Home O Herbal

منگل, 02 20th

Last updateپیر, 21 اکتوبر 2013 6am

طب نبوی

طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

    رسول اللہ ﷺ نے جن طریقوں سے خود اپنی بیماریوں کا علاج فرمایا یا دوسرے کسی شخص کے لیے کوئی نسخہ تجویز فرمایا، اور اس سے اس کو نفع تام ہوا، ان تما م آزمودہ طبی نسخوں اور حکیمانہ طریقوں کو ہم نے چند فصلوں میں اکٹھا کردیا ہے ان فصلوں میں ہم ان حکمتوں کو بیان کریں گے جن حکمتوں تک پہنچنے میں بڑے بڑے بالغ نگاہ اطباءعاجز رہے۔ ان حکمتوں کے سامنے اطباءکا طریق علاج ایک فرسودہ اور پسماندہ طریق علاج ہے۔ اللہ ہماری ان حکمتوں کے بیان کرنے میں مدد فرمائے اللہ ہی مدد فرمانے والا ہے اور ہماری پشت پناہی کرنے والا ہے۔

مرض کی دو قسمیں ہیں:

  • دلوں کی بیماری
  • اجسام کی بیماری

ان دونوں اقسام کی بیماری کا ذکر قرآن کریم نے فرمایا ہے۔ پھر دل کی بیماریاں بھی دو طرح کی ہیں :

  • شک وشبہ کی بیماری
  • شہوت و گمراہی کا مرض

ان دونوں قسم کی بیماریوں کا بھی ذکر قرآن کریم میں ہے چنانچہ مرض شبہ کے بارے میں قرآن کریم نے یوں کہا ہے کہ:
فِي قُلُوبِهِمْ مَرَض فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا [البقرة : 10[
”ان کے دلوں میں شک کی بیماری ہے جسے اللہ نے خطرناک حد تک بڑھا دیا۔“
دوسری جگہ فرمایا:
وَلِيَقُولَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْكَافِرُونَ مَاذَاأَرَادَاللَّهُ بِهَذَا مَثَلًا [مدثر ۳۲]
”جن کے دلوں میں شک کی بیماری ہے، اور وہ جو اللہ کے منکر ہیں بول اٹھے کہ اللہ نے اس مثال سے کیا ارادہ کیا۔“
اسی طرح اللہ نے ان لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے جنہیں قرآن اور سنت کو ہی اٹل یا فیصلہ کن سمجھنے کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ انکار کرتے ہیں یا پس پشت ڈال دیتے ہیں فرمایا:
وَإِذَ ادُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَافَرِيقٌ مِنْهُمْ مُعْرِضُونَ (48)
وَإِنْ يَكُنْ لَهُمُ الْحَقُّ يَأْتُواإِلَيْهِ مُذْعِنِينَ (49)
أَفِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَمِ ارْتَابُوآ أَمْ يَخَافُونَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَ رَسُولُهُ بَلْ أُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ[النور: 50]
”جب ان کے سامنے اللہ اور اس کے رسول کے حکم ماننے کی بات رکھی جاتی ہے، تو ان کی ایک جماعت انکار کرتی ہے اور اگر ان کا کوئی حصہ ہو تو وہ اسے لینے کی غرض سے یقین کے ساتھ لپکتے ہیں، کیا ان کے دل بیمار ہیں یا انہیں شک و شبہ نے لپیٹ لیا ہے یا انہیں اس کا خطرہ لاحق ہے کہ کہیں اللہ اور اس کے رسول ہمارے حصے کم نہ دیں۔ جو بیجاروش پر چلنے والے ہیں۔“
یہ مرض شک وشبہات ہیں۔
رہ گیا مرض شہوات تو اس سلسلے میں اللہ کریم نے فرمایا:
يٰنِسَآءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَاحَدٍ مِنَ النِّسَآ ءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ [الأحزاب: 32]
”اے پیغمبر کی بیویو! تم دنیا کی دوسری عورتوں کی طرح نہیں ہو، اگر تم پارسائی برتو، پھر تمہاری گفتگو میں بھی کوئی لچک نہ ہونی چاہیے کہ اس لچک سے دل میں کھوٹ رکھنے والے تم سے کوئی توقع نہ رکھ سکیں۔“
یہ بیماری جس کی نشاندہی قرآن نے کی ہے، وہ شہوت زنا ہی ہے۔

BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS