حرف نون

نخل (کھجور کا درخت): قرآن مجید میں نخل کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے‘صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمرؓ سے ایک حدیث اس کے متعلق مذکور ہے‘ابن عمر نے بیان کیا:
ہم صحابہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر تھے اسی وقت کھجور کا گابھ آپ کے پاس لایا گیا آپ نے فرمایا کہ درختوں میں ایسا درخت ہے‘جو مرد مسلم کی طرح ہوتا ہے۔اس کی پتیاں نہیں جھڑتیں بتاﺅ کون سا درخت ہے؟ لوگ جنگلی درختوں کو شمار کرنے لگے اورمیرے دل میں یہ بات سمائی کہ یہ درخت کھجور ہے۔چنانچہ میںنے ارادہ کرلیا کہ کہہ دوں یہ درخت کھجور ہے۔پھر جب بزم پر نگاہ ڈالی تو میں سب سے کم عمر تھا‘اس لئے میں نے خاموشی اختیار کرلی‘چنانچہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ یہ کھجور کا درخت ہے‘یہ بات میں نے اپنے والد حضرت عمرؓ سے بیان کی انہوں نے فرمایا کہ عقلمند اگر تونے کہہ دیا ہوتا تو بہت ہی اچھا ہوتا“
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ ایک عالم اپنے ساتھیوں کے سامنے مسائل رکھ سکتا ہے اور انکو سکھلاسکتا ہے۔ اور ان کی ذاتی رائے کا امتحان لے سکتا ہے‘اسی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مثال اور تشبیہہ بیان کی جاسکتی ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام اپنے اکابر کی عزت وتعظیم میں سکوت اختیار کرتے تھے۔اور ان کے سامنے گفتگو نہ کرتے تھے۔بلکہ ان کا پاس لحاظ کرتے تھے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے بیٹے کی صوابدید اور راست گوئی کی توفیق سے کسی قدر خوشی محسوس کرتا ہے۔
نیز اس بات کی بھی وضاحت ہوجاتی ہے کہ بیٹا اپنے باپ کی موجودگی میں اگر کوئی بات جانتا ہو تو اس کو بیان کرسکتا ہے خواہ باپ کو اس کا علم نہ ہو اس میں بے ادبی کا پہلو نہیں ہے۔
مرد مسلم کو درخت کھجور سے تشبیہہ دینے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمان میں کثرت خیر کھجور کے انداز کا ہوتا ہے۔اس کا سایہ ہمیشہ رہتا ہے۔اور اس کا پھل خوشگوار ہوتا ہے۔اور اس کا وجود دائمی ہوتا ہے۔اس کا پھل خشک وتر دونوں طرح سے استعمال کیا جاتا ہے۔کچا پکا دونوں طرح سے کھایا جاتا ہے۔یہ غذا اور دوا بھی ہے۔روزی اور شیرینی بھی‘مشروب اور پھل بھی ہے۔کھجور کے تنے سے مکانات‘آلات اور ظروف تیار کیے جاتے ہیں اس کی پتیوں سے چٹائیاں‘پیمانے‘برتن اور پنکھے وغیرہ بنائے جاتے ہیں‘اور اس کی چھال سے رسیاں اور گدے دار بستر وغیرہ بنائے جاتے ہیں‘اور اس کی گٹھلی اونٹوں کے لئے چارہ کا کام دیتی ہے۔
سرمہ اور دواﺅں میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔مزید برآں اس کے پھل کی خوبصورتی اس کے پودوں کا جمال اور دیدہ زیبی اور اس کی جاذب نظری‘اس کے پھل کی حسن ترتیب اس کی شادابی‘تازگی‘یہ تمام چیزیں ایسی ہیں جن کو دیکھ کر دل کو فرحت حاصل ہوتی ہے اور اس کے دیدار سے اللہ خالق کون ومکاں کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔اور اس کی صنعت کی ندرت اس کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کا نظارہ عیاں ہوجاتا ہے اس درخت سے مرد مسلم کے علاوہ کون سی چیز زیادہ مشابہ ہوسکتی ہے۔جب کہ مسلمان سراپا خیر ہوتا ہے‘اور ظاہر و باطن دونوں طور پر اس سے نفع مقصود ہوتا ہے۔
یہی وہ درخت ہے جس کا تنارسول اللہﷺ کے فراق میں زار وقطار رویا تھا۔کہ اب قرب نبی نہیں رہا۔آپ کے اقوال زریں کا سماع نہیں رہا اور اسی درخت کے نیچے مریم علیہ السلام ولادت عیسیٰ علیہ السلام کے موقعہ پر آئی تھیں چنانچہ اس کا ذکر ایک حدیث میں موجود ہے مگر اس حدیث کی سند قابل غور ہے۔
”تم اپنے چچا درخت کھجور کی تعظیم کرو۔اس لئے کہ اس کی تخلیق بھی اس مٹی سے ہوئی ہے‘جس سے آدم علیہ السلام کی تخلیق عمل میں آئی تھی“
لوگوں نے اختلاف کیا کہ کھجور کا درخت انگور کی بیلوں سے زیادہ افضل ہے۔یا انگور کی بیلیں اس سے بہتر ہیں‘اس سلسلہ میں دو قول ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ان دونوں کو ایک ساتھ ذکر کیا ہے۔لہٰذا ان میں کوئی دوسرے سے افضل و بہتر نہیں ہے اگرچہ ان دونوں میں سے ہر ایک اپنی اپنی جگہ بہتر اور عمدہ ہیں‘اور جو زمین میں اس کے لئے سازگار ثابت ہو وہی بہتر اور عمدہ ہے۔
نرجس (نرگس): اس سلسلہ میں ایک حدیث ہے‘جو صحیح نہیں ہے۔یہ بایں الفاظ مروی ہے۔
”تم لوگ گل نرگس سونگھا کرو‘اس لئے کہ دل میں جنون‘جذام اور برص کا دانہ ہوتا ہے۔جو گل نرگس کو سونگھنے سے ہی ختم ہوسکتا ہے“
نرگس دوسرے درجہ میں خشک ہے‘ اس کی جڑ سے اعصاب کے گہرے حصوں کے زخم مندمل ہوجاتے ہیں‘ اس میں مواد ردیہ کو خشک کرنے اور خارج کرنے کی قوت موجود ہے۔اگر اس کو پکا کر اس کا جوشاندہ پیا جائے یا اس کا ابال کر استعمال کیا جائے تو قے آتی ہے‘اور قعر معدہ سے رطوبات کو نکال باہر کرتا ہے۔اور اگر اس کو شہد اور گاﺅ دانہ کے ساتھ پکا کر استعمال کیا جائے تو زخموں کی آلائش کو صاف کرتا ہے‘اور ان پھوڑوں کو جو بدیر تیار ہوتے ہیں۔اس کے منہ کھول کر مواد بہادیتا ہے۔
اس کا پھول حرارت میں معتدل اور لطیف ہوتا ہے‘زکام بارد میں نفع بخش ہے۔اس میں زبردست قوت تحلیل ہوتی ہے‘دماغ اور نتھنوں کے سدوں کو کھول دیتا ہے۔مرطوب اور سوداوی سر درد کے لئے مفید ہے‘گرم مزاج کے لوگوں کو سر درد پیدا کرتا ہے۔اگر اس کے تنے کو صلیبی انداز میں چیر کر جلادیا جائے پھر بویا جائے تو دوگنا چوگنا اگتا ہے۔اور جو کوئی موسم سرما میں اسے سونگھتا رہے تو وہ موسم گرما میں ذات الجنب کی بیماری سے مامون رہے گا۔بلغم اور سوداءکی تیزی کے سبب سے ہونے والے سر درد کے لئے مفید ہے اس میں ایک طرح کی عطریت ہوتی ہے جو دل ودماغ کے لئے مقوی ہے اسی طرح یہ بہت سے امراض کے لئے نفع بخش ہے۔
”تیسیر“کے مصنف نے لکھا ہے کہ اس کے سونگھنے سے بچوں کی مرگی ختم ہوجاتی ہے۔
نورة (چونے کا پتھر): ابن ماجہؒ نے ام سلمہؓ سے روایت کی ہے:
”نبی کریمﷺ جب اس کو طلاءکرتے تو پہلے اپنی شرمگاہ سے شروع فرماتے‘چنانچہ آپ نے تو شرمگاہ پر چونے کے پتھر سے طلاءکیا اور آپ کے باقی پورے جسم پر آپ کے گھر کے لوگوں نے طلاءکیا“۔
اس بارے میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں مگر مذکورہ حدیث ان میں سب سے عمدہ اور قوی ہے۔
یہ بات مشہور ہے کہ سب سے پہلے شخص جو حمام میں داخل ہو ئے اور جن کے لئے بال صفا پتھر تیار کیا گیا وہ حضرت سلیمان بن داﺅد تھے‘اس نسخہ کے اجزائے اصلیہ یہ ہیں کہ چونا آب نارسیدہ دو حصہ اور ہڑتال ایک حصہ لے کر دونوں کو پانی میں ملالیا جائے اور دھوپ یا حمام میں اتنی دیر تک چھوڑدیا جائے کہ وہ پک جائے اور اس کی نیلگونیت اور تیز ہوجائے پھر اس کی مالش کی جائے اور اس کو لگانے کے بعد تھوڑی دیر تک بیٹھے رہیں تاکہ وہ اپنا کام پورے طور پر کرجائے اس دوران پانی نہ لگنے پائے پھر اس کودھوکر اس کی جگہ مہندی کا طلاءکریں۔تاکہ اس کی سوزش ختم ہوجائے۔
نبق (بیری کا پھل): ابو نعیمؒ نے اپنی کتاب الطب النبویﷺ میں ایک مرفوع حدیث روایت کی ہے۔
”حضرت آدم علیہ السلام جب جنت سے زمین پر اتارے گئے تو آپ نے زمین کے پھلوں میں سب سے پہلا پھل جو کھایا وہ بیر تھا“۔
بیر کا ذکر رسول اللہﷺ نے خود ایسی حدیث میں فرمایا ہے جس کی صحت مسلم ہے کہ آپ نے شب معراج میں سدرةالمنتہیٰ کو دیکھا‘جس کے بیر ہجر کے مٹکوں کی طرح بڑے بڑے تھے۔
نبق : بیری کے درخت کا پھل ہے۔بیر پاخانہ بستہ کرتا ہے‘ اسہال میں مفید ہے۔ معدہ کی دباغت کرتا ہے۔صفراءکے لئے سکون بخش ہے۔بدن کو غذائیت عطا کرتا ہے بھوک کی خواہش کو ابھارتا ہے مگر بلغم پیدا کرتا ہے ذرب صفراوی کے لئے نافع ہے۔دیر ہضم ہوتا ہے۔اس کا سفوف احشاءکے لئے مفید ہے۔
صفرای مزاج والوں کے لئے موزوں ہے‘اس کی مضرت شہد کے ذریعہ ختم کی جاتی ہے۔ اس کے تر اور خشک ہونے کے بارے میں اختلاف ہے اس سلسلے میں دو قول ہیں‘ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ تازہ بارد رطب ہوتا ہے۔ اور خشک بیر سرد خشک ہوتا ہے۔