”رنج و غم“ بے قراری اور بے چینی کا علاج نبوی ﷺ

امام بخاری وامام مسلم ؒنے صحیحین میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓکی اس حدیث کو نقل کیا ہے۔
”نبی کریمﷺ بے چینی کےوقت فرماتے تھے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں‘جو انتہائی بردباراور عظیم ہے اس اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں‘جو عرش کا عظیم رب ہے اور اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں‘جو ساتوںآسمانوں اور زمین کا رب ہے اور عرش کا رب کریم ہے“
جامع ترمذی میںحضرت انس ؓسے روایت ہے۔
”کہ رسول اللہﷺ کو جب کوئی بڑا معاملہ پیش آتا تو آپ یہ دعا پڑھتے کہ اے ہمیشہ زندہ رہنے والے ہمیشہ قائم رہنے والے میں تیری رحمت کے ذریعہ مدد چاہتا ہوں“۔
اور جامع ترمذی ہی میں حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت منقول ہے۔
”نبی کریمﷺ کے سامنے جب کوئی اہم معاملہ ہوتا تو آپ اپنی نگاہ آسمان کی جانب اٹھاتے اور فرماتے پاک ہے‘وہ اللہ جو عظیم ہے اور جب پورے لگن سے دعا کرتے تو فرماتے‘اے سدا زندہ رہنے والے اور ہمیشہ قائم رہنے والے“
سنن ابو داﺅد میں ابوبکرہ سے روایت منقول ہے:
”کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مصیبت زدہ کی یہ دعا ہے اے اللہ میں تیری رحمت کا امیدوار ہوں‘ مجھے ایک لمحہ کے لئے بھی خود کے سپرد نہ کراور میری سبھی حالت کو درست فرما‘تیرے سوا کوئی معبود نہیں“۔
اسی سلسلہ میں اسماءبنت عمیس ؓسے روایت ہے‘ وہ فرماتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں چند ایسے کلمے نہ سکھادوں‘جنہیں تو مصیبت کے موقعہ پر ورد زبان رکھے‘یا مصیبت کی حالت میں اسے کہے‘یہ وہ ہیں:
”اللہ میرا رب ہے‘اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا اور ایک روایت میں ہے کہ ان کلمات کو سات مرتبہ کہا جائے“
مسند امام احمد میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے‘ انہوں نے نبیﷺ سے روایت کی آپ نے فرمایا:
”جس بندہ کو کوئی رنج یا غم پہنچے اور وہ یہ دعا پڑھے‘اے اللہ میں تیر ا بندہ اور بندے کا لڑکا اور تیری باندی کا لڑکا ہوں‘ میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے میرے بارے میں تیرا حکم جاری ہے اور میرے بارے میں تیرا فیصلہ سراپا عدل ہے میں تیرے ہر نام کے ذریعہ جسکو تونے اپنے لئے منتخب کیا یا اپنی کتاب میں جسے نازل کیا‘یا مخلوق میں سے کسی کو سکھایا یا جس کو تو اپنے علم غیب میں با اثر قابل قبول بنایا اس کے طفیل میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ قرآن مجید کو میرے دل کی بہار‘ میرے سینے کی روشنی اور میرے غم سے نجات اور میرے رنج وافتاد سے رہائی کا سامان بنادے تو اللہ تعالیٰ ان کلمات کے کہنے کے طفیل میں اس کے رنج وغم کو دور کرکے اس کی جگہ خوشی ومسرت عطا کرے گا“۔
ترمذی میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓسے روایت ہے‘انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
”حضرت یونس علیہ السلام ذوالنون کی دعا جبکہ انہوں نے مچھلی کے بطن میں اپنے رب کو پکارا یہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے میں یقیناظالموں میںسے تھا‘جو مسلمان شخص کسی بھی ضرورت میں اس دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارے گا اس کی دعا ضرور قبول کی جائے گی“
اور دوسری روایت میں ہے کہ:
”میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ جب کبھی کوئی مصیبت زدہ اسے کہے گا‘تو اللہ تعالیٰ اس کی مصیبت دور کردے گا وہ میرے بھائی یونس کا کلمہ ہے۔
سنن ابو داﺅد میں حضرت ابو سعید خدری ؓسے روایت ہے انہوں نے بیان کیا۔
”رسول اللہﷺ ایک دن مسجد میں تشریف لائے‘تو آپ نے انصار میں سے ایک شخص کو جسے ابو امامہ کہتے تھے دیکھا تو فرمایا کہ ابو امامہ کیا بات ہے کہ میںتمہیں نماز کے علاوہ وقت میں مسجد میں دیکھ رہا ہوں تو انہوں نے جواب دیا کہ اے رسول اللہﷺ مجھے غموں اور قرضوں کی کثرت نے جکڑ رکھا ہے آپنے فرمایا کہ تمہیں چند ایسے کلمات نہ سکھادوں‘جسے تم اپنی زبان سے ادا کروگے‘تو اللہ تعالیٰ تمہارے غم کو دور اور تمہارے قرض کو ادا کردے گا راوی کا بیان ہے کہ میں نے کہا جی ہاں ضرور اے رسول اللہﷺ آپ نے فرمایا کہ تم صبح وشام یہ کلمات کہا کرو‘کہ اے اللہ میں رنج وغم سے تیر ی پناہ چاہتا ہوں‘اور عاجزی اور سستی سے تیری پناہ کا طالب ہوں‘ بزدلی اور بخیلی‘قرض کے بوجھ اور لوگوں کے قہر سے تیری پناہ چاہتا ہوں‘ ابو امامہ نے بیان کیا کہ میں نے آپ کے حکم کے مطابق کیا تو االلہ تعالیٰ نے میرے غم کو دور کردیا‘اور میرا قرض بھی ادا کردیا“۔
اور سنن ابو داﺅد میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓسے حدیث مروی ہے‘ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”جس نے استغفار کو اپنے اوپر لازم کرلیا تو اللہ اسے ہر رنج سے رہائی اور ہر تنگی سے کشادگی عطا فرمائے گا‘اور ایسے ذریعہ سے روزی پہنچائے گا‘جسے وہ تصور بھی نہیں کرسکتا“۔
مسند میں مذکور ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جب کوئی اہم معاملہ پیش آتا تو آپ نماز کی طرف پناہ لیتے۔
اور خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
”نماز اور صبر کے ذریعہ مدد طلب کرو“
اور سنن میں مذکور ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ تم پر جہاد فرض ہے‘اس لئے کہ وہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے‘اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے رنج وغم دور فرماتا ہے۔
حضرت ابن عباسﷺ سے یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:
”جو بہت سے مصائب وآلام کا شکار ہوا سے (لاحول ولا قوة الا باللہ) کثرت سے کہنا چاہیے یعنی اللہ کے سوا کوئی طاقت وقوت نہیں ہے“
اور صحیح بخاری ومسلم سے یہ ثابت ہے کہ (لاحول ولا قوة الا باللہ)) جنت کے خزانوں میں ایک خزانہ ہے۔
اور ترمذی مذکور ہے ((لاحول ولا قوة الا باللہ)) جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔
یہ دوائیں پندرہ قسم کی دواﺅں پر مشتمل ہیں‘اگر ان کے ذریعہ بھی رنج وغم وحزن کی بیماری ختم نہ ہو تو سمجھ لو بیماری بہت پرانی اور جڑ پکڑے ہوئے ہے اور اس کے اسباب گہرے ہیں اس لئے مکمل استفراغ کی ضرورت ہے۔
 پہلی دوا :  توحید ربوبیت کا یقین۔
دوسری دوا : اللہ کے الہ ہونے میںتوحید ویکتائی کا اقرار۔
تیسری دوا : توحید عملی واعتقادی۔
چوتھی دوا : اللہ تعالیٰ کو اس بات سے مبرا وپاک سمجھنا کہ وہ بندہ پر ظلم کرتا ہے‘یا بلا سبب بندہ سے مواخذہ کرتا ہے۔
پانچویں دوا : بندہ کا یہ اعتراف کرنا کہ وہ خود ظالم ہے۔
چھٹی دوا : اللہ کی محبوب ترین چیز کے ذریعہ وسیلہ کرنا جو اس کے اسماءوصفات ہیں اور ان اسماءوصفات میں سے سب سے مکمل طور پر معانی کا جامع اسم الحی القیوم ہے۔
ساتویں دوا : صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مدد طلب کرنا۔
آٹھویں دوا : بندے کا پر امید انداز میں اس کا اقرار۔
 نویں دوا : اللہ پر پورا بھروسہ اور اسی کے سپرد تمام معاملات اور اس بات کا اعتراف کہ اسکی پیشانی اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے وہ جسے جس سمت چاہے پھیردے۔اوریہ کہ حکم الٰہی اس پر جاری ہے اور قضائے الٰہی سراپا عدل وانصاف ہے۔
دسویں دوا : اپنے دل کو قرآن کے باغات میں چرنے دے اور قرآن کو اپنے دل کے لئے ایسی بہار سمجھے جیسی بہار جانوروں کے لئے خوشگوار ہوتی ہے اور قرآن کے ذریعہ شبہات وخواہشات نفسانی کی تاریکیوں کو روشن کرے اور اس کے ذریعہ ہر فوت شدہ چیز سے تسلی حاصل کرے اور ہر مصیبت کا مداوا قرآن پاک کو سمجھے اور سینے کی تمام بیماریوں سے شفاءقرآن پاک کے ذریعہ حاصل کرے تو اس کا غم جاتا رہے گا رنج وغم سے رہائی نصیب ہوگی۔
گیارہویں دوا : استغفار
بارہویں دوا : توبہ وندامت
تیرہویں دوا : اللہ کی راہ میں سر فروشی
چودہویں دوا: نماز کی پابندی اوقات کے ساتھ ادائیگی
پندرہویں دوا : طاقت وقوت سے برا ¿ت اور ان دونوں کو اس ذات کے سپرد کرنا جس کے قبضہ قدرت میںیہ دونوں ہیں۔