حرف یا

یقطین:گول اور لمبے کدو کو کہتے ہیں‘اگر چہ لفظ یقطین عربی زبان میں بالکل عام ہے کیونکہ لغت میں یقطین ہر اس درخت کو کہتے ہیں جو اپنی ڈنٹھل پر کھڑا نہ ہو جیسے تر بوز، ککڑی کھیرہ وغیرہ ہوتاہے۔
چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔
”اور ہم نے ان پر ایک بیل دار درخت بھی اگادیا تھا“۔
ممکن ہے یہ اعتراض پیدا ہو کہ جو درخت اپنی ڈنٹھل پر کھڑا نہیںہوتا‘اس کو تو نجم کہتے ہیں‘اس کو شجر نہیںکہتے‘کیونکہ شجر تو اس پودے کو کہتے ہیں‘جو اپنی ڈنٹھل پر کھڑاہو۔ اہل لغت اسی کے قائل ہیں‘پھر ارشاد باری تعالی (ایک بیل) میں شجرة خلاف لغت کیسے صحیح ہوسکتاہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اگر شجرہ کے لفظ کو مطلق بولیں تو اس کا معنی ہوتا ہے کہ جو درخت اپنی ڈنٹھل پر کھڑا ہو مگر جب کسی خاص قید کے ساتھ اس کو مقید کردیا جائے تو یہ بات نہیں رہ جائے گی۔چنانچہ اسماءکے سلسلہ میں مطلق ومقید کی بحث ایک بہت اہم اور منفعت بخش باب ہے۔صرف اہل لغت ہی اس کے مراتب ومنافع سے پورے طور پر آشنا ہوتے ہیں۔
اور قرآن مجید میں یقطین کا جو ذکر ہے‘اس سے مراد کدو کا درخت ہے۔اس کے پھل کو کدو اور لوکی کہتے ہیں۔اور اس کے درخت کو یقطین کہتے ہیں۔ چنانچہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میںحضرت انس بن مالک سے روایت ہے۔
کہ ایک درزی نے رسول اللہﷺ کو کھانے پر مدعو کیا‘حضرت انس راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ کے ہمراہ میں بھی گیا‘داعی نے آپ کی خدمت اقدس میں جو کی روٹی اور خشک گوشت اور کدو کا بناہو سالن پیش کیا‘حضرت انسؓ کہتے ہیںکہ میں نے کھانے کے دوران رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپ پیالے کے اردگرد سے کدو تلاش کرکے کھا رہے تھے۔اسی روز سے میرے دل میںکدو کی رغبت پیدا ہوگئی۔
ابو طالوت بیان کرتے ہیں کہ میںحضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جب کہ وہ کدو کھا رہے تھے اور کہتے تھے کہ اے درخت تو بھی کیا چیز ہے۔میں تجھے رسول اللہﷺ کے پسند کرنے کی وجہ سے پسند کرتا ہوں۔
”غیلانیات“ میںہشام بن عروہ نے اپنے باپ عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ہے۔حضرت عائشہؓ نے فرمایا ۔کہ مجھ سے رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اے عائشہؓ جب تم کوئی ہانڈی پکانے کے لئے تیار کرو۔تو اس میںزیادہ مقدار میں کدو ڈال لو اس لئے کہ کدو رنجیدہ دلوں کو مضبوط کرتاہے۔
کدو سردتر ہوتا ہے۔معمولی غذا دیتاہے۔یہ معدہ سے جلد نیچے کی جانب چلا جاتاہے۔اور اگر ہضم ہونے سے پہلے فاسد نہ ہو تو اس سے عمدہ خلط ہوتی ہے اس کی خاصیت یہ ہے کہ اس کو جس چیز کے اساتھ استعمال کیا جائے ہضم ہونے کے بعد اسی میںتبدیل ہوجاتاہے۔اگر رائی کے ہمراہ اس کو استعمال کریں تو خلط حریف پیدا ہوگی‘ اور اگر نمک کے ساتھ کھائیں تو نمکین خلط ہوگی اور اگر قابض چیز کے ساتھ کھائیں توقابض خلط میںتبدیل ہوگا اور اگر بہی کے ساتھ اس کو پکا کر استعمال کیا جائے تو بدن کوعمدہ غذائیت بخشتا ہے۔
کدو لطیف آبی ہوتا ہے‘مرطوب بلغمی غذا فراہم کرتاہے۔بخار زدہ لوگوں کے لئے نافع ہے۔یہ سرد مزاج لوگوں کے لئے راس نہیں آتا۔اسی طرح بلغمی مزاج لوگوں کے لئے موزوں نہیں‘اسکا پانی تشنگی کو دور کرتا ہے۔اور اگر اس کو پیا جائے یا اس سے سر کو دھلایا جائے تو گرم سردرد کو ختم کرتاہے۔پاخانہ نرم کرتاہے۔خواہ جس طرح بھی اس کو استعمال کریں۔بخار زدہ لوگوں کے لئے اس جیسی یا اس سے زیادہ زود اثر کوئی دوسری دوا نہیں ہے۔اگر گوندھے ہوئے آٹے کو اس پر لگادیںاور چولہے یا تنور میں اس کو بھون کر اس کے پانی کو لطیف مشروب کے ساتھ استعمال کیا جائے تو بخار کی تیز قسم کی حرارت کو ختم کرتاہے۔تشنگی دور کرتاہے۔اور عمدہ تغذیہ کرتا ہے‘اور اگر اس کی ترنجبین اور بہی کے مربہ کے ساتھ استعمال کریں توخالص صفراءکا اسہال کرتاہے۔
اگر کدو کو پکا کر اس کا پانی تھوڑے شہد اور سہاگا کے ساتھ پیا جائے تو صفراءاور بلغم دونوں کو ایک ساتھ خارج کرتاہے‘اگر اس کو پیس کر چندیا پر اس کو ضماد کریں تو دماغ کے اورام حارہ کے لئے مفید ہوتاہے۔
اگر اس کے چھلکے کو نچوڑ کر اس کا پانی روغن گل کے ساتھ آمیز کریں اور اس کو کان میں ٹپکائیں تو کان کے اورام حارہ کے لئے نافع ہے۔اس کا چھلکا آنکھ کے گرم ورم کے لئے بھی مفید ہوتاہے۔اور گرم نقرس کو بھی ختم کرتاہے۔گرم مزاج اور بخار زدہ لوگوں کے لئے یہ غیر معمولی طور پر نفع بخش ہے۔اگر معدہ میں اس کا مقابلہ کسی ردی خلط سے ہوجائے تو یہ بھی اسی خلط ردی میں تبدیل ہوجاتا ہے اور بدن میںخلط ردی پیدا کردے گا۔اس کی مضرت سرکہ اور مری سے دور کی جاسکتی ہے۔
حاصل کلام یہ کہ کدو لطیف ترین اور زود اثر دواﺅں میں سے ہے‘حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ کثرت سے کدو کا استعمال فرماتے تھے۔