حرف زا

زیت (زیتون) ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”وہ زیتون کے مبارک درخت (کے تیل) سے جلایا جاتا ہے جو پورب کی جانب ہے اور نہ مغرب کی جانب‘ بلکہ عین بیچوں بیچ ہے) اس کا تیل (اتنا صاف ہوتا ہے) کہ خود بخود جلنے کو ہوتا ہے خواہ اسے آگ نہ چھوئے“۔
ترمذی اور ابن ماجہ شریف میں ابو ہریرہؓ نے نبیﷺ سے روایت کیا آپ نے فرمایا:
”روغن زیتون کھاﺅ‘ اور اس کو لگاﺅ‘ اس لئے کہ یہ ایک مبارک درخت سے حاصل کیا جاتا ہے۔“
اور بیہقی اور ابن ماجہ نے بھی عبداللہ بن عمرؓسے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:
”روغن زیتون کو بطور سالن استعمال کرو‘ اور اس کا روغن لگاﺅ‘ اس لئے کہ یہ ایک مبارک درخت سے حاصل ہوتا ہے“
زیتون پہلے درجہ میں رطب ہے ‘ اس کو خشک کہنے والوں کی بات صحیح نہیں ہے۔
اور روغن زیتون زیتون ہی کی طرح ہے پختہ زیتون کا رس عمدہ اور بہتر ہوتا ہے اور نیم پختہ سے نکلنے والا تیل سرد خشک ہوتا ہے اور سرخ زیتون دونوں کے مابین متوسط ہوتا ہے سیاہ زیتون گرم کرنے والا ہوتا ہے‘ اور اسی میں اعتدال کے ساتھ رطب ہوتا ہے‘ ہر قسم کے زہر میں مفید ہے‘ دست آور ہے پیٹ کے کیڑوں کو نکالتا ہے پرانا روغن زیتون بہت زیادہ گرم کن اور محلل ہوتا ہے اور جو پانی کے ذریعہ نکالا جاتا ہے اس میں حرارت کم ہوتی ہے‘ اور لطیف تر اور نفع بخش ہوتا ہے اس کی تمام قسموں سے جلد میں نرمی اور ملائمت پیدا ہوتی ہے بالوں کی سفیدی کو روکتا ہے۔
زیتون کا نمکین پانی آتش زدہ مقام پر آبلے نہیں آنے دیتا اور مسوڑھوں کو مضبوط بناتا ہے اور برگ زیتون بدن کے سرخ دانوں اور پہلو کی پھنسیوں‘ گندے زخموں اور پتی کو روکتا ہے پسینہ بند کرتا ہے‘ اس کے علاوہ اس کے بے شمار فوائد ہیں۔
زبد:(مکھن) ابو داﺅد نے اپنی سنن ابو داﺅد میں بسرا سلمیٰ کے دونوں بیٹوں سے روایت نقل کی ہے ان دونوں نے بیان کیا کہ نبی اکرمﷺ ہمارے یہاں تشریف لائے تو ہم نے آپ کی خدمت اقدس میں مکھن اور چھوہارہ پیش کیا‘ آپ کو،مکھن اور چھوہارے بہت مرغوب تھے۔
مکھن کا مزاج گرم تر ہے اس میں بہت سے فوائد ہیں منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ یہ مادہ کا انضاج کرکے اس کو تحلیل کرتا ہے اور کانوں کے پہلوی حصہ میں اور حالبین ( دو رگیں جن سے پیشاب گردہ سے مثانہ میں اترتا ہے) میں پائے جانے والے ورموں کو دور کرتا ہے اور منہ کا ورم بھی ختم ہوجاتا ہے اور اس کا تنا استعمال کرنے سے عورتوں اور بچوں کے جسم کے تمام ورم ختم کردیتا ہے اور اگر اس کو چاٹا جائے تو پھیپھڑے سے پیدا ہونے والے خون کو خارج کرنے میں نافع ہے اور پھپھڑے کے ورموں کا نضج کرتا ہے۔
یہ دست آور ہے۔ سخت اعصاب کو نرم کرتا ہے‘ اور سوداءاور بلغم کی حرارت کی وجہ سے ہونے والے ورموں کی سختی وصلابت کو دور کرتا ہے بدن کی خشکی کو ختم کرتا ہے اور بچوں کے مسوڑھوں پر اس کو لگانے سے دانت نکلنے میں آسانی ہوتی ہے خشکی اور ٹھنڈک کی وجہ سے ہونے والی کھانسی کے لئے مفید ہے بالخورہ اور بدن کی خشونت کو ختم کرتا ہے پاخانہ نرم کرتا ہے مگر بھوک کم کردیتا ہے شیریں چیز مثلاً شہد اور چھوہارہ بد ہضمی میں نافع ہے چھوہارہ اور مکھن کو نبی اکرمﷺ نے ایک ساتھ تناول فرمایا اس میں ایک بہت بڑی حکمت ہے کہ اس سے ایک دوسرے کی اصلاح ہوجاتی ہے۔
زبیب:(کشمش) اس کے متعلق دو احادیث مروی ہیں‘ لیکن ان میں سے کوئی صحیح نہیں ہے پہلی حدیث ہے۔
”کشمش کیا ہی عمدہ غذا ہے جو منہ کی بدبو کو زائل کرتی ہے اور بلغم کو پگھلاکر خارج کرتی ہے“۔
اور دوسری حدیث میں یوں مروی ہے:
”کشمش کیا ہی عمدہ غذا ہے جو بیماری کو ختم کرتی ہے اعصاب کو مضبوط بناتی ہے‘ آتش غضب کو بجھاتی ہے‘ رنگ نکھارتی ہے اور منہ کی بدبو کو زائل کرتی ہے“۔
بہر حال بہترین کشمش وہ ہے جو سائز میں بڑی ہو‘ اس میں گودا اور رس بھرپور ہو اور چھلکا باریک ہو گٹھلی ناپید ہو‘ اور اس کا تخم نہ چھوٹا ہو نہ بڑا۔کشمش کا مزاج پہلے درجہ میں گرم تر ہے اور اس کا تخم سردخشک ہے وہ انگورکی طرح مزاج رکھتا ہے جس سے کشمش بنتی ہے‘ شیریں کشمش گرم ہوتی ہے اور ترش قسم کی کشمش قابض اور سرد ہوتی ہے اور سفید میں نسبتاً قبض زیادہ ہوتا ہے‘ اس کا گودا سانس کی نالی کے لئے موزوں ہے کھانسی میں مفید ہے‘ مثانہ اور گردہ کے درد کو ختم کرتی ہے‘ معدہ کو مضبوط بناتی ہے‘ شکم کو نرم کرتی ہے۔
اس کے شیریں گودے میں انگور سے زیادہ غذائیت ہوتی ہے‘ البتہ خشک انجیر سے غذائیت میں کمتر ہے‘ اس میں قوت ناضجہ ہوتی ہے‘ ہاضم ہے‘ قبض پیدا کرتی ہے اور اعتدال کے ساتھ تحلیل مادہ کرتی ہے غرضیکہ یہ معدہ‘ جگر کے طحال کے لئے مقوی ہے حلق‘ سینہ پھیپھڑے‘ گردہ اور مثانہ کے درد میں مفید ہے بہتر یہ ہے کہ کھاتے وقت اس کی گٹھلی پھینک دی جائے۔
کشمش بہترین غذا عطا کرتی ہے اور چھوہارے کی طرح سدے نہیں پیدا کرتی‘ اگر اس کو گٹھلی سمیت کھایا جائے تو معدہ جگر اور طحال کے لئے معمولی طور پر نفع بخش ہے‘ اگر ہلتے ہوئے ناخنوں پر اس کا گودا چسپاں کردیا جائے تو اسے جلد ہی اکھیڑ دیتا ہے‘ شیریں کشمش بغیر گٹھلی کے مرطوب المزاج اور بلغمی لوگوں کے لئے مفید ہے جگر کو تازگی بخشتی ہے اور خصوصیت سے جگر کے لئے بے حد مفید ہے۔
حافظہ قوی کرنے کی بھی اس میں خوبی موجود ہے‘ زہری کا قول ہے کہ جو شخص حدیث یاد کرنا چاہے اسے کشمش کھانا چاہئے اور منصور عباسی اپنے دادا عبداللہ بن عباسؓ کا مقولہ نقل کرتے ہوئے بیان کرتے تھے کہ کشمش کی گٹھلی بیماری ہے‘ اور اس کا گودا دوا ہے۔
زنجبیل :(سونٹھ) اس کی تعریف میں قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
جنت میں انھیں ایسے پیالے بھرے ہوئے پلائے جائیں گے جن میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔
ابو نعیم نے اپنی کتاب ”الطب النبوی“ میں حضرت ابو سعید خدریؓ کی حدیث نقل کی ہے انہوں بیان کیا کہ روم کے بادشاہ نے سونٹھ کی ایک ٹوکری نبیﷺ کی خدمت اقدس میں بطور ہدیہ پیش کیا‘ تو رسول اللہﷺ نے سب کو ایک ایک ٹکڑا عنایت کیا اور مجھے بھی ایک ٹکڑا کھلادیا۔
سونٹھ دوسرے درجہ میں گرم اور پہلے درجہ میں تر ہے گرم کن ہے کھانا ہضم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے اعتدال کے طور پر پاخانہ نرم کرتی ہے ٹھنڈک اور رطوبت کی وجہ سے ہونے والے جگر کے سدوں میں نافع ہے اور اس کو کھانے اور بطور سرمہ استعمال کرنے سے رطوبت کے باعث پیدا ہونے والا آنکھوں کا دھندلا پن ختم ہوجاتا ہے‘ جماع کے لئے معاون ہے آنتوں اور معدہ میں پیدا ہونے والی ریاح غلیظ کو تحلیل کرتی ہے۔
بہر حال سونٹھ بارد معدہ اور بارد جگر دونوں کے لئے موزوں ہے اگر اس کو شکر کے ساتھ ملا کر دو درہم مقدار گرم پانی سے کھالی جائے تو لیس دار لعابی رطوبات کے لئے مسہل ثابت ہوگی ان معجونوں میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے جو بلغم کو تحلیل کرنے اور اسے ختم کرنے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔
اور خوش ذائقہ سونٹھ گرم خشک ہے قوت جماع میں ہیجان پیدا کرتی ہے منی زیادہ کرتی ہے‘ معدہ اور جگر میں حرارت پیدا کرتی ہے کھانے کی خوش ذائقی بڑھاتی ہے اور بدن پر بلغم کے غلبہ کو ختم کرتی ہے‘ حافظہ زیادہ کرتی ہے جگر اور معدہ کی برودت کیلئے مناسب ہے اور پھل کھانے سے معدہ میں پیدا ہونے والی رطوبت کو ختم کرتی ہے منہ کی بدبو کو زائل کرتی ہے ثقیل غذاﺅں اور کھانوں کے ضرر کو دور کرتی ہے۔