراق بلکہ اس سے مراد اہل مدینہ ہیں یا وہ لوگ ہیں جو اس رخ پر پڑتے ہوں جیسے شام وغیرہ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
”جو مشرق و مغرب کے مابین ہے، قبلہ ہے جبکہ بیت اللہ کا رخ کرنا مقصود ہو“۔
اس سے یہ بات صاف ہوگئی کہ اس حدیث میں آپ کے مخاطب صرف اہل حجاز ہیں، یا اس کے ملحقات جو اس رخ پر ہیں اس لیے کہ اہل حجاز کو عموماً حمی یوم عرضی سے سابقہ پڑتا ہے جس میں سورج کی شدت حرارت کی ضرر رسانی اس بیماری کو پیدا کردیتی ہے اور بخار کی اس قسم میں ٹھنڈا پانی یا ٹھنڈے پانی سے غسل دونوں ہی مفید ہو تے ہیں، اس لیے کہ حمی کی تعریف ہی ہے کہ وہ حرارت غریبہ جو قلب میں بھڑک اٹھے اور پھر اس کا اثر روح اور خون شرائین و عروق کے ذریعہ سرایت کرکے پورے بدن میں پھیل جائے اور اس کی وجہ سے ایسا اشتعال ہو کہ اسکے طبعی افعال کو بھی دھچکا لگ جائے، اس بخار کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم عرضی ہے جو ورم یا کثرت حرکت یا دھوپ کی شدت یا غیر معمولی غصہ وغیرہ کی وجہ سے وجود میں آتی ہے۔
دوسر ی قسم مرضی ہے، اس کی تین قسمیں ہیں۔
پہلی قسم ابتداءمادہ میں ہوتی ہے، اس مادہ سے پورے بدن میں گرمی سرایت کر جاتی ہے، اگر اسی مادہ کا تعلق روح سے ہوتو اسے ”حمی یوم“ کہتے ہیں اس لیے کہ عموما یہ چوبیس گھنٹے کے بعد ختم ہو جاتا ہے، یا زیادہ سے زیادہ تین دن میں ختم ہو جاتا ہے اگر اس مادہ کا تعلق اخلاط سے ہے، تو اسے حمی عفنی کہتے ہیں۔ اس حمی خلطی کی چار قسمیں ہیں۔ صفراوی، سوداوی، بلغمی، دموی، اور اگر اس مادہ کا تعلق اعضاءاصلیہ صلبہ سے ہے تو اسے حمی دق کہتے ہیں پھر ان سب اقسام کی بیسوں قسمیں ہوتی ہیں۔
بخار سے بد ن کو بڑا نفع بھی پہنچتا ہے جو کسی دوا سے نہیں ہوتا، عموما اس قسم کا نفع بخش بخار ایک دن کا بخار ہو تا ہے، حمی عفنی ان موا د کے نضج کے لیے نافع ہوتا ہے، جو غلیظ ہو تے ہیں اور ان کا نضج بلا ان بخاروں کے ممکن نہ ہو، ان بخاروں سے ایسے سدے کھل جاتے ہیں جو منافذ انسانی میں دواﺅں کے ذریعہ بھی نہیں کھلتے، غرض جہاں بخار قابل تشویش ہے وہاں نافع بھی ہے۔
آشوب چشم نیا ہو یا پرانا ان بخاروں سے ایسا غائب ہوتا ہے کہ عقل قاصر رہتی ہے کہ یہ کیسے ہوا، اسی طرح بخار فالج لقوہ اور تشنج امتلائی سے بھی نجات کا سبب ہوتا ہے اسی طرح وہ تمام امراض جو فضولات غلیظہ کی بنیاد پر پیدا ہوتے ہیں بڑی تیزی سے ختم ہو جاتے ہیں۔
مجھ سے تو بعض فاضلین اطباءنے بیان کیا کہ بہت سے امراض کے دفاع میں بخار اتنا نافع ہے کہ میں بخار کے مریضوں کو مبارکباد دیتا ہوں کہ لو تمہاری عافیت کا سامان مبارک ہو، بہت سی بیماریوں میں بخار سے اتنا نفع ہوتا ہے کہ عمدہ سے عمدہ اور قیمتی سے قیمتی دوا اتنی نافع نہیں ہوسکتی ہے، اس لیے کہ بخار بدن کے اخلاط فاسدہ مواد کا سدہ کو پکا کر دیتے ہیں اس لیے دوال کے استعمال کے بعد وہ مادے جو نکلنے کے لیے نضج کے بعد تیار ہو تے ہیں بڑی آسانی سے نکل آتے ہیں اس مادہ کے نکل آنے کے بعد مریض کلی طور پر شفا یاب ہو جاتا ہے ۔
ان تفصیلات کے بعد بہت ممکن ہے کہ اس حدیث کا مصداق حمیات عرضیہ ہوں اس لیے کہ حمی عرضی ٹھنڈے پانی میں غوطہ لگانے اور ٹھنڈے برفیلے پانی لے استعمال کے بعد ختم ہو جاتا ہے مریض کو کسی دوسرے اضافی علاج کی ضرورت نہیں ہو تی اس لیے کہ اس قسم کا بخار کیفی حرارت مجردہ کی وجہ سے ہوتا ہے جو روح سے تعلق رکھتی ہے، اس لیے اس کے زائل کرنے میں مجرد کیفیت باردہ اگر مریض کو پہنچادی جائے تو سکون ہوجاتا ہے چونکہ اس میں نضج مادہ استفراغ مادہ کی ضرورت نہیں ہوتی اس لیے اس ترکیب سے اس کی شعلہ فشائی ختم ہوجاتی ہے اور یہی چیز اس بخار کے زوال کا سبب بنتی ہے ۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث میں جس حمی کا ذکر ہے وہ عام ہو اور تمام اقسام بخار اس فہرست میں شامل ہوں، اس لیے کہ جا لینوس جیسے فاضل طبیب نے اس کا اعتراف کیا ہے کہ حمیات میں ٹھنڈا پانی مفید ہوتا ہے چنانچہ انہوں نے اپنی کتاب حلیہ البرءکے دسویں مقالہ میں لکھا ہے کہ اگر کوئی مریض ہٹا کٹا، جوان لعمر شدت حرارت کے وقت بھی شاداب جسم کے ہو یا بخار اپنے انتہا پر ہو اس کے احشاءمیں کوئی ورم نہ ہو، اگر ٹھنڈے پانی سے غسل کرے یا اس میں تیر جائے تو اس کو اس عمل سے نفع پہنچے گا پھر آگے چل کر اس نے کہا کہ ہم اس ترکیب کا بے دھڑک استعمال کرنا جائز ومناسب سمجھتے ہیں۔
رازی نے اپنی کتاب حاوی کبیر میں لکھا ہے کہ مریض کی قوت قوی اور بخار شدید ہو اور نضج مادہ کی علامت دیکھ رہے ہوں، جوف شکم میں ورم نہ ہو نہ ہارنیا ہو تو ٹھنڈے پانی کے پینے سے مریض کو نفع ہوگا، اگر مریض کے جسم میں تازگی ہو اور موسم گرم اور مریض ٹھنڈے پانی کا بیرونی طور پر استعمال کرنے کا عادی ہو، تو اسے ٹھنڈے پانی کے استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔
بعض اطباءنے لکھا ہے کہ اگر بخار کی شدت بڑھ گئی ہو تو ہر بخار میں پانی کا استعمال دو طریقے سے کرنا چاہیے، پہلی صورت ٹھنڈک سے تکمید کی ہے کہ بدن پر ٹھنڈا کپڑا آنس بیگ سے سینک کرائی جائے تاکہ بخار کی شدت کم ہوجائے، اور مریض کو سکون نصیب ہو، دوسری ترکیب یہ ہے کہ بخار کی شدت کے وقت مریض کو بار بار ٹھنڈے پانی کا غرغرہ کلی کرائی جائے اس سے جسم کے تمام اعضاءمیں توانائی آجاتی ہے بالخصوص گردوں کا فعل جن سے جسم کی حیاتیاتی قوت بڑھتی ہے بڑی حدتک ان میں ابھار آجاتا ہے اور صحیح انداز سے کام کرنے لگتے ہیں۔
”یعنی اس کی لپٹ اس کا پھیلاﺅ مراد ہے“ اس لیے کہ ایک دوسرے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کی دو طرح توجیہ کی جائے گی، پہلی یہ کہ حمی نمونہ اور لپٹ شریک بہن ہے جو جہنم سے جنمی تاکہ بندے پر اس سے استدلال کیا جاسکے اور اس سے وہ عبرت حاصل کرسکیں پھر اللہ نے ان کا ظہور ان اسباب کے ذریعہ فرمایا جن کی ضرورت تھی جس طرح راحت وخوشی مسرت اور لذت نعیم جنت سے ہے اللہ نے اسے عبرت اور نشان کے طور پر ظاہر کیا اور اس کا ظہور جن اسباب سے بطور عبرت ودلالت ہوسکے ظاہر فرمایا۔
دوسرے یہ کہ اس سے تشبیہ مراد ہو، اس طرح شدت بخار کو جہنم کی لپٹ سے تشبیہ دی اور حرارت کو بھی اس سے تشبیہ دی تاکہ عذاب جہنم کی شدت کا احساس کرایا جائے اور یہ کہ یہ حرارت حمی بھی جہنم کی لپٹ کی طرح ہے، جو اس سے قریب ہو اس کو گری کا دہونکا لگ کے رہے گا۔
اور آ پ ﷺ کا قول ((ابردوھا)) دو طرح سے مروی ہے پہلی صورت ہمزہ کے بغیر اور فتح ہمزہ کے ساتھ باب رباعی سے ابردالشی جبکہ اسے ٹھنڈا کردیا جائے جیسے اسخنہ جب کسی چیز کو گرم کردیا جائے۔
دوسری صورت ہمزہ وصل کے ساتھ من بردلشی یبردہ کی طرح یہ عربی زبان کے قواعد کے مطابق لغت واستعمال کے اعتبار سے فصیح تر ہے اور رباعی لغت کے اعتبار سے غیر فصیح ہے چنانچہ شاعر نے لکھا ہے©:
جو آگ لگی تھی سینے میں اس کو تو بھجایا اشکوں نے
جو اشکوں نے بھڑکائی ہے اس آگ کو ٹھنڈا کون کرے
ترجمہ: جب جگر میں محبت کے شعلے اٹھتے ہیں تو میں قوم کے آب رسانوں کی طرف ٹھنڈک کے لیے رخ کرتاہوں“
فرض کرلیجئے کہ میں پانی کی ٹھنڈک سے ظاہری ٹھنڈک حاصل کرلیتا ہوں، مگر میرے سینے میں جو آگ بھڑک رہی ہے اسے کون ٹھنڈا کرے گا۔
آپﷺ کا یہ فرمانا کہ بالماءاس میں بھی دو توجیہہ ہیں، ایک یہ کہ کوئی بھی پانی ہو یہی صحیح ہے، دوسرے یہ کہ آب زمزم جن لوگوں نے آب زمزم مراد لیا ہے، انہوں نے اپنی بات کی دلیل بخاری کی اس روایت کو بنایا جس میں ابو جمرہ نصر بن عمران ضبعی نے روایت کیا کہ مکہ میں ابن عباس کے پاس میری نشست وبرخاست تھی اسی زمانے میں مجھے بخار آنے لگا آپ نے مجھ سے فرمایا کہ میاں اسے آب زمزم سے ٹھنڈا کرلو اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بخار جہنم کی لپٹ ہے اسے پانی سے بجھادویا آپ نے آب زمزم سے بجھانے کو فرمایا راوی کو اس میں شک ہوا اور بلاشبہ یقین سے بیان کرتا تو یہ پھر مقامی علاج ہوتا اس سے مراد مکہ کے باشندے ہوتے، اس لیے کہ آب زمزم اہل مکہ کو بآسانی مل سکتا ہے اور دوسری جگہ کے لوگوں کے لیے تو پانی متعین ہے اس لیے کہ ان کو زمزم میسر نہیں۔
پھر محدثین نے ((ابردوبالمائ)) کو عام مان کر یہ بیان کیا کہ اس سے مراد پانی کاصدقہ کرنا یا استعمال کرنا ہے دونوں ہی ہوسکتا ہے، لیکن درست استعمال ہی ہے اور جس نے ٹھنڈے پانی استعمال کرنے کے بجائے پانی کا صدقہ کرنا مراد لیا ہے ان کو پانی کا استعمال بخار کی حالت میںحلق سے نہ اترا ہوگا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی مردان کے ذہن میں نہیں آئی حالانکہ آپ کی بات کے لیے وجہ حسن ہے کہ جزا عمل کی جنس کے مطابق ہوگی جیسے کسی پیاسے کی پیاس کی شدت ٹھنڈے پانی سے بجھادی جاتی ہے اسی طرح بخار کی گرمی اللہ تعالی بطور جزا کے بجھا دیں گے اگر پانی کو صدقے میں دے دے مگر یہ بات حدیث کے سمجھنے سے متعلق ہے اور دور کی کوڑی ہے حقیقتاً مراد استعمال ہی ہے۔
ایک دوسرے مقام پر بخار کے علاج کے سلسلے میںحضرت انس ؓ سے روایت مرفوعہ ابونعیم ؒ نے بیان کی کہ:
”جب تم میں سے کوئی بخار زدہ ہوتو مبتلائے بخار پر ٹھنڈی پانی کی چھینٹ دی جائے تین دن تک صبح کے وقت سویرے سویرے“
دوسری جگہ حضرت ابوہریوہؓ سے مرفوعا ہے یہ روایت سنن ابن ماجہ میں مذکورہ ہے۔
”بخار جہنم کی بھٹیوں میں سے ایک بھٹی ہے اسے دور کردو ٹھنڈے پانی سے“
دوسری جگہ مسند وغیرہ میں حدیث حسن ہے جو ودمیر بن جندب سے مرفوعا مروی ہے ©
”بخار جہنم کا ایک ٹکڑا ہے اسے بجھا دو یعنی ٹھنڈا کردو اپنے سے ٹھنڈے پانی کے ذریعے“
”رسول اللہ ﷺ کو جب بخار ہوتا تو پانی کا مشکیزہ طلب فر ماتے اور اسے سر پر انڈیل کر غسل کرلیتے یعنی سارے جسم پر پانی اچھی طرح پہنچاتے“
اور سنن میں ایک دوسری حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
”بخار کی بات رسول اللہ ﷺ کے پاس نکلی ایک شخص نے سن کر بخار کو برا بھلا کہا، آپ نے فرمایا بخار کو گالیاں نہ دو یہ تو گناہوں کو ایسا دور کردیتا ہے جیسے بھٹی میں لوہے کا زنگ تپنے سے دور ہوجاتا ہے“
چونکہ بخار ردی غذاﺅں کے بعد پیدا ہوتا ہے اچھی غذاﺅں اور نافع دواﺅں کا استعمال احتیاطی تدابیر ہیں بدن کا بخار سے تنقیہ ہوتا ہے اور اس کے فضولات ردیہ اور مواد خبیثہ ختم ہوجاتے ہیں بے کار کوڑے کرکٹ سے بدن صاف وپاک ہوجاتا ہے بخار وہ کام کرتا ہے، جو آگ لوہے کا زنگ دور کرنے میں کرتی ہے اور انسانی جوہر کو نکھارتی ہے، تو یہ بھٹی سے زیادہ مشابہ ہوا جس میں پڑنے کے بعد لوہے کا جوہر نکھر کر سامنے آجاتا ہے، میل کچیل دور ہو جاتا ہے یہ بات تو جسمانی معالجوں کی نسبت سے ہمارے سامنے ہے، رہ گیا دل کی بیماری کا معاملہ تو اس کا علاج قلب کی بیماریوں کے معالجین کے پاس ہے دل کے کھوٹ کا دور کرنا اس کی گندگی کی تطہیر اور اس کی ناپاکیوں کو پاک کرنا یہ دل کے معالجین ہی کے بس کی بات ہے، اس کا علاج وہیں سے حاصل کیجئے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو اس کی ہدایت فرمائی، البتہ دل کی بیماری بہت بڑھ جائے اور انسان کا دل سوءاخلاق اور خباثتوں کا مرکز ہوجائے کہ اس کا علاج اطباءکے بس میں نہ ہو تو پھر اس میں علاج کا رگرنہ ہوگا۔
بخار جسم اور دل دونوں ہی کو نفع دیتا ہے، جو اس درجہ علیاءپر ہو کہ اس سے ہمہ جہت نفع ہو، پھر اسے برا بھلا کہنا بدنصیبی دبے راہی کے سوا کیا ہے، مجھ کو خو د اپنی بخار کی حالت میں ان شعراءکی بات یاد آتی ہے جو اسے برا بھلا کہتے ہیں۔
گناہوں کو دھلتے ہوئے تیری آمد اور تمہارے آجانا (آمدورفت، برا ہو ایسے آنے والے کا، برا ہو ایسے جانے والے کا جب جانے کا ارادہ جانے کا ارادہ کیا تو مجھ سے دریافت کیا، کیا خواہش ہے میں نے کہا بس یہ کہ تو پھر نہ آئے“۔
میں نے اس کو جواب دیا کہ برا ہو تمہارا تم نے اسے گالی دی جس کو برا کہنے کی ممانعت خود رسول اللہ ﷺ نے کی ہے تمہیں تو یوں کہنا چاہیے تھا۔
”مبارک باد آنے جانے والے کو کہ تمہاری آمدورفت سے گناہ دھل گئے جب جانے کا ارادہ کیا تو مجھ سے دریافت کیا کیا آروز ہے، میں نے کہا بے سہارا نہ چھوڑیے“۔
اگر یہ کہتا تو مناسب تر ہوتا اور بخار چھوٹ جاتا اس کے کہتے ہی میرا بخار جاتا رہا ایک اثر ہے جس کے بار ے میں مجھے پوری واقفیت نہیں ہے۔
ایک دن کا بخار پورے سال کا کفار ہے
اس میں دو باتیں ہیں پہلی بات یہ ہے کہ بخار بدن کے ہر عضو اور ہر جوڑ میں گھستا ہے، جن کی تعداد 360 ہے اس طرح ہر جوڑ کی اذیت پورے ایک دن کے لیے کفارہ بن جاتی ہے اور اس طرح ایک دن کے بخار میں تین سو ساٹھ دن کا کفارہ ہو جاتا ہے دوسرا مطلب یہ ہے کہ بخار بدن میں ایک ایسا اثر مرتب ہوتا ہے کہ پورے ایک سال تک اس کا اثر باقی رہتا ہے جیسا کہ ایک حدیث میںشراب کی شناخت کے بارے میں آتا ہے۔
”جس نے شراب پی اس کی نماز چالیس دن تک قبول نہ ہوگی“۔
اسلئے کہ شراب کا اثر پینے والے کے شکم عروق واعضا میں چالیس دن تک باقی رہتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیںکہ مجھے بخار تمام بیماریوں کی بہ نسبت زیادہ پسند ہے اس لیے کہ بخار جسم کے ہرعضو میں گھسا ہوتا ہے اور اللہ تعالی ایک بخار کے بدلے جسم کے ہر عضو کے برابر دیتے ہیں۔
ترمذی نے اپنی کتاب میں رافع بن خدیج سے مرفوعا ذکر کیا ہے۔
جب تم میں سے کسی کو بخار آجائے تو یہ سمجھ لے کہ بخار آتش جہنم کا ایک ٹکڑا ہے اس لیے وہ اس کے بجھانے کی ترکیب کرے ٹھنڈے پانی سے، اور بہتے دریا تک جائے اور بہتے پانی میں اترے فجر کی نماز کے بعد سورج کے طلوع ہونے سے پہلے، اور اپنی زبان سے کہے اے اللہ اپنے بندے کو شفاءدے اور اپنے رسول اللہ ﷺ کی بات کو سچ کر دکھا۔
اس طرح پانی میں تین غوطے لگائے اس غوطہ خوری کا سلسلہ تین دن تک جاری رکھے اگر اسے شفاءہوجائے تو خیر ورنہ یہ عمل پانچ دن تک کرے اگر پانچ دن میں ابھی حالت درست نہ ہو تو سات دن تک اگر سات دن تک کرنے کے بعد بھی بخار رہ جائے تو نو دن تک انشاءاللہ نو دن کے بعد وہ باقی نہ رہے گا۔
میں یہ ہدا یت آپ کو کرتا ہوں کہ ان شرائط کی رعایت کے ساتھ غسل کا عمل منطقہ حارہ کے شہروں میں موسم گرما میں نافع ہے اس لئے کہ ان ممالک میں اس موسم میں صبح کو سورج کے نکلنے سے پہلے پانی زیادہ ٹھنڈا ہوتا ہے نہ نسبت سورج کے طلوع کے بعد اس میں انعکاس حرارت کی وجہ سے کسی قدر گرمی آجاتی ہے‘ نیند اور سکون اور ٹھنڈی ہوا اس پر متزاد کام کرتی ہے اس لئے کہ ان تین وجہوں سے بدن کی قوت میں علاج قبول کرنے کی پوری صلاحیت ہوتی ہے ادھر وقت کی رعایت سے دوا بھی خوب کام کرتی ہے جو آب سرد کی شکل میں استعمال ہوتی ہے‘ ادھر بخار کی گرمی خواہ وہ حمی یوم کی وجہ سے ہو یا بادی کے لیے بخار کی وجہ سے ان دونوں صورتوں میں ٹھنڈا پانی تریاق ثابت ہوتا ہے بشرطیکہ مریض کو ورم نہ ہو یا کوئی اور خراب بیماری اور مواد فاسدہ نہ ہو تو اس ٹھنڈے پانی سے بفضل خداوندی بخار جاتا رہتا ہے بالخصوص ان دنوں میں جس کا ذکر حدیث پاک میں کیا گیا ہے یہ ایام حقیقت میں بحران کے ایام ہیں جن میں امراض حارہ کا بحران واقع ہوتا ہے۔
بالخصوص گرم ممالک میںاس لیے کہ یہاں کے باشندوں میں اخلاط رقیق ہوتے ہیں اور رقت اخلاط کی وجہ سے دوا نافع بڑی تیزی سے اثر کرجاتی ہے بر خلاف ممالک منطقہ معتدلہ و باردہ کے جہاں اخلاط میں بجائے رقت کے غلظت ہوتی ہے اس لیے دواﺅں کی تاثیر کم ہوتی ہے خود جسم میں بھی اس کے اثر قبول کرنے کی صلاحیت کمتر ہوتی ہے۔

بخار
BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS