اگر عاشق کو وصال محبوب کا کوئی راستہ نظر نہ آئے نہ شرعاًاور نہ یہ مقدر ہی ہو یا دونوں حیثیتوں سے یہ ادا کرنا مشکل ہو حالانکہ یہ ایک مہلک بیماری ہے تو اس کا علاج یہ ہے کہ اپنے دل میں محبوب کی جانب سے مایوسی کا شعور پیدا کرے‘اس لئے کہ نفس جب کسی چیز سے مایوس ہوجاتا ہے تو اسے سکون مل جاتا ہے پھر اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اگر مایوسی سے بھی مرض عشق زائل نہ ہو اور طبعیت پوری طرح انحراف کرتی ہو تو اس کا دوسرا علاج تلاش کرنا چاہیے یعنی اپنی عقل کا علاج بایں طور کرنا چاہیے کہ خود کو سمجھانا چاہیے کہ ایسی چیز کی طرف دل کو متوجہ کرنا جس کا حصول ناممکن ہو ایک طرح کا جنون ہے‘اس کا یہ عشق ایسا ہی ہے جیسے کوئی سورج سے عشق کر بیٹھے اور اس کی روح اس کی طرف پرواز کرتی رہے اور اسی کیساتھ آسمان میں گردش کرتی رہے ایسا شخص تو تمام دانشوروں کی نگاہ میں پاگلوں کے زمرہ میں شمار ہوگا۔
لیکن اگر وصال محبوب شرعاً مشکل ہو نہ کہ تقدیر ی طور پر تو اس کا علاج یہ ہے کہ وہ اپنے کو تقدیر کے اسباب کی بناءپر معذور سمجھ لے اس لئے کہ خدا نے جس چیز کی اجازت نہیں دی ہے تو بندے کے علاج اور اس کی نجات اس سے پرہیز کرنے پر موقوف ہے انسان اپنے آپ کو یہ سمجھائے کہ یہ ایک موہوم چیز ہے جس کے حصول کی کوئی ضرورت نہیں اور دنیا کے دیگر محالات کی طرح یہ بھی ایک محال چیز ہے‘اگر نفس امارہ اس بات کو قبول کرنے پر آمادہ نہ ہو تو اسے دو باتوں میں سے کسی ایک کی بناءپر چھوڑ دو‘خشیت الٰہی کی بنیاد پر یا یہ کہ وہ محبوب جو اس کے نزدیک بہت پیارا تھا ‘اس کے لئے نفع بخش اور اس سے بہتر تھا‘نیز اس کی لذت اور سرور دائمی اور لازمی تھی‘وہ فوت ہوچکا ہے اس لیے کہ جب کوئی دانشمند جلد مٹنے والے محبوب کے حصول اور اپنے سے عظیم ترین محبوب شخصیت کے فوت ہونے کے درمیان موازنہ کرےگا جو اس سے زیادہ نافع‘دائمی اور پر کیف تھا تو اسے دونوں میں نمایاں فرق معلوم ہوگا‘اس لئے دائمی لذت جو لازوال ایسی چند ساعت کی لذت کے بدلے جو آنی جانی ہے فروخت نہ کرو اور حقیقت تو یہ ہے کہ یہ خواب کی باتیں ہیں یا ایسا خیال ہے جس کے لئے ثبات نہیں‘جہاں یہ تصور ذہن میں آیا اسی سے یہ لذت ختم ہوجائے گی‘اور اس کی تلخی باقی رہے گی‘شہوت فنا ہوجائے گی اور بد نصیبی باقی رہے گی۔
دوسرا علاج کسی نا پسندیدہ چیز کا حصول جو اس محبوب کے فوت ہونے سے بھی زیادہ اس پر شاق گزرے بلکہ یہ دونوں چیزیں ساتھ ساتھ اس سے دو چار ہوں‘ایک تو یہ کہ جو محبوب اس سے بھی زیادہ پیارا ہے فوت ہوجائے‘اور دوسرے کہ ایسی چیز کا حصول جو اس محبوب کے فوت ہونے سے بھی زیادہ اس کے نزدیک نا پسندیدہ ہے‘ایسی صورت میں جب اسے یقین ہوجائے گا نفس کو اگر محبوب کی جانب سے اس کا حصہ دیا جائے تو یہ دونوں چیزیں سامنے آئیں گی تو اس کا چھوڑنا اس پر آسان ہوگا اور سمجھ لے گاکہ محبوب کے فوت ہونے پر صبر کرلینا‘ان دونوں پر صبر کرنے کے مقابل زیادہ آسان ہوگا چنانچہ اس کی عقل و دین اس کی مروت و انسانیت اس معمولی ضرر کو قبول کرنے پر آمادہ ہوجائے گی‘جو تھوڑے دنوں کے بعد ان دونوں چیزوں کے ختم ہوجانے کے بعد لذت و سرور اور فرحت و مسرت میں بدل جائے گی‘اور اس کی نادانی‘خواہش نفسانی اس کا ظلم و غضب اور اس کی خفت اسے اس بات کا حکم دیتی ہے کہ اس وقتی محبوب کو حاصل کرلو خواہ کچھ آئے یا جائے اور معصوم وہی شخص ہوتا ہے جس کو اللہ تعالٰی محفوظ رکھے۔
اگر اس کا نفس اس دوا کو بھی قبول کرنے پر آمادہ نہ ہو اور اس طریقہ علاج کی پرواہ نہ کرے تو اسے انتظار کرنا چاہیے کہ یہ شہوت فوری طور پر کتنی مشکلات لاتی ہے‘اور اس کی کتنی بھلائیوں کو روکتی ہے اس لئے کہ شہوت مفاسد دنیاوی کا سب سے بڑا مرکز ہے اور کتنی ہی بھلائیوں کو مٹانے میں اہم رول ادا کرتی ہے اس لئے کہ شہوت بندے اور اس کی بھلائی کے درمیان جو اس کے جملہ امور اور مفاد کی مضبوط بنیاد ہے حائل ہوجاتی ہے‘اور اس کے سارے کام بگاڑ کر رکھ دیتی ہے۔
اگر اس دوا کو بھی نفس نہ قبول کرے تو محبوب کی برائیاں اور اس کے عیوب ذہن نشین کرنا چاہیے اور وہ ساری باتیں سامنے رکھے جس سے محبوب سے نفرت پیدا ہو اس لئے کہ اگر محبوب کے پاس پڑ کر اس کے حصول کے متعلق تدبر و تفکر کرتا رہا تو پھر اس کی خوبیاں دوگنی ہو کر سامنے آئیں گی جس سے محبت میںاور اضافہ ہوگا اور اس کے قریبی لوگوں سے اس کے ان عیوب کو دریافت کرے جو اس پر مخفی ہیں‘اس لئے کہ محاسن عشق و محبت کی پکار ہیں‘اور ارادہ کے لئے رہنمائی کا کام کرتی ہیں‘بالکل اسی طرح برائیاں اور عیوب و نقائص نفرت کے داعی اور بغض کے پیامبر ہوتے ہیں‘اس لئے دونوں داعیوں کے درمیان موازنہ کرنا چاہیے اور ان میں جو کامیابی کے دروازے تک جلدی پہنچانے والا اور اس کے زیادہ قریب ہو اسی کو پسند کرنا چاہیے اور صرف رنگ و روپ سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے کیونکہ بعض وقت جسم کا رنگ سفید ہوتا ہے‘مگر برص زدہ ہوتا ہے اور جذام والا ہوتا ہے‘لہٰذا نگاہ کو خوبصورتی ہی تک محدود نہ کرے بلکہ قبیح افعال و عادات پر ہی نظر ہونی چاہیے‘اور خوش منظر چہرے اور خوبصورت جسم کے دائرے سے آگے اس کی بھی اندرونی خرابیوں اور دل کی ہر آلائشوں پر بھی نظر رکھے۔
اگر ان تمام مذکورہ دواﺅں سے بھی کام نہ چلے تو پھر صرف ایک ہی صورت باقی رہ جاتی ہے کہ اس دربار میں عاجزی اور التجا کرے جو مجبور کی پکار کو سنتا ہے اور خود کو فریادی بنا کر آہ وزاری کرتے ہوئے ذلیل بن کر مسکنت کے انداز میں اسی کے دروازے پر ڈالدے جب بھی توفیق الٰہی ہوگی توفیق کے دروازے پر دستک ہونے کا موقع ملے گا اور پاکدامنی و عفت کا دامن ہاتھ میں مضبوط پکڑے ہوئے محبت کو پوشیدہ رکھے اور بار بار محبوب کی خوبیاں بیان کرکے اس کو سربازار رسوا نہ کرے بلکہ حتیٰ الامکان اسے کوئی تکلیف نہ ہونے دے وگرنہ وہ ظالم اور سرکش ہو جائے گا۔
اور رسول اللہﷺ کی طرف منسوب کی گئی اور موضوع حدیث سے کبھی دھوکا نہ کھائے‘ جس کو سویدبن سعیدؓ نے عن علی بن مسھر عب ابی یحییٰ القتات عن مجاھد عب ابی عباس عن النبیﷺکی سند کے ساتھ روایت کیا ہے‘
”آپ نے فرمایا کہ جس نے عشق کیا اور عفت و پاکدامنی اختیار کی پھر اس کی موت ہوگئی تووہ شہید مرا“۔
ایک دوسری روایت بایں الفاظ مذکور ہے:
”جس نے عشق کیا اور اسے پوشیدہ رکھا‘باعفت رہا اور صبر کیا تو خدا اسے بخش دے گا‘اور اس کو جنت میں داخل کرے گا“
یہ حدیث رسول اللہﷺ سے صحیح طور پر ثابت نہیں اور نہ یہ کلام رسول ہی ہوسکتا ہے‘اس لئے کہ شہادت اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک بلند مقام ہے جو صدیقیت کے مقام کے برابر ہے‘اس کے لئے خال قسم کے اعمال و احوال کی ضرورت ہوتی ہے‘جو درجہ شہادت کے حصول کے لئے شرط ہیں۔
چنانچہ اس کی دو قسمیں ہیں۔
ایک عام اور دوسری خاص خاص شہادت یہ ہے کہ خدا کی راہ میں جان دے دینا۔
اور عام شہادت پانچ ہیں‘جن کا ذکر صحیح بخاری کی حدیث میں آیا ہے‘ان میں عشق کا کوئی ذکر نہیں ہے‘اور اس کا ذکر بھی کیونکر ہوسکتا ہے جب کہ عشق محبت میں ترک ہوگیا ہے۔
شرکت کا درجہ میں ہو‘اور عشق الٰہی سے دل خالی اور روح و قلب دونوں کو خدا کے سوا کسی دوسرے کے سپرد کرنا ہوتا ہے‘اور اللہ کے سوا کسی سے محبت و عشق کرکے درجہ شہادت کا حصول ایک محال بات ہے‘اس لئے کہ دل کا صورتوں پر نچھاور کرنا تمام مفاسد میں سب سے بڑا مفسد ہ ہے بلکہ وہ روح کی شراب ہے جس سے اس پر نشہ طاری ہو جاتا ہے اور یہ نشہ اس قدر مد ہوش کردیتا ہے کہ ذکر الٰہی‘عشق خدا اور اس سے مناجات کا سرور وکیف اور اس سے انسیت کا جذبہ یک لخت ختم ہوجاتا ہے‘اور دل کی عبادت کا رخ دوسرے کی طرف ہوجاتا ہے اس لئے کہ عاشق کا دل معشوق کی بندگی میں منہمک رہتا ہے‘یہ الگ بات ہے کہ عشق خلاصہ عبودیت ہے‘اس لئے کہ عاشق محبت میں اپنے محبوب سے ذلت و انکساری اور محبت و تعظیم میں لگا رہتا ہے پھر ایسی صورت میں جب کہ دل غیر اللہ کا پجاری ہو کیونکہ اس کو موحدین کے اعلٰی ترین لوگوں اور سرداروں میں شمار کیا جائے‘اور اولیاءاللہ کے مخصوص لوگوں کے زمرہ میں اسے گردانا جائے‘یہ کیسے ممکن ہے۔
اگر بالفرض اس حدیث کی سند سورج کی طرح بالکل واضح ہو تو یہ غلطی اور وہم پر محمول ہوتی ہے کیونکہ کسی بھی حدیث میں نبیﷺسے عشق کا لفظ ثابت نہیں ہے۔
پھر عشق کی بعض صورتیں حلال اور بعض حرام ہیں‘پھر کیسے یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ نبی اکرمﷺہر ایسے عاشق کو جو عشق چھپائے اور عفیف بن کر رہے‘اس کے شہید ہونے کا حکم لگائیںگے‘آپ اگرمشاہدہ کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ بہتیرے غیروں کی بیویوں سے عشق کرتے ہیں اور بہت سے امرولڑکوں اور زانی عورتوں پر جان دیتے ہیں کیا ایسے عشق سے درجہ شہادت مل سکتا ہے اور بدیہی طور پر کیا یہ دین محمدی کے خلاف نہیں ہے؟ پھر کیسے ممکن ہے جب کہ عشق ایک خطرناک بیماری ہے جس کی دوائیں شرعی اور فطری دونوں حیثیتوں سے اللہ نے بنائی ہیں‘اگر عشق     حرام قسم کا ہو تو اس کا علاج کرنا واجب ہے ورنہ مستحب ہے۔
اگر آپ ان امراض و آفات پر ذرا سا بھی غوروفکر کریں گے‘جن کو رسول اکرمﷺ نے صحابہ کرامؓکے لئے شہادت قرار دیا تو آپ کو بخوبی معلوم ہوجائےگا کہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو لاعلاج ہے جیسے طاعون زدہ اسہال کا مریض‘مجنون‘آتش زدہ‘ پانی میں ڈوب کر مرنے والا شخص اور اس عورت کی موت جو زچگی کے عالم میں ہو یہ ساری بیماریاں اللہ کی جانب سے ہیں اس میں انسانی کاوش کا کوئی دخل نہیںاور نہ اس کا کوئی علاج ہی ہے اور ان اسباب میں بھی حرمت کا کوئی شائبہ نہیں اور نہ اس پر فساد قلب اور غیر اللہ کی عبودیت مرتب ہوتی ہے جو عشق کا خاصہ ہے۔
اگر اس حدیث کے بطلان کے لئے پیش کردہ حقائق کافی نہ ہوں تو پھر ناقدین حدیث کی طرف رخ کرنا چاہیے جو احادیث اور اس کے علل کو بخوبی جاننے والے ہیں اس سلسلہ میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کسی امام حدیث نے بھی اس حدیث کے صحیح ہونے کی گواہی نہیں دی اور نہ کسی نے اس کو حسن ہی قراردیا ہے بلکہ انہوں نے کھلے لفظوں میں حدیث سوید کا انکار کیا ہے‘اور انہوں نے اس کو اس حدیث کیوجہ سے مرتکب کبائر گردانا ہے‘اور بعض محدثین نے اس حدیث کی بنیاد پر اس سے جنگ و قتال کو مباح قراردیا ہے چنانچہ ابو احمد بن عدی نے اپنی ”کامل“میں تحریر کیا ہے کہ یہ حدیث سب سے زیادہ منکر ہے‘جس کو سوید نے بیان کیا ہے امام بیہقیؒکا بیان ہے کہ اس پر محدثین کا انکار موجود ہے‘اسی طرح ابن طاہر نے ”ذخیرہ“میں بیان کیا ہے‘اور حاکم نے ”تاریخ ینسابور“ میں اس کو ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے اس حدیث پر تعجب ہے‘اگر اس میں سوید راوی نہ ہوتا تو یہ شاید صحیح ثقہ ہوتی۔
علامہ ابوالفرج ابن جوزی نے اپنی کتاب”موضوعات“میں اس کو بیان کیا ہے اور ابو بکررزاق پہلے اس حدیث کو سوید سے بسند مرفوع روایت کرتے تھے جب ان پر ملامت کی گئی تو انہوں نے اسناد سے نبیﷺ کو گرادیا اور مسند کو ابن عباس تک محدود رکھا۔
اور سب سے بڑی مصیبت اس حدیث میں یہ ہے کہ اس کی سند ہشام بن عروہ سے حضرت عائشہؓکے واسطہ سے نبیﷺ تک لے جائی گئی ہے جس کو حدیث کی ادنیٰ معرفت ہوگی اور جو اس کے علل سے ذرا بھی واقفیت رکھتا ہوگا‘وہ اس کو کبھی حدیث تسلیم ہی نہیں کرسکتا اور نہ وہ یہ مان سکتا ہے کہ یہ حدیث ابن عباسؓکی سند سے مرفوعاً ثابت ہے اور اس حدیث کے ابن عباسؓ پر موقوف ہونے کی صحت کی بات بھی قابل غور ہے اس لئے کہ سوید جو اس حدیث کا راوی ہے اس پر لوگوں نے بڑی لعن طعن کی ہے‘اور یحیٰی بن معین نے تو اس حدیث کا سختی سے انکار کیا ہے اورکہا ہے کہ یہ ساقط کذاب ہے‘اگر میرے پاس گھوڑا اور نیزہ ہوتا تو میں اس سے قتال کرتا‘امام احمد بن حنبلؒنے فرمایا کہ سوید متروک الحدیث ہے امام نسائیؒ نے بیان کیا کہ یہ ثقہ نہیں ہے‘امام بخاریؒ نے فرمایا کہ وہ نابینا ہوگیا‘ایسی حدیثیں بیان کی جو حدیث رسول ہو ہی نہیں سکتیں ابن حبان نے کہا وہ ثقہ راویوں سے مفصل روایتیں نقل کرنے کا عادی ہے لہٰذااس کی روایت سے اجتناب کرنا چاہیے اس سلسلہ میںسب سے بہتر بات ابو حاتم رازی کی ہے وہ سچا توہے مگر حدیث میں تدلیس بہت زیادہ کرتا تھا دار قطنیؒ نے بھی بیان کیا کہ وہ ثقہ تو تھا مگر بڑھاپے میں جب اس پر ایسی حدیثیں پڑھی جاتیں جس میں کچھ نکارت ہوتی تو وہ سن کر اس کی اجازت دےدیا کرتا تھا اس کی حدیث کو امام مسلمؒ نے بیان کیا تو ان کو ملامت کیا گیا لیکن امام مسلمؒنے اس کی صرف ان حدیثوں کو بیان کیا ہے جو دوسرے طرق سے بھی مروی ہیں اور اس میں منفرد بھی نہیں اور نہ وہ منکر ہے اور نہ شاد ہے مگر یہ مذکورہ حدیث تو بالکل منکر ہے واللہ اعلم۔