Home O Herbal

پیر, 02 19th

Last updateجمعرات, 21 جنوری 2016 6pm

ڈنک زدہ

ڈنک زدہ کو سورہ فاتحہ کے ذریعہ جھاڑ پھونک کی بابت ہدایات نبوی ﷺ

امام بخاری ؒاور امام مسلم ؒنے صحیحین میں حضرت ابو سعید خدری ؓسے روایت کی ہے۔ انہوں نے بیان کیا:
نبیﷺ کے اصحاب کا ایک گروہ ایک سفر میں نکل پڑا سفر کرتے کرتے عرب کے ایک قبیلہ میں اترے اور ان سے میزبانی قبول کرنے کی درخواست کی انہوں نے میزبانی قبول کرنے سے انکار کردیا اتنے میں ان کے سردار کو ڈنک لگا انہوں نے ہرممکن تدبیر کر ڈالی مگر کوئی تدبیر کارگر ثابت نہ ہوئی اس قبیلہ کے بعض لوگوں نے کہا کہ یہ قافلہ جو تمہارے یہاں آیا ہے ان کے پاس چلو شاید ان میںسے کسی کے پاس کوئی تدبیر ہو چنانچہ وہ اصحاب رسول کے پاس آئے اور ان سے کہا اے قافلہ کے لوگو ہمارے سردار کو ڈنک لگ گیا اور ہر ممکن تدبیر ہم نے کر ڈالی مگر کچھ فائدہ نہ ہوا کیا تم میں سے کسی کے پاس اس کا علاج ہےَ؟ ان میں سے بعض نے کہا کہ ہاں اللہ کی قسم میں جھاڑ پھونک کرتا ہوں‘ مگر ذرا سوچو کہ ہم نے تم سے مہمانداری کرنے کی درخواست کی تو تم لوگوں نے ہماری اس درخواست کو ٹھکرادیا اور ہماری میزبانی نہ کی میں اس پر دم اسی وقت کرسکتا ہوں‘جب تم اس پر کچھ اجرت مقرر کروگے چنانچہ بھیڑ کے ایک حصہ پر معاملہ طے ہوگیا انہوں نے اس پر الحمد اللہ رب العلمین پڑھتے ہوئے دم کرنا شروع کیا اس کا اثر یہ ہوا کہ وہ ایسا چنگا ہوگیا گویا کہ اسے کسی بندش سے رہائی ملی ہو اور وہ چلنے پھرنے لگا اسے کوئی تکلیف نہ تھی پھر اس نے کہا کہ ان لوگوں کو ان کی طے شدہ پوری پوری اجرت دے دو‘چنانچہ انہوں نے اجرت دے دی‘اس میں بعض صحابہ نے کہا کہ باہم اسے بانٹ لو‘اس پر دم کرنے والے شخص نے کہا کہ جب تک ہم رسول اللہﷺ کے پاس نہ پہنچ جائیں اس وقت تک کچھ نہ کرو اور ہم آپ کے حکم کے معلوم ہوجانے تک اس سے توقف کریں گے چنانچہ سب لوگ رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا‘ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ تم کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ کام رقیہ (جھاڑپھونک) سے ہوا پھر آپ نے فرمایا کہ تم نے ٹھیک ہی کیا اب اسے باہم بانٹ لو اور اس میں میرا بھی ایک حصہ لگانا“۔
ابن ماجہ ؒنے اپنی سنن میں حضرت علی ؓسے روایت کی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔
”کہ سب سے موثر دوا قرآن مجید ہے“
اور یہ بات بھی اچھی طرح معلوم رہنی چاہیئے کہ بعض کلام میں معلوم خواص اور مجرب منافع ہوتے ہیں پھر رب العالمین کے کلام میں یہ چیز کیوں نہ مان لی جائے‘جب کہ اسکے کلام کی فضیلت تمام کلاموں پر ایسی ہی ہے‘جیسی رب العالمین کی فضیلت تمام مخلوقات پر‘اس میں کامل شفاءہے‘اور پورا بچاﺅ اور حفاظت ہے‘نیز اس میں رہنمائی کرنے والی روشنی اور رحمت عمومی بھی ہے جس کے بارے میں خود قرآن ناطق ہے کہ اگر اس کو کسی پہاڑ پر نازل کیا جاتا تو اس کی شدت تاثیر عظمت وجلالت کی بنیاد پرپہاڑ شگافتہ ہوجاتا دوسری جگہ فرمایا:
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَاهُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ[الإسراء: 82]
”ہم قرآن سے اس حصہ کو اتارتے ہیں‘جو جملہ مومنین کے لئے شفاءاور سراپا رحمت ہے“۔
اس آیت میں ((من)) جنس کے لئے ہے تبعیضیہ نہیں ہے‘مفسرین کا صحیح ترین قول یہی ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے۔
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا[الفتح: 29]
”اللہ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے سبھی سے مغفرت اور اجر عظیم کاوعدہ فرمایا ہے“۔
پھر سورہ فاتحہ کے بارے میں کیا خیال ہے‘جس کی کوئی مثال نہیں‘ تورات انجیل اور زبور کسی میں بھی اس شان وعظمت کی سورہ نازل نہیں ہوئی جو تمام ادیان سماویہ کے معانی کو شامل ہے‘ اسماءالہٰی میں بنیادی اسماءکا ذکر ہے اس کی صفات کا اکٹھا بیان ہے جو اللہ‘ رب‘ رحمان اور رحیم ہے اس کی آیت میں معاد کا ثبوت ہے توحید ربوبیت اور توحید الوہیت دونوں ہی کا س میں ذکر ہے اور اس عاجزی کا بیان ہے جس میں انسان اعانت وہدایت کی طلب میںپوری طرح اپنے رب کا محتاج ہے اپنی ان خصوصیات میں وہ یگانہ ہے اس میں سب سے عمدہ سب سے نافع اور ضروری دعا کا بھی ذکر ہے اور انسان کو سب سے زیادہ صحیح اور سیدھے راستے کی ضرورت ہوتی ہے اس میں کمال معرفت الٰہی‘ کمال توحید اور کمال عبادت سبھی چیزیں بدرجہ اتم موجود ہیں اللہ نے جو کرنے کا حکم دیا اس کی تعمیل اور جس سے روکا اس سے اجتناب اور موت کی گھڑی تک اسی پر برقرار رہنا‘اور اس میں وہ مضامین بھی شامل ہیں جن میں خلائق کی تقسیم اور ان کی اپنے منعم حقیقی کی جانب سے معرفت حق او ر اس کی محبت وایثار کے مطابق موجود ہے اور جو معرفت حق کے بعد بھی پھرگئے ان کے مغضوب ہونے کا ذکر ہے اور جو پہچان نہ سکے ان کے گمراہ ہونے کا بیان ہے اور خلائق کی تقسیم تو یہی ہوسکتی ہے‘اگر تقدیر کو سامنے رکھیں شریعت کومانیں اسماءالٰہی‘ صفات الٰہی‘ معاد‘ نبوت‘ نفوس کی پاکیزگی دلوں کی اصلاح‘ عدل واحسان الٰہی کا ذکر اور اہل بدعت اور باطل پرستوں کی تردید موجود ہے اس کا تفصیلی ذکر تو ہم نے اپنی کتاب ” مدارج السالکین “ میں وضاحت کے ساتھ کیا ہے وہیں ہم نے یہ بھی بتایا کہ اس سورہ مبارکہ کی کیا شان و عظمت ہے ‘ اور اس سے شفا ءکلی حاصل کی جاسکتی ہے اور ڈنک زدہ کو اس کے ذریعہ جھا ڑ پھونک کیا جاسکتا ہے ۔
بہر حال سورہ فاتحہ میں اخلاص عبودیت اللہ تعالیٰ کی برتری تمام امور اسی کے سپرد کرنے اسی سے استعانت اور اسی پر توکل کرنے اور اسی سے ایسی نعمت کی طلب جو تمام نعمتوں کی خیر ہے ‘ یعنی ہدایت ہے جو تمام نعمتوں کو بندے کی طرف کھینچ کر لاتی ہے اور ہر قسم کے ضرر کو دفع کرتی ہے یہ دواﺅں میں سب سے اعلیٰ اور نفع بخش او ر مفید دوا ہے جس سے علاج کیا جاتا ہے ۔
بعض لوگوں نے بیان کیا کہ دم کرنے کے لئے سب سے اہم ترین یہ آیت (إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ) ہے ۔
بلا شبہ ان دونوں کلموں میں اس دوا کے قوی ترین اجزاءموجود ہیں کیونکہ ان دونوں میں عموم تفویض و توکل اور التجاءو اعانت طلبی اور محتاج و ضرورت کا بیان موجود ہے اور سب سے اعلیٰ نشانی کا پتہ ہے وہ صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت اور سب سے بہتر ذریعہ وہ استعانت ہے جو باری تعالیٰ کی عبادت پر معاون ہو اور اس کا تجربہ بھی ہے کہ ایک وقت مجھ پر ایسا آیا کہ میں مکہ میں بیما ر پڑ گیا وہاں میرے پاس نہ کوئی دوا تھی نہ کوئی طبیب ہی تھا چنانچہ میں نے اپنا علاج اسی سورہ کے ذریعہ کرنا شروع کیا میں زمزم کا پانی لے کر اس پر متعدد بار سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کرتا پھر اسے پی لیتا اس سے مجھے کامل شفاءہوئی پھر اس کا تجربہ میں نے مختلف وردوں میں کیا تو مجھے اس سے غیر معمولی نفع پہنچا۔

ڈنک زدہ
BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS