پرہیز و احتیاط (مچھلی انڈا)

میں اس کتاب کو پرہیز کے بارے میں چند سود مند، منفعت بخش فصلوں اور پورے طور پر نفع بخش وصیتوں پر ختم کرنا مناسب سمجھتا ہوں‘جس سے کہ اس کتاب کی منفعت کو چار چاند لگ جائے۔
ابن ماسویہ کی کتاب میں پرہیز واحتیاط کی بحث میں ایک فصل میری نظر سے گزری جس کو میں بلا کم وکاست ان ہی کے الفاظ میں نقل کررہا ہوں۔
ابن ماسویہ بیان کرتے ہیں‘کہ جو چالیس روز تک پیاز کھائے اور اسے جھائیں ہوجائے تو وہ خود کو ملامت کرے۔ اور جس نے فصد کیا کہ پھر نمک کھالیا جس کے سبب سے اس کو برص یاخارش لاحق ہوئی تو وہ خود کو ملامت کرے۔
جس نے مچھلی اور انڈا ایک ساتھ استعمال کیا اور وہ لقوہ یا فالج کا شکار ہوجائے۔تو خود کا قابل ملامت تصور کرے۔اور جو شکم سیر ہوکر حمام میں داخل ہو اور اس پر فالج کا حملہ ہوجائے تو خود پر لعن طعن کرے۔
اسی طرح جس نے دودھ اور مچھلی ایک ساتھ کھائی اور اسے جذام ‘برص یا نقرس کی بیماری ہوگئی تو وہ اپنے آپ کو قصور وار سمجھے۔
جس نے نبیذ کے ہمراہ دودھ پی لیا جس کی وجہ سے وہ برص یا نقرس کی بیماری میں مبتلاہوجائے تو تعجب کی بات نہیں۔
جس کو احتلام ہوا اس نے غسل کئے بغیر اسی حالت میں اپنی بیوی سے مباشرت کی جس سے مجنوں اور پاگل لڑکا پیدا ہوا تو کوئی بعید بات نہیں۔
جو شخص ابالا ہوا ٹھنڈا انڈا استعمال کرے جس سے امتلاء ہوگیا تو اس کی دمہ کی بیماری ہونا متعین ہے۔
جس نے اپنی بیوی سے مباشرت کی اور پوری طرح اخراج منی نہیں کیا تو اس کو پتھری کی بیماری ہونی ممکن ہے۔
جو رات میں آئینہ دیکھے اور اسے لقوہ ہوجائے یا کوئی اور بیماری میں مبتلا ہوجائے تو کچھ عجب نہیں۔