پرندوں کے گوشت کا بیان

 اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
”اور چڑیا کا گوشت جس کو وہ پسند کریں گے‘ (لائیں گے)“
اور مسند بزار وغیرہ میں مرفوعاً روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:
”بے شک تم جنت میں چڑیوں کی طرف دیکھوگے تو اس کی خواہش ہوگی‘ اتنے میں وہ بھنی ہوئی تمہارے سامنے پڑی ہوگی۔“
پرندوں کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ حرام اور حلال
حرام پنچے والی ہوتی ہیں‘جو پنجے سے شکار کرتی ہیں‘ جیسے باز‘شاہین اور شکرا حرام چڑیوں میں سے بعض مردار کھاتی ہیں جیسے گدھ‘کرگس‘لقلقُ چیل‘ کوا سفیدو سیاہ اور کوا سیاہ‘ ان میں سے بعض کو مارنا ممنوع ہے۔ جیسے ہد ہد‘ لٹورا اور ان میں سے بعض کو مارنے کا حکم دیا گیا ہے جیسے زاغ و زغن۔
حلال پرندے بھی مختلف قسم کے ہوتے ہیں ان میں سے ایک مرغی ہے چنانچہ اس کے بارے میں صحیح بخاری وصحیح مسلم میں حدیث ابو موسیٰ مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے مرغی کا گوشت تناول فرمایا۔
مرغی کا گوشت پہلے درجہ میں گرم تر ہوتا ہے۔ معدہ پر ہلکا ہوتا ہے زود ہضم ہے۔ اس سے عمدہ خلط پیدا ہوتی ہے دماغ اور منی میں اضافہ ہوتا ہے‘آواز صاف کرتا ہے۔ خوبصورتی پیدا کرتا ہے۔ عقل کوتقویت بخشتا ہے۔ صالح خون پیدا کرتا ہے‘ رطوبات کی طرف مائل ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس کو ہمیشہ کھانے سے نقرس کی بیماری ہوتی ہے حالانکہ یہ خیال باطل ہے اس کا کوئی بھی ثبوت نہیں۔
مرغ کا گوشت ©: مزاج کے اعتبار سے بہت زیادہ گرم ہوتا ہے اور نسبتاً رطوبت اس میں کم ہوتی ہے پرانے مرغ کا گوشت ایک مفید دوا کا کام کرتا ہے۔ اگر اس کو تخم معصفر اور سوئے کے ساگ کے پانی کے ساتھ پکاکر استعمال کریں تو قولنج‘ شکم کی سوجن اور ریاح غلیظ کے لئے بے حد مفید ہوتا ہے۔
اور اس کا خصیہ غذا کے اعتبار سے عمدہ اور زود ہضم ہوتا ہے چوزے کا گوشت تو بہت زیادہ زود ہضم ہوتا ہے‘ پاخانہ نرم کرتا ہے اورر اس سے پیدا ہونے والا خون عمدہ لطیف ہوتا ہے۔
تیتر کا گوشت : دوسرے درجہ میں گرم خشک ہوتا ہے ہلکا اور زود ہضم ہوتا ہے۔ معتدل خون پیدا کرتا ہے اس کا بکثرت استعمال نگاہ کو تیز کرتا ہے۔
چکور کا گوشت : عمدہ خون پیدا کرتا ہے‘ زود ہضم ہوتا ہے۔
 مرغابی کا گوشت: گرم خشک ہوتا ہے اس کا عادی بننا براہے‘ اس سے خراب تغذیہ ہوتا ہے۔ البتہ اس میں بہت زیادہ فضولات نہیں ہوتے۔
بطخ کا گوشت : گرم تر ہوتا ہے اس کے کھانے سے فضولات کی کثرت ہوتی ہے دیر ہضم ہے۔ اور معدہ کے لئے بھی مناسب نہیں۔
سرخاب کا گوشت : سنن ابو داﺅد میں حدیث بریہ بن عمر بن سفینہ سے مذکور ہے‘ جس کو انہوں نے اپنے باپ عمر سے اور ان کے داماد سفینہ سے روایت کی ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ سرخاب کا گوشت کھایا۔
سرخاب کا گوشت گرم خشک ہوتا ہے‘ دیر ہضم ہوتا ہے۔ جفا کش اور محنتی لوگوں کے لئے نفع بخش ہے۔
سارس کا گوشت : خشک اور معدہ پر ہلکا ہوتا ہے‘ اس کی برودت وحرارت کے بارے میں اطباءمختلف ہیں۔ سوداوی خون پیدا کرتا ہے‘ محنت ومشقت کرنے والے جفا کش لوگوں کے لئے موزوں ہوتا ہے۔بہتر ہے کہ اس کو ذبح کرکے ایک یا دو دن تک چھوڑ دیا جائے پھر کھایا جائے۔
گورے اورچنڈال کا گوشت: اس کے بارے میں نسائی نے اپنی سنن میں عبداللہ ابن عمر وؓسے ایک حدیث روایت کی ہے:
”نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی گورے یا اس سے بڑی کوئی چڑیا ناحق مارے گا۔تو اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں سوال کرےگا‘ آپ سے دریافت کیا گیا کہ اے رسول اللہ اس کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تم اس کو ذبح کرکے کھاﺅ۔ اور اس کا سر کاٹ کر پھینکانہ کرو“
سنن نسائی میں عمرو بن شرید اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں‘ انہوں نے بیان کیا:
”میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے کسی گورے کو بلا ضرورت مارا تو وہ دربار الٰہی میں فریاد کرے گا‘ اور کہے گا اے میرے رب فلاں نے مجھے بلا ضرورت قتل کیا تھا‘ کسی نفع کے لئے مجھے نہیں مارا“
اس کا گوشت گرم خشک ہوتا ہے۔ دست بستہ کرتا ہے‘ قوت باہ کو بڑھاتا ہے۔ اس کا شوربہ پاخانہ نرم کرتا ہے۔ جوڑوں کے درد کے لئے مفید ہے۔ اگر اس کا مغز دماغ سونٹھ اور پیاز کے ساتھ پکا کر استعمال کیا جائے تو جماع کی خواہش کو ابھارتا ہے‘ اور اس سے خراب خلط پیدا ہوتی ہے۔
کبوتر کا گوشت : گرم تر ہوتا ہے‘ جنگلی کبوتر میں رطوبت کمتر ہوتی ہے‘ اس کے چوزوں میں بہت زیادہ رطوبت ہوتی ہے‘ گھریلو اڑنے کے قابل چوزوں کا گوشت بہت ہلکا ہوتا ہے۔اس میں غذائیت عمدہ ہوتی ہے‘نر کبوتر کا گوشت فالج‘ عضو کی بے حسی‘سکتہ‘ اور رعشہ کے لئے شفاءہے اسی طرح اس کے سانسوںکی بو سونگھنے سے فائدہ ہوتا ہے اور اس کے چوزوں کے کھانے سے عورتوں کو جلد حمل قرار پاتا ہے۔
گردہ کے لئے مفید ہے‘ خون زیادہ کرتا ہے۔ اس بارے میں رسول اللہﷺ سے ایک باطل حدیث روایت کی گئی ہے جس کی کوئی اصل نہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے تنہا ہونے کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا کہ کبوتری کو ساتھی بنالو۔
اس حدیث سے بہتر تو یہ حدیث ہے‘ جس میں مذکور ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک کبوتر ی کا پیچھا کررہا ہے‘ آپ نے فرمایا کہ ایک شیطان شیطانہ کا پیچھا کررہا ہے۔
حضرت عثمان بن عفان ؓاپنے خطبہ میں کتوں کو مارنے اور کبوتر کے ذبح کرنے کا حکم فرماتے تھے۔
تیتر کا گوشت : خشک ہوتا ہے‘ اس کے کھانے سے سوداءپیدا ہوتا ہے‘ اسہال روکتا ہے‘ بدترین غذا ہے۔صرف استسقاءکی بیماری کے لئے مفید ہے۔
ب ©ٹیر کا گوشت : گرم خشک ہوتا ہے۔ جوڑوں کے درد کے لئے نافع ہے‘ حرارت جگر کے لئے مضر ہے سرکہ اور دھنیا کے استعمال کرنے سے اس کی مضرت جاتی رہتی ہے۔ایسی چڑیوں کے گوشت کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے جو گندے مقامات پر رہتی ہیں‘ اور کھنڈرات میں اپنا بسیرا کرتی ہیں۔تمام پرندوں کا گوشت چوپایوں کے مقابل زود ہضم ہوتا ہے‘اور گردن اور بازو کا گوشت تو زود ہضم ہوتا ہے۔ مگر اس میں غذائیت کم تر ہوتی ہے۔ اور پرندوں کا مغز دماغ چوپایوں کے مقابل زیادہ عمدہ ہوتا ہے۔
ٹڈی : صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں عبداللہ بن ابی اوفی سے روایت ہے‘ انہوں نے بیان کیا کہ
”ہم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ سات غزوات میں شرکت کی‘ اور ٹڈی کھائی“
مسند میں عبداللہ بن ابی اوفی ہی سے روایت ہے۔
”ہمارے لئے دو مردار اور دو خون حلال کئے گئے‘ٹڈی‘ مچھلی اور جگر اور طحال“۔
اس حدیث کو مرفوعاً روایت کیا گیا اور عبداللہ بن عمر پر موقوفاً بھی مروی ہے۔ ٹڈی گرم خشک ہے‘ اس میں غذائیت کم ہوتی ہے‘ہمیشہ اس کو کھانے سے لاغر ی پیدا ہوتی ہے۔اگر اس کی دھونی دی جائے تو سلس البول اور پیشاب کی پریشانی کو ختم کرتی ہے۔بالخصوص عورتوں کے لئے بہت زیادہ مفید ہے۔
بواسیر میں بھی اس کی دھونی دی جاتی ہے اور بچھو کے ڈنک مارنے پر فربہ ٹڈیوں کو بھون کر کھایا جاتا ہے۔مرگی کے مریضوں کے لئے نقصان دہ ہے‘ خراب خلط پیدا کرتی ۔بلاوجہ اس کے مردار کے حلال ہونے میں دو قول ہیں۔ جمہور اس کو حلال قراردیتے ہے اور امام مالک نے اس کو حرام بتایا ہے۔ اگر یہ کسی سبب سے جیسے اچانک جھپٹنے یا جلانے وغیرہ سے مرجائے تو اس کے مردار کے مباح ہونے میں کسی قسم کا اختلاف نہیں۔