حرف ھا

ھندبا (کاسنی): اس سلسلہ میں تین احادیث مروی ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی رسول اللہﷺ سے صحیح طور پر ثابت نہیں ہیں‘بلکہ ہر ایک موضوع ہے حدیث یہ ہے:
”کاسنی کا استعمال کرو اور اس کو صاف نہ کرو اس لئے کہ ہر روز اس پر قطرات جنت ٹپکتے رہتے ہیں“۔
دوسری حدیث بایں الفاظ مروی ہیں:
” جس نے کاسنی کھائی اور اسی حالت میں سوگیا تو اس پر جادو اور زہر میں سے کوئی اثر نہیں کرے گا“۔
تیسری حدیث یہ ہے‘جس میں مذکور ہے کہ:
”کاسنی کے پتوں میں سے کوئی پتہ نہیں ہے جس پر قطرات جنت نہ گرتے ہوں“
بہر حال کاسنی کا مزاج بہت جلد متغیر ہوجاتا ہے۔سال کے موسم کے ساتھ بدلتا رہتا ہے چنانچہ موسم سرما میں سرد تر رہتا ہے اور موسم گرما میں گرم خشک ہوجاتا ہے۔ اور ربیع خریف کے موسم میں معتدل رہتا ہے اور اکثر حالات میں برودت ویبوست کی طرف مائل رہتا ہے اس میں قبض بارد ہوتا ہے معدہ کے لئے عمدہ ہے اگر اس کا پکا کا سرکہ کے ساتھ آمیز کرکے استعمال کیا جائے تو دست بستہ کرتا ہے‘خصوصا کاسنی بڑی تو معدہ کے لئے بہت زیادہ مفید ہے اس میں قبض بہت زیادہ ہوتا ہے۔ضعف معدہ کو دور کرتا ہے۔اگر معدہ پر اس کا ضماد کیا جائے تو معدہ میں پیدا ہونے والی سوزش کو ختم کرتا ہے اور نقرس کی بیماری کے لئے مفید ہے اسی طرح آنکھ کے گرم ورموں کے لئے نافع ہے۔اگر بچھو کے ڈنک زدہ مقام پر اس کے پتے اور جڑ کا ضماد کیا جائے تو سوزش نیش کثردم جاتی رہتی ہے یہ مقوی معدہ ہے‘جگر میں پیدا ہونے والے سدوں کو کھول دیتا ہے۔ اور جگر کے گرم وسرد دردوں میں بے حد مفید ہے اور طحال رگوں اور آنتوں کے سدوں کو کھولتا ہے‘اور گردے کے مجاری کو صاف کرتی ہے۔
کڑوی کاسنی جگر کے لئے بہت مفید ہے اس کا نچوڑا ہوا عرق یرقان سدی کے لئے نافع ہے۔بالخصوص جب کہ اس میں تازہ بادیان کے عرق کی آمیزش ہو۔ اور اگر اس کے پتے کو پیس کر گرم ورم پر ضماد کی جائے تو اس کو سرد کرکے تحلیل کردیتا ہے۔معدہ کو جلاءکرتا ہے۔خون اور صفراءکی حرارت کو ختم کرتا ہے۔اس کو بغیر دھلے اور صاف کئے بغیر کھانا بہتر ہے‘اس لئے کہ اگر اس کو دھل کر صاف کردیا جائے گا تو اس کی قوت ختم ہوجاتی ہے۔ اس میں ایک تریاقی قوت ہوتی ۔جو ہر قسم کے زہر پر اثر انداز ہوتی ہے۔
اگر اس کے پانی کو بطور سرمہ استعمال کیا جائے تو شبکوری کے لئے نافع ہوتا ہے۔تریاق میں اس کے پتے کا استعمال کیا جاتا ہے نیش کثردم کے لئے مفید ہے اور ہر قسم کے زہر کے اثر کو ختم کرتا ہے۔
اگر اس کے پانی کو نچوڑ کر اس پر روغن زیتون ڈالا جائے پھر استعمال کیا جائے تو بہت سی قاتل دواﺅں کے اثر کو ختم کردیتا ہے اسی طرح سانپ کے ڈسنے اور بچھو کے ڈنک مارنے پر نفع بخش ہوتا ہے اور بھڑ کے ڈنک مارنے پر بھی نافع ہوتا ہے۔ اس کی جڑ کا دودھ آنکھ کی سفیدی کو جلا بخشتا ہے۔