” حرف تائ“

تمر : (خرما‘ چھوہارہ) صحیح بخاری میں نبیﷺ سے مروی حدیث میں مذکور ہے آپ نے فرمایا کہ جس نے صبح کے وقت سات چھوہارے کھائے اور دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ عوالی مدینہ کے سات چھوہارے کھانے کے بعد نہ اسے زہر نقصان دے گا نہ اس پر جادوکا اثر ہوگا۔
ایک دوسری مرفوع حدیث میں آپ نے فرمایا کہ جس گھر میں چھوہارے نہ ہوں اس گھر کے لوگ بھوکے ہیں۔ آپ سے ثابت ہے کہ آپ نے چھوہارے کو پنیر کے ساتھ اور روٹی کے ساتھ کھایا اور اسی طرح بلا کسی چیز کے صرف چھوہارے کا کھانا بھی ثابت ہے۔
اس کا مزاج تیسرے درجہ میں گرم ہے پہلے درجہ میں رطب ہے یا یابس ہے؟ دونوں اقوال اطباءسے منقول ہیں جگر کے لئے مقوی پاخانہ ڈھیلا کرتا ہے مقوی باہ ہے بالخصوص جب صنوبر کے ساتھ اس کا استعمال ہو تو باہ کو قوی کرنے میں طاقُ ہے‘اور حلق کی خشونت سے نجات دلاتا ہے اور ٹھنڈے علاقے کے لوگ جو اس کے کھانے کے عادی نہ ہوں اس کے استعمال کرنے سے ان میں سدے پیدا ہوتے ہیں۔ اور دانتوں کو اذیت درد سر پیدا کرتا ہے بادام اور دانہ پوستہ کے ذریعہ اس کے ضرر کو دفع کیا جاسکتا ہے پھلوں میں سب سے زیادہ جسم کے لئے اس میں غذائیت ہوتی ہے کیونکہ اس میں حار رطب جوہر موجود ہے نہار منہ اس کے کھانے سے پیٹ کے کیڑے مرجاتے ہیں کیونکہ اس میں حرارت ہونے کے ساتھ ہی تریاقی قوت موجود ہے اور اگر اس کو نہار منہ ہمیشہ استعمال کرتے رہیں‘ تو کیڑے کی تولید کم ہوجاتی ہے اور اسے کمزور کردیتا ہے یا کم کردیتا ہے‘ یا اس کو بالکل فنا کردیتا ہے یہ پھل‘غذا‘ اور دوا‘ اور مشروب اور حلواءبھی ہے۔
تین (انجیر) چونکہ حجازو مدینہ کی سر زمین پر انجیر کی پیداوار ہوتی ہے‘ اس لئے حدیث میں اس کا ذکر نہیں ملتا کیوں کہ انجیر کی پیداوار کے لئے کھجور اگانے والی زمین مناسب نہیں بلکہ اس کے برخلاف زمین کی ضرورت پڑتی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں اس کی قسم کھا کر اس کے منافع اور فوائد کی اہمیت بیان کردی ہے اور صحیح بات تو یہ ہے کہ یہی مشہور انجیر ہے جس کی قسم کھائی گئی ہے۔
اس کا مزاج حار ہے اور رطوبت ویبوست کے متعلق اطباءسے دو قول منقول ہیں۔ عمدہ قسم کی انجیر پختہ سفید چھلکے والی ہوتی ہے یہ مثانہ اور گردہ کی ریگ کو صاف کرتی ہے اور زہر سے محفوظ رکھتی ہے تمام پھلوںسے زیادہ اس میں غذائیت پائی جاتی ہے سینے اور حلق اور سانس کی نالی کی خشونت میں نافع ہے جگر اور اطحال کی صفائی کرتی ہے اور معدہ سے خلط بلغم کو جلادے کر نکالتی ہے اور بدن کو شاداب بناتی ہے‘ البتہ اس کے کثرت استعمال سے جوں پڑجاتی ہے۔
خشک انجیر سے تغذیہ کے ساتھ اعصاب میں قوت آتی ہے‘ اور اخروٹ و بادام کے مغز کے ساتھ اس کا استعمال بے حد مفید ہے
حکیم جالینوس نے لکھا ہے کہ اگر زہر قاتل کے استعمال سے پہلے مغز اخروٹ اور سداب کے ساتھ اس کا استعمال کرلیں تو زہر سے نجات ہوتی ہے ‘ اور نفع بھی پہنچتا ہے۔
حضرت ابو درداءؓسے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ کی خدمت اقدس میں ایک تھالی انجیربطور ہدیہ پیش کی گئی آپ نے اہل مجلس سے فرمایا کہ کھاﺅ اور خود آپ نے کھایا اور فرمایا اگر یہ کہوں کہ جنت سے کوئی پھل اترا ہے تو یہی وہ پھل ہوسکتا ہے کیونکہ جنت کے پھلوں میں گٹھلی نہ ہوگی اسے کھاﺅ کیونکہ یہ بواسیر کو ختم کرتی ہے نقرس کے لئے نفع بخش ہے اس حدیث کی صحت میں شبہ ہے۔
اس کا گودا بہت عمدہ ہوتا ہے گرم مزاج والوں کے اندر تشنگی پیدا کرتا ہے اور بلغم مالح سے پیدا ہونے والی تشنگی بجھاتا ہے مزمن کھانسی کے لئے مفید ہے پیشاب آور ہے درد جگر‘ طحال کے سدوں کو کھولتا ہے‘ گردے‘ اور مثانہ کے لئے مفید ہے‘ نہار منہ اس کے استعمال کرنے سے مجاری غذا کھل جاتے ہیں‘بالخصوص جب کہ اس کا استعمال مغز بادام و اخروٹ کے ساتھ کیا جائے‘ ثقیل غذاﺅں کے ساتھ اس کا استعمال نہایت درجہ مضرہے سفید شہتوت بھی اسی درجہ کا نافع ہے‘ لیکن اس میں غذایئت اس سے کم ہوتی ہے اور معدہ کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔
 تلبینہ (حریرہ) اس کا بیان پہلے ہوچکا کہ یہ ایک قسم کا حریرہ ہے جو جو کے آٹے سے بنتا ہے اس کے فوائد کا بھی ذکر گذرچکا ہے کہ یہ اہل حجاز کے لئے اصل جو کے آمیزے سے بھی زیادہ نفع بخش ہے۔