طبی حیثیت سے ریشم ان دواﺅں میں ہے جو حیوان سے حاصل کی جاتی ہیں اسی لیے اسے دواءحیوانی میں شمار کرتے ہیں اس لیے کہ یہ دوا حیوان ہی سے لی جاتی ہے اور یہ بڑی منفعت بخش قابل قدر دوا ہے اس کی خصوصیت دل کو قوی کرنا، اسے فرحت بخشنا اور دل کے بہت سے امراض کو نفع پہنچانا ہے اسی طرح مراریت سوداءکو بھی ختم کرتا ہے اور جو بیماریاں مراریت سوداءسے پیدا ہوتی ہیں ان کے لیے نافع ہے آنکھوں میں اس کا سرمہ مقوی بصر ہے اور ابریشم خام جو اطباءکے یہاں عام طور سے مستعمل ہے۔ درجہ اول میں حار یابس ہے یا حار رطب یا معتدل ہے‘ جب اس کا کپڑا بنا کر استعمال کیا جائے تو اس میں معتدل حرارت پائی جاتی ہے بدن کو گرمی پہنچاتا ہے، کبھی بدن کو ٹھنڈک پہنچا کر اس کو فربہی بخشتا ہے (یعنی مرکب القوی) ہے۔
رازی نے لکھا ہے کہ ابریشم کتان سے زیادہ گرم ہے اور روئی سے زیادہ ٹھنڈا ہے، گوشت بڑھاتا ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ ہر کھردرا لباس لاغر کرتا ہے اور جلد سخت کرتا ہے اور نرم و چکنا کپڑا اس کے برعکس اثر دکھاتا ہے۔
ملبوسات جو انسان استعمال کرتا ہے تین قسم کے ہوتے ہیں ایک قسم بدن کو گرم کرتی ہے اور اسے ٹھنڈک سے بچاتی ہے دوسری قسم ٹھنڈک سے بچاتی ہے مگر بدن گرم نہیں کرتی تیسری قسم نہ ٹھنڈک سے بچاتی ہے اور نہ بدن کو گرم کرتی ہے اور کوئی لباس ایسا نہیں دیکھا گیا جو کہ نہ گرمی پہنچائے نہ ٹھنڈک سے بچائے اس لیے کہ جو ملبوس بدن کو گرم کرے گا وہ ٹھنڈک سے بھی بچائے گا بال اور اون کے بنے ہوئے کپڑے گرمی بھی پہنچاتے ہیں اور ٹھنڈک سے بھی بچاتے ہیں کتان و حریر روئی کے کپڑے ٹھنڈک سے بچاتے ہیں مگر گرم نہیں کرتے۔ کتان کے بنے ہوئے کپڑے ٹھنڈے خشک ہوتے ہیں اور اون کے گرم خشک ہوتے ہیں اور روئی کے معتدل الحرارت ہوتے ہیں اور ریشم کے کپڑے روئی سے ملائم اور حرارت میں اس سے کمتر ہوتے ہیں۔
منہاج کے مصنف نے لکھا کہ ریشم کے پہننے سے روئی کی طرح گرمی پیدا نہیں ہوتی بلکہ وہ معتدل ہے جو کپڑا چکنا چمکدار ہوگا اس سے بدن میں بہت کم گرمی پہنچے گی بدن سے تحلل ہونے والی چیزوں کے لیے کم سے کم تر متحلل ہے اور موسم گرما میں اس کا استعمال مناسب ہے، بالخصوص گرم ممالک میں۔
جب ریشمی کپڑے ایسے ہیں تو اس میں خشکی کھردرا پن جو دوسرے کپڑوں میں پائے جاتے ہیں، یبوست اور خشونت ہی سے پیدا ہوتی ہے۔
اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے حضرت زبیر اور عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو خشک خارش کے علاج کے طور پر ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرمائی نیز ریشمی کپڑوں میں جوں نہیں پڑتی اس لیے کہ جوں رطوبت و حرارت سے پیدا ہوتی ہے جبکہ ریشمی کپڑے کا مزاج معتدل یابس ہے، یا حار یابس ہے۔ کپڑے کی وہ قسمیں جو نہ ٹھنڈک سے بچائیں نہ بدن کو گرم کرتے ہیں وہ لوہے اور رانگ کے بنے کپڑے یا لکڑی اور مٹی سے تیار ہوتے ہیں کوئی معترض کہہ سکتا ہے کہ جب ملبوسات حریری سب سے زیادہ مناسب اور بدن کو نافع تھے تو پھر پاکیزہ شریعت نے اسے حرام کیوں قرار دیا جبکہ اس نے تمام طیبات کو حلال اور خبائث کو حرام قرار دیا ہے۔
اس سوال کا جواب مسلمانوں کے مختلف طبقوں کی طرف سے مختلف ہے جو لوگ کسی بات میں حکمت و تعلیل کے قائل ہی نہیں وہ اصالتہ تعلیل و حکم کے منکر ہیں اس لیے یہاں حکمت و تعلیل کو کیسے تسلیم کریں گے ان کو اس کی ضرورت ہی نہیں کہ کیوں اور کس لیے؟ البتہ جو لوگ حکم اور تعلیل کے قائل ہیںوہ یہ کہتے ہیں کہ اس نعمت کے نہ ملنے پرصبر پر صبر اور استقلال انسانی کا امتحان کرنا مقصود ہے اس لیے اسے رضائے الٰہی کے لیے ترک کردے اسے اس کا خصوصی اجر دیا جائے گا جو دوسروں کو نہ ملے گا۔
کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کی تخلیق اصالتہ عورتوں ہی کے لیے ہوئی ہے جیسے سونے کے زیورات عورتوں کے لیے ہیں، مردوں پر حرام ہیں تاکہ مردوں اور عورتوں میں یکسانیت کا خطرہ نہ ہو اور دیکھنے میں کوئی فرق محسوس ہو بعضوں نے کہا کہ اس سے بعض رذائل اخلاق فخر و تکبر اور ریاد نمود وغیرہ پیدا ہوتے اس لیے حرام قرار دیا گیا بعضوں نے کہا ریشم کے کپڑے پہننے کے بعد چھونے اور ملائمت نرمی سے مساس کرنے والے اور کرانے والیوں پر جذبات شہوانی برانگیختہ ہوتے ہیں جو مخنث بننے بنانے اور عورتوں کے اخلاق و عادات اختیار کرنے کی طرف لے جاتے ہیں اور ان سے مردانگی اور حوصلہ مندی کے جوہر ختم کرنے میں مدد ملتی ہے اس لیے کہ اس کے پہننے کے بعد دل میں زنانہ پن ابھرتا ہے اور اکثر ریشمی کپڑے پہننے والوں میں زنانہ پن اور زنخا پن کے عادات ابھر آتے ہیں نرم مزاجی، نرم گفتاری نسوانی انداز لیے ہوئے پیدا ہوتی ہے چنانچہ دیکھنے میں آیا کہ جو لوگ بڑے حوصلہ مند اور مردانے تھے ان میں بھی ریشمی کپڑوں کے استعمال کے بعد کسی نہ کسی درجہ نسوانیت اور زنخا پن کے انداز ابھر آئے اگرچہ وہ پورے طور سے نہ سہی اگر کسی کو یہ بات نہ بھاتی ہو اور اپنی کم فہمی کی وجہ سے وہ ان حکمتوں اور باریکیوں کو نہ جان سکا ہو تو اسے پھر رسول اللہ ﷺ کی کہی ہوئی باتوں ہی کو تسلیم کرلینا بہتر ہے اسی وجہ سے سرپرستوں پر بھی واجب ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ایسا کپڑا نہ پہنائیں کہ شعور کے بعد ان میں زنخا پن اور زنانہ پن ابھرے اور بڑھے اس طرح یہ اولیاءاور سرپرست بچوں پر ایک غیر فطری عادت کے ابھارنے اور پروان چڑھانے کے مجرم ہوں گے جس کے بعد جوابدہ عنداللہ بھی ہوں گے اور سوسائٹی بھی ان کو معاف نہ کرے گی۔
نسائی نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت کیا ہے کہ:
”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ خدائے بزرگ وبرتر نے میری امت کی عورتوں کو ریشم اور سونے کے استعمال کی اجازت دی، اور مردوں پر اس کو حرام کردیا“۔
دوسرے لفظوں میں مروی ہے:
”ریشمی کپڑے اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام کیا گیا، اور عورتوں کیلئے حلال کیا گیا“
اور بخاری میں حضرت حذیفہؓ سے مروی ہے:
”اللہ کے رسول ﷺ نے ریشم اور دیباج کے پہننے اور اس پر بیٹھنے سے منع کردیا ہے اور فرمایا کہ یہ کافروں کے لیے دنیا میں اور آخرت میں تمہارے لیے ہے“۔