Home O Herbal

پیر, 02 19th

Last updateجمعرات, 21 جنوری 2016 6pm

سر کی جوئیں

سر کی جوﺅں کے ازالہ اور اس کے علاج کے بارے میں ہدایات نبوی ﷺ

صحیح بخاری ومسلم میں کعب بن عجرہ سے روایت ہے۔
”میرے سر میں تکلیف تھی لوگ مجھے رسول اللہﷺ کی خدمت میں اٹھا کر لے گئے میرے سر میں اتنی جوں تھی کہ چہرے پر رینگتی تھی آپ نے فرمایا واقعی تم بڑی سختی اور اذیت میں ہو“
”دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے اس کو سر کے بال منڈانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ (اس کے عوض) چھ آدمیوں کی ایک جماعت کو کھانا کھلائے یا ایک بکری ذبح کرے یا تین دن روزے سے رہے“۔
بدن میں یا سر میں جوں کے پیدا ہونے کے دو سبب ہیں اس کا سبب خارج بدن سے ہوتا ہے یا داخل بدن سے۔
خارج بدن سے ہونے والا سبب میل وکچیل جو تہہ بہ تہہ جسم کے اوپر جم جائے اور دوسر ا سبب خلط ردی اور عفن جس کو طبعیت جلد اور گوشت کے درمیان پھینکتی ہے تو یہ خلط ردی رطوبت دموی سے مل کر مسامات سے نکلنے کے بعد بشرہ میں متعفن ہوجاتی ہے جس سے جوں پیدا ہوجاتی ہے اور عموماً مریض کی بیماری کے بعد یہ پیدا ہوتی ہیں‘ اس لئے کہ بیماری کی وجہ سے میل کچیل کی کثرت ہوتی ہے اور بچوں کے سروں میں زیادتی ہوتی ہے‘ کیونکہ ان میں زیادہ ایسے رطوبات اور اسباب پائے جاتے ہیں جن سے جوں پیدا ہوتی ہے اسی لئے نبی کریمﷺ نے بنی جعفر کے سروں کو منڈوایا تھا۔
اس کا سب سے بہترین علاج یہ ہے کہ سر منڈادیا جائے تاکہ مسامات کھل جائیں جس سے بخارات نکلتے ہیں چنانچہ جڑیں کھلنے سے ردی بخارات نکل جائیں گے‘ اور مادہ خلط کمزور پڑجائے گا‘ اور بہتر یہ ہے کہ سر منڈانے کے بعد جوں کے مارنے والی دوائیں اس پر لیپ کی جائیں جس سے سر میںجوں کا وجود نہ رہے۔
سر مونڈنا تین طرح سے ہوتا ہے‘ پہلی قسم نذر وعبادت ہے اور دوسری قسم بدعت وشرک ہے‘ اور تیسری قسم ضرورت اور دوا ہے۔
پہلی صورت میں سر مونڈنا حج عمرہ میں سے کسی ایک میں واجب ہے اور دوسری قسم میں غیر اللہ کے لئے سر منڈایا جائے جو کہ شرک ہے جیسے کہ مریدین اپنے شیوخ کے نام پر سر منڈاتے ہیں چنانچہ منڈانے والا کہتا ہے کہ میںنے فلاں شیخ کے لئے اپنا سر منڈایا اور تم نے فلاں کے لئے سر منڈایا یہ بات بالکل ایسی ہی ہے جیسے کوئی یہ کہے کہ میں نے فلاں کے لئے سجدہ کیا اس لئے کہ سر کا منڈانا خضوع‘ عبادت اور انکساری ہے اسی وجہ سے اس کو حج کا تتمہ قراردیا گیا یہاں تک کہ امام شافعی کے نزدیک یہ حج کا ایک رکن ہے‘ جس کے بغیر حج پورا نہیں ہوگا‘ کیونکہ اللہ کے سامنے سر جھکانا خضوع ہے‘ اس کی عظمت کا اقرار ہے اور اس کی عزت کے سامنے سر جھکانا خضوع ہے اس کی عظمت کا اقرار ہے اور اس کی عزت کے سامنے فروتنی وعاجزی کا اظہار کرنا ہے‘ اور یہ عبودیت کی اعلیٰ ترین قسم ہے‘ اسی وجہ سے عرب میں رواج تھا کہ جب وہ کسی قیدی کو ذلیل کرنا چاہتے اور اس کے بعد اس کو آزاد کرنے کا ارادہ رکھتے تو اس کا سر مونڈ کر اس کو رہا کردیتے ان کے بعد کچھ ایسے شیوخ پیدا ہوئے جو گمراہی کے دلال ہیں اور اللہ کی ربوبیت کے مخالف ہیں‘ جنکی مشیخت کی بنیاد ہی شرک وبدعت پر قائم ہے‘ وہ اپنے مریدوں سے اپنی عبادت کے خواہاں ہوتے ہیں اسی لئے انہوں نے سرمونڈنے کا ڈھونگ رچایا کہ مرید ین ان کے نام پر سر منڈائیں جس طرح کہ ان کو سجدہ کرتے ہیں اور سجدہ کا مفہوم بدل کر یہ مفہوم اختیار کیا کہ سجدہ شیخ کے آگے سرجھکانے کا نام ہے اور اللہ کی قسم سجدہ صرف اللہ کے آگے سر جھکانے کا نام ہے اسی طرح انہوںنے اپنے لئے نذر ونیاز ماننے اور توبہ کرنے اور ان کے نام کی قسمیں کھانے کی رسم ایجاد کی یہ سب درحقیقت اللہ کے علاوہ دوسرے کو اللہ ماننے اور سجدہ کرنے کی تعلیم ہے، ارشاد باری ہے:
مَاكَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُؤْتِيَهُ اللَّهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِي مِنْ دُونِاللَّهِ وَلَكِنْ كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُونَ وَلَا يَأْمُرَكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلَائِكَةَ وَالنَّبِيِّينَ أَرْبَابًا أَيَأْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ إِذْأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ  [آلعمران: 79، 80]
”ایسا کوئی انسان نہیں کہ اللہ اسے کتاب، احکام خصوصی سے بذریعہ ملائکہ اور نبوت سے نوازے پھر وہ لوگوں سے کہے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میری عبادت کرو، بلکہ وہ کہے گا کہ اللہ پرست بن جاﺅ اس وجہ سے کہ تم کتاب اللہ کو پڑھتے اور پڑھاتے ہو، نہ یہ (مناسب ہے) کہ وہ تم کو حکم دے کہ تم فرشتوں اور نبیوں کو اپنا (حقیقی) رب بنالو، کیا وہ تم کو مسلمان ہونے کے بعد کفر کی تعلیم دے گا؟“
عبادات میں سب سے مہتم بالشان عبادت نماز ہے، جسے شیوخ، نام نہاد علمائ، اور جبابرہ نے الگ الگ تقسیم کرلیا ہے، چنانچہ شیوخ نے سب سے اونچی تعظیم سجدوں کو اپنے لئے خاص کرلیا اور نام نہاد علماءنے رکوع پر اکتفا کیا جب ان میں سے ایک دوسرے سے ملتا ہے تو کورنش بجالاتا ہے، اور اس کو رکوع کرتا ہے جیسا کہ اللہ کے سامنے رکوع کیا جاتا ہے اور جبابرہ نے صرف کھڑے ہونے کی تعظیم ہی کو سامان آبرو سمجھا اس طرح سے کہ آزاد وغلام دونوں ہی بطور عبادت ان کے سامنے کھڑے رہتے ہیں اور خود جبابرہ اپنی جگہ بیٹھے رہتے ہیں رسو ل اللہ نے ان تینوں قسم کے افعال سے تفصیل کے ساتھ منع کیا ہے، چنانچہ آپ نے کھل کر اس کی مخالفت فرمائی‘اور غیر اللہ کے سامنے سجدہ کرنے سے منع فرمایا‘ جیسا کہ آپ کا ارشاد ہے:
”کسی کیلئے یہ مناسب نہیں کہ وہ کسی کو سجدہ کرے “۔
اور حضرت معاذ ؓنے جب آپ کو سجدہ تعظیمی کیا تو بڑی سختی سے اسکا انکار کیا‘ اور فرمایا کہ ہٹو ہٹو اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اسلام میں غیر اللہ کا سجدہ کرنا بوقت ضرورت بھی سراسر حرام ہے اور جس نے بھی اسے غیر اللہ کے لئے جائز قرار دیا اس نے اللہ اور اس کے رسول اللہﷺ کی توہین کی‘ اس لئے یہ تو خالص قسم کی بندگی ہے اگر کوئی مشرک کسی انسان کے لئے اس کو جائز کہے تو اس نے غیر اللہ کے لئے عبودیت کو روا قرار دیا اور صاف طور سے حدیث میں ہے کہ آپ سے پوچھا گیا کہ ایک شخص اپنے جیسے کسی دوسرے شخص سے ملتے وقت کورنش بجالا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں پھر پوچھا گیا کیا ملاقات کے وقت اسے چمٹالے اور اس کا بوسہ لے؟ آپ نے فرمایا نہیں پھر دریافت کیا گیا‘ کہ کیا اس سے مصافحہ کرے تو آپ نے جواب دیا کہ ہاں مصافحہ کرے۔
سلام کرتے ہوئے جھکنا سجدہ ہے خود قرآن مجید میں اس کی صراحت ہے۔
وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا[البقرة: 58]
”اور مسجد کے دروازے میں جھک کر داخل ہو جاﺅ“۔
یعنی باانداز کورنش یا بحالت رکوع داخل ہوجاﺅ‘ اسلئے کہ سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا ممکن نہیں‘ اور تعظیم کے طور پر کھڑے ہونے سے ممانعت آپ سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ آدمی خود بیٹھا ہو اور لوگ اس کی تعظیم میں کھڑے رہیں یہ عجمی لوگوں کا طریقہ ہے حتی کہ نماز کی حالت میں بھی اس سے منع کیا گیا ہے اس لئے آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ اگر امام کسی عذر کی بناءپر بیٹھ کر نماز پڑھے تو مصلی بھی بیٹھ کر ہی نماز ادا کریں جب کہ لوگ تندرست ہوں، اور ان کو کوئی عذر نہ ہوتا کہ اس کے بیٹھتے ہوئے لوگوں کے کھڑے ہونے میں تعظیم کا مفسدہ نہ پیدا ہو‘ حالانکہ یہاں قیام اللہ کے لئے ہے جب اس کی اجازت نہیں دی گئی تو پھر بندے کی تعظیم کے لئے اور اس کی بندگی کے واسطے کھڑے ہونے کی اجازت کیونکر ہوسکتی ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ دین سے ناواقف گمراہ لوگوں نے اللہ کی عبادت کا درجہ گھٹا دیا اور اس میں ان مخلوق کو بھی شریک کردیا جن کی دنیا میں وہ تعظیم کرتے ہیں چنانچہ غیر اللہ کو سجدہ کر بیٹھے، اس کے لئے رکوع کیا اور نمازیوں کی طرح اس کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوگئے اور غیر اللہ کی قسم کھائی اور اس کے لئے نذرونیاز مانی اور اسی کے نام پر سر منڈایا اور جانور ذبح کئے اور بیت اللہ کے علاوہ کا طواف شروع کردیا اور اس کی عظمت کا اظہار محبت خوف ورجاءاور بندگی کے ذریعہ کیا جیسے کہ خالق حقیقی کی تعظیم کی جاتی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر تعظیم کرتے ہیں، اور جن مخلوق کی یہ لوگ پرستش کرتے ہیں ان کو رب العالمین کے برابر جانتے ہیں، یہی لوگ جو انبیاءکی دعوت حق کے مخالف ہیں اور یہی لوگ اپنے خود ساختہ خداﺅں کو اللہ کا ہم پلہ جانتے ہیں ایسے ہی لوگ بروزقیامت جہنم میں اپنے خود ساختہ معبود ان باطل کے ساتھ جھگڑیں گے اور کہیں گے۔
تَاللَّهِ إِنْ كُنَّا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ إِذْنُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَالَمِينَ[الشعراء: 97، 98]
”اللہ گواہ ہے کہ ہم کھلی ہوئی گمراہی میں تھے کہ ہم تم کو رب العالمین کا ہم پلہ جانتے تھے“۔
اور انہی لوگوں کے بارے میں قرآن نے کہا ہے کہ:
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادً ايُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ[البقرة: 165]
”اور بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا اوروں کو معبود بناتے ہیں اور ان (معبودان باطل) سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی اللہ سے کرنی چاہیے اورجو لوگ مومن ہیں وہ اللہ تعالی سے سب سے بڑھ کر دلی لگاﺅ رکھتے ہیں“۔
یہ ساری چیز اور تمام طریقے شرک ہیں اور اللہ تعالی شرک کو معاف نہیں کرے گا، سرمونڈنے کے متعلق ہدایات نبوی کے بارے میں یہ فصل بیچ میں آگئی تھی اور اس سلسلے میں گفتگو بھی کرنی ضروری تھی، اللہ ہی توفیق دینے والا ہے۔
روحانی مفر دومرکب دواﺅں اور طبعی دواﺅں کے ذریعہ علاج میں ہدایات نبوی کے بارے میں چند فصلیں اب بیان کی جارہی ہیں۔

سر کی جوئیں
BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS