حرف لام

لحم (گوشت): اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
”اور ہر طرح کے پھل پھول اور ہر قسم کے گوشت سے جو بھی وہ چاہتے ہیں ہم نے ان کو وافر دے رکھا ہے“۔
دوسری جگہ ارشاد ہے:
” اور پرندوں کے گوشت جس کی خواہش کریں گے (وہ لے آئیں گے)“
اور سنن ابن ماجہ میں ابو الدرادءکی حدیث نبی کریمﷺ سے مروی ہے۔آپ نے فرمایا:
”دنیا والوں اور جنتیوں کے کھانے کا سردار گوشت ہے“
اور بریدہؓ سے ایک مرفوع حدیث مروی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ دنیا اور آخرت کا بہترین سالن گوشت ہے۔
اور صحیح بخاری میں نبیﷺ سے روایت ہے آپ نے فرمایا۔
”عائشہؓ کو تمام عورتوںپر ویسی ہی فضیلت حاصل ہے جیسے کہ ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پرہے“
ثرید گوشت اور روٹی کا آمیزہ ہوتا ہے جیسا کہ ایک شاعر نے بیان کیا ہے۔
”جب تم روٹی کو گوشت کے سالن کے ساتھ استعمال کرو تو امانت الٰہی کی قسم یہی ثرید ہے“۔
زہری نے بیان کیا کہ گوشت خوری سے ستر قوتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ محمد بن واسع کا خیال ہے کہ گوشت خوری سے بصارت زیادہ ہوتی ہے‘ چنانچہ حضرت علی بن ابی طالبؓ سے مروی ہے آپ نے فرمایا کہ گوشت کھاﺅ‘اس لئے کے رنگ کو نکھارتا ہے۔ پیٹ کو بڑھنے نہیں دیتا‘ اخلاق وعادات کو بہتر بناتا ہے‘ نافع کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمرؓ ماہ رمضان میں بلا ناغہ گوشت کھاتے تھے اور سفر میں بھی گوشت کھانا نہ چھوڑتے تھے‘حضرت علیؓ سے منقول ہے کہ جس نے چالیس رات گوشت کھانا چھوڑدیا اس کا اخلاق برا ہوجائےگا اس میں بدخلقی آجائے گی۔
لیکن حضرت عائشہؓ سے مروی وہ حدیث جس کو ابو داﺅد نے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ گوشت کو چھری سے کاٹ کر نہ کھاﺅ‘اس لئے کہ یہ عجمیوں کا طریقہ ہے بلکہ اس کو نوچ کر کھاﺅ اس لئے کہ یہی زیادہ عمدہ اور بہتر ہے۔
اس کو امام احمد بن حنبلؒ نے باطل قراردیا ہے‘ کیونکہ دو حدیثوں سے جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے نبیﷺ کا صحیح طور پر گوشت کا چھری سے کاٹ کر کھانے کا ثبوت ملتا ہے۔
گوشت کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں‘ جو اپنے اصول وطبعیت کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں ہم یہاں پر ہر قسم کے حکم اس کی طبعیت‘ منفعت ومضرت کو بیان کریں گے۔
بھیڑ کا گوشت: دوسرے درجہ میں گرم اور پہلے درجہ میں تر ہوتا ہے۔یک سالہ بچہ کا گوشت سب سے عمدہ ہوتا ہے جس کا ہاضمہ اچھا ہو اس میں صالح خون پیدا کرتا ہے اور قوت بخشتا ہے۔ سرد اور معتدل مزاج والوں کے لئے عمدہ غذا ہے۔اسی طرح جو لوگ ٹھنڈے مقامات اور موسم سرما میںپوری ریاضت ومحنت کرتے ہیں۔ ان کے لئے نافع ہے اور سوداوی مزاج والوںکے لئے بھی مفید ہے ذہن اور حافظہ کو قوی بناتا ہے‘ لاغر اور بوڑھے بھیڑ کا گوشت خراب اور مضر ہوتا ہے۔ اسی طرح بھیڑ مادہ کا گوشت ضرر رساں ہوتا ہے ان میں سب سے عمدہ گوشت سیاہ رنگ کے بھیڑ کا ہوتا ہے۔اس لئے کہ وہ معدہ پر گراں نہیں ہوتا‘ اور زیادہ نفع بخش اور لذیذ ہوتا ہے‘اور خصی کا گوشت اور بھی عمدہ اور منفعت بخش ہوتا ہے۔سرخ رنگ کے فربہ جانور کا گوشت ہلکا ہوتا ہے اور غذائیت عمدہ ہوتی ہے اور بکری کے چھوٹے بچے کے گوشت میں معمولی غذائیت ہوتی ہے۔ اور معدہ میں تیرتا رہتا ہے۔اور بہترین گوشت جو ہڈی سے چپکا ہوا ہوتا ہے نبیﷺ کو اگلے حصہ اور سر کو چھوڑ کر بالائی حصہ کا گوشت بہت زیادہ مرغوب تھا اس لئے کہ یہ زیریں حصہ کے مقابل زیادہ ہلکا اور عمدہ ہوتا ہے۔ فرزوق نے ایک شخص کو گوشت خریدنے کے لئے بھیجا تو اس سے کہا کہ اگلا حصہ لینا اور خبردار سر اور شکم کا گوشت نہ خریدنا‘اس لئے کہ ان دونوں میں بیماریاں ہوتی ہیں۔اور گردن کا گوشت عمدہ لذیذ ہوتا ہے۔زود ہضم اور ہلکا ہوتا ہے۔ دست کا گوشت سب سے ہلکا‘ لذیذ ترین ازود ہضم اور بیماری سے خالی ہوتا ہے۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مذکور ہے کہ نبیﷺ کو پشت کا گوشت مرغوب تھا۔ کہ اس میں غذائیت زیادہ ہوتی ہے اور صالح خون پیدا کرتا ہے سنن ابن ماجہ میں مرفوعا روایت ہے کہ سب سے لذیذ اور عمدہ گوشت پشت کا ہوتا ہے۔
بکری کا گوشت: اس میں حرارت معمولی ہوتی ہے خشک ہے‘ اس سے پیدا ہونے والی خلط نہ بہت عمدہ ہوتی ہے نہ عمدہ ہضم ہوتی ہے اور غذائیت بھی بہتر ہوتی ہے۔ بکرے کا گوشت تو عام طور پر خراب ہوتا ہے‘ خشکی بے حد دیر ہضم اور خلط سوداوی پیدا کرتا ہے۔
جاحظ نے بیان کیا کہ مجھے ایک فاضل طبیب نے بتایا کہ اے ابو عثمان خبردار بکری کا گوشت نہ کھانا اس لئے کہ اس سے غم پیدا ہوتا ہے سوداءمیںجان آجاتی ہے نسیان لاتا ہے اور خون خراب کرتا ہے۔اور واللہ اس سے بے عقل اولاد پیدا ہوتی ہے۔
بعض طبیبوں نے لکھا ہے کہ بوڑھی بکری کا گوشت براہے۔ بالخصوص بوڑھوں کے لئے تو اور زیادہ مضر ہے لیکن جو اس کے کھانے کا عادی ہو اس کے لئے کوئی خرابی نہیں اور حکیم جالینوس نے یک سالہ بکری کے بچہ کے گوشت کو کیموس محمود کے لیے معتدل غذاﺅں میں سے شمار کیا ہے۔اور مادہ بچہ نر سے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ نسائی نے اپنی سنن میں نبیﷺ سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا:
”بکرے کی نگہداشت اچھی طرح کرو‘ اور اس سے تکلیف دور کرتے رہو اس لئے کہ جنت کے چوپایوں میں سے ہے“۔
اس حدیث کا ثبوت محل نظر ہے۔ اور اطبا ءنے اس کی مضرت کا جزئی حکم لگایا ہے‘کلی عام حکم نہیں ہے۔ اور یہ مضرت معدہ کی قوت وضعف پر منحصر ہے‘ او ر ضعیف مزاج والوں کی حیشیت سے ہے جو اس کے عادی نہیں ہوتے بلکہ صرف ہلکی غذا استعمال کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ اور یہ شہر میں رہنے والے خوش حال لوگ ہیں جن کی تعداد مختصر ہوتی ہے۔
بکری کے یک سالہ بچہ کا گوشت تقریباً معتدل ہوتا ہے۔ بالخصوص جب تک وہ دودھ پیتا رہے اور ابھی جلدی کا پیدا نہ ہو وہ زود ہضم ہوتا ہے اس لئے کہ اس میں ابھی دودھ کی قوت موجود ہوتی ہے پاخانہ نرم کرتا ہے۔اکثر حالات میں اکثر لوگوں کے لئے موزوں ہوتا ہے۔اونٹ کے گوشت سے بھی زیادہ لطیف ہوتا ہے اور اس سے پیدا ہونے والا خون معتدل ہوتا ہے۔
گائے کا گوشت: سرد خشک ہوتا ہے دیر ہضم ہوتا ہے۔ معدہ سے دیر میں نیچے کی طرف اترتا ہے سوداوی خون پیدا کرتاہے۔ بڑے جفا کش اور محنتی لوگوں کے لئے مناسب ہوتا ہے۔ اس کو ہمیشہ استعمال کرنے سے سوداوی امراض جیسے برص‘خارش‘داد‘جذام‘ فیل پا‘کینسر‘وسواس‘چار روزہ بخار‘ اور بہت زیادہ ورم پیدا ہوتا ہے۔ یہ سب بیماریاں اس شخص کو لاحق ہوتی ہیں جو اس کا عادی نہ ہو ُ اور نہ اس کی مضرت کو مرچ سیاہ‘ لہسن‘ دار چینی اور سونٹھ وغیرہ سے دور کرے‘ سانڈ کے گوشت میں برودت کمتر ہوتی ہے اور گائے میں خشکی کمتر ہوتی ہے بچھڑے کا گوشت بالخصوص جب کہ وہ بچھڑا فربہ ہو نہایت معتدل‘لذیذ‘ عمدہ اور پسندیدہ ہوتا ہے۔ وہ گرم تر ہوتا ہے اور عمدہ طریقہ سے جب ہضم ہوجائے تو اس کا شمار قوت بخش غذا میں ہوتا ہے۔
گھوڑے کا گوشت: صحیح بخاری میں اسمائؓ سے مروی ہے‘ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اکرمﷺ کے عہد مبارک میں ہم نے گھوڑا ذبح کیا‘اور اس کا گوشت کھایا۔
اور نبی کریمﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے گھوڑے کے گوشت کھانےکی اجازت دی اور گدھوں کے گوشت سے روکا ‘ان دونوں روایتوں کو امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے اپنی صحیح میں بیان کیا ہے۔
مقدام بن یکرب کی یہ حدیث پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی کہ آپ نے اس کا گوشت کھانے سے روکا ہے۔ امام ابو داﺅدؒ اور دیگر محدیثینؒ اسی بات کے قائل ہیں۔
قرآن مجید میں گھوڑے کے ساتھ خچر اور گدھے کے ذکر سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ گدھے کے گوشت کا بھی اسی طرح حکم ہے‘جس طرح سے کہ مال غنیمت میں گدھے کے حصہ کا وہ حکم نہیں ہے۔ جو گھوڑے کا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کبھی دو متماثل چیزوں کو ساتھ ساتھ بیان۔کرتا ہے اور کبھی دو مختلف چیزوں کو ایک جگہ ذکر کرتا ہے یہی اسلوب الٰہی ہے‘ اور ارشاد باری کہ اس کو بطور سواری استعمال کرو اس میں اس کے گوشت کھانے سے ممانعت کا کوئی ثبوت نہیں‘ اس لئے کہ علاوہ کسی دوسرے طریقہ منفعت سے روکنے کا بھی تو ذکر نہیں ہے۔ بلکہ یہ محض اس کی منفعت کا ایک طریقہ سواری کرنے کا ذکر ہے نیز دونوں حدیثیں اس کے گوشت کو حلال قرار دینے کے لئے صحیح طور پر ثابت ہیں جن کا کوئی معارض نہیں۔ گھوڑے کا گوشت گرم خشک ہوتا ہے۔ سودائی غلیظ پیدا کرتا ہے‘ لطیف المزاج لوگوں کے لئے اس کا استعمال ضرر رساں ہے۔ ان کو استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
اونٹ کا گوشت: اس بارے میں روافض اور اہل سنت کے درمیان اسی طرح کااختلاف ہے جیسے یہود اور اہل اسلام کے درمیان ہے چنانچہ یہود وروافض اس کی مذمت کرتے ہیں اور اس کو استعمال کرنا حرام سمجھتے ہیں اور دین اسلام میں اس کے گوشت کی حلت معلوم ہے۔ اور بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سفر اور حضر میں اس کو استعمال کیا ہے۔
اونٹ کے بچہ کا گوشت تمام گوشتوں میں لذیذ ترین‘ پاکیزہ تر اور مقوی ہے۔ بھیڑ کے گوشت کی طرح جو اس کا عادی ہواس کو کبھی بھی کسی قسم کا نقصان نہیں ہوتا۔اور اس کے استعمال سے کوئی بیماری بھی نہیں ہوتی اور جن اطباءنے اس کی مذمت کی ہے وہ صرف شہر میں رہنے والے ان خوشحال لوگوں کو مدنظر رکھ کر کہتے ہیں جو اس کے عادی نہیں ہوتے اس لئے کہ اس میں حرارت ویبوست ہوتی ہے۔ سوداءپیدا کرتا ہے۔ دیر ہضم ہے اس میں ناپسندیدہ قوت موجود ہوتی ہے اسی لئے نبیﷺ نے دو صحیح حدیثوں میں اس کے کھانے کے بعد وضو کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ اور ان حدیثوں کا کوئی معارض نہیںاور نہ صرف ہاتھ دھونے سے اس کی تاویل بیان کرنی درست ہے۔
اس لئے کلام رسول میں وضو کے لفظ کے استعمال کا جو اندازہے۔ اس کے یہ خلاف ہے‘ کیونکہ آپ نے بکری اور اونٹ کے گوشت کے استعمال کے حکم کو جدا جدا بیان کیا کہ بکری کے گوشت میں وضو اختیاری ہے کیجیے یا نہ کیجیے مگر اونٹ کے گوشت کے استعمال کرنے کے بعد وضو کرنا حتمی ہے۔ اگر لفظ وضو کو صرف ہاتھ دھونے پر،محمول کیا جائے تو پھر (کہ جو اپنی شرمگاہ چھوئے اسے وضو کرلینا چاہیے)اس حدیث میں
 بھی لفظ وضو کو اسی پر محمول کرنا چاہیے‘ حالانکہ معاملہ یوں نہیں ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اونٹ کا گوشت کھانے والا صرف ہاتھ ہی استعمال نہیں کرتا بلکہ ہاتھ اٹھا کر منہ میں رکھتا ہے۔اس لئے وضو سے صرف ہاتھ دھونا مراد لینا بے کار ہے بلکہ شارع علیہ السلام کے کلام کا ایسا معنی نکالنا ہے۔جو اس کے معہود ومفہوم کے مخالف ہے۔نیز اس کا معارضہ اس حدیث سے ثابت نہیں ہوتا کہ رسول اللہﷺ کا دو حکموں میں سے آخری حکم آگ پر پکائی چیزوں کے استعمال سے وضو نہ کرنا تھا۔
اس کی چند وجہیں ہیں:
پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ حکم عام ہے۔اور وضو کا حکم ان میں سے خاص ہے۔
دوسری وجہ یہ کہ سبب مختلف ہے۔چنانچہ اونٹ کے گوشت استعمال کرنے سے یہاں وضو کا حکم دیا گیا ہے۔گوشت خواہ تازہ ہو یا پختہ یا خشک ہو‘اور وضو میں آگ کی تاثیر کا کوئی دخل نہیں‘اور آگ پر پکے ہوئے گوشت کے استعمال سے وضو نہ کرنے کا جو حکم ہے‘اس میں یہ وضاحت کرنی مقصود ہے کہ آگ وضو کا سبب نہیں ہے۔پھر ان دونوں کے درمیان کیا مطابقت؟یہاں تو ایک طرف وضو کے سبب کو ثابت کیا جارہا ہے۔کہ وہ اونٹ کے گوشت کا استعمال کرنا ہے۔اور دوسری طرف وضو کے سبب کی نفی کی جارہی ہے کہ آگ پر پکا ہوا ہونا وضو کا سبب نہیں ہوسکتا‘لہٰذا اس وضاحت سے ثابت ہوگیا کہ ان دونوں کے درمیان کسی طرح سے بھی کوئی تعارض نہیں ہے۔
تیسری وجہ یہ کہ شارع علیہ السلام نے لفظ عام کی حکایت نہیں کی ہے۔بلکہ دو حکموں میں سے ایک پر عمل کرنے کی خبر دی ہے۔
اور دونوں میں سے ایک دوسرے پر مقدم ہے۔جس کی صراحت خود حدیث میں کی گئی ہے کہ صحابہ نے رسول اللہﷺکے سامنے اونٹ کا گوشت پیش کیا آپ نے اسے کھایا پھر نماز کا وقت ہوگیا‘تو آپ نے وضو کرکے نماز ادا فرمائی پھر آپ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے کھایا اور وضو کئے بغیر نمازادا کی‘تو یہاں دو حکموں میں سے آخری حکم پکے ہوئے گوشت سے وضو نہ کرنا ثابت ہوا اسی طرح حدیث مروی ہے‘مگر راوی نے مقام استدلال کی رعایت سے اس کو مختصر بیان کیا۔اس سے کہاں ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے اونٹ کے گوشت سے وضو کے حکم کو منسوخ کردیا‘یہاں تک کہ اگر لفظ وضو عام متاخراور مقادم ہوتا پھر بھی اس کو منسوخ قراردینا درست نہیں اور خاص کو عام پر مقدم کرنا ضروری ہوتا‘اوریہاں یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے۔
گوہ کا گوشت: اس کے گوشت کے حلال ہونے کے بارے میں حدیث پہلے گزرچکی ہے، اس کا گوشت گرم خشک ہوتا ہے۔ جماع کی خواہش کو ابھارتا ہے۔
ہرن کا گوشت: ہرن عمدہ قسم کا شکار ہے۔ اس کا گوشت بھی بہتر اور پسند یدہ ہوتا ہے یہ گرم خشک ہوتا ہے۔ بعضوں نے اس کو بہت زیادہ معتدل قراردیا ہے۔ معتدل تندرست بدن والوں کے لئے نفع بخش ہے۔ ہرنی کے نوزائیدہ بچہ کا گوشت سب سے عمدہ ہوتا ہے۔
جوان ہرنی کا گوشت پہلے درجہ میںگرم خشک ہوتا ہے، بدن میں خشکی پیدا کرتا ہے، تربدن والوں کے لئے موزوں ہے مصنف ”قانون“شیخ نے بیان کیا کہ وحشی جانوروں میں سب سے عمدہ جواں سال ہرنی کا گوشت ہوتا ہے۔اگرچہ اس کا میلان سوداءکی طرف ہوتا ہے۔
خرگوش کا گوشت: صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا۔
”ہم نے ایک خرگوش کو بھڑ کا کر نکالا‘لوگوں نے اس کا پیچھا کیا۔ اور اس کو پکڑ کر لائے‘ تو طلحہ نے اس کی سرین کا حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا‘آپ نے اسے قبول فرمالیا“
خرگوش کا گوشت معتدل ہوتا ہے۔ یبوست وحرارت کی طرف اس کا میلان معمولی طور پر ہوتا ہے۔ اس کے سرین کا گوشت سب سے عمدہ ہوتا ہے‘اس کو بھون کر کھانا سب سے عمدہ طریقہ ہے‘دست بستہ کرتا ہے پیشاب آور ہے پتھری کو توڑکر خارج کرتا ہے ا س کے سر کوکھانا رعشہ کے لئے مفیدہے۔
گورخر کا گوشت: صحیحین میں ابو قتادہؓسے روایت ہے کہ دیگر صحابہ کرامؓ رسول اللہﷺ کے ہمراہ آپ کے کسی عمرہ میں تھے ‘انہوں نے ایک نیل گائے کا شکار کیا تو آپ نے صحابہ کرامؓ کو اس کے کھانے کا حکم دیا‘حالانکہ سبھی لوگ حالت احرام میں تھے‘صرف ابو قتادہ نے احرام نہیں باندھا تھا۔
سنن ابن ماجہ میں حضرت جابرؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے غزوہ خیبر کے موقع پر گھوڑے اور نیل گائے کا گوشت کھایا۔
نیل گائے کا گوشت گرم خشک ہوتا ہے‘اس میں غذائیت کافی ہوتی ہے‘ سوداوی غلیظ خون پیدا کرتا ہے البتہ اگر اس کی چربی کو روغن قسط میں آمیز کرکے بطور طلاءاستعمال کریں تو درد پشت اور گردہ کی ریاح غلیظہ کے لئے مفید ہے۔ اور اس کی چربی کو بطور طلاءاستعمال کرنے سے جھائیں ختم ہوجاتی ہے۔ غرضیکہ تمام وحشی جانوروں کا گوشت سوداوی خون غلیظ پیدا کرتا ہے ہرن کا گوشت ان میں سب سے عمدہ ہوتا ہے اس کے بعد خرگوش کا گوشت بہتر ہوتا ہے۔
پیٹ کے بچے کا گوشت: موزوں ومناسب نہیں ہوتا‘کیونکہ جنین میں خون رکا رہتا ہے مگر حرام نہیں ہے کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔
”جنین کا ذبح اس کی ماں کا ذبح کرنا ہے“
اہل عراق نے اس کے گوشت کو کھانا نا جائز قراردیا ہے‘مگر یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر وہ زندہ ہو اور اس کو ذبح کیا گیا ہو تو جائز ہے۔لوگوں نے اس حدیث کی یہ توجیہہ کی ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کا ذبیحہ اس کے ماں کے ذبیحہ کی طرح ہے‘یہ لوگ اس حدیث کو تحریم کے لئے حجت قرار دیتے ہیں۔حالانکہ یہ استدلال باطل ہے اس لئے کہ حدیث کے شروع میں یوں ہے کہ صحابہ کرام نے رسول اللہﷺ سے دریافت کیا اور عرض کیا کہ اے رسول اللہﷺ ہم بکری ذبح کرتے ہیں تو ہم اس کے پیٹ میں بچہ پاتے ہیں اسے ہم کھائیں یا نہیں؟ اس پر آپ نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو اس کو کھاسکتے ہو‘اس لئے کہ اس کا ذبیحہ اس کی ماں کا ذبیحہ ہے۔
قیاس بھی اس کی حلت کا مقتضی ہے‘اس لئے کہ بچہ جب تک حمل میں ہوتا ہے وہ اپنی ماں ہی کا ایک حصہ ہوتا ہے‘ اس لئے ماں کا ذبح اس کے تمام اجزاءکا ذبح ہوگیا ۔اسی کی طرف شارع علیہ السلام نے اپنے قول سے اشارہ فرمایا ہے کہ اس کی ماں کا ذبح اس کا ذبح ہے۔
جس طرح کہ جانور کے ذبح سے اس کا ہر جز ذبح ہوجایا کرتا ہے‘اگر اس کے گوشت کے کھانے کے بارے میں کوئی صریح حدیث وارد نہ ہوتی پھر بھی صحیح قیاس اس کے حلال ہونے کا مقتضی ہوتا۔ خشک گوشت سنن ابو داﺅد میں حضرت ثوبانؓ سے حدیث مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ۔
”ہم نے رسول اللہﷺ کے لئے ایک بکری ذبح کی ہم مسافر تھے آپ نے فرمایا کہ اس کے گوشت کو درست کرلو چنانچہ گوشت خشک کرلیا گیا اور ہم مدینہ تک برابر کھاتے رہے۔
خشک گوشت نمک سود گوشت سے زیادہ نفع بخش ہوتا ہے۔بدن کو تقویت بخشتا ہے خارش پیدا کرتا ہے ٹھنڈے تر مسالوں سے اس کا ضرر دور کیا جاتا ہے گرم مزاج کے لوگوں کے لئے موزوں ہے۔اور نمک سود گوشت گرم خشک ہوتا ہے۔خشکی پیدا کرتا ہے فربہ اور تازہ جانور کے گوشت کا نمک سود سب سے عمدہ ہوتا ہے‘ درد قولنج کے لئے مضر ہے۔ دودھ اور روغن میں ملا کر اس کے پکانے سے اس کی مضرت ختم ہوجاتی ہے۔گرم مزاج والوں کے لئے عمدہ ہوتا ہے۔