پرہیز و احتیاط (کثرت جماع)

بدن کو چار چیزیں بیمار کرتی ہیں‘کثرت گفتار‘زیادہ سونا ‘زیادہ کھانا ‘اور بکثرت جماع کرنا۔
کثرت گفتار سے دماغ کا مغز کم ہوتاہے اور کمزور ہوجاتاہے‘اور بڑھاپا جلد آجاتاہے۔
زیادہ سونے سے چہرے پر زردی آجاتی ہے۔دل اندھا ہوجاتاہے ‘اورآنکھ میںہیجان برپا ہو جاتا ہے اور کام کرنے میںسستی چھائی رہتی ہے۔ جسم میں رطوبات زیادہ ہوتی ہیں۔
اور زیادہ کھانا معدہ کے منھ کو فاسد کرتا ہے جسم کو کمزور لاغر بناتاہے‘ریاح غلیظ اور مشکل بیماریوںسے دوچار کرتاہے۔
بکثرت جماع کرنے سے بدن لاغر ہوجاتا ہے‘قویٰ کمزور ہوجاتے ہیں۔ اور بدن کے رطوبات خشک ہوجاتے ہیں یہ اعصاب کو ڈھیلا کرتاہے‘سدے پیدا کرتاہے اور اس کے ضرر کا اثر سارے بدن کو پہنچتا ہے‘بالخصوص دماغ کو تو بہت نقصان پہنچتاہے۔ اس لئے کہ روح نفسانی غیر معمولی طور پر تحلیل ہوجاتی ہے۔اور منی کے زیادہ اخراج کی وجہ سے اس میں اکثر کمزوری پیدا ہوتی ہے۔اور کثرت جماع سے جوہر روح کا اکثر حصہ اس سے نکل جاتاہے۔
جماع کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ جماع اس وقت کیاجائے‘جب کہ خواہش غیر معمولی طور پر ابھرے اور اسی لڑکی سے جماع کرنا مقصود ہو جو انتہائی جمیل وشکیل نوخیز ہو‘اور اسی کے ساتھ حلال بھی ہو۔ اور جماع کرنے والے کے مزاج میںحرارت اور رطوبت پورے طور پر ہو۔ اور یہ اسی انداز پر عرصے سے چلا آرہا ہو‘اور دل اعراض نفسانی سے بالکل خالی ہو۔ نہ افراط جماع ہو اور نہ امتلاءمفرط ہو جس کی وجہ سے ترک جماع مناسب ہو۔نہ خالی پیٹ ہو۔ اور نہ کسی استفراغ سے دوچار ہو اور نہ کوئی سخت محنت کی ہو اور نہ بہت زیادہ حرارت ہو اور نہ بہت زیادہ برودت ہو‘جب کوئی شخص جماع کے وقت ان دس باتوں کو ملحوظ رکھے گا۔تو اس سے بہت نفع حاصل ہوگا۔اور اگر ان میں سے کوئی ایک بات مفقود ہوگی تو ضرر بھی اسی حساب سے کم وبیش ہوگا‘اگر اکثر یا تمام باتیں مفقود ہوں تو پھر ایسے جماع سے تباہی مقدر ہے۔