حرف فا

فاتحة الکتاب (سورہ فاتحہ): اس کو ام القران‘ سبع مثانی‘ شفاءتام‘ نافع دواءکامل جھاڑ پھونک‘کامرانی‘ اور بے نیازی کی کلید‘حافظہ قوت قرار دیا گیا ہے اور جس نے اس کی قدرومنزلت پہچان کر اس کا حق ادا کیا اور اپنی بیماری پر عمدہ طور سے اس کی قرا ت کی تو یہ اس کے لئے رنج وغم‘ حزن وملال اور خوف وڈر کے لئے دافع ثابت ہوگی اور اس نے شفاءحاصل کرنے اور اس کے ذریعہ علاج کرنے کا طریقہ معلوم کرلیا‘ اور وہ راز سر بستہ حاصل کرلیا‘جو اسی کے لئے خاص طور پر چھپا کر رکھا گیا تھا۔
بعض صحابہ کرام ؓکو جب اس کی وقعت ومنزلت کا علم ہوا اور ڈنک زدہ پر اس کو پڑھ کر دم کیا تو اسے فوری شفاءہوئی‘نبی اکرمﷺ نے ان سے دریافت کیا کہ تم کو کیسے معلوم ہوا کہ سورہ فاتحہ کے ذریعہ دم کیا جاتا ہے۔
توفیق ایزدی نے جس کی یاوری کی اور جسے نور بصیرت عطا کیا گیا وہ اس سورہ کے اسرار ورموز سے واقف ہوگیا اور اسے یہ معلوم ہوگیا کہ توحید الٰہی کے کن خزانوں پر یہ مشتمل ہے ذات وصفات واسماءوافعال کی معرفت حاصل ہوگی اور شریعت‘تقدیر ومعاد کے دلائل اس پر واضح ہوگئے اور خاصل توحید ربوبیت وتوحید الوہیت کا عرفان ہوا اور اس نے توکل وتفویض کی حقیقت بھی کامل طور پر معلوم کرلی کہ اللہ ہی کے ہاتھ میں سب کچھ ہے اسی کے لئے ساری تعریف ہے اور ہر طرح کی بھلائی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے اور تمام امور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ہدایت کی طلب میں جو کہ سعادت دارین کا ذریعہ ہے اسی اللہ کی ضرورت ہے اور دنیا وآخرت کی بھلائیوں کے حصول اور دونوں جگہوں کی خرابیوں کی مدافعت سے سورہ کے معانی کا جو تعلق ہے اس کو بھی اس نے معلوم کرلیا ہوگااور اس حقیقت سے بھی آشنا ہوگیا کہ عافیت اور نعمت کامل اسی کے ساتھ مربوط ہے اور اسی سورہ کے تحقق پر اس کا دارومدار ہے ساتھ ہی بہت سی دواﺅں اور دم سے اس کو بے نیاز کردیا اور اسی کے ذریعہ خیر کے دروازے اس کے لئے کھول دیئے گئے اور مفاسد کے شر اور اس کے اسباب کو اسی کے ذریعہ دفع کیا گیا۔
یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کو سمجھنے کے لئے ایک عجیب فطرت‘ بڑی سمجھ اور ایمان کامل کی ضرورت ہے۔
اللہ کی قسم کوئی فاسد بات یا باطل بدعت ایسی نہ ہوگی کہ سورہ فاتحہ نے اس کی تردید آسان سے آسان تر‘ نہایت واضح اور صحیح ترین راستوں سے نہ کی ہو‘ اور معارف الٰہی کا کوئی دروازہ‘ دلوں کے اعمال‘ ان کی بیماریوں کی دواﺅں کا کوئی ذکر ایسا نہ ہوگا کہ سورہ فاتحہ نے اسے نہ کھولا ہو‘ اور اسی نے ان خزانوں کی طرف رہنمائی کی اور اللہ رب العالمین کی سیر کرنے والوں کو کوئی منزل ایسی نہ ملے گی جس کی ابتداءاور انتہا سورہ فاتحہ میں نہ ہو۔
اللہ کی قسم سورہ فاتحہ کی شان وعظمت تو اس سے بھی بالاتر ہے‘ اور اس سے بھی کہیں بلند ہے جب بھی کسی بندے نے اس کے ساتھ پوری وابستگی اور دل بستگی کا اظہار کیا اسے فلاح نصیب ہوئی اور جس پر یہ حقیقت منکشف ہوگئی کہ اس کا املاءکرانے والا کون ہے اور کس نے اس کو کامل شفاءمضبوط بچاﺅ اور کھلی روشنی بناکر نازل کیا ہے‘اس نے گویا اس کی حقیقت اور اس کے لوازم کو کماحقہ سمجھ لیا وہ کبھی کسی بدعت وشرک کا شکار نہیں ہوگا‘ اور نہ ہی کوئی قلبی بیماری اسے لاحق ہوگی اگر ہوئی بھی تو تھوڑی دیر کے لئے چندے آئی چندے گئی کی مصداق ہوگئی۔
بہرحال سورہ فاتحہ زمین کے خزانوں کے لئے کلید ہے اسی طرح جنت کے خزانوں کی بھی کلید ہے لیکن ہر شخص کو اس کلید کے استعمال کرنے کا صحیح طریقہ معلوم نہیں اگر خزانوں کے متلاشی اس سورة کے نکتہ کو جان لیتے‘ اور اس کے حقائق سے آشنا ہوجاتے اور اس کلید کے لئے سالوں سال کوشش کرتے اور اس کے استعمال کا صحیح طریقہ معلوم کرلیتے تو پھر وہ ان خزانوں تک پہنچنے میں کوئی دقت ومزاحمت محسوس نہ کرتے۔
ہم نے جو کچھ اوپر بیان کیا ہے سخن سازی یا استعارہ کے طور پر نہیں بلکہ حقیقت کی روشنی میں بیان کیا ہے لیکن دنیا کے اکثر لوگوں سے اس رازکو پوشیدہ رکھنے میں اللہ تعالیٰ کی زبردست حکمت ہے‘آنکھوں سے پوشیدہ خزانوں پر ارواح خبیثہ متعین رہتے ہیں‘ جو انسان اور ان خزانوں کے درمیان حائل رہتے ہیں۔
اور ان پر ارواح عالیہ کا غلبہ ہوتا ہے جو اپنی قوت ایمانی سے بھرپور ہوتی ہے‘ان روایات عالیہ کے پاس ایسے ہتھیار ہوتے ہیں‘جن کا مقابلہ شیاطین نہیں کرسکتے‘اور نہ ان پر ان کا غلبہ ہوتا ہے‘ اسی وجہ سے ان کو ان کے سامان سے کچھ نہیں مل پاتا‘کیونکہ جب یہ قتل کیا جائے گا تب ہی مقتول سپاہی کا سامان حاصل ہوگا اور یہاں یہ صورت ہی نہیں پائی جاتی۔
فاغیہ (حنا کی کلی) مہندی کی کلی کو کہتے ہیں اس کی خوشبو نہایت عمدہ ہوتی ہے چنانچہ بیہقی نے اپنی کتاب ”شعب الایمان“ میں عبداللہ بن بریدہ کی حدیث کو مرفوعاً ذکر کیا ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا۔
”دنیا اور آخرت میں خوشبوﺅں کی سردار حنا کی کلی ہے“
اور شعب الایمان میں ہی انس بن مالک ؓسے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ کے نزدیک سب سے پسندیدہ خوشبو حنا کی کلی تھی ان دونون حدیثوں کے بارے میں اللہ ہی بہتر جانتا ہے ہم اس کی صحت یا عدم صحت کی شہادت نہیں دے سکتے۔
اس کا مزاج معتدل حرارت اور معتدل یبوست ہے اس میں معمولی طور پر قبض پایا جاتا ہے اگر اونی کپڑوں کی تہہ کے درمیان اس کو رکھ دیا جائے تو دیمک لگنے سے محفوظ رہیں گے‘ فالج اور نمددوکراز کے مرہم میں اسے ڈالتے ہیں اور اس کا روغن ورم اعضاءکو تحلیل کرتا ہے اور اعصاب کو نرم بناتا ہے۔
فضة :(چاندی) یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہﷺ کی انگشتری چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی چاندی کا تھا اور آپ کی تلوار کا قبضہ چاندی کا تھا اور احادیث نبویہ میں چاندی کے زیور بنانے اور اس کے استعمال کرنے سے ممعانعت صحیح طور پر منقول نہیںُہے‘ البتہ چاندی کے برتنوں میں پانی پینے سے منع کیا گیا ہے اور برتنوں کا باب زیورات بنوانے سے زیادہ تنگ ہے اسی لئے عورتوں کو نقرئی لباس وزیور کی اجازت دی گئی‘ اور نقرئی برتنوں کو حرام قرار دیا گیا لہٰذا برتنوں کی حرمت سے لباس وزیور کی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔
”سنن“ میں مرفوعاً روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ لیکن چاندی سے کھیل کود کرو۔ اس لئے اب اس کی تحریم کے لئے کھلی دلیل ضروری ہے خواہ نص ہو یا اس پر اجماع ہو اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی ثابت ہو تو خیر حرمت کا ثبوت مل جائے گا ورنہ مردوں پر اس کی تحرم والی بات پر دل مطمئن نہیں حدیث میں مذکور ہے کہ نبی کریمﷺ نے اپنے ایک ہاتھ میں سونا اور دوسرے ہاتھ میں ریشم لیا اور فرمایا کہ یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں اور عورتوں کے لئے حلال ہیں۔
اس روئے زمین پر چاندی اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے اور ضرورتوں کے لئے طلسم ہے اور دنیا والوں کا باہم احسان بھی ہے چاندی کا مالک دنیا والوں کی نگاہوں میں قابل رشک ہوتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں اس کی عظمت ہوتی ہے مجالس کا صدر نشین بنایا جاتا ہے اور اپنے دروازوں پر اس کا گرم جوشی کے ساتھ استقبال کرتے ہیں اس کی ہم نشینی اور صحبت سے تکان نہیں ہوتی‘ اور نہ کسی طرح دل پر بار محسوس کیا جاتا ہے لوگوں کی انگلیاں اس کی طرف اٹھتی ہیں اور لوگ اس کے چشم براہ رہتے ہیں‘ اگر کوئی بات کہتا ہے تو لوگ سنتے ہیں‘ اگر کسی کی سفارش کردے تو قبول ہوتی ہے اگر گواہی دیتا ہے تو اس کی شہادت تسلیم کرلی جاتی ہے‘ اگر لوگوں سے خطاب کرتا ہے تو لوگ اس پر نکتہ چینی نہیں کرتے اگرچہ یہ بہت زیادہ بوڑھا ہو اور اس کے سارے بال سفید ہوگئے ہوں پھر بھی وہ لوگوں کو جوانوں سے زیادہ حسین وجمیل نظر آتا ہے۔
چاندی کا شمار فرحت بخش دواﺅں میں ہوتا ہے یہ رنج و غم‘ حزن وملال کو دور کرتی ہے دل کی کمزوری اور خفقان کو ختم کرتی ہے اور بڑے بوڑھوں کے استعمال کئے جانے والے معجونوں میں اس کو ڈالتے ہیں یہ اپنی قوت جاذبہ کے سبب سے دل کے اخلاط فاسد ہ جذب کرلیتی ہے‘ بالخصوص جب زعفران اور شہد اس میں آمیز کرکے استعمال کریں تو اکسیر بن جاتی ہے۔
اس کا مزاج سرد خشک ہے اس سے حرارت ورطوبت کی ایک مقدار پیدا ہوتی ہے اور وہ جنتیں جن کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں سے کیا ہے چار ہیں دو سونے کی ہوں گی اور دو چاندی کی ہوں گی‘ اور ان کے برتن زیور اور دوسری چیزیںسب اس کی ہوں گی‘ چنانچہ صحیح بخاری میں ام سلمہ کی حدیث مرفوعاً مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا۔
”سونے اور چاندی کے برتنوں میں جو پانی پیتا ہے وہ اپنے شکم میں جہنم کی آگ ڈالتا ہے“
ایک دوسری مرفوع حدیث میں مذکور ہے کہ آپ نے فرمایا:
”چاندی اور سونے کے برتنوں میں نہ پانی پیو‘ اور نہ ان کی تھالیوں میں کھانا کھاﺅ اس لئے کہ یہ دنیا میں ان (کافر) لوگوں کے لئے ہے‘ اور آخرت میں تم مسلمانوں کے لئے ہے“
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ چاندی کی تحریم کی حکمت یہ ہے کہ مخلوق میں نقود کی کمی کے باعث تنگی نہ ہو‘ اس لئے کہ اگر اس کے اوانی وظروف بنائے جانے لگیں تو وہ حکمت فوت ہوجائے گی‘ جس کے پیش نظر اس کو وضع کیا گیا ہے‘ اور اس سے مصالح بنی آدم کو ٹھیس پہنچے گی‘دوسرے لوگوں نے کہا ہے کہ اس کی حرمت کا سبب تکبر اور فخر ہے ایک جماعت کا قول ہے کہ تحریم کی حقیقی علت یہ ہے کہ جب فقراءومساکین دوسرے لوگوں کو اس کا استعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے تو ان کی دل شکنی ہوگی اور ان کو تکلیف پہنچے گی۔
تحریم کے اسباب جو اوپر بیان کئے گئے ہیں وہ ناقابل تسلیم نہیں ہیں‘اس لئے کہ نقود کی کمی اور تنگی کے سبب سبب سے نقرئی زیوروں کا بنانا اور چاندی کو پگھلاکر اس کے ڈبے تیار کرنا بھی حرام ہونا چاہیے یا اسی طرح کی تمام چیزوں کو جن کا شمار ادانی وظروف میں نہیں ہوتا حرام قرار دینا چاہئے تکبر اور فخر وغروریہ تو ہمہ وقت حرام ہے خواہ جس چیز میں بھی کیا جائے رہ گیا فقراءومساکین کی دل شکنی کا مسئلہ تو اس کا کوئی ضابطہ نہیں ہے کیونکہ لوگوں کی بلند وبالا بلڈنگوں اور عمارتوں‘ عمدہ باغات لہلہاتی کھتیاں‘ تیز رفتار عمدہ سواریاں اور ملبوسات فاخرہ اور لذیذ ومزیدار کھانے اور اسی طرح کی دیگر مباح چیزوں کو دیکھ کر ان کی دل شکنی ہوتی ہے اور یہ ملول خاطر ہوتے ہیں جب کہ ان تمام علتوںکا اعتبار نہیں اس لئے کہ علت جب موجود ہوگی تو معلول کا بھی وجود بہر حال ہوگا لہٰذا صحیح بات یہی سمجھ میں آتی ہے کہ تحریم کی حقیقی علت وہ دلی کیفیت ہے‘ جو اس کے استعمال سے پیدا ہوتی ہے اور ایسی حالت ہے جو عبودیت کی پورے طور پرمنافی ہے‘ اسی لئے نبیﷺ نے اس کی تحریم کی علت بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ یہ دنیا کافروں کے لئے ہے اس لئے کہ ان کے لیے عبودیت کا کوئی حصہ نہیں حاصل ہوتا جس سے وہ آخرت میں اس کی نعمتوں کو پاسکیں لہٰذا اللہ کے کسی پرستار بندے کے لئے دنیا میں اس کا استعمال کرنا درست نہیں ہے‘ دنیا میں اسکا استعمال وہی شخص کرتا ہے جو عبودیت الٰہی سے خارج ہے اور آخرت کے بجائے دنیا اور اس کی موجودہ حالت پر رضا مند ہوگیا۔