مفید غذاﺅں کا بیان

مناسب ہے کہ ہمیشہ گوشت خوری کی عادت نہ ڈالی جائے‘ اس لئے کہ اس سے دموی امراض اور امتلائی بیماریاں اور تیز قسم کے بخار ہوتے ہیں‘حضرت عمر بن خطابؓ نے فرمایا کہ گوشت کا استعمال ذرا سنبھل کر کرو‘اس لئے کہ اس کی خواہش شراب کی طرح ہوتی ہے۔ اس کو امام مالکؒ نے موطا میں حضرت عمرؓ سے نقل کیا ہے۔بقراط نے لکھا ہے کہ اپنے شکم کو جانوروں کا قبرستان نہ بناﺅ۔
دودھ: اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اس کے متعلق فرمایا:
” ان جانوروں میں تمہارے لئے عبرت ہے۔ ان کے شکم میں جو گوبر اور خون ہے‘ اس کے درمیان میں سے خالص اور پینے والوں کے لئے خوشگوار دودھ ہم تم کو پلاتے ہیں“۔
اور جنت کے متعلق فرمایا:
”اس (جنت) میں بہت سی نہریں ایسے پانی کی ہونگی جن میں ذرا تغیر نہ ہوگا۔اور بہت سی نہریں ایسے دودھ کی ہوں گی‘ جن کا ذائقہ ذرا بھی نہ بدلے گا“۔
سنن میں مرفوع سند سے مروی ہے‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
”جس کو اللہ کھانا کھلائے اسے کہنا چاہیے کہ اے اللہ ہمارے لئے اس میں برکت عطا فرما اور اس میں سے بہتر رزق ہمیں دے‘اور جس کو اللہ دودھ پلائے اسے کہنا چاہیے کہ اے اللہ ہمارے لئے اس میں برکت عطا کرو اور اس کو زیادہ کر اس لئے کہ میں دودھ کے علاوہ کوئی دوسری چیز نہیں جانتا‘ جو کھانے پینے دونوں کے لئے کافی ہوتی ہے۔
دودھ اگرچہ دیکھنے میں بسیط معلوم ہوتا ہے‘ مگر وہ در حقیقت تین جوہروں سے طبعی طور پر مرکب ہے۔
پنیر‘ گھی اور پانی : پنیر باردرطب ہوتا ہے‘ بدن کو غذائیت بخشتا ہے‘ اور گھی حرارت ورطوبات میں معتدل ہے۔ تندرست‘ انسانی جسم کے لئے موزوں ہے۔ اس کے فوائد بے شمار ہیں۔ اور پانی گرم اور تر ہوتا ہے۔ اسہال لاتا ہے۔ بدن کو تازگی بخشتا ہے اور دودھ مجموعی طور پر اعتدال سے بھی زیادہ سرد اور تر ہوتا ہے‘بعض لوگوںکا قول ہے کہ دودھ دوہنے کے وقت اس کی حرارت ورطوبت بڑھی ہوتی ہے۔ بعضوں نے اس کو برودت ورطوبت میں معتدل قراردیا ہے۔
بہترین دودھ تھن سے نکالا ہوا تازہ ہوتا ہے‘جیسے جیسے وقت گزرتا ہے‘ اس میں نقص پیدا ہوتا جاتا ہے‘ تھن سے دودھ نکالنے کے وقت اس میں برودت کمتر ہوتی ہے‘ اور رطوبت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ترش دودھ اس کے برخلاف ہوتا ہے۔ پیدائش کے چالیس دن کے بعد والا دودھ سب سے عمدہ ہوتا ہے۔ جس دودھ میں بہت زیادہ سفیدی ہو تو وہ بہت خوب ہوتا ہے۔ اور اس کی بو بھی خوشگوار ہوتی ہے‘ اور لذیذ ہوتا ہے‘ اس میں معمولی شیرینی پائی جاتی ہے‘ اور معتدل چکنائی ہوتی ہے‘ رقت وغلظت میں بھی معتدل ہوتا ہے تندرست جوان جانور سے لیا گیا ہو۔ جس کا گوشت معتدل ہو‘ اور اس کا چارہ اور پانی بھی معتدل ہو۔
دودھ عمدہ خون پیدا کرتا ہے۔ خشک بدن کو شاداب بناتا ہے‘ بہترین غذائیت مہیا کرتا ہے وسواس رنج وغم اور سوداوی بیماریوں کے لئے بہت زیادہ نفع بخش ہے۔ اور اگر اس میں شہد ملا کر پیا جائے تو اندورنی زخموں کو متعفن اخلاط سے بچاتا ہے‘شکر کے ساتھ اس کے پینے سے رنگ نکھرتا ہے تازہ دودھ جماع کے ضرر کی تلافی کرتا ہے‘سینے اور پھیپڑے کے لئے موافق ہوتا ہے‘ سبل ( آنکھ کی ایک بیماری جس میں آنکھ پرپردہ پڑجاتا ہے)کے مریضوں کے لئے عمدہ غذا ہے۔البتہ سر‘معدہ‘جگر اور طحال کے لئے ضرر رساں ہے‘ اس کا زیادہ استعمال دانتوں اور مسوڑھوں کے لئے نقصان دہ ہے‘ اسی لئے دودھ پینے کے بعد کلی کرنا چاہیے‘چنانچہ بخاری اور مسلم میں روایت ہے کہ نبیﷺ نے دودھ پیا پھر پانی طلب فرمایا۔ اور کلی کیا‘ پھر فرمایا کہ دودھ میں چکنائی ہوتی ہے۔
بخار زدہ لوگوں کے لئے مضر ہے اسی طرح سردرد والوں کو بھی نقصان دیتا ہے‘دماغ اور کمزور سر کے لئے تکلیف دہ ہے اس کو ہمیشہ استعمال کرنے سے کور چشمی اور شب کوری پیدا ہوتی ہے‘جوڑوں میں درد اور جگر کے سدے پیدا ہوتے ہیں‘ معدہ اور احشاءمیں بھی اپھارہ ہوتا ہے۔شہد اور سونٹھ کے مربہ سے اس کی اصلاح کی جاتی ہے‘ یہ تمام بیماریاں اس کو لاحق ہوتی ہیں جو اس کا عادی نہ ہو۔
بھیڑ کا دودھ : سب سے گاڑھا اور مرطوب ہوتا ہے‘ اس میں ایسی چکنائی اور بو ہوتی ہے۔ جو بکری اور گائے کے دودھ میں نہیں ہوتی‘ یہ فضولات بلغمی پیدا کرتا ہے اس کو ہمیشہ استعمال کرنے سے جلد میں سفیدہ پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے اس میں پانی ملا کر پینا چاہیے‘ تاکہ جسم کو اس کا کمتر حصہ ملے‘ تشنگی کے لئے تسکین بخش ہے۔ اس میں برودت بہت زیادہ ہوتی ہے۔
بکری کا دودھ: لطیف معتدل ہوتا ہے۔ اور مسہل ہوتا ہے‘ خشک بدن کو شاداب بناتا ہے۔حلق کے زخموں اور خشک کھانسی کے لئے بے حد مفید ہے‘اور نفث الدم کو ختم کرتا ہے۔
دودھ عمومی طور پر جسم انسانی کے لئے نفع بخش مشروب ہے‘ اس لئے کہ اس میں غذائیت اور خون کی افزائش ہوتی ہے۔ اور بچپن ہی سے انسان اس کا خوگر ہوتا ہے‘ اور یہ فطرت انسانی کے عین مطابق ہے۔
چنانچہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں روایت ہے کہ:
”شب معراج میں رسول اللہﷺ کے پاس شراب کا ایک پیالہ اور دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا آپ نے دونوں کو دیکھا‘ پھر دودھ کا پیالہ اپنے ہاتھ میں لے لیا‘اس پر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے‘ جس نے آپ کی رہنمائی فطرت کی جانب فرمائی‘اگر آپ شراب کا پیالہ اٹھالیتے تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی“۔
ترش دودھ دیر میں آنتوں کو چھوڑتا ہے‘ خلط خام پیدا کرتا ہے۔ اس کو گرم معدہ ہی ہضم کرتا ہے۔ اور اسی کے لئے یہ مفید بھی ہے۔
گائے کا دودھ: بدن کو غذا دیتا ہے‘ اور اس کو شاداب بناتاہے‘ اعتدال کے ساتھ اسہال لاتا ہے۔ گائے کا دودھ سب سے معتدل ہوتا ہے‘اور اس میں رقت وغلظت اور چکنائی بکری اور بھیڑ کے دودھ کے مقابل عمدہ ہوتی ہے۔سنن میں عبداللہ بن مسعودؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ تم لوگ گائے کا دودھ استعمال کرو‘اس لئے کے یہ ہر درخت سے غذا حاصل کرتی ہے۔
اونٹنی کا دودھ: فصل کے شروع ہی میں اس کے فوائد کا ذکر ہوچکا ہے‘یہاں پر دوبارہ اس کے ذکر کرنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔
لبان (کندر): اس کے بارے میں نبی اکرمﷺ سے ایک حدیث وارد ہے‘ جس میں آپ نے فرمایا:
”اپنے گھروں کو کندرا اور صعتر (پہاڑی پودینہ) کی دھونی دو“۔
لیکن یہ حدیث نبیﷺ سے صحیح طور پر ثابت نہیں ہے‘البتہ حضرت علیؓ سے روایت کی جاتی ہے کہ ایک شخص نے آپ سے نسیان کی شکایت کی آپ نے اس سے فرمایا کہ کندر استعمال کیا کرو۔ اس لئے کہ اس سے دل مضبوط ہوتا ہے اور نسیان ختم ہوجاتا ہے‘ عبداللہ بن عباسؓ سے منقول ایک اثر ہے کہ اس کو شکر کے ساتھ نہار منہ استعمال کرنا‘ پیشاب اور نسیان کے لئے مفید ہے‘ حضرت انسؓ سے بھی مروی ہے کہ ان سے ایک شخص نے نسیان کی شکایت کی تو انہوں نے فرمایاکہ کندر استعمال کیا کرو۔اس کو رات میں بھگودو اور صبح بیدار ہوکر نہار منہ اس کا مشروب پیو اس لئے کہ یہ نسیان کے لئے بہت عمدہ ہوتا ہے۔
اسکاطبعی سبب ظاہر ہے‘ اسلئے کہ نسیان اگر کسی سوءمزاج بارد رطب کو لاحق ہو تو وہ اسکے دفاع پر غالب رہتا ہے۔ چنانچہ مریض جو کچھ دیکھتا ہے‘محفوظ رکھ پاتا ہے‘لہٰذا کندر اس کیلئے بے حد مفید ہوگا‘ لیکن اگر نسیان کسی عارضی چیز کے غلبہ کے سبب سے ہو تو اسکے مرطبات کے استعمال کے ذریعہ دور کرنا آسان ہوتا ہے۔ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ خشکی کی وجہ سے نسیان ہوگا تو نیند نہ آئے گی‘ ماضی کی باتیں یاد ہوںگی مگر حالیہ باتیں یاد نہ رہیں گی‘اور اگر نسیان رطوبت کے سبب سے ہو تو اسکے برعکس ہوگا۔ بعض چیزیں خاص طور پر نسیان پیدا کرتی ہیں جیسے گدی کے گڈھے پر پچنا لگوانا‘سبز دھنیا کا بکثرت استعمال‘ ترش سیب کھانا‘ رنج وغم کی کثرت‘ ٹھہرے ہوئے پانی میں دیکھنا اور اس میں پیشاب کرنا‘ سولی دیئے ہوئے شخص کی طرف دیکھنا‘ قبروں کی تختیوں کو بار بار پڑھنا اونٹ کی دو قطاروں کے درمیان چلنا‘ حوض میں جوں ڈالنا‘ او ر اسی طرح چوہے کا پسماندہ کھانا یہ ساری باتیں تجربہ کی بنیاد پر بیان کی گئی ہیں۔
الغرض کندر دوسرے درجہ میں گرم اور پہلے درجہ میں خشک ہوتا ہے اس میں معمولی قبض ہوتا ہے۔
اسکے فوائد بہت زیادہ ہیں‘ مضرت کم ہے‘ کندر خون بہنے اور خون آنے سے روکتا ہے، درد معدہ کو دور کرتا ہے۔ غذا ہضم کرتا ہے دست آور ہے‘ ریاح کو دور کرتا ہے۔آنکھ کے زخموں کو جلا بخشتا ہے‘ہر قسم کے زخموں میں گوشت دوڑاتا ہے کمزور معدہ کو تقویت بخشتا ہے‘اور اس میں گرمی پیدا کرتا ہے‘ بلغم کو خشک کرتا ہے‘اور سینے کے رطوبات کو صاف کرتا ہے کور چشمی کو دور کرتا ہے۔خراب قسم کے زخموں کو پھیلنے سے روکتا ہے۔ اگر اس کو تنہا یا صعتر فارسی (پہاڑی پودینہ) کے ساتھ چبایا جائے تو بلغم کو خارج کرتا ہے‘ زبان کی بندش کو ختم کرتا ہے۔ ذہن کو بڑھاتا ہے‘ اور اس کو تیز کرتا ہے۔ اگر اس کی بھاپ کی دھونی دی جائے تو دباءمیں سفید ہوتا ہے۔ ہوا کو آلائش سے صاف کرکے خوشگوار کرتا ہے۔