Home O Herbal

پیر, 02 19th

Last updateجمعرات, 21 جنوری 2016 6pm

پہلو کی پھنسیاں

پہلو کی پھنسیوں کے جھاڑ پھونک میں ہدایات نبوی ﷺ

پہلے حدیث انس میں جو صحیح مسلم کی روایت ہے یہ بات گزرچکی ہے کے نبی اکرم ﷺ نے بخار، نظر بد اور پہلو کی پھنسیوں میں دم کرنے کی رخصت دی ہے ۔
سنن ابو داﺅد میں شفا ءبنت عبداللہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا ۔
”میرے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور میں حفصہ ؓکے پاس تھی آپ نے فرمایا کہ کیوں نہیں پہلو کی پھنسیوں کے دم کرنے کا طریقہ اسے سکھادیتی جیسا کہ اسے فن کتابت سکھایا “۔
”نملتہ“دونوں پہلو میں نکلنے والے پھوڑوں کو کہتے ہیں ‘ اور یہ ایک مشہور بیماری ہے اس کا نملہ نام اس لئے رکھا گیا کہ مریض یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے اوپر چیونٹی رینگ رہی ہے اور اسے کاٹ رہی ہے اس پھوڑے کی تین قسمیں ہیں ۔
ابن قتبیہہ وغیرہ نے بیان کیا کہ مجوس کا خیال تھا کہ بھانجا اگر اس پھوڑے پر پاﺅں رکھ کر گزر جائے تو مریض شفایاب ہوجائے گا اسی معنی پر شاعر کا یہ شعر بھی ہے ۔
”ہمارے اند ر کوئی عیب نہیں ہے ‘ عیب ہے تو صرف یہ کہ ہم شریف گھرانے کے ہیں اور ہم نمل (پہلو کے پھوڑوں ) پر پیر رکھ کر گزرا نہیں کرتے “
خلال نے روایت کیا کہ شفاء بنت عبداللہ دور جاہلیت میں پہلو کے پھوڑے پر جھاڑ پھونک کیا کرتی تھیں جب ہجرت کرکے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور مکہ میں آپ سے بیعت توبہ کی تو عرض کیا کہ اے رسول اللہ ﷺ میں دور جاہلیت میں نملہ (پہلو کے پھوڑے )پر جھاڑ پھونک کیا کرتی اور چاہتی ہوں کہ اسے آپ کے سامنے پیش کروں چنانچہ انہوں نے پیش کیا ۔
”اللہ کے نام سے بھول کر ااس کی زبانوں میں آگیا اور یہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاسکتا اے اللہ مصیبت کو دور کردے ‘ اے لوگوں کے رب !“
آپ نے فرمایا اس کو ایک لکڑی پر سات مرتبہ دم کرو اور ایک صاف ستھری جگہ بیٹھو ‘ اور پرانی شراب کے سرکہ کے ساتھ پتھر پر اسے گھسو اور اسے نملہ (پہلو کے پھوڑے ) پر ضماد کردو اور حدیث میں عورتوں کو فن کتابت کی تعلیم دینے کے جوا ز پر دلیل ملتی ہے۔

پہلو کی پھنسیاں
BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS