دوسری قسم: ایسا طبیب جو فن طب سے نابلد ہو اور لاعلمی کے باوجود پریکٹس کررہا ہے۔ ایسے شخص سے اگر نقصان ہو جائے تو ایسی صورت میں دیکھا جائے گا کہ مریض یہ جانتے ہوئے کہ یہ اس فن سے نا آشنا ہے۔ اس کو علاج کی اجازت دے دی، اور اتلاف جان یا عضو ضائع ہوگیا۔ تو اس کے ذمہ تاوان نہیں ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ صورت حدیث نبوی کے مخالف بھی ہے۔ اس لیے کہ سیاق اور انداز کلام اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس نے مریض کو دھوکہ دیا اور اس کو اس وہم میں مبتلا کیا کہ وہ ایک ماہر طبیب ہے۔ حالانکہ وہ طبیب نہیں تھا۔ اور اگر مریض کو گمان ہو کہ وہ طبیب ہے۔ اور اسے ماہر طبیب سمجھ کر اس نے اس کو اجازت دی تو طبیب اپنی غلطی اور خطا کے جرم کا ضامن ہوگا۔ اور اگر اس نے مریض کے لیے کوئی نسخہ تجویز کیا اور مریض نے یہ سمجھ کر کہ یہ ایک ماہر طبیب ہے۔ اس کا نسخہ استعمال کیا جس سے وہ مرگیا۔ تو اسے تاوان دینا ہوگا۔ اس سلسلہ میں حدیث کا انداز بیان بالکل واضح اور ظاہر ہے۔