Home O Herbal

پیر, 02 19th

Last updateجمعرات, 21 جنوری 2016 6pm

ہر بیماری کا علاج

ہر بیماری کا علاج

امام مسلم ؒ نے صحیح مسلم میں ابو زبیر کی حدیث جو جابر بن عبداللہ ؓ کی سند سے مروی ہے‘ روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہر بیماری کا علاج موجود ہے جب دوا کا استعمال بیماری کے مطابق کیا جاتا ہے تو حکم الٰہی کے طفیل شفاءہوجاتی ہے۔
اور صحیحین میں عطاءنے حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے دنیا میں جب کوئی بیماری پیدا فرمائی تو اس کی شفاءاور دوا بھی ساتھ ہی ساتھ نازل فرمائی۔
مسند امام احمد میں زیاد بن علاقہ کی حدیث جو اسامہ بن شریک کے واسطے سے بیان کی گئی ہے‘ اس میں اسامہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں خدمت نبی ﷺ میں موجود تھا کہ کچھ دیہات کے باشندے حاضر ہوئے اور نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ اے رسول اللہ ﷺ کیا ہم دوا کریں‘ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اے بندگان اللہ ضرور دوا کرو اس لیے کہ اللہ عزوجل نے جو بیماری دنیا میں پیدا کی اس کی شفاءو دوا بھی پیدا کی صرف ایک بیماری کی کوئی دوا نہیں پیدا فرمائی‘ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ کونسی بیماری ہے آپ نے فرمایا بڑھاپا جو لاعلاج ہے۔
دوسری جگہ اس کے لیے یہ الفاظ ہیں کہ اللہ نے کوئی بیماری ایسی نازل نہیں کی جس کے لیے شفاءاور دوا نازل نہ کی ہو‘ اس کا علم جس نے جاننا چاہا اسے عطا کردیا گیا اور جو اس سے غافل رہا وہ اس سے بے بہرہ ہی رہا۔
مسند احمد میں ابن مسعود ؓ سے مرفوعاً یہ حدیث بیان کی ہے۔
کہ اللہ عزوجل نے کوئی بیماری دنیا میں ایسی نہیں بھیجی جس کے لیے شفاءنہ نازل کی ہو جنہوں نے جاننا چاہا انہیں بتایا اور جنہوں نے پرواہ نہ کی انہیں نا واقف رکھا۔
اور مسند و سنن دونوں میں ابو خزامہ سے مروی ہے:
”کہ میں نے پیغمبر اللہ سے عرض کیا آپ کے سامنے ہے کہ ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں اور دواﺅں کا استعمال کرتے ہیں“۔
”اور بیسیوں پرہیز کرتے ہیں جن سے نفع ہوتا ہے تو کیا تقدیر الٰہی کی اس سے مخالفت تو نہیں ہوتی آپ نے فرمایا یہ بھی تو تقدیر الٰہی ہے کہ یہ ساری چیزیں اپنا اثر دکھاتی ہیں“۔
ان احادیث سے کھلے طور پر اسباب و مسببات کا ثبوت ملتا ہے اور جن لوگوں نے اسباب کا انکار کیا ہے‘ ان کا کھلے طور پر ابطال موجود ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ پیغمبر کے اس قول کو عام رکھا جائے تاکہ قاتل بیماریوں اور مہلک امراض پر بھی اس کا احاطہ ہوجائے۔
اسی طرح وہ بیماریاں بھی شامل ہوجائیں جن کا علاج طبیب کے بس میں نہ ہو‘ حالانکہ اللہ پاک نے ان کے علاج کے لیے دوائے شافی پیدا کی ہے‘ لیکن اس کے علم سے انسان نا واقف رہا‘ اور ان کو اس راہ کی جانب کوئی رہنمائی نہ ہوسکی‘ اس لیے کہ کسی چیز کا علم انسان کے بس میں نہیں ہے‘ ہاں اللہ نے جو بتا دیا جو سکھادیا اسی وجہ سے پیغمبر اللہ نے شفاءکو بیماری اور دوائیں مباسبت وموافقت کے ساتھ معلق رکھا‘ اس سے وجود مرض اور افادیت دوا پر ایک ایک عمدہ روشنی پڑتی ہے‘ کہ جب کبھی دوا کیفیت مرض سے متجاوز ہوگی یا اس کی مقدار خوراک ضرورت سے زیادہ ہوگی تو اس صورت میں دوا نفع نہ ہو بلکہ کسی دوسری بیماری کے لگ جانے کا اندیشہ ہے یا اس کی مقدار خوراک ضرورت و قوت مرض سے کم ہوگی تو پھر وہ اس کی جڑ پوری طرح قطع نہ کرسکے گی اور شفاءکامل نہ ہو کر فتور پیدا ہوجائے گا‘ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب دوا اور مریض میں مناسبت نہ ہو‘ دوا بیماری کی جڑ کو نہ اکھاڑ سکے اور نہ بیماری دوا کو قبول کرسکے تو پھر شفاءکس طرح ممکن ہے‘ اسی طرح دوا اور مرض میں مناسبت ہو مگر وقت سازگار نہ ہو تو ایسی صورت میں بھی علاج نافع نہ ہوگا علی ہذالقیاس بدن کی قوت قابلہ ختم ہوگئی ہو یا مضمحل ہوگئی ہو کہ وہ دوا کو لیتی ہی نہیں یا دوا کو ٹھہرانے کی اور روکنے کی صلاحیت بھی مفقود ہو یا کوئی ایسا مانع پیدا ہوگیا ہو کہ وہ دوا کے اثر کو باطل کردے یا روک دے تو ایسی صورت میں مقاومت (مصاوفت) مرض نہ ہونے کی وجہ سے شفاءنہ ہوسکے گی مگر دوا جب پوری طرح مرض کی مقادم (مصادف) ہوگی تو اللہ کے فضل سے جاتی رہے گی اور مریض شفایاب ہوجائے گا حدیث رسول ﷺ کی یہ عمدہ توجیہہ ہے۔
دوسری بات یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس عموم سے خصوص مراد ہو‘ اور لفظ سے خارجی اثرات کو مزید کمزور کرنا مقصود ہو‘ اور یہ ہر زبان میں پایا جاتا ہے ایسی صورت میں حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے دنیا میں کوئی ایسی بیماری جو دوا کو قبول کرتی ہو پیدا نہیں کی مگر اس کے لیے دوا بھی پیدا فرمائی‘ یعنی دوا قبول کرنے والی ہر بیماری کے لیے دوا موجود ہے‘ اس طرح سے وہ بیماری جو دوا قبول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اس میں شامل ہی نہیں اس کی مثال اس طوفان باد میں ملتی ہے جس کو اللہ نے قوم عاد پر مسلط فرمایا:
تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍ بِأَمْرِ رَبِّهَا [الأحقاف: 25]
”ہر چیز بربادی سے آشنا ہوئی اللہ کے حکم سے“۔
اس میں ہر چیز کے بربادی قبول کرنے کا ذکر ہے، ہوا کا کام ہی چیزوں کو الٹنا پلٹنا اکھاڑنا پچھاڑنا ہے اس کے لیے بہت سی مثالیں اور سینکڑوں نظائر موجود ہیں۔
اور جو فلسفہ تخلیق اضداد پر غور کرے گا اور پیدا شدہ اشیاءکا ایک دوسرے کے ضد ہونا اس کی مقاومت کرنا بعض چیزوں کو بعض دوسری چیزوں سے مٹانا اور بعض چیزوں پر دوسری چیزوں کو مسلط کرنے کی حکمت دیکھے گا تو اس پر کمال قدرت الٰہی حکمت خداوندی اور ضاع حقیقی کی کاریگری پروردگار کی ربوبیت میں یکتائی تخلیق میں یگانہ پن اور ہر چیز پر اتھاہ قابو پانے کی قوت آئینہ ہوجائے گی اس لیے کہ اللہ کے علاوہ کائنات میں جو چیز ہے‘ اس کا مقابل اس کا ضد اس کی مثال اس کی طاقت توڑنے والا موجود ہے‘ صرف اللہ ہی ہے جو غنی بالذات ہے‘ کائنات کا ہر وجود اس کا محتاج ہے۔
صحیح احادیث میں معالجہ کرنے کا حکم موجود ہے یہ حکم توکل کے منافی نہیں اس کی منافات توکل کا بالکل وہی حال ہے جیسا بھوک کے وقت غذا کا استعمال‘ پیاس کے وقت مشروب‘ گرمی سے بچاﺅ کے لئے ٹھنڈی چیزوں کا استعمال اور ٹھنڈک سے روک میں گرم چیزوں کا برتنا توکل کے منافی نہیں پھر علاج اور شفاءکا حصول کس طرح منافی توکل ہوگا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ حقیقت توحید کا اہتمام بلا مباشرت اسباب کے برتے ہوئے ممکمن نہیں جب ان اسباب کو اللہ نے ان کے تقاضے کے ماتحت مقدر و مشروع فرمایا‘ ان کے برتنے کا حکم دیا‘ پھر ایسی صورت میں ان اسباب کے چھوڑنے سے نہ صرف توکل کی روح مجروح ہوگی بلکہ حکمت الٰہی اور امر الٰہی کی بھی توہین ہوگی اور جو ترک اسباب کو توکل کا اعلیٰ درجہ دیتے ہیں ان کی اس غلط روی کی پوری طرح بیخ کنی ہوجاتی ہے‘ اگر آپ نے ازراہ عاجزی و خاکساری ان اسباب کو ترک کرلیا تو پھر وہ توکل جن کی جڑیں اعتماد و علیٰ اللہ اللہ پر بھروسہ سے لگی ہوں گی‘ کہ اس اعتماد کی وجہ سے نفع دینی و دنیاوی متوقع ہے اسی طرح دینی و دنیاوی ضرر متوقع ہے۔
بہرحال کسی بھی اسباب کے برتنے سے پہلے اس کو اعتماد علیٰ اللہ کی سخت ضرورت ہے‘ ورنہ شریعت اور حکمت الٰہی دونوں کو رائیگاں بنانا لازم آئے گا اس لیے بندہ اپنی بے بسی و بے چارگی کو توکل کا ہم نام نہ بنائے ورنہ توکل بےچارگی اور بے بسی کہلائے گا۔
منکرین علاج کا کھلا رد اس میں ہے جو یہ کہتے ہیں کہ شفاءتقدیر الٰہی میں پہلے سے لکھی ہوئی ہے پھر علاج کس لئے کیا جائے اور اگر شفاءمقدر نہ ہو تو علاج سے حاصل نہ ہوگی‘ اس لیے کہ انسان کی بیماری تقدیر الٰہی کی بنیاد پر پیدا ہوتی ہے‘ اور تقدیر الٰہی نہ روکی جاسکتی نہ گھٹائی بڑھائی جاسکتی ہے‘ یہ تو وہی بات ہے جو گاﺅں کے رہنے والوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھی تھی‘ مگر فاضلین صحابہ جو اللہ کو اور اس کی حکمت اور اس کی صفات کو اچھی طرح سے جانتے تھے‘ اس قسم کا سوال کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے اللہ کے رسول نے اِن اَن پڑھ دیہات کے باشندوں کو کیا دل لگتا جواب دیا کہ آگے سوال کی گنجائش باقی نہ رہی‘ آپ نے فرمایا کہ یہ دوا جھاڑ پھونک یہ احتیاط بھی تقدیر الٰہی ہی ہے اسی وجہ سے تو انسان نے اسے اختیار کیا اس لئے ان اسباب کا اختیار کرنا تقدیر الٰہی کی مخالفت اور اس سے گریز نہیں بلکہ ایک تقدیر کا بدلنا اور ٹالنا دوسری تقدیر کے ذریعہ ہے‘ لہٰذا یہ رد تقدیر بھی تقدیر ہی ہے اس لیے کوئی تقدیر الٰہی کے پھندے سے اپنے کو کیسے نکال سکتا ہے ‘ جیسے بھوک مقدرات میں سے ہے اس کا دفاع بھی تقدیر ہے پیاس اور گرمی و سردی تقدیر ہے‘ ہر ایک کا دفاع اور بدل دینا ٹالنا خود تقدیر ہے‘ دشمن کو جنگ کے ذریعہ بدلنا بھی تقدیر الٰہی ہے‘ اس لیے دافع مدفوع اور خود فعل دفاع ساری چیزیں تقدیر الٰہی ہیں ان میں سے کسی کو تقدیر الٰہی سے انحراف نہیں۔
اس قسم کا اعتراض کرنے والوں سے یہ کہنا چاہیے کہ اس سے تو یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ آپ اپنی معیشت کے حاصل کرنے میں کسی ظاہری ذریعہ کو ہاتھ نہ لگائیں نہ کسی نفع کے چکر میں رہیں نہ نقصان کے خطرے کا دفاع کریں اس لیے کہ نفع اور ضرر ان میں سے جو بھی مقدر ہوگا سامنے آکے رہے گا اور تقدیر میں نہیں ہے تو پھر ان کے واقع ہونے کی کوئی صورت نہیں اس طرح دین و دنیا دونوں کی بربادی لازم آئے گی اگر اس پر عمل کیا جائے تو پوری دنیا کی تباہی یقینی ہے‘ اس قسم کی لغویات صرف ایسا شخص کہہ سکتا ہے جو حق سے سروکار نہ رکھتا ہو‘ اس کا کھلا دشمن ہو‘ تقدیر کا نام اس لیے لیتا ہے کہ حق پسند‘ حق گو کی بات کا توڑ کرسکے‘ جیسا کہ مشرکین دعوت حق کے جواب میں کہتے:
لَوْشَاءَ اللَّهُ مَاأَشْرَكْنَا وَلَا آبَاؤُنَا [الأنعام: 148]
”اگر اللہ چاہتا تو ہم خود اور ہمارے آباﺅاجداد کیسے شرک کرسکتے“۔
”اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کو چھوڑ کر کسی اور کی کیسے پوجا کرتے اور ہمارے اجداد بھی ایسے نہ کرسکتے“۔
یہ مشرکین حجت الٰہی کے جواب میں انبیاءسے کہتے تاکہ اس سچی بات کا دفاع کرسکیں جو انبیاءو رسل شرک سے روکنے کے لیے پیش کرتے تھے۔
اس سائل کا یہ جواب بھی ہے کہ تیسری صورت کا تو تم نے ذکر ہی نہیں چھیڑا کہ اللہ نے اس چیز کو اسی سبب کےساتھ مقدر فرمایا تو جب تم سبب کا استعمال کروگے تبھی مسبب وجود میں آئے گا ورنہ نہیں اگر سبب مقدر ہوتا تو میں اسے کر گرزتا‘ اگر مقدر نہیں ہے تو اسکے کرنے کا میں ذمہ دار نہیں۔
کوئی پوچھے کہ کیا تم اپنے غلام صاحبزادے مزدور سے اس کٹ حجتی کو قبول کرسکتے ہو‘ اگر تم نے اسے کسی بات کا حکم کیا یا اسے کسی چیز سے روکا اور اس نے تمہاری پابندی کی مخالفت کی اگر تم کو یہ بات پسند آتی ہو تو پھر تمہارے حکم سے روگردانی کرنے والے اور تمہارے مال کو لینے والے اور تمہاری بے آبروئی کرنے اور تمہارے حقوق کو تلف کرنے والے تو تم کو بہت محبوب ہوں گے‘ اگر نہیں ہیں تو حقوق الٰہی کی عدم ادائیگی اور فرمان کی نافرمانی میں تمہاری بات کس طرح قابل قبول ہوگی بنو اسرائیل کی ایک روایت میں ہے کہ ابراہیم خلیل اللہ نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا‘ بارالٰہی بیماری کس کی دین ہے اللہ نے فرمایا میری پھر عرض کیا دوا کس کی عطا ہے فرمایا میری آپ نے عرض کیا پھر طبیب کی کیا حیثیت ہے؟ باری تعالیٰ نے فرمایا کہ طبیب ایسی شخصیت ہے کہ دوا اس کے ہاتھ اللہ نے بھیجی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”ہر بیماری کے لیے علاج موجود ہے“۔
اس حدیث میں مریض کی اور طبیب کی ڈھارس بندھائی گئی ہے کہ دونوں مایوس نہ ہوں‘ اور پیغمبر نے دوا کی جستجو اور اس کی تفتیش پر طبیب و مریض دونوں ہی کو ابھارا ہے اس لیے کہ مریض جب باور کرلیتا ہے کہ اس بیماری کی دوا موجود ہے تو پھر اس کے دل میں امید کی روح آجاتی ہے اور مایوسی کوسوں دور ہوجاتی ہے پھر ہو یاس و حرماں سے نکل کر آس کے دروازے میں داخل ہوجاتا ہے اور جونہی دل میں امید کی کرن سے اس کا نفس قوی ہوجاتا ہے اس کی حرارت عزیزی بھڑک جاتی ہے اس طرح اس کی قوت حیوانی، قوت نفسانی اور قوت طبعی تینوں جاگ اٹھتی ہیں جب ان تینوں قوتوں میں جان آجاتی ہے تو اس سے مریض کی قوت عاملہ پائیدار ہوجاتی ہے اس کی توانائی سے مریض کا مرض قابو میں آجاتا ہے۔ طبیب کی طبعیت میں بھی امنگ پیدا ہوجاتی ہے‘ جونہی طبیب کو اس بات کا علم ہوا کہ اس مرض کی دوا موجود ہے اس کا حصول ممکن ہے اور جستجو سے دریافت ہوجائے گی‘ جسم کے امراض دل کے مرض ہی کی طرح ہوتے ہیں اللہ نے دل کی ہر بیماری کا علاج پیدا فرمایا اگر مریض کو اس کا علم ہوجائے اور اسے استعمال کرے اور دل کی بیماری کا اس دوا سے مقابلہ ہوجائے تو اللہ کے حکم سے مریض اچھا بھی ہوجائے گا۔

ہر بیماری کا علاج
BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS