حرف ضاد

ضب (گوہ): صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے۔
”رسول اللہﷺ کے سامنے جب گوہ پیش کی گئی اور آپ نے اس کے کھانے سے احتراز فرمایا تو آپ سے دریافت کیا گیا کہ کیا یہ حرام ہے؟آپ نے فرمایا کہ نہیں یہ حرام نہیں ہے لیکن یہ ہمارے یہاں پایا نہیں جاتا ہے اس لئے میں پسند نہیں کرتا لوگوں نے آپ کے سامنے دستر خوان پر کھایا اور آپ دیکھ رہے تھے“
صحیحین میں عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ´ﷺ نے فرمایا کہ نہ میں اسے حلال قرار دیتا ہوں‘ اور نہ حرام کہتا ہوں۔
گوہ گرم خشک ہے جماع کی خواہش بڑھاتی ہے اور اگر اس کو پیس کر کانٹا چبھنے کے مقام پر ضماد کردیں تو اس کو نکال پھینکتا ہے۔
ضفدع (مینڈک) : اما م احمد بن حنبلؓ نے فرمایا کہ مینڈک کو دوا میں استعمال کرنا جائز نہیں ہے رسول اللہﷺ نے اس کو ہلاک کرنے سے منع فرمایا ہے ان کا اشارہ اس حدیث کی طرف ہے جس کو انہوں نے اپنی مسند میں عثمان بن عبدالرحمٰنؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس ایک طبیب نے مینڈک کا ذکر بسلسلہ دوا کیا تو آپ نے اس کو مارنے سے روک دیا۔
مصنف”قانون“ شیخ نے لکھا ہے کہ مینڈک کا خون یا اس کا گوشت کھانے سے بدن متورم ہوجاتا ہے اور جسم کا رنگ مٹیالا ہوجاتا ہے اور منی ہمہ وقت نکلتی رہے گی یہاں تک کہ انسان موت سے دوچار ہوجائے گا اس کے ضرر کے اندیشہ کو مدنظر رکھتے ہوئے‘اطبا ¾ نے اس کا استعمال ترک کردیا مینڈک کی دو قسمیں ہیں ایک آبی اور دوسرا خشکی کا مینڈک‘ خشکی پر رہنے والے مینڈک کے کھانے سے انسان ہلاک ہوجاتا ہے۔