شہد

شہد، حجامت اور داغنے کے ذریعہ سے رسول اللہ ﷺ کا طریقہ علاج

صحیح بخاری میں سعید بن جبیر ؓ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”شفاءکے تین ذریعے ہیں، شہد کا استعمال پچھنا اور داغ لگانا اور داغ دینے سے میں اپنی امت کو روکتا ہوں“۔
ابو عبداللہ مازری نے کہا ہے کہ امتلاءسے ہونے والے امراض حسب ذیل قسم کے ہوتے ہیں یا تو وہ امتلاءدم کی وجہ سے یا بلغم کے امتلاءکی وجہ سے یا سوداءکے امتلاءکی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اگر یہ امتلاءدم کی وجہ سے ہے تو اس کا سہل علاج اخراج دم ہے، اور اگر باقی تین اخلاط کے امتلاءسے ہے تو اس کا آسان علاج اسہال کرانا ہے۔ اس اسہال میں بھی علاج کرتے وقت اس خلط کے مطابق دوا استعمال کرنی چاہیے، اور غالبا اسی سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ نے امت کو شہد کی طرف متوجہ فرمایا ہے اس لیے کہ شہد اس سہل دواﺅں میں ہے، جو تین خلط میں سے کسی بھی ایک کو یا سب کو یکساں طور پر بدن سے نکال کر مریض کو اچھا کردیتی ہے، اور علاج بالحجامہ کا ذکر فرما کر فصد کے ذریعے علاج کی راہ ہموار کردی ہے چنانچہ اسی کو بعض نے کہا ہے کہ فصد شرطتہ محجم کے ماتحت آ تی ہے، اور جب دوا کی ہر علاج کا ہر طریقہ مسدود ہو جائے تو پھر داغ سے علاج کیا جائے گویا علاج کی آخری تدبیر یہی ہے اس لیے آپ نے اسکا دوا کے تحت ذکر فرمایا اس لیے کہ جب طیبعت پر مرض کا غلبہ اتنا شدید ہوجائے کہ وہ ادویہ کی قوتوں کو مغلوب کردے اور دوا کھلانے پلانے سے کوئی نفع نہ ہوتا ہو تو ایسے موقع پر مجبوراً اسی طریقہ کو اختیار کیا جاسکتا ہے، چنانچہ آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ میں اپنی امت کو داغ سے اجتناب کی ہدایت کرتا ہوں اور ایک دوسری حدیث میں ہے۔
”میں داغنا پسند نہیں کرتا“۔
اس بات کا کھلا اشارہ ہے کہ علاج کی دوسری تدبیر اختیار کی جائیں اگر ان سے نفع ہوجائے اور صحت کی راہ نکل آئے تو ہرگز ہرگز داغ دینے کی صورت نہ اختیا ر کی جائے ابتدا مرض و ہدایت علاج میں تو ہرگز یہ صورت اختیار نہ کی جائے، اس لیے کہ داغ سے جو اذیت اور تکلیف مریض کو پہنچتی ہے وہ اکثر اس اذیت سے کمتر ہوتی ہے جو خود داغ کرنے سے جسم مریض کو پہنچتی رہتی ہے۔
دوسرے اطباءنے کہا ہے کہ امراض مزاجیہ، یعنی سوءمزاج سے ہونے والی بیماری یا تو مادی ہوگی، یا غیر مادی اور مادی بیماریاں تو حار ہوں گی یا تو بارد یار طب ہوں گی یا بس ہوں گی، یا ان سے مرکب ہوں گی، ان کیفیات اربعہ میں دو کیفیتیں فاعلی ہیں حرارت وبرودت اور دو کیفیتیں منفعل ہیں، رطوبت و یبوست لہذا لازمی طور پر جب کبھی بھی کسی کیفیت فاعلہ کا غلبہ ہوگا تو اس کے ہمراہ کیفیت منفعلہ بھی ہوگی اسی طرح سے بدن میں پائے جانے والے اخلاط کا بھی مسئلہ ہے اور تمام مرکبات کا بھی یہی انداز ہے کہ ان میں دو کیفیتیں موجود ہوں گی۔
اس سے یہ بات متعین ہوگئی کہ امراض سوءمزاج اخلاط کی قوی ترین کیفیت حرارت وبرودت کے زیر اثر ہی ہوں گے اس لیے نبی کریم ﷺ کی ہدایت بطور تمثیل امراض کے علاج میں بنیادی نقطہ سے متعلق ہے جو ان امراض میں بنیادی طور پر حرارت وبرودت سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے اگر مرض حار ہے تو اس کا علاج ہم خون نکال کر کریں گے۔
خواہ وہ اخراج فصد کے ذریعہ ہو یا حجامت کے ذریعہ اسلئے کہ یہ استفراغ مادہ کا ایک طریقہ ہے جس سے مزاج میں تبرید پیدا ہو جاتی ہے، اگر مرض بارد ہے، تو اسکا علاج تسخین کے ذریعہ کریں گے اور تسخین کی یہ صلاحیت شہد میں موجود ہے، اب اگر مریض کے مادہ باردہ کا استفراغ مقصود ہو تب بھی شہد ہی کام کر تا ہے، اس لیے کہ شہد میں تسخین کے ساتھ مادہ کے نضج کرنے کی بھی صلاحیت موجود ہے مزیدبرآں شہد میں تقطیع مواد یعنی جڑ سے ختم کرنے اور تلطیف یعنی ہلکا کرنے کا کام کرنے کی صلاحیت موجود ہے اسی طرح خوب اچھی جلاءکی صلاحیت ہے اور تلیین مواد کرنے کی بھی اہلیت ہوتی ہے، جب یہ ساری خوبیاں شہد میں ہیں تو اس سے مادہ کا استفراغ آسانی سے بلا کسی اذیت کے ممکن ہے، مسہلات قویہ کی اذیت سے اس کے ذریعہ بچا جاسکتا ہے۔
رہ گیا داغ دینا (کے) تو یوں سمجھئے کہ تمام امراض مادی یا تو حار ہوں گے جو تیزی سے کسی نہ کسی جانب رخ کریں گے ایسی صورت میں تیزی سے پچھلے سارے مرض میں اس کی ضرورت نہیں دوسری صورت یہ ہے کہ مرض مادی مزمن ہو تو اس کے علاج کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ استفراغ مادہ کے بعد جن اعضاءکو داغ دینا ممکن ہو انہیں داغ دیا جائے اس لیے کہ امراض مادی جب مزمن ہوتے ہیں تو اس میں مادہ باردہ غلیظہ یقینی طور سے عضو میں جڑ پکڑ لیتا ہے جس سے اس کا مزاج ہی فاسد ہوجاتا ہے پھر تغذیہ کن غذا اور مواد وہاں پہنچتے ہیں وہ بھی اسی طرح ہوجاتے ہیں اس طرح فساد جو ہر عضو میں بڑھتا ہی جاتا ہے جس سے اس عضو میں التہاب شدید کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اس مادہ کو خارج کرنے کی صورت یہی ہے کہ اس جگہ کو داغ دیا جائے تاکہ وہ مستحکم مادہ جہاں جمع ہے وہاں داغ دینے سے ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے اس لیے کہ آگ ہر قسم کے موا د کی تحریق کا کام دیتی ہے۔
اس سے یہ بات آئینہ ہو کر سامنے آگئی کہ اس حدیث نبوی ﷺ میں تمام امراض مادی کا علاج موجود ہے‘ جس طرح سوءمزاج سادہ کا علاج ہم نے رسول اللہ ﷺ کی ہدایت
”یعنی حمی یوم غیر مادی کی شدت جہنم کی لپٹ ہے اسے پانی سے ٹھنڈ ا کردو“۔
اس میں رسول اللہ ﷺ نے غیر مادی بیماری کا علاج آسان طور سے کئے جانے کی ہدایت فرمائی ہے۔

شہد کے بارے میں علمی موشگافیاں

يَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا شَرَابٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ [النحل: 69]
اس آیت کے مفہوم کے تعین میں اہل علم مختلف ہیں
”ان مکھیوں کے شکم سے ایک شراب (پینے کی چیز) جس کا رنگ مختلف ہو تا ہے نکلتی ہے جس میں شفاءہے لوگوں کے لیے“۔
وہ اختلاف یہ ہے کہ آیت کے لفظ ”فیہ“ میں ضمیر کا مرفع شراب ہے، یا قرآن ہے سچی بات تو ضمیر کا مرجع شراب معلوم ہوتا ہے، ابن مسعودؓ، ابن عباسؓ، حسن، قتادہ اور اکثر قرآن کے سمجھنے والوں کا یہی کہنا ہے اور سیاق کلام کا تقاضا بھی کچھ ایسا ہی ہے اور آیت میں قرآن کا ذکر نہیں ہے اور یہ صیحح حدیث تو اس بارے میں صراحت ہی ہے جس میں آپ نے شہد کے استعمال کے بعد صحابی کے شبہ کو سچ کہا اللہ نے فرما کر اس کو متعین کردیا کہ ضمیر کا مرجع ”فیہ“ میں شراب کی جانب ہے اور کوئی دوسری بات نہیں۔