Home O Herbal

منگل, 02 20th

Last updateپیر, 21 اکتوبر 2013 6am

طب نبوی

وباء سے متاثر علاقوں میں آمدورفت کے بارے میں نبی ﷺ کا طریقہ

رسول اللہ ﷺ نے امت کو ایسے علاقے میں جہاں یہ بیماری پہلے سے موجود ہو داخل ہونے سے روک دیا ہے اور آپ نے جہاں بیماری پھیل گئی ہو وہا ں سے دوسرے ایسے علاقے میںجہاں یہ بیماری نہ ہو بھاگ کر جانے سے بھی روکا ہے تاکہ غیر متاثر علاقے متاثر نہ ہوں، اس لیے کہ جن علاقوں میں بیماری پھیلی ہوئی ہے وہاں داخلہ کا مطلب یہ ہے کہ آپ خود کو اس بلا کے سامنے پیش کررہے ہیں جہاں موت اپنا منہ کھولے کھڑی ہے اس آمادہ جہاں ستانی علاقے میں اپنے آپ کو خود لے جاکر سپرد کردینا، اور خود اپنے خلاف موت کی مدد کرنا کہ اس سے خود اس کو نقصان پہنچے، یہ ساری چیز خودکشی کے مترادف ہے، اور عقل و ہوش شرع ودیانت کے بھی خلاف ہے بلکہ ایسی زمین اور علاقے میں داخل ہونے سے پرہیز کرنا اس احتیاط اور پرہیز میں شمار ہوگا، جس کا حکم اللہ پاک نے کیا ہے اور انسان کو اس رہنمائی کا پورا لحاظ رکھنا چاہیے ایسے جگہوں سے دور رہنا ایسی فضا اور آب و ہوا سے بچنا چاہیے جہاں اس قسم کی موذی بلاﺅں کا زور ہو۔
رہ گئی یہ بات کہ آپ نے ایسے علاقوں سے جہاں یہ وباءپھوٹ گئی ہو اس سے بھی نکل بھاگنے کو منع فرمایا اس کی غالباً دو وجوہ ہیں۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ انسان کا تعلق ان مشکلات میں پھنسے ہوئے لوگوں کے ساتھ رہ کر باری تعالیٰ سے تعلق کی مضبوطی کو ظاہر کرنا، اللہ پر بھروسہ کرنا، اللہ کے فیصلہ پر مستقل مزاجی سے قائم رہنا اور تقدیر کے نوشتے پر راضی رہنا۔
دوسری وجہ وہ ہے جسے تمام حذاق وماہرین طب نے یکساں بیان کیا اور سراہا وہ یہ کہ ہر وہ شخص جو وباءسے بچنا چاہتا ہے اس کو لازم ہے کہ وہ اپنے بدن سے رطوبات فضلیہ کو نکال ڈالنے کی سعی کرے اور غذا کی مقدار کم کردے اس لیے کہ ایسے موقع پر جب وباءکا زور ہے، جو رطوبات بھی پیدا ہوں گی، وہ رطوبات فضلیہ کا نکال ڈالنے کی سعی کرے اور غذا کی مقدار کم کردے اس لیے کہ ایسے موقع پر جب وباءکا زور ہے، جو رطوبات بھی پیدا ہو ں گی، وہ رطوبات فضلیہ میں تبدیل ہوجائیں گی، اس لیے کم سے کم غذا استعمال کریں کہ بد ن کی ضرورت سے زیادہ رطوبت پیدا نہ ہونے پائے اور ہر ایسی تدبیر اختیار کرنا جس سے ےہ رطوبات خشک ہو جائیں یا کم ہوتی رہیں ضروری ہے لیکن ریاضت وحمام کی اجازت نہیں اس سے اس زمانے میں سختی سے پرہیز کیا جائے، اس لیے کہ انسانی جسم میں ہر وقت فضولات ردیہ کسی نہ کسی مقدار میں موجود رہتی ہیں جن کا آدمی کو اندازہ نہیں ہوتا، اگر وہ ریاضت و حمام کرلیتا ہے، تو اس سے یہ فضولات ابھر جاتے ہیں اور پھر ابھا ر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کیموس جید کے ساتھ مل جاتے ہی©ں، جس کی وجہ سے بڑی سے بڑی بیماری پیدا ہو جاتی ہے، بلکہ طوعون کے پھیلنے کے وقت سکون اور آرام کی ضرورت ہوتی ہے، اور اخلاط کی شورش کو روکنا ضروری ہے اور وباءکے پھوٹنے کے وقت وباءکے مقام سے نکلنا دور دراز مقام کا سفر کرنا سنگین قسم کی حرکات کا متقاضی ہے، جو اصول مذکورہ کی روشنی میں سخت ضرر رساں ہوگا اور تعدیہ وباءکا اندیشہ ہے اس لیے مفر نہ کرنا ہی عمدہ ہے اور مقام وباءسے صحت کے مقامات کو جانا مضر خلائق ہو گا، اس روشنی میں اطباءکے کلام کی تائید بھی ہو گی، اور رسول اللہ ﷺ کی طبی حکمت اور بالغ تدبیر پر بھی روشنی پڑگئی، اور اس ایک نہی سے قلب وبدن کی کتنی ہی بھلائیاں مقصود ہیں وہ بھی آئینہ ہوکر سامنے آگئیں۔
رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمانا ((لاتخرجوا فرارًا منہ)) سے آپ کے بیان کے مطابق معنی مراد لینے میں کیا مانع ہے، اس لیے کہ آپ کسی خاص عارض کی وجہ سے سفر کرنے اور ایسے مقام سے نکلنے سے نہیں روکتے میں کہتا ہو ںکہ سوال یہ ہے کہ کیا کسی طبیب نے ایسے مواقع پر حرکت سے روکا ہے یہ کسی دانشور اور حکیم کی بات ہوسکتی ہے، کہ لوگ طاعون پھیلنے کے وقت چلنا پھرنا اور دوسری حرکات قطعی بند کردیں اور پتھر و پہاڑ کی طرح بس ایک جگہ جمع رہیں بلکہ ہدایت تو صرف اتنی ہے کہ ممکن حد تک حرکات سے روکا جائے اور جو آدمی کہ اس وباءسے بھاگ کر حرکت کرتا ہے اس کی حرکت تو کسی خاص ضرورت کے تحت نہیں ہے بلکہ صرف وباءسے فرار ہی مقصد بنا کر حرکت کرتا ہے، ایسے آدمی کے لیے جس پر اس وباءکا ہو سوار اس کے لیے راحت اور سکون ہی نافع ہے اس سے وہ توکل علی اللہ کا مظاہرہ کرتا ہے اور تقدیر الہی کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے مگر جو لوگ بلا حرکت کے اپنی معاش اور دوسری ضرورتوں کے محتاج ہوں، ان کے لیے راحت اور سکون ہی نافع ہے اس سے وہ توکل علی اللہ کا مظاہرہ کرتا ہے اور تقدیر الہی کے سامنے سرتسلیم کرتا ہے مگر جو لوگ بلا حرکت کے اپنی معاش اور دوسری ضرورتوں کے محتاج ہوں، ان کے لیے تو حکم نہیں ہے کہ وہ بھی سکون وراحت اختیار کریں جیسے کاریگروں کا طبقہ، مسافرین کی ٹولی، مزدوروں کے گروہ خوانچہ فروشوں کی جماعت انکو تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ تم قطعا ادھر ادھر نہ کرو، پھرو، نہ جاﺅ، نہ کماﺅ ہاں ان کو روک دیا گیا ہے جن کو اس قسم کی کوئی ضرورت نہیں مثلا محض وباءکے ڈر سے بھاگنے والوں کا سفر۔
البتہ جن مقامات پر طاعون کی وباءپھوٹ چکی ہو وہاں داخلہ پر پابندی میں چند در چند حکمتیں اور مصالح ہیں۔
پہلا نفع: پریشان کن اسباب سے دوری اور اذیت ناک صورت حال سے پر ہیز۔
دوسرا نفع: جس عافیت سے معاش اور معاددونوں کا گہرا رابطہ ہے اسے اختیار کرنا۔
تیسرا نفع: ایسی فضا میں سانس لینے سے بچاﺅ جس میں عفونت گھر کرگئی ہو، اور جسکا ماحول فاسد ہو چکا ہو۔
چوتھا نفع: جو لوگ اس مرض کے شکار ہیں ان کی قر بت سے روک لو ان کے آس پاس پھرنے سے پرہیز کرو تاکہ ان کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ان تندرست لوگوں کو بھی اس مرض کے پاپڑ بیلنے نہ پڑیں۔
خود سنن ابوداﺅد میں مرفوعا روایت ہے
”وبا میں گھسے رہنا ہلاکت ہے“
ابن قتیبہ نے قرف کا تر جمہ وباءسے قربت بیماروں کی مجاورة لکھا ہے۔
پانچواں نفع: بدفالی اور تعدیہ سے بچاﺅ اس لیے کہ لوگ ان دونوں سے متاثر ہوتے ہیں اس لیے کہ طیرہ تو اس کے لیے ہے، جو بدفالی پسند کر تا ہے۔
ورنہ اس ممانعت میں کہ ایسے علاقوں میںداخل نہ ہو ں صرف اجتناب اور احتیاط مقصود ہے نیز برباد کن اسباب اور تباہی آور وجود سے بھی سابقہ رکھنے سے ممانعت ہے اور فرار سے روکنے میں توکل، تسلیم ورضا، تفویض، الہٰی سپاری اس طرح پہلی صورت میںتعلیم و تادیب ہے، دوسری میںتفویض و تسلیم مقصود ہے۔
صحیح بخاری میں ہے کہ فاروق اعظم شام کی ایک مہم پر روانہ ہوئے، جب آپ سرغ کے ایک علاقے میں پہنچے تو ابوعبیدہ بن جراح اور ان کے ساتھی کی ملاقات ان سے ہوئی ان لوگوں نے اطلاح دی کہ شام میں وباءپھیلی ہوئی ہے اس خبر کو سن کر لوگوں میں چہ مگوئیاں شروع ہوئیں کہ ہمیں آگے بڑھنا چاہئے یہ لوٹ جانا چاہیے، آپ نے ان حالات میں ابن عباس ؓ سے فرمایا کہ مہاجرین اولین کے افراد جو     شریک مہم ہیں بلا کر لائیے چنانچہ وہ ان کو بلا لائے آپ نے ان کے سامنے صورت حال مشورہ کے لےے رکھی وہ لوگ کسی ایک بات پر متفق نہیں ہوئے، کسی نے کہا ہم ایک بڑی مہم پر نکلے ہیں اس لیے ہمیں اس مہم کو سر کیے بغیر واپس نہ جانا چاہیے، دوسرں کا مشورہ آیا کہ امت کے برگزیدہ اشخاص آپ کے ساتھ ہیں ہم آپ کو اس وبا میں ان کو بھیجنے کا مشورہ نہ دیں گے حضرت عمرؓ نے ان سے کہا اچھا آپ لوگ جائیں پھر آپ نے انصار کو طلب فرمایا میں انکو بلاکر لایا ان کے سامنے بھی بات رکھی انکی روش بھی وہی رہی جو مہاجرین کی تھی، ان میں اختلاف رہا پھر آپ نے ان سے بھی مجلس سے چلے جانے کا حکم دیا پھر آپ نے مجھ سے کہا قریش کے وہ برگزیدہ جو فتح مکہ میں جناب نبی کریم ﷺ کے جلو میں تھے انکو بلائےے میں انہیں بلا لایا ان میں کوئی اختلاف کا شکار نہیں رہا انہوں نے عرض کیا بہتر یہ ہے کہ آپ واپس چلے جائیں اور ان برگزیدہ اصحاب کو وباءکی بھینٹ نہ چڑھائیں اس کے بعد حضرت فاروق اعظمؓ نے اعلان فرمایا کہہ ہم کو صبح واپس ہونا ہے، چنانچہ صبح کو سب واپس ہونے کے لیے آئے، تو حضرت ابوعبیدہ بن جر اح ؓ نے فرمایا امیر المﺅمنین قضائے الہی سے گریز کررہے ہیں آپ نے حضرت ابوعبیدہ ؓ سے فرمایا کہ ایسی بات آپ کے شایان شان نہیں آپ اس کے سوا کہہ سکتے ہیں ہاں یہی سمجھ لیں کہ ایک تقدیر الہٰی سے دوسری تقدیر کی جانب بھاگ رہے ہیں یہ تو روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ لوگ اپنے اونٹ لے کر کسی وادی میں اتر تے ہیں جس کے دو کنارے ہیں ایک شاداب دوسرا خشک اگر شاداب علاقے میں چرانے کا موقعہ ملا تو قضا الہٰی سے ہے اور اگر خشک علاقے میںچرنے کا موقع ملا تو یہ بھی تقدیر الہٰی کی بنیاد پر ہے اتنے میں حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ تشریف لائے جو اپنی کسی ضرروت سے کہیں گئے ہوئے تھے اس موقع پر نہ تھے یہ ماجرا سن کر فرمایا کہ اس سلسلے میں میرے پاس واضح حکم ہے میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے سنا۔
” میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا کہ جب کسی علاقے میں طاعون پھیل رہا ہو اور تم وہاں موجود ہوتو وہا ں سے بھاگ کر نہ نکلو اور اگر سنو کہ وباءپھیلی ہوئی ہے اور تم اس کے علاوہ مقام پر ہو تو پھر اس علاقے میں نہ جاﺅ“۔

BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS