Home O Herbal

پیر, 02 19th

Last updateجمعرات, 21 جنوری 2016 6pm

حفظان صحت

حفظان صحت کے نبوی اصول پرہیز کے طریقے اور منافع

علاج حقیقت میں دو چیزوں پر عمل کرنے کا نام ہے ایک پرہیز دوسرے حفظان صحت جب کبھی صحت کے گڑبڑ ہونے کا اندازہ ہو تو مناسب استفراغ سے کام لیا جائے الغرض طب کا مدار انہیں تین قواعد پر ہے۔ پرہیز دو طرح کے ہوتے ہیں۔
۱۔    ایسا پرہیز جس سے بیماری پاس نہ پھٹکے۔
۲۔    ایسا پرہیز جس سے مزید اضافہ بیماری میں نہ ہو بلکہ مرض جس حال میں ہے کم ا ز کم اسی جگہ رہ جائے۔
پہلے پرہیز کا تعلق تندرستوں سے اور دوسرے کا مریضوں سے ہے اس لئے کہ جب مریض پرہیز کرتا ہے تو اس کی بیماری بجائے بڑھنے کے رک جاتی ہے اور قوتوں کو اس کے دفاع کا موقع ملتا ہے، پرہیز کے سلسلے میں اصل قرآن کی یہ آیت ہے:
وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْجَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْلَا مَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا[المائدة: 6]
”تم بیمار ہو یا سفر کررہے ہو یا تم میں سے کوئی پاخانہ سے واپس ہو یا تم نے عورتوں سے جماع کیا ہو اور تم کو پانی میسر نہ ہو تو پاک مٹی سے تیمم کرلیا کرو“
یہاں مریض کو پانی سے پرہیز کی ہدایت ہے اس لیے کہ مریض کو اس سے ضرر کا اندیشہ ہے حدیث سے بھی پرہیز کی تائید ہوتی ہے، چنانچہ ام لمنذر بنت قیس انصاریہ کی حدیث میں ہے:
”آپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ میرے یہاں تشریف لائے آپ کے ہمراہ حضرت علیؓ بھی تھے جو بیماری کی وجہ سے کمزور و ناتواں تھے ہمارے یہاں کھجور کے خوشے لٹکے ہوئے تے جناب نبی کریم ﷺ کھڑے ہوکر اسکے کھانے میں مشغول ہوگئے اور حضرت علیؓ بھی اس سے چن کر کھانے لگے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کو مخاطب کرکے فرمایا۔ اے علیؓ تم بہت ناتواں ہو یہاں تک کہ حضرت علیؓ نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا، راویہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے جو اور چقندر کے آمیزے سے آش تیار کیا تھا اسے آپ کے پاس لائی رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ اسے لو یہ تمہارے لیے بہت نفع بخش ہے دوسرے لفظوں میں یہ مذکور ہے کہ اس میں لگ جاﺅ کیونکہ یہ تمہارے لیے زیادہ مناسب ہے“
سنن ابن ماجہ میں بھی حضرت صہیبؓ سے ایک روایت مذکور ہے۔
”انہوں نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا آپ کے آگے روٹی اور کھجور رکھی ہوئی تھی آپ نے مجھ سے فرمایا کہ قریب آجاﺅ اور کھاﺅ میں نے ایک کھجور اٹھالی اور کھانے لگا آپ نے فرمایا کہ تم کھجور کھا رہے ہو جبکہ تم کو آشوب چشم ہے۔ میں نے عرض کیا اے رسول اللہ ﷺ میں دوسری جانب سے کھا رہا ہوں یہ سن کر رسول اللہ ﷺ مسکرا پڑے“۔
رسول اللہ ﷺ سے مروی ایک محفوظ حدیث میں ہے:
”جب اللہ کسی سے محبت کرتا ہے تو اسے دنیا سے محفوظ رکھتا ہے جیسا کہ تم میں سے کوئی اپنے مریض کو کھانے پینے سے بچاتا ہے دوسرے لفظوں میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوںکو دنیا سے محفوظ رکھتا ہے“۔
اور یہ حدیث جو زبان زد عام ہے کہ پرہیز سب سے بڑی دوا ہے اور معدہ بیماری کا گھر ہے اور جو جسم بیماری کا خوگر ہو اس کی عادت کی رعایت کرو، یہ حدیث نہیں ہے بلکہ حارث بن کلدہ کا کلام ہے جو عرب کا بہت بڑا طبیب تھا اس کی نسبت رسول اکرم ﷺ کی طرف کرنا صحیح نہیں ہے بہت سے محدثین کا یہی قول ہے۔ البتہ نبی ﷺ سے یہ حدیث مروی ہے۔
”معدہ بدن کا حوض ہے جس سے بدن کی تمام رگیں لگی ہوتی جب معدہ صحیح ہوتا ہے تو رگیں صحت کے ساتھ رطوبت لے کر چلتی ہیں اور جب معدہ نا درست ہو تو رگیں رطوبت مرضیہ لے کر بدن میں چلتی ہیں“۔
حارث بن کلدہ کا قول ہے کہ سب سے بڑا علاج پرہیز ہے اطباءکے نزدیک پرہیز کا مطلب یہ ہے کہ تندرست کو ضرر سے بچانا ایسا ہی ہے جیسے مریض اور ناتواں و کمزور کے لیے مضر چیز کا استعمال کرانا، مرض کے سبب سے جو شخص کمزور و ناتواں ہوگیا ہو اسے پرہیز سے بہت زیادہ نفع ہوتا ہے اس لیے کہ اس کی طبیعت مرض کے بعد ابھی پوری طرح سنبھل نہیں پاتی اور قوت ہاضمہ بھی ابھی کمزور ہی ہوتی ہے نیز طبعیت میں قبولیت و صلاحیت ہوتی ہے اور اعضاءہر چیز لینے کے لیے مستعد رہتے ہیں اس لیے مضر چیزیں استعمال کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ مرض کو دوبارہ دعوت دی جائے یہ مرض کی ابتدائی صورت سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کو کھجور کے خوشوں سے چن کر کھجور کھانے سے اس لیے منع فرمایا کہ آپ مرض سے اٹھے تھے لہٰذا آپ کا روکنا اور پرہیز کرانا اعلیٰ درجہ کی تدبیر تھی اس لیے کہ دوا لی تازہ کھجور کے ان خوشوں کو کہتے ہیں جو گھروں میں کھانے کے لیے لٹکائے جاتے ہیں جیسے انگور کے خوشے لٹکائے جاتے ہیں اور پھل ایسے کمزور شخص کے لیے جو مرض سے ابھی اٹھا ہو سرعت استحال اور ضعف طبعیت کی وجہ سے مضر ہوتا ہے اس لیے کہ نقاہت کیوجہ سے کسی غذا کا جواز قسم پھل ہو جلدی ہی استحال ہوجاتا ہے اور طبعیت ضعف کی وجہ سے اس کا دفاع نہیں کرپاتی اس لیے کہ اسے ابھی پہلے جیسی قوت حاصل نہیں ہوتی دوسرے بیماری کے اثرات مٹانے میں ابھی وہ مشغول ہے۔ اور بدن سے پوری طرح اس کا ازالہ کرنے میں مشغول ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ تازہ کھجور میں ایک قسم کی کثافت ہوتی ہے جو معدہ پر گراں ہوتی ہے اس لیے کھجور کھانے کے بعد معدہ اس کی درستگی اور طبعیت اس کی اصلاح میں لگ جاتی ہے جبکہ طبعیت کو ابھی مرض کے آثار مٹانے کا پورے طور پر موقعہ نہیں ملا ہے ایسی صورت میں یہ باقی کام یا تو ادھورا رہ جاتا ہے یا اس میں اضافہ ہوجاتا ہے لیکن جونہی آش جو و چقندر آپ کے سامنے لایا گیا آپ نے اس کے کھانے کا حکم دیا اس لیے کہ یہ ناتواں و کمزور کے لیے بہترین غذا بھی ہے کیونکہ آش جو میں تبرید کےساتھ غذائیت بھی ہوتی ہے اور تلطیف و تلبین کی قوت بھی ہوتی ہے، طبعیت کو جو کمزور و ناتواں کے لیے بہت ضروری چیز ہے خصوصاً جب ماءالشعیر اور چقندر کی جڑ کو پکا کر استعمال کرایا جائے تو ضعف معدہ کے لیے نہایت عمدہ غذا ثابت ہوتی ہے اور اس سے ایسے اخلاط بھی رونما نہیں ہوتے جس سے صحت کو کسی قسم کا خطرہ لاحق ہو۔
زید بن اسلمؓ نے بیان کیا کہ فاروق اعظمؓ نے اپنے ایک مریض کو پرہیز کرایا یہاں تک کہ یہ مریض پرہیز کی سختی کی وجہ سے کھجور کی گٹھلیاں چوستا تھا کھانا اس کے لیے بالکل ممنوع تھا۔
خلاصہ کلام یہ کہ پرہیز بیماری سے پہلے سب سے بہتر اور کارگر نسخہ ہے جس سے آدمی بیماری ہی نہیں ہونے پاتا مگر بیماری ہوجانے پر پرہیزسے نفع یہ ہوتا ہے کہ مرض میں زیادتی اور اس کے پھیلنے پر قدغن لگ جاتی ہے اور مرض بڑھنے نہیں پاتا۔

حفظان صحت
BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS