حرف سین

سنا: (ایک دست آور دوا) سنا اور سنوت دونوں کا پہلے بیان ہوچکا ہے‘ سنوت کے بارے میں سات اقوال ہیں پہلا قول یہ ہے کہ یہ شہد ہے‘ دوسرا قول یہ کہ یہ گھی کے ڈبے کا وہ جھاگ ہے جو گھی کے اوپر سیاہ لکیروں کی شکل میں نظر آتا ہے‘ تیسرا قول ہے کہ یہ زیرہ کی طرح کا ایک دانہ ہے البتہ یہ زیرہ نہیں ہے‘ چوتھا قول یہ کہ یہ زیرہ کرمانی ہے‘ پانچواں قول یہ کہ سویا ہے‘ چھٹا قول یہ کہ چھوہارہ ہے‘ ساتواں قول یہ کہ یہ بادیان ہے۔
سفرجل :(بہی) ابن ماجہ ؒنے اپنی سنن میں اسماعیل بن محمد طلحی کی حدیث کو نقل کیا ہے جس کو اسماعیل نے نقیب بن حاجب سے اور نقیب نے ابو سعید سے اور انہوں نے عبدالملک زبیری سے اور عبدالملک نے طلحہ بن عبیداللہ سے روایت کیا ہے‘ حضرت طلحہ کا بیان ہے‘ کہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کے ہاتھ میں ایک بہی تھی‘ مجھے دیکھ کر آپ نے فرمایا‘ آجاﺅ طلحہ اسے لے لو اس لئے کہ یہ دل کو تقویت پہنچاتی ہے۔
اسی حدیث کو نسائی ؒ نے دوسرے طریقہ سے بیان کیا ہے:
”طلحہ نے بیان کیا کہ میں خدمت نبویﷺ میں حاضر ہوا نبیﷺ صحابہؓ کی ایک جماعت کے ساتھ تشریف فرما تھے‘ آپ کے ہاتھ میں ایک بہی تھی جس کو الٹ پلٹ کررہے تھے‘ جب میں آپ کے پاس بیٹھ گیا تو آپ نے بہی میری طرف بڑھائی پھر فرمایا کہ ابو ذر اس کو لے لو اس لئے کہ یہ مقوی قلب ہے سانس کو خوشگوار کرتی ہے‘ اور سینے کی گرانی دور کرتی ہے“
بہی کے متعلق اور بھی بہت سی احادیث مروی ہیں‘ لیکن یہ حدیث سب سے عمدہ ہے دوسری حدیثیں صحیح نہیں ہیں‘ بہی کا مزاج بارد یابس ہے اور ذائقہ کے اعتبار سے اس کا مزاج بھی بدلتا رہتا ہے مگر تمام بہی سرد اور قابض ہوتی ہیں‘ معدہ کے لئے موزوں ہیں‘ شیریں بہی میں برودت و یبوست کم ہوتی ہے اور زیادہ معتدل ہوتی ہے اور ترش بہی میں قبض اور برودت و یبوست بہت زیادہ پائی جاتی ہے‘ بہی کی ساری قسمیں تشنگی کو بجھادیتی ہیں‘ اور قے کو روکتی ہیں پیشاب آور ہے پاخانہ بستہ کرتی ہے‘آنتوں کے زخم کے لئے نافع ہے خون کی سیلانی ہیضہ اور متلی میں مفید ہے‘ اگر اس کو کھانے کے بعد استعمال کیا جائے توتبخیر سے روکتی ہے اور اس کی سوختہ شاخیں اور دھلے ہوئے پتے‘ تو تیاءکی طرح فوائد رکھتے ہیں کھانے سے پہلے اس کو استعمال کرنے سے قبض ہوتا ہے اور کھانے کے بعد استعمال کرنے سے پاخانہ نرم کرتا ہے‘ اور فضلات کو جلد خارج کرنے میں بے مثل ہے‘ اس کا زیادہ استعمال اعصاب کے لئے مضر ہے قولنج پیدا کرتا ہے‘ معدہ میں پیدا ہونے والی صفراءکی حرارت کو کم کرتا ہے۔
اگر اس کو بھون لیا جائے تو خشونت کم ہوجاتی ہے اور ہلکا بھی ہوجاتا ہے اور اگر اس کے بیچ میں گڑھا کرکے اس کا تخم نکال لیا جائے اور اس میں شہد ملا کر گوندھے ہوئے آٹے پر اس کو لیپ دیں پھر اس کو گرم بھوبھل پر سینک دیں تو بے حد مفید ثابت ہوگا۔
شہد کے ساتھ اس کو بھون کر یا پکاکر استعمال کرنا بہتر ہوتا ہے‘ اس کا تخم حلق‘ سانس کی نالی کی خشونت کو دور کرتا ہے‘ اس کے علاوہ بہت سے دوسرے علاج میں بھی نافع ہے۔
اس کا روغن پسینہ روکتا ہے معدہ کے لئے مقوی ہے اس کا مربہ معدہ اور جگر کو تقویت پہنچاتا ہے‘دل کو مضبوط کرتا ہے اور سانسوں کو خوشگوار بناتا ہے۔
تجم الفواد کا معنی ہے‘ دل کو راحت بخشتا ہے‘ بعض لوگوں کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے کہ وہ دل کو کھولتا ہے‘ اور کشادہ کرتا ہے‘ جمام الماءسے ماخوذ ہے یعنی بہت زیادہ پانی جو دور سے دور تک پھیلا ہوا ہے۔
طخائ:یعنی گرانی دل کے لئے ایسی ہی ہوتی ہے جیسے آسمان کے لئے بدلی ہوتی ہے ابو عبید کا قول ہے کہ طخاءگرانی اور بے ہوشی کا نام ہے چنانچہ کہا جاتا ہے۔
یعنی آسمان میں بدلی اور تاریکی نہیں ہے۔
مسواک :صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مرفوعا حدیث مذکور ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:
”اگر میری امت پر یہ بات شاق نہ ہوتی تو میں یقیناً ان کو ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا“
اور صحیحین کی ایک دوسری روایت میں نبی اکرمﷺ جب رات کو بیدار ہوتے تو اپنے منہ کو مسواک سے صاف کرتے تھے۔
صحیح بخاری میں ایک مرفوع حدیث تعلیقاً مروی ہے آپ نے فرمایا کہ مسواک منہ کی صفائی اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہے۔
صحیح مسلم میں ہے کہ نبیﷺ جب گھر میں تشریف لے جاتے تو پہلے مسواک کرتے۔
مسواک کے بارے میں بے شمار احادیث منقول ہیں اور بسند مرفوع ثابت ہے کہ نبیﷺ نے اپنی وفات سے پہلے عبدالرحمٰن بن ابی بکر کی مسواک کی یہ بھی صحیح طور سے ثابت ہے کہ آپﷺ نے فرمایاکہ میں نے تم لوگوں کو بکثرت مسواک کرنے کی تعلیم دی ہے۔
مسواک بنانے کے لئے سب سے عمدہ پیلو کی لکڑی ہے کسی نامعلوم درخت کی مسواک ہرگز استعمال نہ کی جائے‘ ممکن ہے وہ زہریلی ہو اس کے استعمال میں اعتدال برتنا چاہیے اسلئے کہ اس کا بہت زیادہ استعمال کرنے سے دانتوں کی چمک دمک اور اس کی رونق ختم ہوجاتی ہے کیونکہ وہ معدہ سے اٹھنے والے بخارات اور میل کچیل کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہو جاتا ہے اگر اعتدال کے ساتھ مسواک کا استعمال کیا جائے تو دانتوں میں چمک پیدا ہوتی ہے مسوڑھوں میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے زبان کی گرہ کھل جاتی ہے منہ کی بدبو ختم ہوجاتی ہے اور دماغ پاک صاف ہوجاتا ہے اور کھانے کی اشتہا پیدا ہوتی ہے۔
بہتر یہ ہے کہ مسواک عرق گلاب میںتر کرکے استعمال کی جائے سب سے عمدہ مسواک اخروٹ کی جڑ کی ہوتی ہے چنانچہ ”تیسیر“ کے مصنف کا بیان ہے کہ اطباءکا خیال ہے کہ اگر کوئی شخص ہر پانچویں دن اخروٹ کی جڑ کی مسواک کرے تو اس سے تنقیہ دہن‘ حواس کی صفائی اور تندی ذہنی پیدا ہوگی۔
مسواک کرنے میں بے شمار فوائد ہیں منہ کی بدبو دور کرکے منہ کو خوشگوار کرتی ہے مسوڑھوں کو مضبوط بناتی ہے بلغم ختم کرتی ہے نگاہوں کو جلا بخشتی ہے‘ دانتوں کی زردی ختم کرکے صاف شفاف بناتی ہے معدہ درست کرتی ہے‘ آواز صاف کرتی ہے ہاضمہ کے لئے معاون ہے۔
کلام کے مجاری کو سہل بناتی ہے مسواک کرنے کے بعد پڑھنے‘ ذکر واذکار کرنے نیز ادائیگی نمازکے لئے انسان میں نشاط پیدا ہوجاتا ہے نیند کو زائل کرتی ہے اللہ کی رضا مندی کے حصول کا ایک اہم سبب ہے‘ فرشتے پسند کرتے ہیں اور نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے
ہر وقت مسواک کرنا مستحب ہے مگرنماز وضو اور بیدار ہونے اور منہ کا ذائقہ بدلنے کے وقت زیادہ بہتر ہے چونکہ اس سلسلہ کی احادیث عام ہیں اس لئے روزہ دار اور بلا روزہ سب کے لئے ہمہ وقت مستحب ہے کیونکہ روزہ دار کو اس کی ضرورت ہوتی ہے نیز اس سے رضائے الہیٰ بھی حاصل ہوتی ہے اور روزہ میں رضائے الہٰی عام حالات کے مقابل زیادہ مطلوب ہوتی ہے اس سے منہ کی صفائی ہوتی ہے اور روزہ دار کے لئے پاکیزگی افضل عمل ہے۔ سنن ابو داﺅد میں عامر بن ربیعہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا۔
میں نے رسول اللہﷺ کو بارہا دیکھا کہ آپ روزہ کی حالت میں مسواک کرتے تھے۔
امام بخاریؒ نے عبداللہ بن عمرؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ نبیﷺ صبح شام مسواک کرتے تھے۔
اس پر لوگوں کا اجماع ہے کہ روزہ دار کلی کرے بعضوں نے اس کو واجب قراردیا ہے اور کچھ لوگ اسے مستحب کہتے ہیں اور کلی کرنا مسواک سے زیادہ اہم ہے اور گندہ دہنی اور ناگوار بدبو کے ساتھ قربت الہٰی کا حصول ممکن نہیں اور نہ اس کے تعبد کی جنس سے ہے اور حدیث میں مذکور ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بدبو قیامت کے دن خدا کے نزدیک پسندیدہ ہوگی یہ صرف بندہ کو روزہ پر ابھارنے کے لئے ہے اس لئے نہیں کہ گندہ دہنی کو باقی رکھا جائے بلکہ روزہ دار کو تو دوسروں کے مقابل مسواک کی زیادہ ضرورت ہے۔
اور اس لئے بھی کہ رضائے الہٰی کا حصول تو روزہ دار کے منہ کی بدبو کو خوشگوار سمجھنے سے بہت زیادہ اہم ہے اور اس لئے بھی کہ آپ کو مسواک کرنا روزہ دار کے منہ کی بدبو کو باقی رکھنے سے زیادہ پسند تھا۔
مزید برآں یہ کہ مسواک کرنے سے روزہ دار کے منہ کی بو کی وہ خوشبو زائل ہوجاتی جو اللہ کے نزدیک بروز قیامت مشک سے بھی زیادہ محبوب ہوگی بلکہ روزہ دار قیامت کے دن ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کے منہ کی بو مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ خوشگوار ہوگی یہی روزہ کی نشانی ہوگی اگرچہ روزہ دار نے مسواک کرکے اس کو زائل کرنے کی کوشش ہی کیوں نہ کی ہو مگر پھر بھی خوشبو برقرار رہے گی جیسے کہ جنگ کا زخمی شخص اس حال میں آئے گا کہ اس کے خون کا رنگ تو وہی ہوگا جو عام لوگوں کے خون کا ہوتا ہے مگر اس کی خوشبو مشک کی خوشبو کی طرح ہوگی حالانکہ دنیا میں اس کے ازالہ کا حکم دیا گیا ہے مگر پھر بھی یہ خوشبو بہر حال برقرار رہے گی۔
اور دوسری بات یہ کہ بھوک کی وجہ سے ہونے والی منہ کی بدبو مسواک سے زائل نہیں ہوتی اس لئے کہ وہ معدہ کے بالکل خالی ہونےکی وجہ سے ہوتی ہے اور مسواک کرنے کے بعد بھی یہ سبب برقرار رہتاہے البتہ اس کا اثر جاتا رہتا ہے جو دانتوں اور مسوڑھووں پر جما ہوا ہوتا ہے۔
رسول اللہﷺ نے امت محمدیہ کو یہ تعلیم دی کہ روزہ کی حالت میں کیا مستحب ہے اور کون سی چیز ناپسندیدہ ہے مسواک کو ناپسندیدہ چیز میں شمار نہیں کیا‘ کیونکہ آپ جانتے تھے کہ امت کے لوگ کرکے رہیں گے چنانچہ آپ نے ان کو مسواک کرنے کی ترغیب پوری شدومد کے ساتھ دلائی اور لوگ مشاہدہ کرتے تھے کہ آپ خود حالت روزہ میں متعدد بار مسواک کرتے تھے جن کا شمارمشکل ہوتا‘ اور آپ کو یہ بھی معلوم تھا کہ امت کے لوگ میری اقتداءکریں گے‘ اس لئے آپ نے کبھی بھی ان سے یہ نہیں فرمایا کہ زوال شمس کے بعد مسواک نہ کرو اور ضرورت کے ختم ہونے کے بعد کسی چیز کو بیان کرنا ممتنع ہے۔
سمن : (گھی) محمد بن جریر طبری نے اپنی اسناد کے ساتھ حضرت صہیبؓ سے یہ حدیث مرفوعاً روایت کی ہے۔
”تم لوگ گائے کا دودھ استعمال کرو‘ اس لئے کہ وہ شفاءہے اور اس کا گھر دوا ہے‘ اور گوشت بیماری ہے“۔
امام ترمذی ؒنے اس حدیث کو احمد بن حسن سے اس سند کے ساتھ روایت کیا ہے ‘احمد بن حسن نے بیان کیا کہ ہم سے محمد بن موسیٰ نسائی نے حدیث بیان کی ان سے دفاع بن دغفل سدوسی نے بیان کیا‘ اور انہوں نے عبدالحمید بن صیفی بن صہیب سے روایت کی اور انہون نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے ان کے دادا سے روایت کی ہے لیکن اس حدیث کی سند صحیح اور ثابت نہیں ہے ۔
گھی کا مزاج پہلے درجہ میں گرم تر ہے اس میں معمولی درجہ کی خاصیت کی جلاءہے اور ایک قسم کی لطافت پائی جاتی ہے نرم و نازک بدن میں پیدا ہونے والے اورام کے لئے یہ دوا ہے مواد کو نفج کرنے نرم کرنے میں مکھن سے زیادہ قوت رکھتا ہے۔
حکیم جالینوس نے لکھا ہے کہ گھی سے کان کے اورام کا علاج میں نے کیا ہے اور ناک کے سرے کاورم بھی اس سے دور ہو ا مسوڑھوں پر گھی ملنے سے دانت جلد ہی نکل آتے ہیں اور اگر شہد اور تلخ بادام کے ساتھ استعمال کریں تو سینے اور پیھپھڑے کو جلا بخشتا ہے اور لیسدار کیموس غلیظہ کو بھی ختم کرتا ہے مگر اس سے معدہ کو وقتی طور پر نقصان پہنچتا ہے بالخصوص جب کہ مریض بلغمی مزاج کا ہو۔
گائے اور بھیڑ کا گھی شہد کے ساتھ استعمال کیا جائے تو سم قاتل سے نجات ملتی ہے اور سانپ کے ڈسے اور بچھو کے ڈنک مارنے میں نفع بخش ہوتا ہے ابن سنی نے اپنی کتاب میں حضرت علی بن ابی طالب ؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ گھی سے زیادہ شفا دینے والی مفید ترین دوا کوئی نہیں ۔
سمک : (مچھلی)امام احمد بن حنبل ؒنے اور ابن ماجہ نے اپنی سنن میں عبداللہ بن عمر ؓکی حدیث کو مرفوعاً روایت کیا ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:
”ہمارے لئے دو مرد اور دو خون حلال کئے گئے مچھلی اور ٹڈی‘ جگر اور طحال بستہ خون“
مچھلی کی ہزاروں قسمیں ہیں‘ ان میں سب سے بہتر مچھلی وہی ہوتی ہے جو لذیذ ہو‘ اور اس کی بوخوشگوار ہو اور اس کی مقدار اوسط درجہ کی ہو کھال باریک ہو اس کا گوشت نہ زیادہ سخت ہو اور نہ زیادہ خشک ہو‘ اور ایسے شیریں پانی کی ہو جو سنگریزوں سے بہتا ہوا نکلے اور گھاس پھوس اس کی غذا ہو نہ کہ وہ گندگی کھانے والی ہو‘ اور سب سے بہترین جگہ اس کی یہ ہے کہ بہتے دریا سے نکالی ہوئی ہو جو ان دریاﺅں کی چٹانی اورریتیلی جگہوں میں پناہ لئے ہوئے ہوں‘ بہتے ہوئے شیریں پانی میں رہتی ہوں‘جن میں نہ کوئی گندگی ہو اور نہ کیچڑ ہو پانی میں بکثرت موجیں اور تھپیڑے ہوں اور یہ سورج اور ہوا کی زد پر ہو۔
سمندری مچھلیاں‘بہتر‘عمدہ‘پاکیزہ اور زود ہضم ہوتی ہیں اور تازہ مچھلی بارد رطب ہوتی ہے دیر ہضم ہوتی ہے اس سے بلغم کی کثرت ہوتی ہے مگر دریائی اور نہر کی مچھلیاں اس سے مستثنیٰ ہیں اس لئے کہ یہ بہتر اخلاط پیدا کرتی ہیں‘ بدن کو شادابی عطا کرتی ہیں‘منی میں اضافہ ہوتا ہے اور گرم مزاج لوگوں کی اس اصلاح ہوتی ہے۔
نمکین مچھلی میں سب سے عمدہ وہ مچھلی ہے جو ابھی جلد ہی نمک سود کی گئی ہو اس کا مزاج گرم خشک ہے اس پر نمک لگائے ہوئے جتنا وقت گزرے گا اسی قدر اس کی حرارت و یبوست بڑھتی جائے گی سلور مچھلی میں لزوجت بہت زیادہ ہوتی ہے اس کو جری بھی کہتے ہیں ان مچھلیوں کو یہود نہیں کھاتے تھے‘اگر اس کو تازہ کھالیا جائے تو پاخانہ نرم کرتی ہے اور اگر اس کو نمکین کرکے کچھ دنوں تک رکھیں پھر استعمال کریں تو سانس کی نالی صاف کرتی ہے آواز عمدہ بناتی ہے اور اگر اس کو پیس کر بیرونی طور پر اس کا ضماد کیا جائے توآنول کو گراتی ہے اور بدن کے گہرے حصوں سے فضولات کو خارج کرتی ہے اس لئے کہ اس میں قوت جاذبہ موجود ہے۔
نمک ملائی ہوئی جری مچھلی کے پانی میں آنتوں کے زخم کا مریض اگر بیماری کے شروع میں بٹھادیا جائے تو نجات ممکن ہے اس لئے کہ مواد عرض کو ظاہر بدن تک کھینچ کر نکالتی ہے اور اگر اس کا حقنہ کیا جائے تو عرق النساءسے نجات ملتی ہے۔
مچھلی کا سب سے عمدہ حصہ وہ ہے جو دم کے قریب ہوتا ہے تازہ فربہ مچھلی کا گوشت اور چربی بدن کو تازگی بخشتی ہے چنانچہ صحیحین میں جابر بن عبداللہ ؓکی حدیث مروی ہے انہوں نے بیان کیا۔
”رسول اللہﷺ نے ہم کو تین سو سواروں کے ساتھ بھیجا اور ہمارے کمانڈر ابو عبیدہ بن جراح تھے جب ہم ساحل بحر تک پہنچے تو ہمیں شدید بھوک نے آلیا اور اس بھوک میں ہم نے درختوں کے پتے جھاڑ کر کھائے اتفاق سے سمندر کی موجوں نے ایک عنبر نامی مچھلی پھینکی‘ جس کو ہم نے ۵۱ دن تک کھایا‘ اور اس کی چربی کا شوربہ بنایا‘ جس سے ہمارے جسم فربہ ہوگئے‘حضرت ابو عبیدہؓ نے اس مچھلی کی ایک پسلی کو کھڑا کیا اور ایک شخص کو اونٹ پر سوار کرکے اس پسلی کی کمان کے نیچے سے گزارا تو اس کے نیچے سے وہ بآسانی گزرگیا“
سلق :(چقندر) ترمذی اور ابو داﺅد نے ام منذر سے روایت کی ہے انہوں نے بیان کیا:
”کہ رسول اللہﷺ میرے پاس تشریف لائے‘ آپ کے ساتھ حضرت علیؓ بھی تھے اور ہمارے یہاں لٹکتے ہوئے کھجوروں کے خوشے تھے ام منذر ؓبیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ اور آپ کے ساتھ حضرت علی ؓخوشوں سے کھجور کھانے لگے پھر آپ نے حضرت علیؓسے فرمایا کہ علی بس کرو اس لئے کہ تم ابھی کمزور ہو‘ بیماری سے اٹھے ہو ام منذر کا بیان ہے کہ میں ان کے لئے چقندر اور جو کا ڈش تیار کیا تو رسول اللہﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ علی اس ڈش کو کھاﺅ‘ اس لئے کہ یہ تیرے لئے مفید ترین ہے“۔
یہ حدیث امام ترمذی ؒکے نزدیک حسن غریب ہے۔
چقندر کا مزاج پہلے درجہ میں گرم خشک ہے بعضوں نے اسے رطب بتایا ہے اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ یبوست و رطوبت سے مرکب ہے‘ اس میں ہلکی برودت ہوتی ہے‘ یہ مواد تحلیل کرتا ہے اور سدے کھولتا ہے سیاہ چقندر میں قبض ہے بالخورہ‘ مہاسے‘سر کی بھوسی اور بدن کے مسے کے لئے اس کا اطلاء مفید ہے‘جوں کو ختم کرتا ہے‘ شہد کے ساتھ اس کا آمیزہ کرکے بالخورہ پر طلاءکرنے سے فائدہ ہوتا ہے اور جگر اور طحال کے سدوں کو کھول دیتا ہے‘ بہت زیادہ سیاہ چقندر پاخانہ بستہ کرتا ہے بالخصوص جب کہ اس کو مسور کی دال کے ساتھ استعمال کریں‘ حالانکہ یہ دونوں ردی چیزیں ہیں اور سفید چقندر مسور کے ہمراہ پاخانہ نرم کرتا ہے اور اسہال کے لئے اس کے پانی کا حقنہ دیا جاتا ہے اور قولنج میں مسالے اور تلخ چیزوں کے ساتھ اس کا استعمال مفید ہے البتہ غذائیت کم پائی جاتی ہے کیموس ردی پیدا کرتا ہے‘ خون کو جلاتا ہے سرکہ اور رائی سے اس کی اصلاح ہوتی ہے‘ اس کا زیادہ استعمال کرنے سے قبض اور اپھارہ پیدا ہوتا ہے۔