حرف کاف

کتاب الحمٰی: (تعویذ بخار) مروزی نے بیان کیا کہ عبداللہ کو یہ معلوم ہوا کہ میں بخار میں مبتلا ہوں‘ تو انہوں نے میرے بخار کے لئے ایک رقعہ لکھ کر روانہ کیا جس میں مذکور تھا۔
”اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ اللہ کے نام سے اور اللہ کے ساتھ محمد اللہ کے رسول ہیں ہم نے کہا اے آگ ابراہیم پر ٹھنڈک اور سلامتی بن جا‘ ابراہیم کے ساتھ ان (کافروں) نے فریب کرنے کا ارادہ کیا تھا تو ہم نے ان کو ناکام بنادیا۔ اے اللہ جبریل‘ میکائیل اور اسرافیل کے رب تو اپنی قوت وطاقت تصرف اور جبروت سے اس تعویذ والے کو شفاءعطا کر۔ اے حقیقی معبود۔ آمین“۔
مروزی نے بیان کیا کہ ابو المنذر عمر وبن مجمع نے ابو عبداللہ کا یہ رقعہ پڑھ کر سنایا‘ اور میں اسے سن رہا تھا انہوں نے حدیث بیان کی کہ ہم سے یونس بن حبان نے حدیث بیان کی کہ میں نے ابو جعفر محمد بن علی سے تعویذ لٹکانے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ اگر تعویذ میں کتاب الٰہی قرآن یا کلام رسول لکھا ہو تو اس کو لٹکاﺅ‘ اور اس سے شفاءحاصل کرو۔ میں نے کہا کہ میں چار روز بخار کے لئے بسم اللہ و باللہ محمد رسول اللہ الخ تعویذ میں لکھتا ہوں‘ آپ نے کہا بہتر ہے۔
امام احمد ؒنے عائشہ صدیقہؓ وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ عرب لوگ اس بارے میں نرم رویہ اختیار کرتے تھے۔
حرب کا قول ہے کہ امام احمد بن حنبلؒ اس بارے میں متشدد نہ تھے۔ اور عبداللہ بن مسعود ؓاس کو نہایت درجہ ناپسند کرتے تھے‘ امام احمد بن حنبل ؒنے بیان کیا کہ مجھ سے تمائم کے بارے میں دریافت کیا گیا‘ جو نزول بلاءکے وقت عموماً گردن میں لٹکائی جاتی تھی‘ آپ نے فرمایا کہ میرے خیال میں اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
خلال نے بیان کیا کہ ہم سے عبداللہ بن احمد ؓنے حدیث بیان کی فرمایا کہ میرے والد خوفزدہ شخص کے لئے تعویذ لکھتے تھے‘ اور نزول بلاءکے وقت ہونے والے بخار کے لئے بھی تعویذ لکھا کرتے تھے۔
کتاب عسرتہ ولادت(ولادت کی پریشانی کا تعویذ)
خلال نے بیان کیا کہ ہم سے عبداللہ بن احمد ؓنے حدیث بیان کی فرمایا کہ جب کسی عورت کو درد زہ ہوتا ہے اور ولادت کی پریشانی ہوتی ہے تو میرے والد ایک سفید برتن یا کسی صاف پاک چیز میں عبداللہ بن عباسؓ کی یہ حدیث لکھتے تھے:
”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ حلیم کریم ہے‘ عرش عظیم کا رب اللہ پاک ہے۔ تمام تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لائق ہے۔ جس روز وہ عذاب دیکھیں گے جس کا ان کو وعدہ کیا جاتا ہے۔ تو وہ سمجھیں گے کہ دنیا میں ہمارا قیام صرف ایک گھڑی بھر ہوا ہے‘ یہ (قرآن)تبلیغ ہے“۔
”جس روز وہ اس کو دیکھیں گے تو وہ ایسے ہوجائیں گے گویا وہ دنیا میں دن کے آخری وقت یاناشتہ کے وقت تک رہیں ہوں گے“۔
خلال نے بیان کیا کہ ابو بکر مروزی نے مجھے خبر دی کہ ابو عبداللہ کے پاس ایک شخص آیا۔ اور کہا اے ابو عبداللہ آپ ایسی عورت کے لئے تعویذ لکھتے ہیں جو دو دن سے درد زہ میں مبتلا ہو؟ ابو عبداللہ نے فرمایا کہ اس سے کہو کہ ایک بڑا پیالہ زعفران لے کر میرے پاس آجائے۔ میں نے دیکھا کہ ابو عبداللہ بہت سی عورتوں کے لئے اس کو لکھا کرتے تھے۔
عکرمہ سے منقول ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عباسؓ سے نقل کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا گزر ایک گائے کے پاس سے ہوا جس کا بچہ اس کے پیٹ میں پھنس گیا تھا تو اس نے کہا اے اللہ کے پیغمبر آپ میرے لئے اللہ سے دعا کیجئے کہ مجھے اس مصیبت سے نجات مل جائے‘ تو آ پ نے یہ دعا فرمائی۔
”اے نفس کو نفس سے پیدا کرنے والے اور اے نفس کو نفس سے نکالنے والے (اللہ) تو اسے مصیبت سے نجات دے“۔
انہوں نے بیان کیا کہ فوراً ہی بچہ باہر آگیا‘ اور گائے کھڑی ہوکر اسے سونگھنے لگی پھر فرمایا کہ
ولادت کی دشواری پیش آنے کی صورت میں اس کو لکھ کردیا کرو۔ جتنے بھی دم کے طریقے اور الفاظ پہلے بیان کئے جاچکے ہیں۔ سب کو بطور تعویذ لکھ کر استعمال کرنا نافع اور مفید ہے۔
سلف کی ایک جماعت نے بعض قرآنی آیات کو لکھنے اور اس کے پینے کی رخصت دی ہے۔ اور اسے شفاءقراردیا ہے۔ اس لئے کہ اللہ نے اسے شافی بتلایا ہے۔
عسر: (ولادت کا دوسرا تعویذ) ان آیات کو ایک صاف پاک برتن میں لکھ کر حاملہ کو پلادیا جائے اور اس کے شکم پر اس کو چھڑک دیا جائے۔
”جب آسما ن پھٹ جائے گا۔ اور اپنے پروردگار کے حکم کو سننے کے لئے کان لگائے گا‘ اور اسے لائق کیا گیا ہے۔ اور جب زمین تان دی جائے گی اور اس میں جو کچھ ہوگا‘ وہ باہر پھینک دے گی‘ اور خالی ہوجائے گی“۔
کتاب الرعاف :(نکسیر کا تعویذ)
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ ؒمرعوف کی پیشانی پر یہ آیت لکھتے تھے:
”اور حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا‘ اور اے آسمان تھم جا اور پانی گھٹ گیا‘ اور حکم الٰہی پورا ہوا“۔
میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ نے اس کو بہت سے لوگوں کے لئے لکھا اور سب کے سب اچھے ہوگئے۔
اس کے بعد فرمایا کہ اس کو نکسیر زدہ کے خون سے لکھنا جائز نہیں جیسا کہ بہت سے نادان کرتے ہیں۔ اس لئے کہ خون نجس ہے۔ اور نجس چیز سے کلام الٰہی کو لکھنا جائز نہیں۔
نکسیر کا دوسرا تعویذ :حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک چادر کے ساتھ نکلے ایک نکسیر زدہ کو پایا تو چادر سے اس کو باندھ کر یہ آیت پڑھی۔
”اللہ ہی جس (حکم) کو چاہتا ہے‘ موقوف کردیتا ہے‘ اور جس کو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے‘ اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے“۔
کتاب للحزاز :(بالخورہ کا تعویذ) مریض کے سر پر آیت لکھی جائے۔
”تو اس باغ کو تو آگ کا ایک جھونکا لگ جائے جس میں آگ ہو پھر وہ باغ جل جائے اللہ کے تصرف اور قوت کے ذریعے“۔
اس کا دوسرا تعویذ‘ غروب آفتاب کے وقت لکھا جائے۔
”اے مومنو۱ اللہ سے ڈرو‘ اور اس کے رسول پر ایمان لاﺅ‘ اللہ تعالیٰ تم کو اپنی رحمت سے دوہرا(ثواب) عطا کرے گا۔ اور تم کو ایسا نور عطا کرے گا۔ جس کے ذریعہ تم چلتے پھرتے رہوگے اور وہ تم کو بخش دے گا۔ اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے“۔
کتاب اخر للحمٰی المثلثة :( سہ روزہ بخار کا دوسرا تعویذ) تین عمدہ پتیوں پر اس کو لکھا جائے اور ہر روز ایک پتی لے کر بخار زدہ اپنے منہ میں رکھے اور پانی سے نگل جائے تو بخار ختم ہوجائے گا۔ دعا یہ ہے۔
”اللہ کے نام سے بھاگ کھڑا ہوا‘ اللہ کے نام سے جاتا رہا اور اللہ کے نام سے کم ہوگیا“
کتاب اخر لعرق النسائ(درد عرق النساءکا تعویذ) :
”شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ اے اللہ ہر چیز کے پروردگار اور ہر چیز کے مالک اور ہر چیز کے پیدا کرنے والے تونے ہی مجھے پیدا کیا ہے۔ اور تو ہی نے نساءکو پیدا کیا ہے۔ اس کو مجھ پر تکلیف کے ساتھ مسلط نہ کراور نہ اس کو مجھ پر کاٹنے کے لئے مسلط کر مجھے ایسی کامل شفاءعطا فرما جو کسی بیماری کو نہ چھوڑے‘ تو ہی شفاءدینے والا ہے“۔
کتاب للعرق الضارب : (پھڑکتی رگ کا تعویذ) ترمذی نے اپنی جامع ترمذی میں ابن عباسؓ سے روایت نقل کی ہے۔ کہ رسول اللہﷺ نے صحابہ کرامؓ کو بخار اور تمام دردوں کے لئے یہ دعا سکھائی کہ تم اپنی زبانی سے کہو تو شفاءحاصل ہوگی۔
”اللہ کبیر کے نام سے اور اللہ برتر سے میں ہر رگ فتنہ انگیز سے اور جہنم کی آگ کی گرمی کے شر سے پناہ چاہتا ہوں۔
کتاب وجع الضرس ( تعویذ برائے درددنداں):
اس رخسار پر جس طرف کی داڑھ میں درد ہو یہ لکھنا چاہیے۔
”شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے (اللہ) ایسا (قادر ومنعم) ہے جس نے تمہارے لئے کان‘ آنکھیں اور دل بنائے (لیکن) تم لوگ بہت کم شکر ادا کرتے ہو“
اور اگر کوئی چاہے تو یہ آیت بھی لکھ سکتا ہے :
”اور اسی (اللہ) ہی کی سب (ملک) ہے جو کچھ رات اور دن میں رہتے ہیں۔ اور وہی بڑا سننے والا اور جاننے والا ہے“
کتاب الخراج (پھوڑے کے لئے تعویذ) پھوڑے کے اوپر یہ آیت لکھی جائے:
”اور لوگ تجھ سے پہاڑوں کے متعلق پوچھتے ہیں۔ تو تو کہہ دے کہ ان کو میرا رب بالکل اڑادے گا ´۔ پھر اس کو ایک ہموار میدان کردے گا۔جس میں (اے مخاطب) تو کوئی ناہمواری دیکھے گا اور نہ کوئی بلندی دیکھے گا“۔
کماة (سانپ کی چھتری): نبی اکرمﷺ سے ثابت ہے آپ نے فرمایا:
”کھمبی من کی ایک قسم ہے۔ اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفاءہے“۔
امام بخاریؒ۔ امام مسلم ؒنے اس حدیث کو اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
ابن اعرابی نے کماة کو کمہ کی جمع خلاف قیاس بتایا ہے۔ اس لئے کہ جمع اور واحد کے درمیان صرف تا کا فرق ہے۔ اور اس کا واحد بھی تا کے ساتھہ ہے۔ جب اسے حذف کردیا تو جمع کے لئے ہوگیا‘ اب سوال یہ ہوتا ہے کہ کماة جمع ہے یا اسم جمع ہے؟ اس بارے میں دو قول مشہور ہیںچنانچہ اہل لغت کا قول ہے کہ اس سے دو لفظ کماة وکماءنکلتے ہیں۔ جیسے جباة وجب ہے۔ ابن اعرابی کے علاوہ دوسرے لوگوں نے کہا کہ کماة قیاس کے مطابق ہے۔ کماة واحد کے لئے اور کم کثیر کے لئے استعمال ہوتا ہےَ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کماة واحد‘ جمع دونوں کے لئے یکساں طور پر مستعمل ہے۔
جو لوگ پہلی لغت کے قائل ہیں‘ وہ شاعر کے اس کلام سے استدلال کرتے ہیں۔ کہ کم ا کموء کی طرح جمع ہے۔
”اور میں تمہارے لئے عمدہ کھمبی اور سانپ کی چھتری چن کر لایا کہ تم کھاﺅ‘ اور میں نے تم کو بری قسم کی کھمبی کے کھانے سے روک دیا“۔
اس شعر سے کم مفرد اور کماة کے جمع ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔
کھمبی زمین پر خودرو ہوتی ہے۔ اس کے چھتری دار ہونے کی وجہ سے کماة کہتے ہیں اور محاورہ میں کما الشہادتہ گواہی چھپانے کے معنی میں مستعمل ہے۔ کھمبی زیر زمین مستور ہوتی ہے۔ اس میں پتے اور ڈنٹھل نہیں ہوتے اس کا مادہ جوہر ارضی بخاری ہے۔ جو زمین میں اس کی سطح کے برابر موسم سرما کی ٹھنڈک کے باعث محتقن ہوتا ہے۔ ربیع کی بارش میں یہ بڑھ جاتی ہے‘پھر یہ زمین پر اگ آتی ہے۔ اور سطح زمین پر جسم وشکل کے ساتھ ابھرتی ہے۔ اسی وجہ سے اس کو زمین کی چیچک کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ صور ت اور مادہ میں چیچک کے بالکل مشابہ ہوتی ہے کیونکہ اس کا مادہ رطوبت دموی ہوتی ہے۔ جو عموماً جوانی اور نمو کے وقت ہی جلد ہی زمین پر ابھر آتی ہے۔ جب کہ حرارت کا پورے طور پر غلبہ ہوتا ہے۔ اور قوت اس کو مزید بڑھادیتی ہے۔
یہ موسم بہار میں عام طور پر پائی جاتی ہے اس کو خام وپختہ دونوں طریقے سے کھایا جاتا ہے عرب اسے گرج کا پودا بھی کہتے ہیں۔ اس لئے کہ گرج کی کثرت سے یہ زیادہ پائی جاتی ہے۔ اور کڑک ہی کی وجہ سے زمین پھٹتی ہے۔ دیہات کے باشندوں کی یہ غذا ہے۔ اور عرب کی زمین پر اس کی پیدا وار زیادہ ہے۔
عمدہ قسم کی کھمبی وہی ہوتی ہے۔ جو ریتیلی زمین کی ہو جہاں پانی کم ہو۔
اس کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں ان میں سے ایک قسم مہلک ہوتی ہے‘ جس کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے۔ اس سے دمہ کی بیماری پیدا ہوتی ہے۔
یہ تیسرت درجہ میں بارد رطب ہے۔ معدہ کے لئے مضر ہے۔ اور دیر ہضم ہے۔ اگر اس کو بطور سالن استعمال کیا جائے تو اس سے قولنج‘ سکتہ اور فالج پیدا ہوتا ہے۔ معدہ میں درد ہوتا ہے۔ اور پیشاب میں پریشانی لاحق ہوتی ہے۔ تازہ خشک کے مقابل کم ضرر رساں ہے۔ جو اس کو کھانا چاہے اس کو چاہیے کہ تر مٹی میں دفن کردے اور اس کو نمک پانی اور پہاڑی پودینہ کے ساتھ جوش دے اور روغن زیتون اور گرم مصالحہ کے ساتھ کھائے۔ کیونکہ اس کا جوہر ارضی غلیظ ہوتا ہے۔ جس کو غذا بنانا مضر ہے۔ لیکن اس میں پانی کا ایک لطیف جوہر بھی پایا جاتا ہے۔ جو اس کی لطافت پر دلالت کرتا ہے۔ اس کا بطور سرمہ استعمال آنکھوں کے دھندلا پن اور گرم آشوب چشم کے لئے بے حد مفید ہے ´۔ مختلف فاضل اطباءنے اس کا اعتراف کیا ہے کہ کھمبی کا پانی آنکھ کو جلاءبخشتا ہے اس کا ذکر مسیحی اور مصنف ”القانون“ وغیرہ نے بھی کیا ہے۔
آپ کے قول (((الکماة من المن)) کے بارے میں دو قول منقول ہیں۔
پہلا قول یہ کہ بنی اسرائیل پر جو من نازل کیا گیا تھا۔ وہ صرف حلوا نہ تھا۔ بلکہ بہت سی چیزیں ان پودوں میں سے تھیں‘ جو بلا کاشت وصنعت اور بغیر سیرابی کے خودرو تھے۔ ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان پر انعام فرمایا تھا۔
من مفعول کے معنی میں مصدر کا صیغہ ہے۔ یعنی ممنون کے معنی میں ہے۔ اللہ نے ہر ایسی چیز جو بندے کو عطا کی جس میں بندے کی کوئی کاشت ومحنت نہ ہو وہ محض من ہے۔ اگرچہ اس کی ساری نعمتیں ہی بندے پر من ہوں۔ مگر جس میں کسب انسانی کا دخل نہ تھا اس کو خاص طور پر من قراردیا اس لئے کہ وہ بندے کے واسطے کے بغیر من ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے میدان تیہہ میں ان کی غذا کماة (کھمبی) بنائی جو روٹی کے قائم مقام تھی۔ ´ اور ان کا سالن سلویٰ بنایا جو گوشت کے قائم مقام تھا۔ اور ان کا حلوہ اس شبنم کو بنایا جو درختوں پر نازل ہوتی تھی۔ چنانچہ یہ حلوا کے قائم مقام ہوا۔ اس طرح سے بنو اسرائیل کی معیشت کی تکمیل فرمائی۔
اس کے بعد رسول اللہﷺ کے اس قول پر غور فرمائیے۔ آپ نے فرمایا کھمبی من کی ایک قسم ہے۔ جس کو اللہ نے بنی اسرائیل پر نازل کیا تھا ´۔گویا کہ کھمبی کو من میںشمار فرمایا اور اس کا ایک جز قراردیا‘ اور ترنجبین جو درختوں پر گرتی ہے‘وہ بھی من ہی کی ایک قسم ہے‘ پھر نئی اصطلاح میں اس کے من پر بولا جانے لگا۔
دوسرا قول یہ ہے کہ ان کماة کو نبیﷺ نے اس من کے مشابہ قراردیا جو آسمان سے نازل ہوا تھا۔ وجہ شبہ یہ ہے کہ یہ بغیر کسی محنت ومشقت اور بغیر کاشت اور آبیاری کے پیدا ہوتا ہے اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ کھمبی کی یہ حیثیت ہونے کے باوجود اس میں ضرر کا کیا سوال ہوتا ہے اور یہ اس میں کس طرح پیدا ہوا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ آپ نے اس پر غور نہیں کیا کہ باری تعالیٰ نے اپنی تمام مصنوعات کو جانچ پڑتال کرکے اور پوری طرح پرکھنے کے بعد پیدا فرمایا‘ اور ممکن حد تک اس میں عمدگی وبہتری کا عنصر شامل رہا۔ اور وہ اپنی پیدائش کے ابتدائی مرحلہ میں تمام آفات و علل سے خالی تھی۔ اور اس سے وہ منفعت پوری ہوتی رہی جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا تھا۔ اب اس کی تخلیق کے بعد اس میں آفات وعلل دوسرے امور کی وجہ سے جوان سے ملے ہوئے تھے یا ماحول کے اثرات کی بنا پر یا اختلاط وامتزاج کی بنیاد پر یا کسی دوسرے سبب سے پیدا ہوگئے۔جو اس کے فساد کے مقتضی تھے۔اگر وہ اپنی اصلی تخلیق پر برقرار رہ جاتی اور اس فساد اور اسباب فساد کا کوئی تعلق نہ رہتا تو پھر وہ عمدہ اور بہتر ہوتی اس میں فساد کا کوئی عنصر موجود ہی نہ ہوتا۔
جسے دنیا اور اس کی ابتداءکے حالات سے ذرا بھی واقفیت ہوگی اسے یہ بھی معلوم ہوگا کہ فضائے عالم نباتات وحیوانات عالم میں تمام فسادات اس کی تخلیق کے بعد ہی پیدا ہوئے ہیں‘اور باشندگان عالم کے اس احوال میں بھی تخلیق کے بعد فسادات رونما ہوئے جہاں جس قسم کے مواد ومفاسد ©ظہور پزیر ہوئے اسباب سامنے آئے وہ مفاسد پیدا ہوتے گئے انسانوں کی بد اعمالی اور انبیاءورسل کی مخالفت پر ان کی آمادگی ہمیشہ فساد عام وخاص کی وجہ سے ہوتی رہی۔ان کی بنا پر اہل دنیا پر مصائب وآلام کا نزول ہوا امراض واسقام پیدا ہوئے‘ طاعون رونما ہوئے اور قحط پڑے‘ خشک سالی سے دوچار ہوئے۔ زمین کی برکتیں‘ اس کے پھل پھول اور درخت ختم ہوگئے۔منافع کا دور تک پتہ نہ تھا ۔اور یکے بعد دیگرے نقصانات کے سامان ہوتے رہے۔ اگر آپ کے علم کی رسائی اس منزل تک نہیں تو پھر اللہ کا یہ قول سامنے رکھے۔
” خشکی اور تری میں انسانوں کی بد اعمالی کی پاداش میں فساد ظاہر ہوتا ہے“۔
اس آیت کریمہ کو احوال عالم کے سامنے رکھ کر ذرا اس پر غور کرو اور دیکھو کہ دونوں میں کس قدر مطابقت ہے اور یہ تو آپ دیکھتے ہی ہیں کہ ہمہ وقت آفات وعلل پھلوں‘ کاشتوں اور حیوانات میں پیدا ہوتے رہتے ہیں پھر ان آفات کے نتیجہ میں دوسری آفتیں رونما ہوتی ہیں‘ جیسے باہم مل جل کر ایک دوسرے کے ساتھ چل رہی ہوں‘ جب لوگوں میں مظالم وفسق وفجور عام ہوجاتے ہیں تو اللہ رب العزت ان کی غذاﺅں‘ پھلوں میں آفات وعلل پیدا کردیتا ہے۔ جن سے ان کی فضاءمتاثر ہوتی ہے۔ ان کے دریا وچشمے متعفن ہوجاتے ہیں۔ ان کے جسم برباد ان کی صورتیں مسخ اور ان کی شکلیں بدل جاتی ہیں ان کے اخلاق میں پستی آجاتی ہے‘پھر آفات کا دور دورہ ہوتا ہے جو ان کی بد اعمالی‘ مظالم اور برائیوں کے نتائج ہوتے ہیں۔
گیہوں وغیرہ کے دانے آج کے مقابلے پہلے بڑے سائز کے ہوتے تھے اور ان میں برکت بھی تھی۔ چنانچہ امام احمدؒ نے اپنی اسناد کے ساتھ روایت کیا کہ بنو امیہ کے خزانے میں ایک تھیلی تھی۔
جس میں کھجور کی گٹھلی کی طرح گیہوں تھے۔ جس پر لکھا ہوا تھا کہ یہ عدل وانصاف کے دور کی پیداوار ہے اس واقعہ کو امام احمد ؒنے اپنی مسند میں ایک حدیث کے اثر سے روایت کیا ہے۔
یہ بیماریاں اور عمومی آفات گذشتہ امتوں کے عذاب کا پسماندہ حصہ ہے۔ جو ہم تک پہنچا ہے‘ پھر یہ بیماریاں اور آفتیں گھات لگائے رہیں‘آنے والے لوگوں کے اعمال کی سزا کے لئے متعین رہیں۔ یہ اللہ کا قانون عدل وانصاف ہے اسی کی طرف رسول اللہﷺ نے اشارہ فرمایا جب آپ نے طاعون کے بارے میں فرمایا کہ یہ اس عذاب اور گرفت کا ایک بقیہ حصہ ہے۔ جسے اللہ نے بنی اسرائیل پر نازل کیا تھا۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ایک قوم پر ہوا کو سات رات اور آٹھ دن مسلط کردیا تھا۔ اسی بادوباراں کاایک حصہ آج بھی باقی رہ گیا ہے۔ جو رہ رہ کر دنیا کو بے چین کرتی ہے اس مثال میں اللہ کی جانب سے درس عبرت ونصیحت ہے۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس دنیا میں نیک وبد اعمال کے آثار کے لئے ایسے مقتضیات نازل کئے ہیں جن سے کسی کو مفر نہیں‘چنانچہ اس نے احسان‘ زکواة اور صدقہ روکنے سے بارش روک دی قحط اور خشک سالی مسلط کردی اور مسکینوں پر ظلم وستم ‘ناپ تول میں کمی اور توانا کا کمزور پر ظلم وزیادتی ایسے سلاطین وحکام کے جبر واستبداد کا سبب بنتا ہے۔جن سے اگر رحم کی درخواست کی جائے تو رحم نہیں کھاتے اور اگر انہیں متوجہ کیا جائے تو متوجہ نہیں ہوتے یہ عوام اور رعایا کی بداعمالی کی پاداش میں امراءکی صورتوں میں سامنے آتے ہیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت بالغہ اور عدل وانصاف کے پیش نظر لوگوں کے اعمال کو مختلف اور مناسب صورت وقالب میں ظاہر کرتا رہتا ہے۔ کبھی قحط وخشک سالی کی صورت میں کبھی سخت گیر دشمن کی شکل میں‘ کبھی جابر وسرکش حکام کے انداز میں اور کبھی عام بیماریوں کی صورت میں کبھی مصائب وآلام‘ رنج وغم کی شکل میں ظاہر کرتا ہے۔جو انسانوں کا ایسا تعاقب کرتے ہیں۔ کہ کبھی اس سے جدا ہی نہیں ہوتے‘ کبھی آسمان وزمین کی برکتوں سے مخلوق کو محروم کردیتا ہے۔کبھی ان پر شیاطین کو مسلط کردیتا ہے۔جو ان کو طرح طرح کے عذاب میں پھانستے رہتے ہیں تاکہ حق ثابت ہوجائے اور ہر ایک شخص جس کے لئے پیدا کیا گیا ہے وہ ثابت ہوجائے اور ایک باہوش شخص اطراف عالم کی سیر اپنی بصیرت کے ساتھ کرتا ہے۔ اور اس کا بغور مشاہدہ کرتا ہے اور باری تعالیٰ کے عدل وانصاف اور اس کی حکمت بالغہ کے مواقع کو دیکھتا ہے تو اس وقت اس پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ رسل وانبیاءاور ان کے متبعین ہی خاص طور پر راہ نجات پر ہیں‘اور دنیا کے سارے لوگ ہلاکت وبربادی کے راستے پر رواں دواں ہیں اور ہلاکت کے گھر کی طرف جارہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا ہی کرکے رہے گا اس کے حکم کو کوئی ٹالنے والا نہیں اس کے آرڈر کو کوئی پھیرنے والا نہیں‘ اللہ ہی توفیق دینے والا ہے۔
نبیﷺ کے اس قول ”اس کا پانی آنکھ کے لئے شفا ہے“ میں تین اقوال ہیں۔
پہلا قول یہ ہے کہ اس کا پانی آنکھ میں استعمال کی جانے والی دواﺅں میں ملالیا جائے اس کو تنہا استعمال نہ کیا جائے اس کو ابو عبید نے بیان کیا ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ اس کے خالص پانی کو نچوڑ کر پکالیا جائے‘ پھر اسے لگایا جائے اس لئے کہ آگ اس کو نفج کرنے کے بعد اس میں لطافت پیدا کرتی ہے۔ اور اس کے فضلات اور تکلیف دہ رطوبات کو باہر کردیتی ہے اور اس میں صرف نفع بخش اجزاءباقی رہ جاتے ہیں۔
تیسرا قول یہ ہے کہ کھمبی کے پانی سے مراد وہ پانی ہے جو بارش کے بعد حاصل ہوتا ہے اور وہ بارش کا پہلا قطرہ ہے جو زمین کی جانب آتا ہے اس کے بعد اضافات ہوتے ہیں جو اضافت اقترانی کہلاتے ہیں۔ نہ کہ اضافی جزئی۔ اس کے ابن جوزی نے بیان کیا ہے ۔یہ بعید ازقیاس اور بہت کمزور قول ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر کھمبی کا پانی صرف آشوب چشم کی برودت کے لئے استعمال کیا جائے تو اس کا پانی ہی شفاءہے اور اگر دوسری بیماری میں استعمال کرنا ہو تو مرکب بہتر ہے۔
 غافقی نے بیان کیا کہ اگر کھمبی کے پانی میں اثمد گوندھ کر اس کو بطور سرمہ استعمال کیا جائے تو آنکھ کی تمام دواﺅں میں سب سے بہتر دوا ہے‘ پلکوں کو قوت دیتا ہے۔ روح باصرہ کو قوی کرتا ہے۔ اور بیدار کرتا ہے ۔اور نزلہ کے لئے دفاع کا کام کرتا ہے۔
کباث (پیلو کا پھل): صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ ؓسے حدیث مروی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہم لوگ رسول اللہﷺ کے ساتھ پیلو کے پھل چن رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ سیاہ رنگ کا پھل چن لو اس لئے کہ یہ سب سے عمدہ ہوتا ہے۔
کباث :کاف کے فتحہ اور باءموحدہ مخففہ اور ثاءمثلثہ پڑھا گیا ہے درخت پیلو کے پھل کو کہتے ہیں۔ یہ حجاز میں پایا جاتا ہے اس کا مزاج گرم خشک ہے۔ اس کے فوائد درخت کے منافع کی طرح ہی ہیں۔ معدہ کے لئے مقوی ہے۔ ہاضمہ درست کرتا ہے۔ بلغم کو خارج کرتا ہے۔ پشت کے درد کو دور کرتا ہے اس کے علاوہ بہت سی بیماریوں میں نافع ہے۔
ابن جلجل نے بیان کیا کہ اگر اس کو پیس کر پیا جائے تو پیشاب لاتا ہے۔مثانہ صاف کرتا ہے اور ابن رضوان نے لکھا ہے کہ یہ معدہ کو مضبوط بناتا ہے۔پاخانہ بستہ کرتا ہے۔
کتم : (نیل) امام بخاریؒ نے اپنی صحیح بخاری میں عثمان بن عبداللہ بن موہب سے روایت کی انہوں نے بیان کیا۔
”ہم لوگ ام المومنین ام سلمہؓ کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے ہمیں رسول اللہﷺ کے موئے مبارک میں سے ایک بال دکھایا تو وہ مہندی اور نیل سے رنگا ہوا تھا“۔
سنن اربعہ میں نبیﷺ سے روایت مذکور ہے آپ نے فرمایا کہ سب سے عمدہ چیز جس سے تم سفید بالوںکو رنگین بناﺅ مہندی اور نیل ہے۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے حناءاور نیل کا خضاب لگایا۔
سنن ابو داﺅد میں عبداللہ بن عباس ؓسے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ:
”رسول اللہﷺ کے سامنے سے ایک شخص گزرا جس نے مہندی کا خضاب لگا رکھا تھا آپ نے فرمایا یہ کتنا عمدہ ہے؟ پھر دوسرا شخص گزرا جس نے مہندی اور نیل کا خضاب لگایا تھا تو آپ نے فرمایا کہ یہ اس سے بھی عمدہ ہے پھر ایک تیسرا شخص گزرا جس نے زرد رنگ کا خضاب لگا رکھا تھا تو آپ نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ یہ سب سے عمدہ ہے“۔
غافقی نے بیان کیا کہ نیل ایک پودا ہے جو میدانی علاقوں میں پیدا ہوتا ہے۔اس کا پتہ زیتون کے پتے کی طرح ہوتا ہے اس کی لمبائی قد آدم کے برابر ہوتی ہے جب اس کو توڑا جائے تو سیاہ ہوتا ہے۔اگر اس کے پتے کا رس نچوڑ کر دو تولہ کی مقدار پی لیا جائے تو شدید قسم کی قے آتی ہے۔کتے کے کاٹنے پر مفید ہے اور اس کی جڑ یں پانی میں ابال دی جائیں تو روشنائی بن جاتی ہے۔
کندی کا بیان ہے کہ تخم نیل کو بطور سرمہ استعمال کریں تو آنکھ کے نزول الماءکو تحلیل کردیتا ہے۔ اور ہمیشہ کے لئے آنکھ نزول الماءسے محفوظ ہوجاتی ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کتم نیل کے پتے کو کہتے ہیں یہ ایک واہمہ ہے اس لئے کہ برگ نیل کتم کے علاوہ دوسری چیزہے۔ صاحب صحاح نے لکھا ہے کہ کتم بالتحریک ایک پودا ہے جس کو نیل کےساتھ ملا کر خضاب کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
بعضوں نے یہ کہا کہ نیل ایک پودا ہے۔ جس کے پتے لمبے ہوتے ہیں‘ رنگ مائل بہ نیلگوں ہوتا ہے ۔ یہ درخت بید کی پتیوں سے بڑا ہوتا ہے۔ لوبیا (سیم) کے پتے کی طرح ہوتا ہے مگر اس سے ذرا بڑا ہوتا ہے۔ حجاز ویمن میں پیدا ہوتا ہے۔
اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ صحیح بخاری میں حضرت انس ؓسے ثابت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے خضاب استعمال نہیں کیا۔اس کا جواب امام احمد بن حنبلؒ نے دیا ہے فرمایا کہ حضرت انسؓ کے علاوہ بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہﷺ کو خضاب استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہے اور دیکھنے والے نہ دیکھنے والے کے برابر نہیں‘ چنانچہ امام احمد بن حنبلؒ اور ان کے ساتھ محدثین کرام کی ایک جماعت نے خضاب نبوی کو ثابت کیا ہے اور امام مالکؒ نے اس کا انکار کیا ہے۔
یہ بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ صحیح مسلم میں ابو قحافہ کے واقعہ میں سیاہ خضاب لگانے سے ممانعت موجود ہے کہ جب ابو قحافہ کو آپ کے پاس لایا گیا تو ان کے سر اور داڑھی کے بال بیلے کے پھول کی طرح سفید تھے‘ تو آپ نے فرمایا کہ سفید بالوں کو بدلو البتہ سیاہ کرنے سے اس کو بچانا۔
اور کتم بال کو سیاہ کرتا ہے لہٰذا اس سے بھی ممانعت حدیث کی روشنی میں ہونی چاہیے۔تو اس کا جواب دو طریقہ سے دیا گیا ہے۔
پہلا جواب یہ ہے کہ حدیث میں خالص سیاہی سے ممانعت کی گئی ہے‘لیکن اگر مہندی میں کتم وغیرہ ملا کر استعمال کیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں‘ اس لیئے کہ کتم اور مہندی کے خضاب سے بال سرخ وسیاہ کے مابین ہوتے ہیں نیل کے برخلاف اس لئے کہ نیل سے بال گہرا سیاہ ہوجاتا ہے یہ سب سے عمدہ جواب ہے۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ جس سیاہ خضاب سے ممانعت حدیث میں وارد ہے۔ وہ فریب دینے والا خضاب ہے۔ جیسے کوئی باندی اپنے آقا کو فریب دینے کے لئے خضاب کرے یا کوئی سن رسیدہ عورت بال میں خضاب لگائے تاکہ اس کا شوہر فریب میں مبتلا ہوجائے۔یا کوئی بوڑھا اپنی عورت کو دھوکہ دینے کے لئے سیاہ خضاب بال میں لگائے تو یہ سب فریب اور دھوکہ ہے۔ لیکن جہاں فریب اور دھوکا کا شائبہ نہ ہو وہاں کوئی مضائقہ نہیں جیسا کہ حضرت حسن اور حسینؓ کے بارے میں صحیح طور پر ثابت ہے کہ یہ دونوں سیاہ خضاب استعمال فرماتے تھے اس کو ابن جریرے نے اپنی کتاب ”تہذیب الاثار“ میں بیان کیا ہے اور اس سیاہ خضاب کے استعمال کا ذکر عثمان بن عفان‘ عبداللہ بن جعفر سعد بن ابی وقاص‘ عقبہ بن عامر‘ مغیرہ بن شعبہ‘ جریر بن عبداللہ‘ عمرو بن عاصؓ کے بارے میں کی ہے اور اس کوتابعین کی ایک جماعت نے نقل کیا ہے جن میں عمرو بن عثمان‘ علی بن عبداللہ بن عباس‘ ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن‘ عبدالرحمٰن بن اسود‘ موسیٰ بن طلحہ‘ زہری ‘ ایوب اسماعیل بن معد یکربؒ وغیرہ ہیں اسی طرح علامہ ابن جوزی نے بھی اس کو محارب بن دثار‘ یزید ابن جریح‘ ابو یوسف‘ ابو اسحٰق‘ ابن ابی لیلی‘ زیاد بن علاقہ‘
غیلان بن جامع‘ نافع بن جبیر‘ عمرو بن علی المقدمی اور قاسم بن سلام وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ سارے رداة بھی خود استعمال کرتے تھے۔
کرم (انگور کا درخت): یہ انگور کے درخت کی بیل ہوتی ہے‘اب اس کو کرم کہنا مکروہ ہے۔ چنانچہ امام مسلمؒ نے صحیح مسلم میں نبیﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا۔
”تم میںسے کوئی انگور کو کرم نہ کہے‘ کہ کرم تو مسلمان مرد ہے۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ کرم تو مومن کا دل ہوتا ہے“
دوسری حدیث میں آپ نے فرمایا کہ کرم نہ کہو بلکہ حبلتہ وعنب کہا کرو۔
اس میں دو معنی ہیں ایک تو یہ عرب درخت انگور کو کرم کہا کرتے تھے‘ اس لئے کہ اس کے منافع بے شمار تھے اور خیر کا پہلو بھی غیر معمولی تھا چنانچہ نبیﷺ نے انگور کے درخت کو ایسا نام قراردینا ناپسند کیا جس سے لوگوں کے دلوں میںغیر معمولی محبت پیدا ہوجائے اور اس سے بنائی جانے والی شراب سے بھی ان کو محبت ہوجائے جب کہ یہ ام الخبائث ہے۔ اس لئے جس سے شراب تیار کی جاتی ہے۔ اس کا ایسا عمدہ نام جس میں خیر ہی خیر ہو رکھنا درست نہیں۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ جملہ اور کے قبیل سے ہے یعنی۔ تم لوگ درخت انگور کے منافع کی کثرت کو دیکھ کر اس کا نام کرم رکھتے ہو‘جب کہ قلب مومن یا مرد مسلم اس نام کا زیادہ حقدار ہے۔اس لئے کہ مومن سراپا نفع وخیر ہوا کرتا ہے۔ لہٰذا یہ قلب مومن کی تقویت وتنبیہ کے لئے ہے کہ مومن کے دل میں خیر ہی خیر‘جودوسخاوت‘ اور ایمان‘ روشنی‘ ہدایت و تقویٰ‘ اور ایسی خوبیاں ہوتی ہیں جو درخت انگور سے بھی زیادہ اس بات کی مستحق ہیں کہ اسے کرم کہا جائے۔
شاخ انگور سرد خشک ہے اور اس کی پتیاں‘ ٹہنیاں‘ اور عرموش پہلے درجہ کے آخر میں بارد ہوتی ہیں‘ اگر اس کو پیس کر سر درد کے مریض کو ضماد کیا جائے تو سکون ہوتا ہے اسی طرح گرم اورام اور معدہ کی سوزش کو ختم کرتا ہے۔اور اس کی شاخوں کا شیرہ اگر پیا جائے تو قے رک جاتی ہے‘اور پاخانہ بستہ ہوتا ہے اسی طرح اگر اس کا تازہ گودہ اور اس کی پتیوں کا مشروب پیا جائے تو آنتوں کے زخموں‘ نفث الدم‘ اور قے دم کو دور کرتا ہے‘ اور معدہ کے لئے نافع ہے۔ اور درخت انگور کا رستا ہوا مادہ جو شاخوں پر پایا جاتا ہے بالکل گوند کی طرح ہوتا ہے اگر اس کو پیا جائے تو پتھریوں کو نکالتا ہے۔اور اگر اس کو داد کھجلی تر کے زخموں پر لگائیں تو اچھا ہوتا ہے اس کو استعمال کرنے سے پہلے پانی اور نطرون سے عضو کو دھولینا چاہیے اگر اس کو روغن زیتون کے ہمراہ استعمال کیا جائے تو بال صفا کا کام دیتا ہے۔ اور سوختہ شاخوں کی راکھ کو سرکہ‘روغن گل اور عرق سذاب کے ساتھ ملا کر ضماد کیا جائے تو طحال کے ورم کے لئے نافع ہوتا ہے اور انگور کی کلیوں کا روغن قابض ہوتا ہے اور روغن گل جیسی تاثیر وقوت اس میں بھی ہوتی ہے اسکے فوائد کھجور کی طرح بے شمار ہیں۔
کرفس (احمود) :ایک بالکل غلط حدیث روایت کی گئی ہے جس کی نسبت رسول اللہﷺ کی طرف کرنا صحیح نہیں اس میں مذکور ہے کہ آپ نے فرمایا:
”جو شخص احمود کھاکر سوجائے تو سونے کی حالت میں اس کے منہ کی بو خوشگوار ہوجائے گی۔ اور دانتوں اور داڑھوں کے درد سے محفوظ ہوکر سوئے گا“۔
اس حدیث کی نسبت رسول اللہﷺکی طرف کرنا باطل ہے یہ سراسر رسول اللہﷺ پر افتراءپردازی ہے‘ احمود بستانی کے استعمال سے منہ خوشبو دار اور خوشگوار ہوتا ہے‘اور اگر اس کی جڑ گردن میں لٹکائی جائے تو درددنداں میں مفید ہوتی ہے۔
اس کا مزاج گرم خشک ہے‘ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تر ہوتی ہے۔ جگر اور طحال کے سدوں کو کھولتی ہے اور اس کا پتہ بارد معدہ اور جگر کے لیے مفید ہے پیشاب آور ہوتا ہے اور حیض جاری ہوتا ہے۔ پتھریوں کو توڑ کر خارج کردیتا ہے اس کا تخم قوت میں اس سے زیادہ ہوتا ہے‘ قوت باہ بڑھاتا ہے‘ گندہ دہنی کو دور کرتا ہے‘ امام رازی نے بیان کیا ہے کہ اگر بچھو کے ڈنک مارنے کا اندیشہ ہو تو اس کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔
کراث (گندنا) : اس سلسلہ میں ایک حدیث ہے جس کی نسبت رسول اللہﷺ کیطرف صحیح نہیں ہے بلکہ یہ باطل اور موضوع حدیث ہے اس میں مذکور ہے۔
”جو گندنا کھائے‘ اور پھر اسی حالت میں سوجائے تو اسے ریح بواسیر کا خطرہ نہیں ہوتا‘ اور فرشتے اس کی بدبو کی وجہ سے صبح تک اس سے الگ رہتے ہیں“
اسکی دو قسمیں ہیں : نبطی اورشامی۔
نبطی وہ ترکاری ہے جو دستر خوان پر چنی جاتی اور کھائی جاتی ہے۔اور شامی وہ ہے جس میں چھتری ہوتی ہے یہ گرم خشک ہوتی ہے اس سے سر درد پیدا ہوتا ہے اگر اس کو پکا کر کھایا جائے یا اس کا عرق پیا جائے تو بواسیر بارد کے لئے مفید ہے اور اگر اس کے تخم کے سفوف کو تارکول میں ملا کر اس کو بخور کیا جائے تو داڑھ کے کیڑے کو باہر نکال پھینکتی ہے اور اس کے درد کو ختم کرتی ہے۔
اور سرین کو اس کے تخم کی دھونی دی جائے تو بواسیر کے لئے مفید ہے یہ تمام خصوصیات نبطی گندنا کی ہیں۔ ان خصوصیات وفوائد کے باوجود اس سے دانتوں اور مسوڑھوں کو نقصان بھی ہوتا ہے دردسرپیدا کرتا ہے۔ اور برے خواب نظر آتے ہیں کوربینی کرتا ہے۔ گندہ دہنی کا سبب بنتا ہے اسی طرح پیشاب اور حیض لاتا ہے۔ قوت باہ کو بڑھاتا ہے اور دیر ہضم ہے۔