ترمذی نے اپنی جامع ترمذی میں حضرت بریدہ ؓسے روایت کی ہے انہوں نے بیان کیا کہ۔
”حضرت خالد ؓنے نبیﷺ سے شکایت کی اور کہا کہ اے رسول اللہﷺ میں بے خوابی کی بیماری کی وجہ سے رات میں سو نہیں پاتا نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ جب تم اپنے بستر پر جاﺅ تو یہ دعا پڑھ لیا کرو ”اے ساتوں آسمانوں اور ان کے اندر رہنے والی تمام چیزوں کے رب اور اے زمینوں اور جو چیز بھی اس کے اوپر ہے ان کے رب اور شیطانوں اور جس کو انہوں نے گمراہ کیا ان کے رب تو میرے لئے اپنی تمام مخلوق کے شر سے پناہ بن جا کہ ان میں سے کوئی مجھ پر زیادتی نہ کرے یا میرے خلاف اٹھ کھڑا ہو آپ کی پناہ بلند ہے اور آپ کی تعریف اعلیٰ ہے اور آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں“
اور ترمذی ہی میں عمرو بن شعیب سے روایت ہے وہ اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ لوگوں کو خوف کے وقت یہ دعا سکھاتے تھے۔
”میں اللہ کے کلمات تامہ کے ذریعہ اس کے غضب اس کے عذاب اور اس کے بندوں کے شر اور شیاطین کے وسوسے سے پناہ مانگتا ہوں اے میرے پروردگار میں تیری پناہ مانگتا ہوں
اس بات سے کہ وہ (شیاطین) بوقت موت میرے پاس حاضر ہوں“
راوی کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓاپنے سمجھ دار لڑکے کو یہ کلمات سکھاتے تھے اور جوناسمجھ ہوتے تو ان کلمات کو لکھ کر ان کی گردن میں لٹکادیتے۔
اس تعوذ وعلاج میں جو مناسبت ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔