حرف قاف

قرآن: اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
”ہم قرآن سے ایسی چیز نازل کرتے ہیں‘ جو یقین کرنے والوں کے لئے شفاء اور رحمت ہے“۔
اس آیت میں لفظ ”من راجح “قول کی بنیاد پر بیان جنس کے لئے ہے‘ تبعیض کے لئے نہیں ہے
دوسری جگہ ارشاد باری ہے:
”اے لوگو۱ تمہارے رب کی جانب سے تمہارے پاس وعظ (اور نصیحت) اور سینوں کی بیماریوں کے لئے شفاءپہنچ چکی ہے“(یونس:۷۵)
قرآ ن مجید بدنی اور قلبی بیماریوں کے لئے شفاءکامل ہے اور دنیا وآخرت کے تمام امراض کے لئے شافی علاج ہے۔
یہ الگ بات ہے کہ ہر ایک کو اس سے شفاءحاصل کرنے کی اہلیت نہ ہو اور نہ شفاءلینے کی توفیق ہو اگر مریض ق علاج قرآنی کا صحیح طریقہ جانتا ہے‘اور صداقت وایمان کامل‘ جذبہ خالص اور پختہ اعتقاد کے ساتھ اپنی بیماری کااس سے علاج کرے‘ اور اس کی شرطوں کا پورا پورا لحاظ رکھے تو پھر وہ کبھی کسی بیماری کا شکار نہیں ہوسکتا۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بیماریوں کی کیا مجال ہے کہ وہ آسمانوں اور زمین کے رب کا مقابلہ کریں اور اس کو توڑ دیں جب کہ اللہ اس کلام کو اگر پہاڑوں پر نازل کردیتا تو اسے چکنا چور کردیتا اور اگر زمین پر اس کو نازل کردیتا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی‘ اس لئے دنیا میں کوئی ایسی قلبی وجسمانی بیماری نہیں ہے‘ جس کے سبب وعلاج کی طرف قرآن نے رہنمائی نہ کی ہو اور اس سے پرہیز واحتیاط کی راہ وہی اختیار کرسکتا ہے جس کو اللہ نے اپنی کتاب کی سمجھ عطا فرمائی ہے شروع ہی میں ہم نے قرآن کے ان رہنما اصولوں اور رہبر دستوروں کا ذکر کردیا ہے جن سے حفظان صحت پرہیز ایذا دینے والے مواد کا استفراغ کرنا ممکن ہے اور انھیں رہبر اصولوں کی روشنی میں ان تمام انواع صحت واذیت کی طرف رہنمائی کی جاسکتی ہے۔
قلبی بیماریوں کا ذکر تفصیل کے ساتھ موجود ہے اور اس کے اسباب وعلاج کا بھی تفصیلی بیان قرآن نے کیا ہے جیسا کہ فرمایا:
”کیا ان کو یہ کافی نہیں کہ ہم نے تم پر اپنی کتاب نازل کی جو ان پر تلاوت کی جاتی ہے“
جس کو قرآن سے شفاءحاصل نہ ہوئی اس کو اللہ شفاءکی کوئی راہ نہیں دکھا سکتا اور جس کے لئے قرآن کافی نہ ہو‘ اس کی کفایت اللہ کے یہاں ممکن نہیں۔
قثائ: (ککڑی) سنن میں عبداللہ بن جعفرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کھجور کے ساتھ ککڑی کھاتے تھے اس حدیث کو امام ترمذی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
ککڑی: دوسرے درجہ میں سرد تر ہے‘ معدہ کی شدت حرارت کو بجھاتی ہے یہ فاسد نہیں ہوتی‘ اگر ہوتی بھی ہے تو بتدریج ہوتی ہے‘ مثانہ کے درد کے لئے نافع ہے اس کی بو سے بیہوشی ختم ہوجاتی ہے اس کا تخم پیشاب آور ہے‘اگر کتے کے کاٹے ہوئے مقام پر اس کے پتے کا ضماد کریں تو مفید ہے دیر ہضم ہے اس کی برودت سے معدہ کوکبھی ضرر بھی پہنچتا ہے اس لئے اس کے استعمال کے وقت مصلح کا لحاظ رکھنا چاہیے تاکہ وہ اس کی برودت ورطوبت کو معتدل کردے جیسا کہ رسول اللہﷺ نے اس کو تر کھجور کے ساتھ استعمال کیا اگر اس کو چھوہارے‘کشمش‘ یا شہد کے ہمراہ استعمال کریں تو اس میں اعتدال پیدا ہوجائے گا۔
قسط: (کست) یہ دونوں الفاظ مترادف ہیں۔
صحیح بخاری‘ صحیح مسلم میں حضرت انسؓ کی حدیث نبیﷺ سے مروی ہے آپ نے فرمایا۔
”جن چیزوں سے تم علاج کرتے ہو‘ ان میں سب سے بہترین دوا پچھنا لگوانا اور قسط سمندری ہے“
مسند میں ام قیس کی حدیث نبیﷺ سے مروی ہے آپ نے فرمایا:
”تم اس عود ہندی کو بطور دوا استعمال کرو‘ اس لئے کہ اس میں سات بیماریوں کے لئے شفاءہے ذات الجنب ان ہی میں سے ایک بیماری ہے“۔
قسط دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک سفید رنگ کی ہوتی ہے۔ جس کو قسط سمندری کہتے ہیں اور دوسری قسم کو ھندی کہتے ہیں جو سفید رنگ کی قسط سے گرم تر ہوتی ہے۔ اور سفید رنگ کی قسط اس سے کم تر ہوتی ہے ان کے فوائد بے شمار ہیں۔ دونوں قسم کی قسط تیسرے درجہ میں گرم خشک ہوتی ہیں۔ بلغم کو خارج کرتی ہیں زکام کے لئے دافع ہیں۔ اگر دونوں کو پیا جائے تو معدہ وجگرکی کمزوری کے لئے نافع ہیں۔ اور ان دونوں کی برودت کے لئے مفید ہیں۔ نیز بادی اور میعادی بخار کے لئے مفید ہیں یہ پہلو کے درد کو ختم کرتی ہیں۔ ہر قسم کے زہر کے لئے تریاق کا کام کرتی ہیں اگر اس کو پانی اور شہد کے ساتھ ملاکر چہرے کی مالش کی جائے تو جھائیں جاتی رہتی ہے حکیم جالینوس نے لکھا ہے کہ قسط ٹیٹنس اور درد زہ میں مفید ہے۔ اور کدو دانے کے لئے قاتل ہے۔
چونکہ فن طب سے ناآشنا اطباءکو اس کا علم نہ تھا کہ قسط ذات الجنب میں مفید ہے‘ اس لئے انہوں نے اس کا انکار کیا ہے۔ اگر یہ بات کہیں حکیم جالینوس سے ان کو ملتی تو اسے نص کا مقام دیتے۔ حالانکہ بہت سے متقدمین اطباءنے اس بات کی تشریح کردی ہے کہ قسط بلغم سے ہونے والے ذات الجنب کے درد میں مفید ہے ´۔ اس کو خطابی نے محمد بن جہم کے واسطہ سے بیان کیا ہے۔
ہم اس سے پہلے بھی یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ انبیاءورسل کی طب کے سامنے اطباءکی موجودہ طب کی حیثیت اس سے کم تر ہے۔ جو فسوں کاروں اور کاہنوں کا طریقہ علاج‘ اطباءکے اس مکمل فن طب کے مقابلہ میں ہے۔
اور قابل غور بات یہ ہے کہ جو علاج وحی الٰہی کے ذریعہ تجویز کیا گیا ہو‘ اس کا مقابلہ اس علاج سے کیسے کیا جاسکتا ہے جو صرف تجربہ اور قیاس کامرہون منت ہو‘ ان دونوں کے درمیان ایڑی چوٹی سے بھی زیادہ فرق ہے۔ یہ نادان تو ایسے بے عقل ہیں کہ اگر ان کو یہود ونصاریٰ اور مشرک اطباءسے کوئی دوا مل جائے تو اسے آنکھ بند کرکے قبول کرلیتے ہیں اور تجربہ کی کوئی شرط اس کی قبولیت کے لئے نہیں پیش کرتے۔
ہم بھی اس بات کے منکر نہیں ہیں کہ عادت کا دواﺅں کے اثر میں خاص مقام ہوتا ہے۔ اور اسکی تاثیرات کے نافع وضرر رساں ہونے میں یہ چیز مانع بن سکتی ہے۔ چنانچہ جو شخص کسی خاص دوا یا غذا کا عادی ہو۔ اس کے لئے یہ دوا زیادہ نفع بخش اور موزوں ثابت ہوتی ہے بہ نسبت اس شخص کے جو کہ اس کا عادی نہ ہو بلکہ جو دوا کا عادی نہیں ہوتا اس کو اتنا فائدہ نہیں ہوتا یا کچھ بھی فائدہ نہیں ہوتا۔
اگرچہ فاضل اطباءکسی بات کو مطلقاً بیان کرتے ہیں مگر اس میں بباطن مزاج‘ موسم مقامات اور عادات کی رعایت ہوتی ہے۔ اور جب یہ قید اس کے کسی علاج یا تشخیص کے سلسلہ میں بڑھادی جائے تو ان کے کلام اور ان کی علمی دسترس پر کوئی حرف نہیں آتا پھر کیسے صادق مصدوقﷺ کے کلام پر حرف آسکتا ہے‘ چونکہ اکثر انسان جہالت وگمراہی کا پتلا ہوتا ہے اس لئے وہ اس سے باز نہیں آتے۔ ہاں وہ شخص اس زمرہ سے خارج ہے جس کو اللہ تعالیٰ روح ایمانی اور نور بصیرت عطا کرکے ہدایت کرے۔اس کی مدد کرے۔
قصب السکر: (گنا) بعض صحیح احادیث میں سکر کا استعمال ہوا ہے چنانچہ حوض کوثر کے بارے میں ہے کہ اس کا پانی شکر سے بھی زیادہ شیریں ہے۔ سکر کا لفظ اس حدیث کے علاوہ کہیں اور نہیں ملتا ´۔
شکر ایک نو ایجاد چیز ہے۔ اس بارے میں قدیم اطباءنے بحث نہیں کی ہے نہ اسے جانتے ہی تھے اور نہ ہی مشروبات میں اس کا ذکر کرتے تھے۔ بلکہ ان کو صرف شہد سے واقفیت تھی۔ اور اسی کو دواﺅں کے ہمراہ استعمال کرتے تھے۔اس کا مزاج گرم تر ہے‘ کھانسی کے لئے مفید ہے۔ رطوبات ومثانہ کو جلاءدیتی ہے ´۔ سانس کی نالی کو صاف کرتی ہے۔ اس میں شکر سے زیادہ تلیین پائی جاتی ہے۔ قے پر ابھارتی ہے۔ پیشاب آور ہے۔ قوت باہ میں اضافہ کرتی ہے۔
چنانچہ عفان بن مسلم نے بیان کیا کہ جو کھانے کے بعد گنا چوس لے تو وہ پورے دن جماع کا سرور ولطف لے سکے گا‘ اگر اس کو گرم کرکے استعمال کیا جائے تو سینے اور حلق کی خشونت کو دور کرتا ہے۔ اس سے ریاح پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے ریاح کو روکنے کے لئے اس کو چھیل کر کھانا چاہیے۔ اور اس کے بعد گرم پانی سے اس کو دھولیں تو اور زیادہ مفید ہے شکر صحیح قول کی بنیاد پر گرم تر ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ بارد ہے۔ سب سے عمدہ شکر سفید صاف وشفاف دانے دار ہوتی ہے۔ پرانی شکر تازہ سے زیادہ لطیف ہوتی ہے‘ اگر اس کو پکا کر اس کا جھاگ نکال لیا جائے تو تشنگی اور کھانسی میں مفید ہے۔
معدہ میں صفراءپیدا کرنے کی وجہ سے معدہ کے لئے مضر ہے۔ لیموں یا عرق سنترہ یا انار ترش کے عرق سے اس کی مضرت دور کی جاسکتی ہے۔
چونکہ شکر میں حرارت اور تلیین کم پائی جاتی ہے۔ اس لئے بعض لوگ اس کو شہد پر ترجیح دیتے ہیں۔ اور اسی چیز نے ان کو شہد کے بجائے شکر کے استعمال پر آمادہ کیا‘ شہد کے فوائد شکر کے بہ نسبت بہت زیادہ ہیں‘ اور اللہ تعالیٰ نے شہد کو شفاءاور دوا کے ساتھ ہی سالن اور شیرینی قرار دیا ہے۔ پھر شہد کے منافع کے مقابل شکر کا ذکر ہی کیا؟
شہد میں تقویت معدہ پائی جاتی ہے‘ پاخانہ نرم کرتی ہے۔ نگاہ تیز کرتی ہے‘ اس کا دھندلا پن ختم کرتی ہےَ۔ اس کا غرغرہ کرنے سے خناق (سانس لینے میں دشوارہونے والی بیماری) دور ہوجاتی ہے۔ فالج ولقوہ سے نجات ملتی ہے۔ اور وہ تمام بیماریاں جو برودت کی بنیاد پر جسم میں رطوبات پیدا کرتی ہیں‘ سب کو شفاءبخشتی ہے‘ اور رطوبات کو بدن کی گہرائیوں سے بلکہ تمام بدن سے ہی باہر نکال پھینکتی ہے۔ صحت کی حفاظت کرتی ہے‘ اسے فربہ بناتی ہے اور گرم کرتی ہے۔ قوت باہ میں اضافہ کرتی ہے۔ مواد فاسدہ کو تحلیل کرکے جلاءبخشتی ہے۔ رگوں کے منہ کھول دیتی ہے۔ آنتوں کی صفائی کرتی ہے کیڑے کو خارج کرتی ہے۔ بارد اور بلغمی مزاج والوں اور بوڑھوں کے لئے موزوں ترین دوا ہے۔ الغرض شہد سے زیادہ کوئی مفید دوا ہو ہی نہیں سکتی‘ علاج کے لئے اور دواﺅں سے مایوسی کے وقت یہی ایک چیز ہے جو نافع ہوتی ہے۔اعضائے انسانی کی محافظ ہے۔ اور معدہ کی تقویت چند در چند کرتی ہے۔ پھر اس کے منافع‘ خصوصیات کے سامنے شکر کا کہاں ذکر اور کیا مقام ہے۔