حرف میم

ماء(پانی): یہ زندگی کا مادہ اور مشروبات کا سردار ہے‘ عناصر اربعہ میں سے ایک بلکہ اس کا اصلی رکن ہے۔ اس لئے کہ آسمان اس کے بخار سے پیدا کئے گئے اور زمین کی تخلیق اس کے جھاگ سے عمل میں آئی اور ہر جاندار چیز کو اللہ نے پانی ہی سے بنایا۔
پانی کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ غذا کا کام کرتا ہے۔یا صرف غذا کے نفوذ کا ذریعہ ہے؟ اس سلسلے میں دو قول ہیں جس کو ہم پہلے بیان کرچکے ہیں اور ہم اس کی دلیل اور اس سے راحج قول کا ذکر بھی کرچکے ہیں۔ پانی سرد تر ہوتا ہے۔حرارت کو ختم کرتا ہے‘ بدن کی رطوبات کا محافظ ہے اور جورطوبات تحلیل ہوجاتی ہیں اس کی تلافی کرتا ہے غذا کو لطیف بناتا ہے۔ اور اس کو بدن کی رگوں میں پہنچاتا ہے۔ پانی کی خوبی دس طریقوں سے معلوم کی جاتی ہے۔
۱۔ رنگ دیکھ کر معلوم کی جاتی ہے کہ وہ صاف ستھرا ہے۔
۲۔ بو سے معلوم ہوتی ہے کہ اس میں کوئی دوسری بو نہیں ہونی چاہیے۔
۳۔ ذائقہ سے معلوم پڑتی ہے‘ کہ وہ شیریں اور لذیذ ہو جیسے نیل اور فرات کا پانی ہوتا ہے۔
۴۔ اس کے وزن سے جان لی جاتی ہے کہ وہ ہلکا ہو اور اس کا قوام لطیف ہو۔
۵۔ اس کی خوبی اس کی گزرگاہ سے معلوم ہوتی ہے کہ اس کا راستہ اور گزرگاہ عمدہ ہے۔
۶۔منبع سے کہ اس کے پانی نکلنے کی جگہ دور ہے۔
۷۔دھوپ اور ہوا کے اس پر گزرنے سے معلوم ہوتی ہے کہ وہ زمین دوز نہ ہو جہاں دھوپ اور ہوا کا گزرنہ ہوسکے۔
۸۔اس کی حرکت سے کہ وہ تیزی کے ساتھ بہتا ہے۔
۹۔اس کی کثرت سے معلوم کی جاتی ہے کہ وہ اتنا زیادہ ہو کہ جو فضلات اس سے ملے ہوئے ہوں ان کو دور کرسکے۔
۰۱۔ اس کے بہاﺅ کے رخ سے معلوم ہوتی ہے کہ وہ شمال سے جنوب کی طرف یا مغرب سے مشرق کی جانب جاری ہو۔
اگر ان خوبیوں کو دیکھا جائے تو یہ پورے طور پر صرف چار ہی دریا میں پائی جاتی ہیں۔دریائے نیل‘ دریائے فرات‘ سیحون اور جیجون۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے حدیث مروی ہے‘ انہوں نے بیان کیا:
”رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ سیحون‘جیجون‘نیل اور فرات سب جنت کی نہروں میں سے ہیں“۔
پانی کے ہلکے ہونے کا اندازہ تین طریقے سے کیا جاتا ہے:
۱۔ پانی سردی اور گرمی سے بہت متاثر ہو اور ان کو بہت جلد قبول کرلے‘ چنانچہ بقراط حکیم کا بیان ہے کہ جو پانی جلد گرم ہوجائے اور جلد ٹھنڈا بھی ہوجائے وہی سب سے ہلکا ہوتا ہے۔
۲ ۔ میزان سے اس کا اندازہ کیا جاتا ہے۔
۳ ۔ دو مختلف قسم کے پانی میں دو ہموزن روئی کے پھائے بھگوئے جائیں پھر ان کو پورے طور پر خشک کرکے وزن کیا جائے تو جو سب سے ہلکا ہوگا۔اسی طرح اس کا پانی بھی اسی طرح ہلکا ہوگا۔
پانی اگرچہ حقیقتاً سرد تر ہے۔ مگر اس کی قوت کسی ایسے عارضی سبب سے متغیر ومنتقل ہوتی رہی ہے۔
جو اس کے تغیر کا موجب بنتا ہے۔ اس لئے کہ جس پانی کا شمالی حصہ کھلا ہوا اور دوسرے حصہ پر چھپا ہوا ہو وہ ٹھنڈا ہوتا ہے‘ اور اس میں معمولی خشکی ہوتی ہے جو شمالی ہوا کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے‘ اسی طرح دوسری سمتوں کے پانی کا حکم ہے۔
اور کان سے نکلنے والا پانی اسی کان کی طبعیت کے مطابق ہوگا‘ اور اسی انداز کا اثر بدن پر نمایاں ہوگا۔ شیریں پانی مریضوں اور تندرست لوگوں کے لئے مفید ہے۔ ٹھنڈا پانی اور بھی زیادہ مفید اور لذیذ ہوتا ہے۔ اس کو نہار منہ اور جماع کرنے کے بعد پینا مناسب نہیں‘اسی طرح نیند سے بیدار ہونے کے بعد۔جماع کے بعد اور تازہ پھل کھانے کے بعد اس کو پینا نہیں چاہیے۔ اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔
لیکن اگر کھانے کے بعد پانی کی ضرورت محسوس ہو تو متعین مقدار میں پینا چاہیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں‘ البتہ زیادہ پینا مضر ہے۔اگر پانی کی چسکی لے تو یہ کبھی بھی نقصان نہیں کرے گا۔ بلکہ معدہ کو تقویت بخشے گا اور شہوت کو ابھارے گا اور تشنگی ختم کرے گا۔
نیم گرم پانی اپھارہ پیدا کرتا ہے۔ اور مذکورہ فوائد کے بر خلاف اثرات دکھلاتا ہے باسی نیم گرم پانی تازہ سے عمدہ ہوتا ہے جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے‘ اور آب سرد اندرونی طور پر خارجی طور پر استعمال کرنے کے مقابل زیادہ نافع ہے اور گرم اس کے برعکس ہوتا ہے۔ٹھنڈا پانی عفونت دم میں زیادہ نافع ہے‘اسی طرح بخارات کو سر کی طرف جانے سے روکتا ہے اور عفونت سے بچاتا ہے۔یہ گرم مزاج‘گرم مقام وموسم اور جوان العمر لوگوں کے لئے موزوں ہوتا ہے‘ نضج اور تحلیل کی ضرورت میں بہر صورت نقصان دہ ہوتا ہے جیسے زکام‘ورم وغیرہ اور بہت زیادہ ٹھنڈا پانی دانتوں کو نقصان پہنچاتا ہے‘ اور ایسے پانی کا بکثرت استعمال خون کو پھاڑتا ہے اور نزلے کو حرکت دیتا ہے۔
بہت زیادہ ٹھنڈا یا گرم پانی دونوں اعصاب اور اکثر اعضاءجسمانی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس لئے کہ ان میں سے ایک محلل ہے۔اور دوسرا کثافت پیدا کرتا ہے‘ گرم پانی سے اخلاط ردیہ کی سوزش ختم ہو جاتی ہے۔ نضج وتحلیل کا کام کرتا ہے‘ رطوبات ردیہ کو نکال پھینکتا ہے۔ بدن کو شاداب بناتا ہے‘اور اس میں گرمی پیدا کرتا ہے اس کے پینے سے ہاضمہ خراب ہوتا ہے۔غذا کے ساتھ استعمال کرنے سے یہ معدہ کی بالائی سطح پر تیرتا رہتا ہے اور اسے ڈھیلا کرتا ہے‘تشنگی دور کرنے میں بھی زیادہ عمدہ نہیں ہے‘بدن کو لاغر بناتا ہے‘امراض ردیہ کا نقیب ہے‘ اکثر امراض میں مضر ہے البتہ بوڑھوں کے لئے موزوں ہے۔ اسی طرح مرگی۔سردی کی وجہ سے سر درد کے مریضوں اور آشوب چشم کے بیماروں کے لئے گرم پانی مناسب ہے۔ خارجی طور پر اس کا استعمال بہت زیادہ مفید ہے۔
آفتاب کی تمازت سے گرم شدہ پانی کے بارے میں کوئی حدیث یا اثر صحیح طور پر ثابت نہیں ہے اور نہ قدیم اطباءمیں سے اس کو کسی نے خراب سمجھا اور نہ معیوب قراردیا۔ بہت زیادہ گرم گردے کی چربی کو پگھلادیتا ہے۔ حرف عین کے تحت بارش کے پانی کا بیان ہوچکا ہے۔اس لئے یہاں اعادہ کی کوئی ضرورت نہیں۔
برف اور اولے کا پانی: صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں نبیﷺ سے روایت مذکور ہے کہ آپ نماز کے استفتاح میں یہ دعا فرماتے تھے۔
”اے اللہ مجھے گناہوں سے برف اور اولے کے پانی کے ذریعہ دھودے“۔
برف میں ایک دخانی کیفیت ومادہ موجود ہے‘اور اس کا پانی بھی اسی کیفیت کا ہوتا ہے۔برف کے پانی سے گناہوں کو دھونے کی درخواست کرنے میں جو حکمت مضمر ہے اس کا بیان پہلے ہوچکا ہے کہ اس سے دل میں ٹھنڈک‘ مضبوطی اور تقویت تینوں چیزیں حاصل ہوتی ہیں اور اسی سے دلوں اور جسموں کے علاج بالغہ کی حقیقت منکشف ہوجاتی ہے اور بخوبی یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ بیماریوں کا علاج اس کے اضداد سے کس طرح کرنا چاہیے۔
اولے کا پانی برف کے مقابل زیادہ لذیذ اور لطیف ہوتا ہے۔ لیکن بستہ اور منجمد پانی تو وہ جیسا ہوگا اسی حساب سے اس کی خوبیاں ہوں گی اور برف جن پہاڑوں یا زمینوں پر گرتی ہے ان کی ہی کیفیت سے ان میں اچھائی اور خرابی پیدا ہوتی ہے‘ حمام و جماع اور ورزش اور گرم کھانا کھانے کے بعد برف کا پانی پینے سے سختی سے پرہیز کرنا چاہیے۔اسی طرح کھانسی کے مریضوں‘ سینے کے درد سے متاثر اور ضعف جگر کے مریض اور سرد مزاج لوگوں کو اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔
کنویں اور نالوں کا پانی : کنویںکا پانی بہت کم لطیف ہوتا ہے۔ اور زمین دوز نالوں کا پانی ثقیل ہوتا ہے‘ اس لئے کہ کنویں کا پانی گھرا ہوا ہوتا ہے۔جس میں تعفن کا امکان ہوتا ہے۔اور نالوں کے پانی پر ہوا کا گزر نہیں ہوتا اس کو نکال کر فوراً نہیں پینا چاہیے۔بلکہ تھوڑی دیر رکھ دیا جائے تاکہ ہوا اپنا کام کرجائے اور اگر ایک رات گزرنے کے بعد اس کو استعمال کریں تو اور بہتر ہے۔اور جس پانی کا گزر سخت زمین سے ہو یا غیر مستعمل کنویں کا پانی ہو سب سے خراب ہوتا ہے بالخصوص جب کہ اس کی مٹی بھی خراب ہو تو اور بھی زیادہ خراب اور دیر ہضم ہوتا ہے۔
آب زمزم : تمام پانیوں کا سردار‘سب سے اعلیٰ‘ سب سے بہتر اور قابل احترام ہے۔لوگوں کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ اور سب سے زیادہ بیش بہا ہے اور لوگوں کے نزدیک سب سے نفیس پانی ہے یہ جبرئیل علیہ السلام کے پیر مارنے سے پیدا ہوا اور یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی سیرابی کا ذریعہ بنا۔
صحیح بخاری میں مرفوعاً حدیث مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ابو ذرؓ سے فرمایا جو کعبہ اور اس کے پردوں کے درمیان چالیس دن تک رہے اور ان کے پاس کھانے پینے کے لئے کچھ بھی نہ تھا تو نبیﷺ نے اس سے فرمایا کہ یہ (آب زمزم) مزیدار کھانا ہے۔اور امام مسلم کے علاوہ دوسروں نے اپنی سند سے اس میں اتنا اضافہ کیا کہ یہ پانی بیماری کے لئے شفاءہے۔
سنن ابن ماجہ میں حضرت جابر بن عبداللہؓ سے مرفوعاً روایت مذکور ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
”آب زم زم جس مقصد کےلئے پیا جائے‘ اسی کے لئے مفید ہے“
اس حدیث کو عبداللہ بن موامل کی وجہ سے ایک جماعت نے ضعیف قراردیا ہے اس کو عبداللہ نے محمد بن منکدر سے روایت کی ہے‘اور ہم نے اس حدیث کو عبداللہ بن مبارک سے بایں طور روایت کیا ہے۔ کہ جب وہ حج کے موقعہ پر آب زمزم پر پہنچے تو کہا کہ ابن ابی الموالی نے محمد بن منکدر عن جابر عن النبی کی سند سے اس کو روایت کیا ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا آب زمزم جس مقصد کے لئے پیا جائے اسی کے لئے مفید ہے‘اور میں اس کو قیامت کے دن کی تشنگی دور کرنے کے لئے پیتا ہوں ابن ابی موالی ثقہ ہے لہٰذا یہ حدیث حسن ہے اور بعض ائمہ حدیث نے اس کو صحیح قراردیا ہے‘ اور بعض نے اس کو موضوع بتلادیا ہے حالانکہ یہ دونوں قول بے بنیاد ہیں۔
میں نے اور دوسرے لوگوں نے بھی شفاءامراض کے بارے میں عجیب تجربہ کیا ہے اور خود مجھے متعدد امراض میں اس سے شفاءحاصل ہوئی اور اللہ نے اس پانی کے ذریعہ مجھے شفاءعطا فرمائی‘اور میں نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ بہت سے لوگوں نے پندرہ دنوں تک صرف اسی پانی کو نوش کیا اور یہ ان کو تغذیہ دیتا رہا‘ اور انھیں بھوک کا احساس نہیں ہوتا تھا۔اور عام لوگوں کی طرح طواف کعبہ کرتے رہے‘ مجھے بعض لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ چالیس روز تک اس پر گزارہ کیا اسکے باوجود اس میں بیوی سے جماع کرنے کی قوت پورے طور پر موجود رہی وہ مباشرت کرتے تھے اور روزہ رکھتے اور بار بار طواف کعبہ بھی کرتے تھے۔
دریائے نیل کا پانی: نیل جنت کی ایک نہر ہے یہ بلادحبشہ کی وادی کے کنارہ میں واقع جبال قمر کے پیچھے سے نکلی ہے۔جہاں بارش کا پانی ٹھہرتا ہے‘اور سیلاب آتے رہتے ہیں۔ پھر وہ سیلاب ایسے چٹیل میدانوں کی طرف رخ کرتے ہیں‘ جہاں روئیدگی کا دور دور تک پتہ نہیں ہوتا۔اس سے وہاں پر کھیتاں لہلہا اٹھتی ہیں ان کھتییوں سے جانور اور انسان دونوں فیض یاب ہوتے ہیں چونکہ وہ زمین جہاں سے اس پانی کا گزر ہوتا ہے۔بہت سخت ہوتی ہے۔ اگر عادت کے مطابق معمولی بارش ہوتی ہے۔تو نباتات کے اگنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور اگربہت زیادہ بارش ہوجاتی ہے تو مکانات اور باشندوں کو نقصان ہوتا ہے اور ذرائع معیشت ومصالح معطل ہوکر رہ جاتے ہیں‘اس لئے بارش دور دراز علاقوں میں ہوتی ہے‘پھر یہ بارش ان زمینوں کی طرف ایک بڑی نہر کی شکل میں آجاتی ہے‘اور ان میں زیادتی بحکم الٰہی معلوم وقتوں میں اتنی ہی ہوا کرتی ہے‘جس سے ان علاقوں میں شادابی آجائے اور روئیدگی کے لئے کافی ہو ۔پھر جب یہ علاقے پورے طور پر سیراب ہوجاتے ہیں‘اور شادابی آجاتی ہے۔ تو آہستہ آہستہ پانی کم ہوجاتا ہے۔اور نیچے چلا جاتا ہے۔کہ کھیتی پورے طور پر ہوسکے مصلحت و معشیت کی تکمیل ہو۔ اس پانی میں دس خصوصیات موجود ہیں جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے چنانچہ نیل کا پانی بہت زیادہ لطیف ہلکا شیریں اور لذیذ ہوتا ہے۔
سمندر کا پانی: نبی کریمﷺ سے یہ حدیث ثابت ہے جس میں آپ نے سمندر کے بارے میں فرمایا:
”سمندر کا پانی پاک ہے‘ اور اس کا مردار حلال ہے“۔
اللہ نے اس کا پانی نمکین شور‘ تلخ کھاری بنایا تاکہ روئے زمین پر بسنے والے انسانوں اور چوپایوں کی ضروریات کی تکمیل ہوسکے اس لئے کہ یہ ہمیشہ ٹھہرا ہوا رہتا ہے اس میں بکثرت حیوانات پائے جاتے ہیں۔جو اسی میں مرتے ہیں اور ان کی قبریں نہیں تیار کی جاتیں اگر سمندر کا پانی شیریں ہوتا تو ان جانوروں کے رہنے اور اس میں مرنے کی وجہ سے متعفن ہوجاتا اور ساری دنیا میں فساد عام ہوجاتا‘ اور بیماریاں پھیلتیں‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ کے تقاضا کے تحت اس کو اتنا نمکین بنایا کہ اگر ساری دنیا کے مردار آلائشیں اور مردے ڈالے جائیں پھر بھی اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں ہوگا۔اور ابتدائے آفرینش سے آج تک اس کے ٹھہراﺅ نے اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں ہونے دیا۔اور قیامت تک یہ اسی طرح رہے گا۔
سمندر کو نمکین وشوربنانے کی یہی حقیقی علت غائی ہے‘ اور اس کا فاعلی سبب یہ ہے کہ زمین شور اور نمکین ہوجائے۔
بایں ہمہ سمندر کے پانی سے غسل کرنا ظاہر جلد کی مختلف بیماریوں کے لئے سود مند ہے‘اور اس کا پانی جلد کے ظاہر وباطن دونوں کے لئے ضرر رساں ہے اس لئے کہ مسہل ہوتا ہے اور لاغر بناتا ہے‘اس کے پینے سے جلد پر خارش‘ داد پیدا ہوتی ہے۔اس سے اپھارہ پیدا ہوتا ہے‘ نیز تشنگی مزید بڑھتی ہے‘اور جس کے لئے اس کو پینا ناگزیر ہو تو اس کو اس کی مضرت کو دور کرنے کے لئے مندرجہ ذیل طریقے اختیار کرنا چاہیے۔
پہلا طریقہ یہ ہے کہ پانی کو ہانڈی میں رکھا جائے اور ہانڈی کے اوپر نے رکھی جائے‘جس پر نیا دھنا ہوا اون ہو اور‘اور ہانڈی کے نیچے آگ جلا کر اسے پکا یا جائے یہاں تک کہ بخارات اٹھ کر اون تک پہنچ جائیں‘جب زیادہ ہو جائیں تو اون کو نچوڑ لیں اس کو گرنے نہ دیں۔یہاں تک کہ پانی کا صاف ستھرا حصہ نکل کر باہر آجائے اور نمکین شور پانی‘ہانڈی کی سطح زیریں میں باقی رہ جائے۔
دوسراطریقہ یہ ہے سمندر کے کنارے ایک بڑا گڑھا کھودا جائے‘جس کی طرف سمندر کا پانی بہایا جائے‘پھر اسی کے قریب دوسرا گڑھا بناکر اس کی طرف پانی ڈالا جائے‘پھر ایک تیسرا گڑھا بنائیں اور اس کی طرف پانی بہایا جائے غرض اسی طرح یہ عمل کیا جائے۔جب تک کہ پانی شیریں نہ ہوجائے‘جب اس گدلے پانی کا پینا نا گزیر ہو تو اس کے استعمال کا طریقہ یہ ہے کہ اس میں سنگریزے یا دیوار کی لکڑی کا کا ایک ٹکڑا یا شعلہ زن انگارہ اس میں ڈال دیں کہ اسی میں بجھ جائے‘یا اس میں گل ارمنی یا گیہوں کا ستو آمیز کرلیں‘تو اس کی کدورت و غلاظت نیچے بیٹھ جائے گی۔
مشک: صحیح مسلم میں حضرت ابو سعید خدریؓ سے مرفوعاً یہ حدیث منقول ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا۔
”سب سے بہترین خوشبو مشک ہے۔“
اور صحیح بخاری وصحیح مسلم میں عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے‘ وہ فرماتی ہیں:
”میں نبی کریمﷺ کو آپ کے احرام باندھنے سے پہلے اور یوم نحر کو خانہ کعبہ کا طواف کرنے سے پہلے ایسی خوشبو لگاتی تھی‘جس میں مشک کی آمیزش ہوتی تھی“۔
مشک تمام خوشبوﺅں کی سرتاج ہے‘سب سے بہتر اور خوشگوار ہوتی ہے اس کو ضرب المثل کی حیثیت حاصل ہے‘اسی سے دوسری خوشبو کی تشبیہ دیتے ہیں‘لیکن اس جیسی کوئی خوشبو نہیں ہوتی اور جنت کے ٹیلے مشک کے ہوں گے‘اس کا مزاج دوسرے درجہ میں گرم خشک ہے‘نفس کو فرحت بخشتی ہے اور قوی کرتی ہے‘اس کے پینے اور سونگھنے سے تمام باطنی اعضاءکو تقویت ملتی ہے اور ظاہری اعضاءپر جب اس کو لگایا جائے تو بوڑھوں اور سرد مزاج لوگوں کے لئے نافع ہے‘بالخصوص موسم سرما میں تو اور بھی مفید ہے۔بے ہوشی اور خفقان کے لئے بہترین دوا ہے۔
اور ضعیف القوة میں حرارت غریزی کو ابھارتی ہے۔آنکھ کی سفیدی کو جلاءبخشتی ہے۔اور رطوبات چشم کو نکال پھینکتی ہے‘جسم کے اعضاءسے ریاح کو خارج کرتی ہے۔ زہر کے اثر کے لئے تریاق ہے‘سانپ کے ڈسنے پر مفید ہے‘اس کے فوائد بے شمار ہیں‘مفرحات میں اعلیٰ ترین مفرح کا درجہ حاصل ہے۔
مرز بخوش (ایک قسم کی بوٹی کا نام ہے) اس کے متعلق ایک حدیث وارد ہے مگر اس کی صحت کی ہمیں واقفیت نہیں‘حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔
”تم لوگ مرز بخوش استعمال کرو‘اس لئے کہ یہ زکام کے لئے مفید ہے“۔
یہ تیسرے درجہ میں گرم اور دوسرے درجہ میں خشک ہے‘اس کو سونگھنا بارد سر درد کے لئے مفید ہے اسی طرح بلغمی اور سوداوی سر درد کے لئے نافع ہے زکام اور ریاح غلیظہ میں سود مند ہے‘دماغ اور نتھنوں میں پیدا ہونے والے سدوں کو کھولتا ہے‘اور اکثر اورام باردہ کو تحلیل کرتا ہے‘اکثر مرطوب۔بارد‘درد اورام میں مفید ہے‘اس کا حمول حیض آور ہے‘اور عورتوں کو حاملہ کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے اور اس کے خشک پتوں کو پیس کر خون جمی آنکھوں پر ٹکور کیا جائے تو خاصا فائدہ ہوتا ہے۔اور اگر بچھو کے ڈنک زدہ مقام پر اس کو سرکہ کے ساتھ آمیز کرکے ضماد کریں تو سود مند ہوتا ہے۔
اس کا روغن پشت اور گھٹنوں کے درد میں مفید ہے‘تکان دور کرتا ہے‘جو ہمیشہ اسے سونگھا کرے اس کو نزول الماءکی بیماری نہ ہوگی‘اگر اس کے عرق کو تلخ بادام کے روغن کے ساتھ آمیز کرکے ناکوں میں چڑھائیں تو نتھنوں کے سدوں کو کھول دیتا ہے‘نتھنوں اور دماغ میں پیدا ہونے والی ریاح کو توڑ دیتا ہے۔
ملح :( نمک) ابن ماجہؒ نے اپنی سنن میں حضرت انسؓ کی مرفوع حدیث ذکر کی ہے‘
جس میں نبیﷺ نے فرمایا:
”اعلیٰ ترین سالن نمک ہے“
نمک ہر چیز کا سرتاج‘ مصلح ہے۔اور ہر چیز کے ذائقہ کا دارومدار اسی پر قائم ہے۔اکثر سالن نمک کے ذریعہ ہی تیار کیا جاتا ہے‘ چنانچہ مسند بزار میں مرفوع روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:
”عنقریب وہ دور آنے والا ہے جس میں تم لوگ کھانے میں نمک کی طرح ہوگے اور کھانے کی اصلاح نمک کے ذریعہ ہی ہوتی ہے“۔
علامہ بغوی ؒنے اپنی تفسیر میں عبداللہ بن عمرؓ سے مرفوع روایت نقل کی ہے۔
”اللہ تعالیٰ نے آسمان سے زمین کی طرف چار برکتیں نازل فرمائی ہیں‘لوہا‘آگ پانی اور نمک“۔
اس حدیث کا موقوف ہونا زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے۔
نمک سے تمام جسم انسانی وغذا ءانسانی کی اصلاح ہوتی ہے۔ اور ہر آمیزش کی اصلاح کرتا ہے۔ جو کسی چیز میں پیدا ہوگئی ہو حتیٰ کہ سیم وزر کی آمیزش کی اصلاح اسی سے ہوتی ہے۔اس لئے کہ اس میں ایک ایسی قوت ہوتی ہے جو سونے کے زردی اور چاندی کی سفیدی کو مزید بڑھاتی ہے۔ اور چمک دمک پیدا کرتی ہے۔ اور اس میںجلاءاور تحلیل کی بھی قوت موجود ہے۔اسی لئے رطوبات غلیظہ کو ختم کرتا ہے۔اور اسے خشک کرتا ہے‘بدن کو تقویت بخشتا ہے اور اسے فاسد اور متعفن ہونے سے روکتا ہے اور خارش کے زخموں کے لئے نافع ہے۔
اگر اس کو بطور سرمہ استعمال کیا جائے تو آنکھ کے بد گوشت کو ختم کردیتا ہے‘اور ناخنہ کو جڑ سے ختم کرتا ہے۔نمک اندرانی سب سے عمدہ ہوتا ہے اور خراب زخموں کو پھیلنے سے روکتا ہے۔پاخانہ نیچے لاتا ہے اگر استسقاءکے مریضوں کے شکم پر اس کی مالش کی جائے تو ان کو آرام پہنچاتا ہے۔دانتوں کو صاف شفاف بناتا ہے‘ اور ان کی گندگی کو ختم کرتا ہے‘مسوڑھوں کو مضبوط کرتا ہے‘علاوہ ازیں اس کی منافع و فوائد بے شمار ہیں۔