چار مفید و مضر چیزوں کا بیان

چار چیزوں سے جسم تباہ ہوجاتاہے۔
(۱)رنج (۲) غم (۳) فاقہ کشی (۴) شب بیداری
چار چیزوں سے فرحت حاصل ہوتی ہے۔
(۱) سبز وشاداب چیزوں کی طرف دیکھنا
(۲) آب رواں کا نظارہ کرنا
(۳) محبوب کا دیدار
(۴) پھلوں کا نظارہ کرنا۔
چار چیزوں سے آنکھ میں دھندلا پن پید ا ہوتا ہے:
(۱)ننگے پاﺅں چلنا
(۲) صبح وشام نفرت انگیز گراں چیز یا دشمن کو دیکھنا
(۳) زیادہ آہ وبکا کرنا
(۴)باریک خطوط کا زیادہ غور سے دیکھنا
چار چیزوں سے بدن کو تقویت ملتی ہے:
(۱) نرم وملائم ملبوسات زیب تن کرنا
(۲) اعتدال کے ساتھ حمام کرنا
(۳) مرغن اور شیریں غذا استعمال کرنا
(۴) عمدہ خوشبو لگانا۔
چار چیزوں سے چہرہ خشک ہوجاتا ہے:
(۱) اس کی شگفتگی‘شادابی اور رونق ختم ہوجاتی ہے۔
(۲) دروغ گوئی‘ بے حیائی
(۳) جاہلانہ طرز کے سوالات کی کثرت
(۴) فسق وفجور کی زیادتی
چار چیزوں سے چہرے پر رونق اور شگفتگی آتی ہے:
(۱)مروت
(۲) وفاداری
(۳)جودو سخاوت
(۴)پرہیز گاری
چار چیزیں باہم نفرت وعدادت کا سبب بنتی ہیں‘تکبر وگھمنڈ ‘دروغ گوئی اور چغل خوری۔
چار چیزوں سے روزی بڑھتی ہے۔نماز تہجد کی ادائیگی‘صبح سویرے بکثرت اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی طلب‘صدقہ کا باہم معاہدہ کرنا اور دن کے شروع اور آخر وقت میں اللہ کا ذکر واذکار۔
چار چیزوں سے روزی روک دی جاتی ہے۔ صبح کے وقت سونا‘نماز سے غفلت‘سستی اور خیانت۔
چار چیزیں فہم وادراک کے لئے ضرر رساں ہیں۔ ترش چیزوں اور پھلوں کا دائمی استعمال‘چت سونا اور رنج وغم۔
چار چیزوں سے فہم وادراک کی قوت میں اضافہ ہوتاہے۔
فارغ البالی‘کم خوری وکم آشای‘غذاﺅں کا شیریں اور مرغن چیزوں سے عمدہ بنانے کا اہتمام اور ان فضلات کا بدن سے خارج کرنا جو بدن کے لئے گراں ہوں۔
عقل کے لئے متعدد چیزیں ضرررساں ہیں‘ہمیشہ پیاز کھانا ‘لوبیا ‘روغن زیتوان اور بیگن کا دائمی استعمال‘جماع کی کثرت‘خلوت نشینی‘بے ضرورت افکار وخیالات‘مے نوشی‘بہت زیادہ ہنسنا اور رنج وغم کرنا‘یہ تمام چیزیں عقل کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
بعض دانشوروں کا مقولہ ہے کہ مجھے بحث ومناظرہ کی تین مجلسوں میں شکست اٹھانی پڑی۔جس کا کوئی خاص سبب میری سمجھ میں نہ آسکا البتہ پہلی مجلس مناظرہ میں شکست کا یہ سبب معلوم ہوا کہ میںنے ان دنوں بکثرت بیگن کا استعمال کیا تھا۔اور دوسری مجلس میں شکست کا یہ سبب تھا کہ روغن زیتون کا بہت زیادہ استعمال کیا تھا‘اور تیسری مجلس میں شکست کا یہ راز معلوم ہوا کہ میں نے لوبیا کی ترکاری بہت کثرت سے کھائی تھی۔