Home O Herbal

پیر, 02 19th

Last updateجمعرات, 21 جنوری 2016 6pm

درد سر

درد سر کا علاج

درد سر کا علاج نوعیت اسباب کے پیش نظر مختلف ہوتا ہے اس کی بعض قسم کا علاج استفراغ سے کیا جاتا ہے۔ بعض کا غذا استعمال کرا کے، بعض میں آرام و راحت رسانی علاج ہے، بعض کا پلاسٹر سے، بعض کا درد سر ٹھنڈک پہنچانے سے ختم ہوتا ہے، بعضوں میں گرمی پہنچا کر علاج کیا جاتا ہے بہت سے ایسے بھی ہیں جنہیں آواز سننے حرکت کرنے کی سخت ممانعت ہوتی ہے اسی سے انہیں نفع ہوجاتا ہے۔
اس بات کا علم کے بعد آپ اس بات کو سمجھیں کہ حدیث میں حنا سے معالجہ کا ذکر جزئی صداع کا ہے‘ کلی صداع کا نہیں یہ صداع کی ایک قسم کا علاج ہے۔ جب کہ صداع تیز حرارت کی بنا پر ہو اور صداع سادہ ہو مادی نہ ہو کہ اس میں استفراغ ضروری ہو ایسے صداع میں حنا سے کھلے طور پر نفع ہوگا حنا کو پیس کر سرکہ میں ملا کر پیشانی پر ضماد کیا جائے تو درد سر جاتا رہے گا اس لیے کہ حنا میں اعصاب کے مناسب قوت موجود ہے جب اس کا ضماد ہوگا تو درد جاتا رہےگا یہ کچھ درد سر کی خصوصیت نہیں بلکہ کسی عضو کا درد اگر غیر مادی اور حرارت سادہ کی بنا پر ہو تو اس میں نافع ہے۔
اس میں ایک قسم کا قبض ہے جس سے اعضاءمیں قوت اور جان آتی ہے اور اگر کسی ورم حار یاالتھاب کے مقام پر لگایا جائے تو اس کا ضماد سے درد کو سکون ہوجاتا ہے ابو داﺅد نے اپنی سنن میں اور بخاری نے اپنی تاریخ میں روایت کیا ہے۔
”رسول اللہ ﷺ سے جب بھی کسی نے درد سر کی شکایت کی تو آپ نے اسے پچھنا لگوانے کے لیے کہا اور اگر درد پا کی شکایت کی تو حنا لگانے کی بات کی“۔
جامع ترمذی میں روایت ہے:
”سلمی ام رافع رسول اللہ ﷺ کی نوکرانی نے کہا کہ جب کبھی آپ کو زخم ہوتا یا کانٹا چبھتا تو آپ اس پر حنا کا لیپ فرماتے“

درد سر
BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS