صحیحین میں حضر ت انس بن مالک ؓ نے یہ روایت فرمائی ہے کہ:
عرینہ اور عکل کے لوگوں کا ایک گروہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ان لوگوں نے مدینہ کی اقامت ناپسند کی اور اس ناپسندیدگی کی شکایت نبی کریم ﷺ سے کی آپ نے
فرمایا کہ اگر تم زکوة میں آئے ہوئے اونٹوں کا دودھ اور ان کا پیشاب استعمال کرتے تو مفید ہوتا انہوں نے ایسا ہی کیا جب یہ گروہ تندرست ہوگیا تو بجائے احسان مند ہونے کے انہوں نے ان چرواہوں پر جان بوجھ کر حملہ کیا اور انہیں قتل کر ڈالا، اور اونٹوں کو ہنکالے گئے اور آمادہ پیکار ہوئے اللہ و رسول سے بغاوت کی رسول اللہ ﷺ نے ان کی جستجو پر مہم روانہ فرمائی انہوں نے ان کو گرفتار کیا آپ نے ان کے ہاتھ کاٹنے پیر اڑا دینے آنکھوں میں سلائی ڈال کر آنکھ پھوڑ دینے کا حکم دیا، چنانچہ ان کے ساتھ یہ کیا گیا، اور انہیں دھوپ میں ڈال دیا گیا، اس اذیت کے ساتھ ان سب کی موت واقع ہوئی“۔
اس بیماری کے استسقاءہونے کا اندازہ مسلم کی روایت سے ہوتا ہے انہوں نے صحیح مسلم میں روایت فرمایا کہ انہوں نے شکایت میں یہ الفاظ کہے۔
”ہم مدینہ میں اقامت گزیں ہوتے ہیں اس قیام کے نتیجہ میں ہمارے شکم بڑھ کر نکل آئے اور ہمارے اعضاءمیں لرزش پیدا ہوگئی، پھر حدیث کا بالائی حصہ ذکر کیا“۔
الجوی جوف شکم کی ایک بیماری ہے، اور استسقاءمرض مادی ہے جس کا سبب ایک مادہ غریبہ ہاردہ ہے، جو اعضاءکے خلل میں گھس جاتا ہے، جس سے ان اعضاءمیں بڑھوتری آجاتی ہے کبھی تمام اعضاءظاہرہ میں یہ صورت پیدا ہوجاتی ہے، کبھی ان خالی جگہوں میں جہاں غذا اور اخلاط میں مدبر اعضاءہوتے ہیں اور اس کے نواحی میں یہ مادہ باردہ غریبہ گھس جاتا ہے اور ان حصوں کی بڑھوتری کا سبب بن جاتا ہے اس کی تین قسمیں ہیں، لحمی جو تینوں میں بدتر ہے، زقی، طبلی۔
اس بیماری کے علاج میں جب دواﺅں کی سخت ضرورت ہے وہ دوائیں ایسی ہو نی چاہیے، جو ان مواد کو کھنیچ کر ہلکے دستوں کے ذریعہ یا اور ارمعتدل کے ذریعہ یا ادرار معتدل کے ذریعہ سے باہر کردے یہ دونوں خصوصیا ت اونٹوں کے دودھ اور پیشاب میں بدرجہ اتم موجود ہیں رسول اللہ ﷺ نے ان کو اس کے استعمال کا حکم فرمایا اسلیے گابھن اونٹنی کے دودھ میں جلا مادہ اور براز کی تلیین ہے جس نرم پاخانہ کے ساتھ مادہ غرینہ باردہ خارج ہوجانے، ڈھلے پاخانے کے ساتھ اس میں پیشاب لانے کی بھی خاصیت ہے، خواہ یہ پاخانہ و پیشاب کسی قدر زیادہ ہو، خواہ کسی قدر کمتر ہو ان کے استعمال سے سدے کھل جاتے ہیں یعنی ہر قسم کے روک کھل جاتے ہیں، اس لیے کہ عموماً ہر اونٹ شیح (درمنہ ترکی) قیصوم (ریتہ پتہ) بابونہ اقحوان (سوبھل) اذخر (گنڈھل) چرتے ہیں اور اس کے علاوہ بہت سی دوسری گھاس جو مفید استسقاءہیں انکی مرغوب غذا ہیں یہ بیماری جگر کی خرابی کے بغیر پیدا نہیں ہوتی اگر جگر سے کلیة نہیں تو کم از کم کسی قدر شرکت تو ضروری ہوتی ہے اور عموماً سدہ جگر اس کا سبب ہوتا ہے اور عربی اونٹوں کا دودھ اس کے لیے اور دسدوں کو کھولنے کے لیے بہت مفید ہے اور دوسرے ایسے منافع بھی اس سے مرتب ہوتے ہیں جو استسقاءکو کم یا ختم کر دیتے ہیں۔
رازی نے کہا ہے کہ اونٹی کا دودھ جگر کے تما م دردوں کے لیے دوائے شافی ہے اسی طرح مزاج جگر کے فساد کو بھی ختم کر دیتا ہے اسرائیلی نے کہا ہے کہ اونٹنی کا دودھ بہت زیادہ رقیق ہوتا ہے، اس میں مائیت اور تیزی یعنی سرعت نفوذ غیر معمولی ہوتی ہے اور غذائیت کے اعتبار سے سب سے کمتر ہوتا ہے، اس وجہ سے تمام غذاﺅں میں فضولات کی تلطیف کے اعتبار سے سب سے زیادہ قوی ہے اس کے کھانے سے دست آتے ہیں اور جگر اور دوسری تجویفوں کے سدے کھل جاتے ہیں اس کی معمولی نمکینیت جو حرارت حیوانی کے بالطبع زیادہ ہونے کی وجہ سے اس میں موجود ہو تی ہے اس کی تلطیف کی خصوصیات پر دلیل بین ہے اسی وجہ سے جگر کی ترطیب کے لیے استعمال ہونے والی دواﺅں میں سب سے زیادہ قوی اور عمدہ تسلیم کیا جاتا ہے، اس کے سدے کھولتا ہے اس سے طحال کی صلابت بھی اگر یہ صلابت اور ورم زیادہ پرانا نہ ہو تو اس سے فوراً تحلیل ہو جاتا اور اگر حرارت جگر سے ہونے والے استسقاءمیں تھن سے نکلتے ہی گرم گرم دودھ اونٹی کے بچے کے پیشاب کے ہمراہ استعمال کیا جائے تو بہت زیادہ نافع ثابت ہوتا ہے، اس لیے کہ تھن سے نکلتے وقت کے دودھ کی گرمی کے ساتھ استعمال میں نمکینیت کسی قدر زیادہ ہوتی ہے اس سے فضولات جلد منقطع ہوجاتے ہیں اور اسہال باآسانی ہوتا ہے اگر اس کے استعمال کے بعد بھی فضولات کا رخ نکلنے کی طرف نہ ہوا اور اسہال میں دشواری یا تاخیر ہو رہی ہو تو پھر کسی دوسری دوائے مسہل سے کام لیا جائے اور دست لائے جائیں دوائیں ایسی ہونی چاہیئں جو استسقاءکی قاطع ہوں۔ صاحب قانون نے کہا ہے کہ اس کا کوئی خیال نہ کیا جائے کہ دودھ کا مزاج علاج استسقاءکے مضاد ہے اس لیے کہ اونٹنی کا دودھ استسقاءکے لیے تریاق ہے، کیونکہ یہ آنتوں کا صاف کرنے والا ہے خواہ جس انداز کا بھی ہو اور بھی بہت سی خوبیاں اس میں ہیں اس لیے یہ دودھ نہایت درجہ مفید ہے اگر کوئی مریض پانی کے بجائے صرف دودھ ہی کو استعمال کرتا ہے تو اسکی شفاءمتیقن ہے اس کا تجربہ ایسے گروہ پر ہوچکا ہے جن کو جنگی اسباب نے عرب ممالک میں ٹھہرا دیا تھا ضرورت نے انہیں اس مجرب دوا کے استعمال پر مجبور کیا استعمال کے بعد وہ توانا و تندرست بھی ہو گئے، سب سے زیادہ مفید عربی دیہات کے اصل اونٹ کا پیشاب ہے۔
اس واقعہ سے پیشاب کا بطور دوا استعمال کرنا اور اسے شفا پانا معلوم ہوتا ہے، نیز ماکول اللحم جانوروں کے پیشاب کی طہارت پر بھی روشنی پڑتی ہے اس لیے کہ محرمات سے تودوا کرنا بھی جائز نہیں اور ابتداءزمانہ اسلام میں پینے کے بعد منہ کی طہارت اور انٹوں کے پیشاب جو کپڑے میں لگ گئے ہوں انکو بھی دھونے کا حکم نہیں ملتا، اور کسی چیز کے جو ازعدم جواز کا بیاں وقت گزر جانے پر کیے جانے کا کوئی تک نہیں وہ حکم تو وقت ہی پر مطلوب ہوا کرتا ہے۔
اور ایسے سنگین مجرموں سے جنگ آزمائی کے حکم کی بنیاد پر انکار چرواہوں کو قتل کرنا اور انکھوں میں سلائی کرنا وغیرہ احادیث سے ثابت ہے۔
پوری جماعت کو قتل کرنے کا جرم بھی ان سے ثابت ہوا تھا اس لیے سب کو قتل کرنے اور انکے ہاتھ پیر کاٹ لینے کا حکم دیا گیا۔
اگر مجرم ایسا خطا کار ہو کہ حدود وقصاص دونوں ساتھ ہی ساتھ جاری ہوتے ہیں۔
آپ ﷺ نے ان کے ہاتھ پیر ترشوانے انکے جنگ آزمائی پر آمادہ ہونے کی وجہ سے، اور انکا قتل چرواہے کے قتل کی وجہ سے ایک ہی وقت میں عمل کرنے کا حکم فرمایا۔ اس لیے کہ کوئی جنگ آزمابرسر پیکار اگر مال لے لیتا ہے، اور قتل کرتا ہے، تو اس کے ہاتھ پیر کاٹے جائیں گے اور اسے قتل بھی کردیا جائے گا۔
کیونکہ یہ قاعدہ ہمیشہ سے ہے کہ جب مجرم کا جرم سنگین ہو تو اس کی سزا بھی متعدد اور سخت ترین ہوگی، اس لیے کہ یہ لوگ اسلام قبول کرکے مرتد ہوئے اور دوسروں کو جان سے مارا اور مقتول کی صورت بگاڑ دی، آنکھ پھوڑ کر ہاتھ پیر کاٹ کر، اور ان کی رقمیں بھی لے لیں اور کھلم کھلا اکڑے ہوئے لڑنے لگے۔
برسر پیکار مخالفین کی مدد کرنے والے برسر پیکار لوگوں کے حکم میں ہیں اس لیے کہ یہ بات کھلی ہوئی ہے کہ ہر ایک قتل وغارت میں خود شریک نہ تھا اور نہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے دریافت کی ضرورت سمجھی۔
کسی کو دھوکے سے قتل کرنے پر قاتل کا قتل واجب ہوتا ہے اس میں معافی کی گنجائش نہیں ہے اور نہ بدلہ لینے دینے کا اعتبار ہے یہی اہل مدینہ کا فیصلہ رہا اور امام احمد ؒکے نزدیک بھی دو صورتوں میں سے ایک صورت یہی ہے۔
اور ہمارے شیخ الاسلام ابن تیمییہ ؒنے بھی اسی کو پسند کیا اور اسی پر فتوی دیا۔