Home O Herbal

پیر, 02 19th

Last updateجمعرات, 21 جنوری 2016 6pm

طب نبوی طریقہ علاج

طب نبوی

طریقہ علاج


جناب نبی کریم علیہ الصلٰوة و التسلیم کی سنت یہ تھی کہ آپ خود اپنا علاج کرتے اور دوسروں کو علاج کی ہدایت فرماتے چنانچہ متعلقین خاندان اور اصحاب کو آپ ﷺ نے علاج کرنے کی ہدایت فرمائی لیکن آپ نے یا آپکے اصحاب نے اس سلسلے میں کسی باقاعدہ قرابادین سے مرکب دواﺅں کا استعمال نہیں کیا بلکہ آپ اور آپ کے ہمدم و ہم نشین عموماً مفردات سے علاج کرتے تھے‘ اس مفرد دوا کے ساتھ کسی ایسی چیز کا اضافہ کرلیتے جس سے اس کی قوت اور افادیت میں اضافہ ہو جاتا اور تقریبا دنیا کی اکثر اقوام باوجود اختلاف نسل ووطن کے عموما مفرادت ہی سے علاج کرتی ہیں خواہ وہ عرب ہوں یا ترک ہوں یا دیہات اور دور افتادہ علاقوں کے لوگ تو کلیتہ مفرادت ہی سے علاج کرتے تھے، البتہ روم و یونان کے باشندوں کا میلان خاص مرکبات کی جانب تھا، ہندوستان کے ویدوں اور اطباءکی بڑ ی جماعت صرف مفر وہی سے علاج کرتی، کراتی تھی۔
اطباءکا متفقہ فارمولا ہے کہ جب تک علاج غذا کے ذریعہ یعنی اس کی مقدار قوام لطافت وکثافت اور اوقات میں تغیر کرکے ممکن ہو کسی دوسری جانب رخ نہ کیا جائے، ایسی صورت میں دوا کو نظر انداز ہی کر دینا بہتر ہے، اسی طرح جب تک مفرادت سے کام چلتا جائے مرکبات کو نہ اپنایا جائے۔
اطباء کا یہ مقولہ مشہور ہے کہ پرہیز اور غذا سے جب تک مرض کا دافع ممکن ہو اس میں علاج بالا دویہ کی طرف توجہ نہ کرنی چاہئے ۔
اسی طرح یہ ہدایت بھی آب زر سے لکھنی چاہیے کہ طبیب کو دوا کھلانے پلانے میں بہت زیادہ شیفتہ نہ ہو نا چاہئے، اس لئے کہ اگر دوا بدن میں وہ اجزاءنہیں پاتی جنہیں تحلیل کرسکے تو خود بدن کی کاہش میں لگ جاتی ہے یا اسے کسی ایسی بیماری سے سابقہ ہوتا ہے جس کے مناسب حال دوا نہ ہو، یا کوئی ایسی چیز جو اس کے مناسب حال ہو جاتی ہے، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی کمیت بڑھ جاتی ہے جس سے وہ کمیت غالب آجاتی ہے یا وہ کیفیت بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں دوا صحت کو کھلونا بنالیتی ہے اور اسے پراگندہ و منتشر کردیتی ہے، جو اطباءحذاقت فن اور تجربے کے اعتبار سے مشہور ہوجاتے ہیں عموماً ان کا طریقہ علاج مفردات ہی ہوتا ہے، طبیبوں کے تین گروہوں میں سے یہ بھی ایک گروہ ہے۔
اور سچی بات تو یہ ہے کہ دوا بھی غذا ہی کی طرح کی چیز ہے، اسی وجہ سے وہ قومیں وہ برادریاں جو اپنی غذا میں مفردات کا استعمال کرتی ہےں اور طرح طرح کی متنوع غذا سے پرہیز کرتی ہیں انہیں بیماری بھی بہت کم ہوتی ہے، اور ان کا علاج بھی مفردات ہی سے عمدہ انداز میں ہوتا ہے، اور شہری آبادی کے لوگ جن میں مرکب متنوع غذاﺅں کا چلن ہے وہ مرکب دوا کے ضرورت مند ہوتے ہیں، اسی وجہ سے انکے امراض بھی مرکب ہوتے ہیں اور مرکب دوائیں ان کے حق میں مفید وشافی ثابت ہوتی ہیں دیہات کی کھلی آب وہوا میں رہنے والے اور ریگستان کے جراثیم کش تپتے میدانوں اور فضاﺅں میں پلے ہوئے لوگوں کی بیماریاں مفرد دواﺅں کے نسخے کافی ہوتے ہیں اس دستور متن کی روشنی میں علاج کے فن کو دیکھنا چاہیے۔
یہاں ایک اور قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ اطباءکے طریقہ علاج کو اللہ کے پیغمبر کے طریقہ علاج کے مقابلہ میں وہی حیثیت حاصل ہے جو فسون کاروں کاہن گروں کے طریقہ علاج کو اطباءحاضر کے طریقہ علاج کے مقابلہ میں حاصل ہے، آپ کے طریق علاج کے عمدہ ہونے کا تمام باکمال اطباءاور اساطین فن طب نے اقرار کیا ہے اس لئے کہ موجودہ معالجین کا سرمایہ علم طب یا تو قیاس بعضوں نے تجربہ بعضوں نے الہام ربانی کسی نے سچا خواب اور کسی نے ایک زیر ک و دانا دماغ کی پیداوار کہا ہے، اکثر نے اس پورے فن کو حیوانات و بہائم کا درس بتلایا ہے جیسا کہ دیکھنے میں آتا ہے کہ بلی جب کسی زہریلی چیز کو کھالیتی ہے توچراغ کی طرف رخ کرتی ہے اور تیل چاٹتی ہے جس سے اس کی مرضی کیفیت ختم ہو جاتی ہے اسی طرح سانپ کو دیکھا جاتا ہے کہ جب وہ سوراخوں سے نکلتے ہیں تو آنکھوں سے نظر نہیں آتا وہ اپنی آنکھ کو سونف کے پتوں سے ملتے ہیں جس سے ان کی بینائی بازیاب ہوجاتی ہے اسی طرح وہ چڑیا جس کا پاخانہ بند ہوگیا تھا سمندر کے پانی کو اپنی چونچ سے اپنی براز میں ڈالتے دیکھ کر لوگوں نے حقنہ کا طریقہ ایجاد کیا، اس طرح کے صدہا واقعات مبادی طب میں مذکور ہیں۔
اور یہ بات بھی کچھ بعید از قیاس نہیں معلوم ہوتی کہ وحی الٰہی کے ذریعہ مضرتوں اور منافع کا علم ہم تک پہنچا ہے اس لئے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دین ودنیا میں نافع و ضار چیزوں اور حالات کا الہام باری تعالیٰ اپنے انبیاءکو کرتے ہیں اور اس کا علم انہیں کے ذریعہ ہم کو ہوتا ہے، اس لئے جو اس انداز سے علم طب کو دیکھتے ہیں وہ طب کو وحی الٰہی اور اس فن کو انبیاءکے ذریعہ لائے ہوئے دوسرے علوم کے ہم پلہ تسلیم کرتے ہیں‘ بلکہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ انبیاءنے ایسی دوائیں بنائیں جن دواﺅں تک اکابر اطباءکی نگاہ بھی نہ پہنچی نہ ان تک ان کی رسا عقل پہنچ سکی نہ ان کے تجربے میں آئی اور نہ ان کا قیاس ہی یہاں تک پہنچ سکا لوگوں نے انہیں استعمال کیا‘ اور اس سے شفاءپائی چنانچہ ادویہ قلبیہ، ادویہ روحانی قوت قلب اعتماد علی اللہ اللہ پر بھروسہ‘ اسی سے سب کچھ مانگنا اس کے سامنے اپنی عاجزی کا اقرار اپنی بے کسی کا اظہار‘ بے چارگی کا بیان‘ صدقہ‘ دعا‘ توبہ استغفار مخلوق کے ساتھ بھلائی‘ درد مندوں کی فریاد رسی‘ مصیبت زدگان کی یاوری یہ ساری طریقہ علاج جو خود مذہب اسلام نے اور دنیا کے دوسرے مذاہب اور دوسری ملتوں کے متعبین نے بار بار آزمایا اور اس میں شفاءکا وہ انداز تاثیر کی وہ تیزی انہیں نظر آئی کہ دنیا کے بڑے سے بڑے تجربہ کار اور حاذق طبیب بھی اس تک نہیں پہنچ سکے نہ قیاس ہی اس تک رہنمائی کرسکا۔
ہم نے اور دوسروں نے ان کا بارہا تجربہ کیا ہے اور یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ آنکھوں سے نظر آنے والی ہاتھ سے ٹٹولی جانے والی (دوا جس سے جو نفع نہیں ہوتا ان طریقوں سے پہنچتا ہے بلکہ حسی دوائیں اس موقع پر دوائے فسوں کاری و کاہن گری کے حکم میں ہوجاتی ہیں ۔
اور یہ قانون حکمت الٰہی سے عین ممکن ہے‘ کوئی چیز متعذر و محال نہیں صرف اسباب میں تنوع ہوتا ہے‘ اس لیے کہ قلب جب رب العلمین سے قریب ہوجائے اور مرض و علاج دونوں پیدا کرنے والے سے متعلق ہوجائے‘ طبیعت کو اصلی حالت پر رکھنے والے اور اس کو جس رخ پر چاہے پھیرنے والے سے ربط پیدا کرے‘ تو دوسری دوا ان دواﺅں کے علاوہ جو قلب کی بیماری کو دور کرنے میں مدد دیتی ہیں کیوں نہ یہ اس بیماری کا قلع قمع کردیں اور ہمیشہ کے لیے اسے ختم کردیں۔
یہ مسلمات سے ہے کہ جب روح میں قوت آجاتی ہے تو نفس اور طبیعت دونوں قوی ہوجاتے ہیں‘ اور بیماری کے دور کرنے میں اور ہمیشہ کے لیے ختم کرنے میں پوری مدد دیتی ہیں‘ پھر جب خود کسی کی طبعیت اور اس کا نفس ہی قوی ہو اور اس میں شگفتگی خالق قلب کی قربت اور اس سے غیر معمولی تعلق کی وجہ سے ہو‘ اور اس سے محبت کی وجہ سے ہو‘ دل کا گداز اور اس کی گدگدی اس کے ذکر سے بڑھ جاتی ہو‘ اور اس کی ساری قوتیں اسی صانع حقیقی کی طرف متوجہ ہوں اور ساری توانائی اس کی طرف مرکوز ہوں‘ اسی سے فریادی ہوں‘ اسی پر اس کا بھروسہ ہوتو کیوں نہ یہ اہم دوا سب سے بڑی شفاءکی حامل ہوگی اور یہ قوت اس کا مکمل طور سے خاتمہ کر گزرے گی یہ رات دن کا مشاہدہ ہے اس کا انکار وہی کرے گا جس کو عقل سے واسطہ نہ ہوگا‘ سمجھ پر پردہ پڑا ہوگا بد خو ہوگا اللہ سے دور انسانیت کی حقیقت سمجھنے سے عاری ہوگا۔ ہم آگے ان اسباب سے بحث کریں گے جن کی وجہ سے فاتحہ الکتاب کے پڑھنے سے بچھو کے کاٹے کا زہر جاتا رہتا ہے اور ایک دو پھونک میں مریض اچھا ہو کر کھڑا ہوجاتا ہے نہ کہیں درد ہوتا نہ بے چینی رہ جاتی۔
طب نبوی کی یہ دونوں قسمیں ہیں ہم اس پہ آئندہ حسب ضرورت بحث کریں گے اس لیے کہ ہماری معلومات بہرحال مختصر ہی ہیں اور ہمیشہ کوشش کا دامن علوم کے حصول پر تنگ ہی رہا ہر صاحب علم کا سرمایہ خواہ وہ کتنا ہی وسیع العلم ہو مختصر ہی ہے مگر ہم پر عطائے الٰہی کا وسیع ہاتھ ہر خیر کے ساتھ کھلا ہوا ہے اور اس کے عنایت و فضل کی بارش برابر ہوتی ہی رہتی ہے‘ اس لیے توقع ہے کہ ہم کسی نہ کسی درجہ میں کچھ یہاں کر جائیں گے۔

طب نبوی طریقہ علاج
BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS