Home O Herbal

پیر, 02 19th

Last updateجمعرات, 21 جنوری 2016 6pm

دل کا مرض

دل کے مریض کا علاج نبوی ﷺ

ابو داﺅد کی روایت جسے مجاہد نے حضرت سعدؓ سے روایت کیا ہے بایں الفاظ مذکور ہے:
”میں ایک مرض میں گرفتار ہوگیا، میرے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے آپ نے دست مبارک میرے سینے پر دونوں چھاتیوں کے درمیان رکھا مجھے آپ کے مرمریں ہاتھ کی ٹھنڈک محسوس ہوئی آپ نے فرمایا تم دل کے مریض ہو اس لیے حارث بن کلدہ ثقفی سے رجوع کرو کہ وہ ایک ماہر طبیب ہے ویسے سات عجوہ کھجوریں مدینہ کی لے لو اور ان کی گٹھلی سمیت اکلا استعمال کرو“
معﺅود، دل کا مریض، جیسے مبطون پیٹ کا مریض لدود منہ سے پلائی جانے والی دوا ہے۔
کھجوریں اس بیماری کے دفاع کی عجیب و غریب تاثیر ہے۔ بالخصوص مدینہ کی کھجور اور وہ بھی عجوہ اور سات کے عدد میں ایک دوسری تاثیر ہے۔ جو وحی کے ذریعہ سمجھ میں آتی ہے۔
صحیحین میں ایک دوسری حدیث بھی ہے جو عامر بن سعد بن ابی وقاص سے مروی ہے:
”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے نہار منہ مدینہ کی سات کھجوریں استعمال کرلیں اس دن نہ تو اسے زہر سے نقصان ہوگا اور نہ جادو کا اثر ہوگا“
دوسری جگہ دوسرے لفظوں میں یوں ہے:
”جس نے سات چھوہارے صبح سویرے اس وادی سیاہ کے استعمال کیے تو اسے زہر سے نقصان رات گئے تک نہ پہنچے گا“
تمر دوسرے درجہ میں گرم پہلے میں خشک ہے بعضوں نے پہلے میں تر لکھا ہے بعضوں نے معتدل اس میں اعلیٰ درجہ کی غذائیت ہے محافظ صحت ہے بالخصوص جو اس کا عادی ہو، جیسے اہل مدینہ وغیرہ کہ ان کی غذا کا بڑا جزو کھجور ہی ہے۔ مزید برآں کھجور ٹھنڈے علاقوں اور گرم علاقوں کی اعلیٰ ترین غذا ہے خصوصیت سے وہ ممالک جن کا درجہ حرارت دوسرے درجہ میں ہو ان کے لیے اس کی غذائیت سے ٹھنڈے علاقوں والوں سے زیادہ نفع پہنچتا ہے اس لیے کہ گرم ملک والوں کے شکم بارد ہوتے ہیں اور ٹھنڈے ملک والوں کے شکم گرم ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حجاز یمن طائف اور ان جیسے علاقے جو ان کے اردگرد ہیں ان کو گرم غذاﺅں سے نفع پہنچتا ہے جبکہ دوسروں کو اتنا نفع نہیں ہوتا، جیسے چھوہارا، شہد اور یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ وہ اپنے کھانوں میں مرچ سیاہ اور ادرک دوسروں کے مقابلہ میں دس گنا زیادہ استعمال کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اور زنجبیل تو ان کو حلوے کی طرح پسند آتا ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ وہ زنجبیل کے بجائے گزک (جو پستے بادام اور پپیتا اور گاجر کی قاشوں سے بنتا ہے) استعمال کرتے ہیں ان کے مناسب پڑتا ہے۔ باوجود معدے کے بارد ہونے کے کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور حرارت کا بیرون جسم پایا جانا بالکل ایسا ہے جیسے کہ گرمیوں میں کنویں کی ظاہری سطح گرم ہوتی ہے مگر پانی نہایت ٹھنڈا ہوتا ہے اور سردیوں میں ا س کے بر خلاف پانی کی سطح ظاہر ٹھنڈی ہوتی ہے اسی طرح سے سردیوں میں کثیف غذاﺅں کو جتنا معدہ ہضم کرلیتا ہے گرمیوں میں اس درجہ نضج و طبع مشکل ہے۔ کھجور اہل مدینہ کے لیے دوسرے علاقوں کے لیے گیہوں جیسی حیثیت رکھتی ہے اور عوالی مدینہ کی کھجور ان میں سب سے اعلیٰ اور عمدہ سمجھی جاتی ہے کھجور دیکھنے میں سڈول کھانے میں لذیذ شیریں سے شیریں ذائقہ کی مالک ہوتی ہے اس کا شمار غذا دوا اور پھل تینوں ہی میں ہوتا ہے اکثر بدن انسانی کے لیے مناسب حرارت غریزی کو قوت دیتی ہے اس کے کھانے کے بعد فضلات ردیہ کی وہ مقدار نہیں پیدا ہوتی جتنی دوسری غذاﺅں اور دوسرے پھلوں سے پیدا ہوتی ہے بلکہ جو لوگ اس کے کھانے کے عادی ہوتے ہیں ان کو تعفن اخلاط اور فساد مواد سے روکتی ہے۔
حدیث کا تخاطب مخصوص انداز کا ہے اس سے اہل مدینہ اور اس کے مضافات کے لوگ مراد ہوتے ہیں اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ بعض مقامات میں خصوصی طور سے بعض دواﺅں سے نفع ہوتا ہے جو دوسرے مقامات کے لوگوں کو نہیں پہنچتا اس لیے ان علاقوں میں وہیں اگنے والی اور پائی جانے والی دواﺅں سے بے حد نفع ہوتا ہے اگر اسی دوا کو دوسری جگہ کاشت کیا جائے یا استعمال کیا جائے تو اس میں وہ اثر اور اتنا غیر معمولی نفع دیکھنے میں نہیں آتا اس لیے کہ زمین اور ہوا کے اثرات ہر جگہ الگ ہوتے ہیں کبھی زمین بدلنے سے کبھی کبھی ہوا بدلنے سے اثر متاثر ہوتا ہے کبھی دونوں کے بدلنے سے اثر میں اختلاف ہوجاتا ہے اس لیے کہ زمین میں بھی انسان ہی کی طرح طبائع اور خواص مختلف ہوتے ہیں بعض علاقوں میں ان نباتات کو غذا کی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور بعض علاقوں میں وہی نبات سم قاتل ہوتی ہے بہت سی دوائیں دوسری قوم کے لیے غذا ہوتی ہیں اور بہت سی قوم کے لیے جو دوائیں کسی مرض میں استعمال ہوتی ہیں وہی دوائیں کسی دوسری قوم کے لیے دوسرے امراض میں نافع ہوتی ہیں۔ بعض علاقوں کی دوائیں دوسرے علاقوں میں نافع نہیں ہوتیں۔
رہ گئی سات عدد کی بات تو اس کو حساب اور شریعت دونوں میں خاص مقام حاصل ہے۔ اللہ نے سات آسمان بنائے سات زمین پیدا کی ہفتے کا سات دن مقرر فرمایا انسان کی اپنی تخلیق سات مرحلوں میں ہوئی اللہ نے اپنے گھر کا طواف اپنے بندوں کے ذمہ سات مرتبہ مشروع کیا ((سعی بین الصفا و المروہ)) بھی سات سات دفعہ مقرر کیے عیدین کی تکبیریں سات رہیں اور سات برس کی عمر میں بچوں کو نماز پڑھنے کی ترغیب دلانے کا حکم ہوا۔
حدیث میں ہے:
”اپنے بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز پڑھنے کا حکم دو“۔
دوسری حدیث میں مذکور ہے:
”جب لڑکا سات سال کا ہوگیا تو اپنے والدین میں سے ایک کے لیے بنا دیا جاتا ہے“
دوسری روایت میں ہے:
” اگر مذکر ہے تو باپ سے قریب رہے اور رکھنے میں ماں سے زیادہ بہتر اور مناسب ہے“۔
تیسری روایت میں ہے:
”اس کا ماں کے ساتھ رہنا مناسب ہے اگر مونث ہے“۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنے مرض میں سات مشکیزہ پانی سے غسل کرانے کیلئے فرمایا اللہ نے قوم عاد پر طوفان باد سات رات تک جاری رکھا رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ میری مدد فرمائے ایسے سات سے جیسے سات حضرت یوسف کو عطا فرمائے تھے اللہ نے صدقہ کا ثواب جو صدقہ کرنے والوں کو ملے گا سات بالیوں سے جو ایک دانہ سے اگتی ہیں جن میں سو سو دانے ہوں تشبیہ دی اور وہ خواب جو حضرت یوسف کے آقا نے دیکھا تھا اس میں سات بالیاں ہی نظر آئی تھیں اور جن سالوں میں کاشت نہایت عمدہ ہوئی وہ سات سال تھے اور صدقہ کا اجر سات سو گنا تک اور اس سے بھی زائد سات کے ضرب کے ساتھ ملے گا اور امت کے بلا حساب جنت میں جانے والے سات ہزار افراد ہوں گے۔
اس سے اندازہ ہوا کہ سات کے عدد میں ایسی خاصیت ہے جو دوسرے عدد کو حاصل نہیں اس میں عدد کی ساری خصوصیات مجتمع ہیں عدد جمع بھی اور عدد واحد بھی سات کا پہلا اور دوسرا جمع ہے اور واحد بھی اسی طرح ہے اس طرح اس کے چار مرتبہ ہوئے شفع اول و ثانی و تراومل و ثانی اور یہ مراتب سات سے کم میں جمع نہیں ہوتے گویا یہ عدد مراتب عدداربع کو جامع ہے۔ یعنی شفع اور وتر اوائل و ثوانی و تراول سے مراد و تین دوسرے سے مراد پانچ شفع اول سے مراد دوا اور ثانی سے مراد چار اور اطباءکو سات کے عدد سے خاص ربط ہے۔ خصوصیت سے ایام بحران میں بقراط کا مقولہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز سات اجزاءپر مشتمل ہے ستارے سات، ایام سات، اانسان کی عمر سات، بچہ کی طفولیت کی عمر سات پھر صبی سات سال پھر مراہق پھر جوان پھر کہولت پھر شیخ پھر ھرم اور اللہ تعالیٰ ہی کو اس عدد کے مقرر رکھنے کی حکمت معلوم ہے کہ اس کا وہی مطلب ہے جو ہم نے سمجھایا اس کے علاوہ کوئی معنی ہے۔
اور اس عدد کا نفع خاص اس چھوہارے کے سلسلے میں جو اس ارض مقدس کا ہو اور اس علاقے کا ہو جادو اور زہر سے دفاع کرتا ہے اس کے اثرات اس کے کھانے کے بعد روک دیئے جاتے ہیں۔ کھجورکے اس خواص کو اگر بقراط و جالینوس وغیرہ اطباءبیان کرتے تو اطباءکی جماعت آنکھ بند کرکے تسلیم کرلیتے اور اس پر اس طرح یقین کرتی جیسے نکلتے آفتاب پر یقین رکھتی ہے حالانکہ یہ اطباءخواہ کسی درجہ کے عاقل ہوں وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں وہ ان کی رسا عقل اور اٹکل یا گمان ہوتا ہے ہمارا رسول اللہ ﷺ جس کی ہر بات یقینی اور قطعی اور کھلی دلیل وحی الٰہی ہو اس کا قبول و تسلیم کرنا تو بہر حال ان اطباءسے زیادہ حسن قبولیت کا مستحق ہے۔ نہ کہ اعتراض کا مقام ہے اور زہر کی دافع دوائیں کبھی بالکیفیت اثر انداز ہوتی ہیں۔ بعض بالخاصیتہ اثر انداز ہوتی ہیں۔ جیسے بہت سے پتھر یاقوت و جواہر ہاتھ پر لینے لگانے ساتھ رکھنے ہی سے زہر کا اثر جاتا رہتا ہے۔

دل کا مرض
BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS