* اجوائن کو گھیگوار کے لعاب میں تر کرکے خشک کرلیں پھر اسے باریک کرکے دو ماشہ کی مقدار میں صبح و شام کھانا تلی کے ورم کے لئے بہت مفید ہے۔
* برگ جھاؤ ایک چھٹانک کو آدھا سیر کھولتے ہوئے پانی میں رات کو بھگو دیں اور صبح کو پانی چھان لیں اس میں سے ایک ایک چھٹانک دن میں تین بار پینا ورم طحال کو نافع ہے۔
* نوشادر تین ماشہ کو باریک پیس کر مولی کی قاشوں پر چھڑک کر رات کو شبنم میں رکھیں ان قاشوں کو صبح نہار منہ کھانا تلی کے ورم میں نافع ہے۔
* تیزاب گندھک (سلفیورک ایسڈ) ایک قطرہ سے چار قطرہ تک تھوڑے پانی میں ملا کر پینے سے ورم طحال کی شکایت جاتی رہتی ہے۔
* انجیر ولائتی کو انگور کے تیز سرکہ میں ڈال دیں سات دن بعد اس میں سے روزانہ پانچ عدد انجیر نکال کر کھائیں اور اسی میں سے تھوڑا سا سرکہ اس کے بعد پی جائیں تلی کے ورم اور سختی کو دور کرنے کے لئے اس کا استعمال بہت مفید ہے۔
* شورہ قلمی کو باریک کرکے دو ماشہ کی مقدار میں لے کر پختہ کیلے میں رکھ کر صبح و شام کھائیں چند روز کے استعمال سے تلی کا ورم جاتا رہتا ہے قولنج ریحی میں بھی مفید ہے۔
* نوشادر کو باریک کرکے پونے دو ماشہ لے کر آب مولی چار تولہ کے ساتھ استعمال کرنے سے تلی کا ورم جاتا رہتا ہے چند روز استعمال کریں۔
* کشمش ایک تولہ کو سرکہ خالص دو تولہ میں رات کو بھگو دیں اور صبح کو نہار منہ کھائیں ورم طحال کے لئے مفید ہے۔
* سرسوں کا تیل نیم گرم کرکے تلی کے مقام پر ملنا اس کی سختی کو دور کرتا ہے۔