حرف عین

عنب (انگور )”غیلانیات“ حبیب بن یسار کی حدیث عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا۔
”میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپ انگور منہ سے لپک لپک کر کھارہے تھے۔“
ابو جعفر عقیلی نے اس حدیث کو بے بنیاد قرار دیا ہے اس میں ایک راوی داﺅبن عبدالجبار ابو سلیم کوفی ہے جس کو یحییٰ بن معین نے کذاب قراردیا ہے۔
رسول اللہﷺ سے منقول ہے کہ آپ کو انگور اور تربوز بہت مرغوب تھے۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں چھ مقامات پر انگور کو ان نعمتوں میں شمار کیا ہے جو بندوں پر دنیا اور جنت دونوں جگہ میں انعام کیا ہے۔ انگور سب سے عمدہ پھل ہے اس کے فوائد بھی زیادہ ہیں۔ تازہ اور خشک دونوں طریقے سے کھایا جاتا ہے سبز اور پختہ دونوں کو استعمال کرتے ہیں پھلوں میں پھل‘روزی میں روزی اور شوربوں میں بہترین شوربہ اور دواﺅں میں نفع بخش دوا ہے مشروب بھی ہے۔
اس کا مزاج گیہوں کی طرح تر گم ہے عمدہ انگور‘ رسیلا اور بڑے سائز کا ہوتا ہے اور سفید انگور سےاہ سے عمدہ ہے حالانکہ شیرینی میں دونوں یکساں ہوتے ہیں اور دو یا تین دن کا چنا ہوانگور ایک دن کے توڑے ہوئے انگور سے عمدہ ہوتا ہے اس لئے کہ اپھارہ پیدا کرتا ہے اور مسہل ہوتا ہے۔
اور درخت پر اتنے وقت تک چھوڑدیں کہ اس کا چھلکا سکڑ جائے‘ غذا کے لئے یہ عمدہ ہوتا ہے بدن کو تقویت پہنچاتا ہے کشمش اور انجیر کی طرح اس میں غذایئت ہوتی ہے۔
اور اگر اس کی گٹھلی نکال لی جائے تو پاخانہ نرم کرنے کے لئے مفید ہے اس کو زیادہ کھانے سے سر درد پیدا ہوتا ہے اس کی مضرت کو کھٹے میٹھے انار سے دور کیا جاسکتا ہے۔
انگور مسہل ہوتا ہے فربہ بناتا ہے اور انگور سے عمدہ تغذیہ ہوتا ہے یہ ان تین پھلوں میں شمار ہوتا ہے جن کو لوگ پھلوں کا بادشاہ کہتے ہیں‘ اور وہ یہ ہیں‘انگور‘کھجور‘اور انجیر
عسل (شہد) اس کے فوائد کا بیان پہلے ہوچکا ہے ابن جریح نے بیان کیا کہ زہری کا قول ہے کہ شہد استعمال کرو اس لئے کہ اس سے حافظہ عمدہ ہوتا ہے وہ شہد سب سے عمدہ ہوتا ہے جس میں حدت کم ہو سفید‘ صاف اور شیریں ہو پہاڑوں اور درختوں سے حاصل کی جانے والی شہد میدانوں سے حاصل کی جانے والے شہد سے بہتر ہوتا ہے شہد کی مکھیوں کے رس چوسنے کے مقام اور جگہ کے اعتبار سے عمدہ اور بہتر ہوتا ہے۔
عجوة : (تازہ کھجور کی ایک عمدہ قسم) صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں سعد بن ابی وقاص ؓکی حدیث نبیﷺ سے مروی ہے آپ نے فرمایا:
”جس نے صبح کے وقت عجوہ کھجور کے سات دانے کھالئے اس کو اس دن زہر اور جادو نقصان نہیں پہنچاسکتا“۔
سنن نسائی اور ابن ماجہ میں حضرت جابر ؓاور ابو سعید خدری ؓکی حدیث مرفوعاً مروی ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا:
”عجوہ کھجور جنت سے آئی ہے یہ زہر کے لئے شفاءہے کماة من کا ایک حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفاءہے“۔
بعض لوگو ں کا خیال ہے کہ اس عجوہ سے مراد مدینہ منورہ کی عجوہ کھجور ہے جو وہاں کی کھجور کی ایک عمدہ قسم ہے حجازی کھجوروں میں سب سے عمدہ اور مفید ترین کھجور ہے کھجور کی اعلیٰ قسم ہے انتہائی لذیذ اور مزے دار ہوتی ہے جسم اور قوت کے لئے موزوں ہے تمام کھجوروں سے زیادہ رس دار لذیذ اور عمدہ ہوتی ہے حرف تاءمیں کھجور‘ اس کے مزاج اور اس کے فوائد کا تفصیلی بیان ہوچکا ہے‘ اور اس سے جادو اور زہر کے دفاع کا ذکر بھی کرچکے ہیں اس لئے اس کے اعادہ کی کوئی ضرورت نہیں۔
عنبر ( ایک بہت بڑی سمندری مچھلی) صحیحین میں حدیث جابر گزرچکی ہے جس میں ابو عبیدہ کا واقعہ مذکور ہے کہ صحابہ کرام نے عنبر کو ایک مہینہ کھایا‘ اور اس کے گوشت کے کچھ ٹکڑے اپنے ساتھ مدینہ بھی لے گئے تھے اور اس کو بطور ہدیہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں پیش کیا اسی سے لوگ استدلال کرتے ہیں کہ سمندر کی صرف مچھلی ہی نہیں بلکہ تمام مردار مباح ہیں اس پر یہ اعتراض ہے کہ سمندر کی موجوں نے اس کو ساحل پر زندہ پھینک دیا تھا جب پانی ختم ہوگیا تو وہ مرگئی اور یہ حلال اس لئے ہے کہ اس کی موت پانی سے الگ ہونے کی بنیاد پر ہوئی یہ اعتراض صحیح نہیں ہے اس لئے کہ صحابہ کرام ساحل پر اس کو مردہ پایاتھا اور انہوں نے یہ نہیں دیکھا تھا کہ وہ ساحل پر زندہ آئی اور پھر پانی ختم ہونے کے بعد مرگئی۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر وہ زندہ ہوتی تو سمندر کی موجیں اسے ساحل پر نہ پھینکتیں اس لئے کہ یہ بالکل واضح ہے کہ سمندر صرف مردار کو ساحل پر پھینکتا ہے زندہ جانوروں کو نہیں پھینکتا۔
اگر بالفرض یہ بات مان لی جائے پھر بھی اس کو اباحت کے لئے شرط نہیں مانا جاسکتا اس لئے کہ کسی چیز کی اباحت میں شک کرتے ہوئے اسے مباح نہیں قراردیا جاتا‘ اسی وجہ سے اس شخص کو ایسے شکار کے کھانے سے نبی کریمﷺ نے منع فرمایا ہے جو پانی میں ڈوب کر مرگیا ہے اس لئے کہ اس کی موت کے سبب کے متعلق شک ہے کہ اس کی موت بندوق کی گولی سے ہوئی ہے یا پانی کی وجہ سے۔
عنبر خوشبو میں بھی ایک اعلیٰ قسم ہے‘ مشک کے بعد اس کی خوشبو کا شمار ہوتا ہے جس نے عنبر کو مشک سے بھی عمدہ بتایا ہے‘ اس کا خیال صحیح نہیں ہے نبیﷺ سے روایت ہے آپ نے مشک کے بارے میں فرمایا کہ مشک اعلیٰ ترین خوشبو ہے۔
مشک اس کی خصوصیات اور فوائد کا بیان آگے آئے گا انشاءاللہ کہ مشک جنت کی خوشبو ہے اور جنت میں صدیقین کو نشست گاہیں بھی مشک کی بنی ہونگی نہ کہ عنبر کی۔
یہ قائل صرف اس بات سے فریب کھاگیا کہ عنبر پر مرور ایام کے بعد بھی اس میں کوئی تغیر نہیں ہوتا‘ چنانچہ وہ سونے کے حکم میں ہے لہٰذا یہ مشک سے بھی اعلٰی ترین ہوئی یہ استدلال صحیح نہیں ہے اس لئے کہ صرف عنبر کی اس ایک خصوصیت سے مشک کی ہزاروں خوبیوں کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔
عنبر کی بہت سی قسمیں ہیں اور اس کے رنگ بھی مختلف ہوتے ہیں عنبر سفید‘ سیاہی مائل سفید‘ سرخ‘زرد‘ سبز‘نیلگوں‘ سیاہ اور دورنگا‘ ان میں سب سے عمدہ سیاہ مائل بہ سفید ہوتا ہے پھر نیلگوں‘اس کے بعد زرد رنگ کا ہوتا ہے اور سب سے خراب سیاہ ہوتا ہے عنبر کے عنصر کے بارے میں لوگوں کا اختلاف ہے۔
ایک جماعت کا خیال ہے کہ یہ ایک پودا ہے جو سمندر کی گہرائی میں اگتا ہے اسے بعض سمندری جانور نگل جاتے ہیں اور جب مست ہوجاتے ہیں تو اسے جگالی کی شکل میں باہر نکال پھینکتے ہیں اور سمندر اس کو ساحل پر پھینک دیتا ہے۔
بعض لوگوں کا یہ قول ہے کہ یہ ہلکی بارش ہے جو آسمان سے جزائر سمندر میں نازل ہوتی ہے اس کو سمندر کی موجیں ساحل پر پھینک دیتی ہیں بعضوں نے کہا کہ یہ ایک سمندری جانور کا گوبر ہے جو گائے کے مشابہ ہوتا ہے اور کچھ لوگوںنے اس کو سمندری جھاگ کی ایک قسم قرار دی ہے۔
مصنف ”قانون“ شیخ نے لکھا ہے کہ میرے خیال میں یہ سمندری چشموں سے ابلنے والا مادہ ہے جسے سمندر کا جھاگ کہا جاتا ہے یا یہ کسی لکڑی کے کیڑے کا پاخانہ ہے۔
اس کا مزاج گرم خشک ہے دل ودماغ‘حواس‘ اعضائے بدنی کے لئے تقویت بخش ہے فالج اور لقوہ میں مفید ہے بلغمی بیماریوں کے لئے اکسیر ہے ٹھنڈک کی وجہ سے ہونے والے معدہ کے دردوں اور ریاح غلیظ کے لئے بہترین علاج ہے‘ اور اس کے پینے سے سدے کھلتے ہیں‘ اور بیرونی طور پر اس کا ضماد نفع دیتا ہے‘ اس کا بخور زکام سر درد کے لئے نافع ہے اور برودت سے ہونے والے آدھا سیسی کے لئے شافی علاج ہے۔
عود (اگر) عود ہندی دو قسم کی ہوتی ہے ایک تو کست ہے جو دواﺅں میں استعمال کی جاتی ہے اور عام طور پر اسے قسط کہتے ہیں دوسری قسم کو خوشبو میں استعمال کیا جاتا ہے اس کو الوہ کہا جاتا ہے چنانچہ امام مسلم نے اپنی صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمر ؓسے روایت کی ہے کہ آپ خشک اگر جلاکر اور اس میں کافور ڈال کر بخور کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ رسول اللہﷺ اسی طرح بخور کرتے تھے۔
اور اہل جنت کے عیش وعشرت کے بیان میں آپ ہی سے حدیث مروی ہے جس میں مذکور ہے کہ ان کی انگیٹھیاں اگر کی ہوںگی۔
مجامر مجمر کی جمع ہے جس چیز سے دھونی دی جائے اسے مجمر کہتے ہیں جیسے عود وغیرہ اگر کی کئی قسمیں ہیں‘ ان میں سب سے عمدہ ہندی پھر چینی ہے اس کے بعد قماری اور مندلی کا درجہ ہے۔
سب سے عمدہ سیاہ اور نیلگوں رنگ کی ہوتی ہے جو سخت‘ چکنی اور وزن دار ہو‘ اور سب سے خراب ہلکی پانی پر تیرنے والی ہوتی ہے یہ مشہور ہے کہ عود ایک درخت ہے جس کو کاٹ کر زمین میں ایک سال تک دفن کردیتے ہیں اس طرح زمین اس کا غیر نفع بخش حصہ کھا جاتی ہے اور عمدہ لکڑی باقی رہ جاتی ہے اس میں زمین کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
اور اس کا چھلکا اور وہ حصہ جس میں خوشبو نہیں ہوتی‘متعفن ہوجاتا ہے۔
اس کا مزاج تیسرے درجہ میں گرم خشک ہے سدوں کو کھول دیتا ہے ریاح شکن ہے فضولات رطبی کو ختم کرتا ہے احشاءاور قلب کو مضبوط بناتا ہے اور فرحت بخشتا ہے دماغ کے لئے بے حدنافع ہے جو اس کو تقویت بخشتا ہے اسہال کو روکتا ہے مثانہ کی برودت کی وجہ سے ہونے والے سلس البول میں نافع ہے۔ ابن سمجون نے بیان کیا کہ عود کی مختلف قسمیں ہیں‘ اور لفظ الوہ سب کو شامل ہے‘ اس کا استعمال داخلی اور خارجی دونوں طرح پر کیا جاتا ہے کبھی اس کوتنہا اور کبھی اس کے ساتھ کچھ ملا کر دھونی دی جاتی ہے اس کے ساتھ کافور ملا کر بخور کرنے میں طبی نکتہ یہ ہے کہ اس سے ایک دوسرے کی اصلاح ہوجاتی ہے بخور کرنے سے فضاءعمدہ اور ہوا درست ہوجاتی ہے اسلئے کہ ہوا ان چھہ ضروری چیزوں میں شمار کی جاتی ہے جس کی اصلاح سے بدن کی اصلاح ہوتی ہے۔
عدس (مسور) اس بارے میں جتنی بھی احادیث وارد ہیں ان میں سے کسی کی نسبت رسول اللہﷺ کی طرف کرنا صحیح نہیں ہے‘ کیونکہ آپ نے اس کے متعلق کچھ نہیں فرمایا جیسے یہ حدیث ہے کہ مسور کی پاکیزگی (۰۷) ستر انبیاءکی زبان مبارک سے بیان کی گئی ہے اسی طرح ایک حدیث یہ ہے کہ جس میں مذکور ہے کہ مسور رقت قلب پیدا کرتی ہے اشک آور ہے‘ اور یہ بزرگوں کی غذا ہے جو کچھ اس بارے میں مذکور ہے اس میں سب سے اہم اور صحیح بات یہ ہے کہ یہود کی خواہش مسور کی تھی جس کو انہوں نے من وسلویٰ پر ترجیح دیا اس کا ذکر لہسن اور پیاز کے ساتھ قرآن میں کیا گیا ہے۔
اس کی طبعیت زنانہ ہے سرد خشک ہے اس میں دو متضاد قوتیں ہیں پہلی یہ کہ پاخانہ کو بستہ کرتا ہے اور دوسری یہ کہ مسہل ہے‘ اس کا چھلکا تیسرے درجہ میں گرم خشک ہے یہ چرپراہٹ لگانے والی اور مسہل ہے اس کا تریاق اس کا چھلکا ہے‘ اسی لئے مسلم مسور پسی ہوئی سے عمدہ ہوتی ہے معدہ پر ہلکی ہوتی ہے زود ہضم ہے نقصان بھی کم کرتی ہے اس لئے کہ اس کا مغز خشک وتر ہونے کی وجہ سے دیر ہضم ہوتا ہے اس کے کھانے سے سوداءبہت زیادہ پیدا ہوتا ہے مالیخولیا میں تو بہت زیادہ مضر ہے اعصاب اور بصارت کے نقصان دہ ہے۔
خون گاڑھا کرتی ہے سوداوی مزاج والوں کو اس سے پرہیز کرنا چاہیے اس کا کثرت استعمال ان کو بہت سی مہلک بیماریوں مثلاً وسواس‘جذام‘ اور میعادی بخار میں مبتلا کرتا ہے اس کے ضرر کی اصلاح چقندر اور پالک ساگ سے ہوتی ہے۔
تیل کا زیادہ کھانا بھی اس کے ضرر سے دافع ہے اور نمکسود مسور سب سے زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے اس میں شیرینی کا آمیزکرکے بھی استعمال کرنے سے احتراز کرنا چاہئے اس لئے کہ یہ جگر میں سدے پیدا کرتی ہے اس میں شدید خشکی ہوتی ہے اس لئے اس کو ہمشہ استعمال کرنے سے دھندلا پن پیدا ہوتاہے پیشاب کرنے میں پریشانی ہوتی ہے اور اورام باردہ پیدا ہوتے ہیں‘ اور اسی طرح ریاح غلیظہ بھی پیدا کرتی ہے سب سے عمدہ مسور عمدہ دانے والی سفید رنگ کی ہوتی ہے جو جلد ہی پک جاتی ہے
لیکن بعض جاہلوں کا یہ خیال ہے کہ مسور حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے دستر خوان کا خاصہ ہے جس کو وہ اپنے مہمانوں کے سامنے خاص طور پر پیش کرتے تھے‘ کھلا ہوا جھو ٹ ہے اور سراسر افترا پردازی ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے بھنے ہوئے بچھڑے کے گوشت سے انکی ضیافت کا ذکر قرآن میں کیا ہے۔
بیہقہی نے اسحٰق سے نقل کیا‘ انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مبارک ؒسے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا گیا‘ جس میں مسور کا ذکر ہے کہ مسور کی پاکیزگی ستر انبیاءنے بیان کی ابن مبارک نے فرمایا کہ کسی نبی نے بھی اس کی پاکیزگی نہیں بیان کی ہے البتہ یہ نقصان دہ اور نفاخ ہے پھر فرمایا کہ اس حدیث کو تم سے کس نے بیان کیا؟ لوگوں نے جواب دیا کہ مسلم بن سالم نے بیان کیا‘ پوچھا کہ انہوں نے کس سے روایت کی ہے لوگوں نے کہا کہ انہوں نے تو آپ سے روایت کی ہے تو آپ نے فرمایا کہ اور مجھ سے بھی؟