حرف واو

ورس: ( ایک قسم کی گھاس ہے جو رنگنے کے کام آتی ہے )
امام ترمذ ی ؒ نے اپنی جامع ترمذی میں زید بن ارقم کی مرفوع روایت نقل کی ہے کہ نبی ﷺ ذات الجنب کی بیماری کے لئے روغن زیتون اور درس کو نافع قراردیتے تھے ‘ قتاوہ اس کا ضماد کرنے کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں کہ جس جانب مریض کو شکایت ہو ‘ اسی پر اس کا ضماد کیا جائے ۔
ابن ماجہ ؒ نے اپنی سنن میں زید بن ارقم ہی سے حدیث روایت کی ہے زید نے بیان کیا کہ :
”رسول اللہ ´ﷺ نے ذات الجنب کے لئے ورس قسط اور روغن زیتون کے پلانے کو مفید بتایا “
ام سلمہ ؓ سے یہ حدیث ثابت ہے انہوں نے بیان کیا کہ عورتیں ولادت کے بعد زچگی میں چالیس دن تک رکی رہتیں اور ہم سے بعض اپنے چہرے پر ورس کی مالش کرتیں تھیں تاکہ جھائیں سے نجات ملے ۔
ابو حنیفہ لغوی نے بیان کیا کہ ورس کی کاشت کی جاتی ہے۔ یہ بری پودا نہیں ہے۔اور سر زمین عرب کے علاوہ کہیں اور نہیں پائی جاتی اور عرب میں بھی صرف یمن کے علاقوں میں ہوتی ہے۔
اس کا مزاج دوسرے ابتدائی درجہ میں گرم خشک ہے‘اور اس میں سب سے بہتر سرخ رنگ والی چھونے میں نرم اور کم بھوسی والی ہوتی ہے چہرے کی شکن‘خارش اور جلد پر پیدا ہونے والی پھنسیوں کے لئے اس کا طلاءمفید ہے‘اس میں قبض آوری کے ساتھ ہی رنگنے کی قوت بھی ہوتی ہے‘برص کے لئے اس کا پینا نافع ہے‘اس کی مقدار خوراک ایک درہم کے برابر ہوتی ہے۔
اس کا مزاج اور فوائد قسط بحری کی طرح ہیں‘بدن کے سفید داغ‘خارش پھنسیوں اور چہرے کے سرخی مائل سیاہ داغ کے لئے اس کا طلاءبہت زیادہ نفع بخش ہوتا ہے۔اور ورس سے رنگے ہوئے کپڑے استعمال کرنے سے قوت باہ میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے۔
وسمة: نیل کے پتے کو کہتے ہیں یہ بالوں کو سیاہ بناتا ہے ہم نے ابھی اس سے پہلے کتم کے بیان میں سیاہ خضاب کے جواز کے اختلاف کی بحث میں اس کا ذکر کیا ہے۔