Home O Herbal

پیر, 02 19th

Last updateجمعرات, 21 جنوری 2016 6pm

خارش اور جوں

جسم کی خارش اور جوں کا علاج نبوی ﷺ

صحیحین میں بروایت قتادہؓ یہ حدیث ہے۔
”انس بن مالکؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوامؓ کو خارش کی بناءپر ریشمی کپڑے پہننے کی خصوصی اجازت مرحمت فرمائی تھی“۔
دوسری روایت یہ ہے کہ:
”عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوامؓ صحابیان رسول اللہ ﷺ سے جوں پڑنے کی شکایت ایک جنگ کے موقع پر فرمائی آپ نے ان دونوں کو اجازت دے دی کہ ریشمی قمیض استعمال کریں اور اس کو میں نے ان کے جسم پر دیکھا بھی تھا“۔
اس حدیث سے دو باتیں نکلتی ہیں، ایک فقہی، دوسری طبی۔
فقہی بات تو یہ ہے کہ ریشمی کپڑوں کا استعمال عورتوں کے لیے بلا کسی روک ٹوک کے جائز ہے جو آپ کی احادیث سے ثابت ہے۔ اور مردوں کو اس کا زیب تن کرنا حرام ہے، ہاں کسی ضرورت یا خاص مصلحت سے، مثلًا ٹھنڈ بہت پڑتی ہو اور اس کپڑے کے علاوہ کوئی دوسرا نہ ہو جس سے وہ اپنا جسم ڈھانپ سکے، یا مرد کسی بیماری کا شکار ہو، مثلاً خارش داد کھجلی وغیرہ کی کثرت جیسا کہ حدیث انس سے واضح طور سے معلوم ہوتا ہے۔
ریشمی کپڑے پہننے کا جواز احمد بن حنبلؒ کی دو روایتوں میں سے ایک میں موجود ہے اور شافعیؒ کی مختلف باتوں میں صحیح تر جواز ہی ہے۔ اس لیے کہ کپڑوں میں عموم ہی اصل ہے اور رخصت جب کسی ایک فرد کے لیے ثابت ہو تو اس رخصت کا معنی جب کسی دوسرے فرد میں ہوگا تو اس کے لیے بھی رخصت کا جواز ہوگا اس لیے کہ عموم سبب سے حکم بھی عام ہوتا ہے۔
جو اس کے حرمت کے قائل ہیں ان کا کہنا ہے کہ تحریم کی احادیث عام ہیں اور رخصت کا حکم خصوصی طور سے صرف عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر کے لیے تھا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس حکم میں دوسرے بھی ہوں جب خصوص و عموم دونوں ہی متحمل ہوں تو عموم پر ہی عمل ہونا چاہیے۔ اسی وجہ سے بعض راویوں نے کہا ہم کو نہیں معلوم کہ ان کے بعد کے لوگوں کو رخصت کا علم ہوا یا نہیں۔
اور درست بات تو عموم رخصت ہی ہے اس لیے کہ شریعت کا طرز خطاب ہمیشہ سے یہ رہا کہ اس کا حکم عام ہی ہوتا ہے اگر تخصیص کی کوئی صراحت نہ ہو اور جس کو ابتدا میں رخصت دی گئی ہو اس کو اس میں شامل نہ کیا جائے جیسا کہ آپ نے حضرت ابو بردہؓ کو قربانی کے لئے رخصت دی آپ نے فرمایا کہ میاں تمہارے لیے یہ بکری کا بچہ بھی بکری کی جگہ کافی ہے مگر یہ حکم صرف تم تک ہے آگے کسی کیلئے نہیں۔
”یہ تم کو کفایت کرے گا اور تمہارے بعد کسی کو یہ رخصت نہ ہوگی“
یا اللہ کے پیغمبر ﷺ کے لیے نکاح زینبؓ کے سلسلے میں جنہوں نے آپ کے لیے اپنے آپ کو ہبہ کردیا تھا یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ [الأحزاب: 50]
”یہ صرف تمہاری خصوصیت ہے دوسرے مسلمان کے لیے نہیں“
تحریم حریر میں ذریعہ کا انسداد کرنا مقصود ہے، اسی وجہ سے عورتوں کے لیے مباح ہے اور ضرورت و مصلحت راحج کے موقع پر بھی جائز ہے یہ دستور ہر جگہ ہے جہاں انسداد رائع کے لیے تحریم ہو کہ وہ ضرورت و مصلحت کے موقع پر جائز ہوتا ہے جیسے کہ محرم کو دیکھنا انسداد ذریعہ کے طور پر حرام ہے مگر مصلحت و ضرورت کے تحت جائز ہے اسی طرح نفلی نمازیں پڑھنا ممنوع اوقات میں ممنوع ہیں تاکہ ظاہری طور پر بھی سورج کی پوجا کرنے والوں سے مشابہت نہ ہو مگر کسی مصلحت کے وقت مباح ہے، جس طرح کے ربا الفضل، ابا النسیہ کے ذریعہ کے انسداد کے لیے ممنوع ہے مگر عرایا کی صورت میں ضرورت کی بنیاد پر جائز ہے جس میں درخت کسی محتاج کو ایک سال تک اس کے پھل سے نفع کے لیے دیدیا جاتا ہے وہ اس کے پھل سے دوسری فصل تک بھی کچھ لے لیتا ہے تو اس سے وہ ناجائز نہیں ہوتا ہے اور اس کی مکمل فقہی تحقیق ہم نے اپنے رسالہ میں کی ہے۔

خارش اور جوں
BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS