Home O Herbal

پیر, 02 19th

Last updateجمعرات, 21 جنوری 2016 6pm

نکسیر

نکسیر کا علاج نبوی ﷺ

صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ہے:
”آپ ﷺ نے فرمایا بہترین طریقہ علاج حجامت (پچھنا لگانا) ہے اور عود ہندی کا استعمال اپنے بچوں کے حلق میں ایسے چونکے نہ لگاﺅ کہ خون چل پڑے“
دوسری حدیث مسند احمد بن حنبل سے یہ ہے:
”حضرت جابر بن عبداللہؓ نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ حضرت عائشہؓ کے پاس تشریف لائے آپ کے پاس ایک بچہ تھا جس کے نتھنوں میں سے خون جاری تھا آپ ﷺ نے دریافت فرمایا یہ کیا لوگوں نے کہا کہ کوا میں چونکے لگانے کی وجہ سے یا درد سر کی وجہ سے سیلان خون ہے آپ نے فرمایا تمہاری سمجھ پر پتھر پڑے اپنی اولاد کو ہلاک نہ کرو جب کسی عورت کے بچہ کو کوے کی تکلیف ہو یا درد سر ہو تو اسے عود ہندی کو لے کر پانی سے رگڑنا چاہیے پھر اسے ناک میں چڑھانا چاہیے یہ سن کر حضرت عائشہؓ نے اس تدبیر کے کرنے کی ہدایت فرمائی چنانچہ یہ ترکیب عمل میں لائی گئی بچہ پوری طرح تندرست ہوگیا“۔
ابو عبیدہ نے ابو عبیدہ سے نقل کیا ہے کہ ”عذرة“ حلق میں ہیجان دموی کو کہتے ہیں جب اس کا علاج کیا جائے یہ بھی محاورہ ہے کہ ”عذرة“ یعنی وہ معذور ہے بعضوں نے بیان کیا ہے کہ ”عذرة“ کان اور حلق کے مابین نکلنے والا ورم ہے جس سے خون جاری ہوا اور بچوں کو عام طور سے ہوتا ہے۔
عود ہندی کو رگڑ کر ناک میں چڑھانے کا نفع یہ ہے کہ عذرہ کا مادہ خون ہے جس پر بلغم کا غلبہ ہوجاتا ہے بچوں کا بدن عموماً اس سے متاثر ہوتا ہے، عود ہندی میں عموماً تجفیف کی قوت ہے جو کوے کی بندش کرتا ہے، اور اسے اوپر اٹھاتا ہے، کبھی اس دوا کا اثر بالخاصہ ہوتا ہے کبھی دوائے حار کی طرح نفع دیتا ہے، کبھی دوائے حار کے ساتھ آمیز کرنے پر نفع پہنچاتا ہے۔ کبھی اس کا نفع بالذات کبھی بالعرض ہوتا ہے چنانچہ شیخ نے سقوط لہاة میں جو علاج لکھا ہے اس میں تحریر کیا ہے عود ہندی، شب یمانی، تخم مرد کے ساتھ مفید ہے۔
قسط بحری جس کا ذکر حدیث میں ہے وہ یہی عود ہندی ہے جو نسبتاً سفیدی مائل ہوتی ہے وہ شیریں کثیر المنفعت ہے۔ اور عربوں کا دستور تھا کہ وہ کوے کو زخمی کرکے علاج کرتے یا کوئی چیز لٹکا کر علاج کرتے تھے، پیغمبر ﷺ نے اس سے علاج کرنے سے منع کیا اور ایسا علاج بتلایا جو بچوں کے لیے زیادہ نافع اور والدین کے لیے آسان تر تھا۔
سعوط ناک میں پہنچانے والی دوا کو کہتے ہیں اس کے لیے مفرد و مرکب دونوں ہی قسم کی دوائیں کام میں لائی جاتی ہیں ان دواﺅں کو پیس چھان کر گوندھ کر کبھی سفوف بنا کر ضرورت کے وقت کسی چیز میں حل کرکے انسان کے ناک میں ڈالتے اور چڑھاتے ہیں دوا ڈالنے کے وقت مریض کو چت لٹادیتے ہیں۔ مونڈھے اور پیٹھ کو تکیہ پر ٹیک لگاتے ہیں تاکہ سر کا حصہ نیچے ہو اور یہ حصہ اٹھا ہوتا کہ دوا ڈالنے کا نتیجہ یہ ہو کہ دوا دماغ تک پہنچ جائے اور جو مواد بھی دماغ میں ہو چھینک کے ساتھ باہر نکل آئے رسول اللہ ﷺ نے سعوط کے ذریعہ علاج کو پسند فرمایا جہاں ضرورت ہو۔
خود آنحضرت ﷺ نے بھی ناک میں دوا ڈلوائی اس کا ذکر احادیث کی بہت سی کتابوں میں محدثین نے کیا ہے خود ابو داﺅد نے اس روایت کو اپنی سنن میں بیان کیا ہے۔
”نبی ﷺ نے ناک میں دوا ڈلوائی“۔

نکسیر
BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS