* چولائی کے پتے 2 تولہ لے کر تھوڑے پانی میں جوش دیں پھر چھان کرکے تھوڑی چینی ملا کر پینے سے درد گردہ و مثانہ کی شکایت جاتی ہے۔
* پنبہ دانہ 2 تولہ کو نیم کوب کرکے دو چھٹانک پانی میں رات کو بھگو دیں۔ صبح کو چینی ڈالنے کے بعد جوش دیں پھر اسے چھان کر پی جائے اس سے درد گردہ دور ہوتا ہے۔ اور گردے کی پتھری بھی نکل آتی ہے۔ حکیم علی گیلانی کے مجربات سے ہے۔
* تخم مغز قرطم (کسم کے بیج) کو باریک کرکے اس کے برابر چینی ملا کر چھ ماشہ کی مقدار میں روزانہ صبح و شام کچھ عرصہ تک کھانے سے درد گر دہ اور پتھری کی شکایت جا تی ہے۔
* تخم خرپزہ 6 ماشہ کو نیم کُوٹ کرکے تھوڑے پانی میں جوش دیں اسے چھان کر تھوڑی سی شکر سرخ ملا کر نیم گرم پینے سے درد گردہ کی شکایت جاتی رہتی ہے۔
* کونپل درخت پیپل 5 عدد، مرچ سیاہ 5 عدد، دونوں کو تھوڑے پانی میں پیس کر پینے سے درد گردہ کی شکایت جاتی ہے۔
* شورہ قلمی اور گندھک آملہ سار دونوں کو علیحدہ علیحدہ باریک کرکے ملالیں اور ہلکی آنچ پر اتنی دیر رکھیں کہ دونوں چیزیں جل جائیں اس سے تین ماشہ یا حسب عمر کچھ کم و بیش لے کر آب مولی تین تولہ کے ساتھ استعمال کریں۔ درد گردہ کے لیے بہت مفید ہے۔ نیز پیشاب کے بند ہو جانے یا رک کر آنے میں اس کا استعمال مفید ہے۔
* پینگ خالص بقدر باجرہ کو موم خالص بقدر جوار میں رکھ کر کھانے سے درد گردہ کی شکایت جاتی ہے۔
* زردی بیضہ مرغ ایک عدد، سیاہ مرچ 5 عدد، دونوں کو پیس کرکے کپڑے میں لگا کے درد کی جگہ پر رکھیں درد گردہ اور ذات الجنب میں اس کا استعال مفید ہے اس کے استعمال سے درد میں فوراً سکون ہو جاتا ہے۔