جسم انسانی کا علاج

طب ابدان یعنی جسم انسانی کا علاج دو طریقوں سے کیا جاتا ہے۔
پہلی نوع:
اللہ نے حیوان ناطق ہو کہ حیوان غیر ناطق دونوں میں بعض چیزیں فطری پیدا کی ہیں۔ ان فطری امور میں کسی طبیب کے علاج اور مشورہ کی ضرروت نہیں ہوتی، جیسے بھوک کا علاج، پیاس کا علاج ٹھنڈک کا مداوا، تھکن کا علاج اس لیے کہ ان سب کا علاج ان کے اضداد سے کیا جاتا ہے اس میں کوئی شخص طبیب کے مشورہ کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ ہر وہ تدبیر جس سے یہ چیزیں زائل ہوجائیں سب علاج ہی ہیں۔ اور انسان بلا کسی غور و فکر کے عمل میں لاتا رہتا ہے۔

دوسری نوع
جو غوروفکر سوچ و سمجھ کی محتاج ہے، مثلا امراض متشابہ جو مزاج انسانی کے تغیر کا سبب ہو تے ہیں انسان اس سے اعتدال مزاج پر باقی نہیں رہتا، یہ بے اعتدالی کبھی حرارت کبھی برودت، کبھی یبوست کبھی رطوبت کی زیادتی کے اعتبار سے پیدا ہوتی ہے کبھی یہ ساری چیزیں مختلف کیفیات سے مرکب ہو تی ہیں، اس ترکیب میں کبھی اثنیت اور کبھی کئی کئی کیفیات شامل ہو تی ہیں، اس بے اعتدالی کیفیت کی دو صورتیں ہیں ماری یا کیفی یعنی یہ بے اعتدال انصباب کی بنیاد پر ہوتی ہے، یا کسی کیفیت خاص کی پیدائش سے یہ صورت سامنے آتی ہے۔
دونوں میں تمیز کی صورت یہ ہے کہ امراض کیفیت اسی مادہ کے زوال کے بعد پیدا ہوتا ہے جس کے باعث وہ مرض پیدا ہوا تھا چنانچہ مادہ زائل ہو جاتا ہے البتہ اسکے اثر سے ایک کیفیت مزاج میں باقی رہ جاتی ہے۔
امراض مادہ کے اسباب اس کے ساتھ ہی ساتھ ہوتے ہیں، چونکہ مرض کا سبب ساتھ ہی ہوتا ہے، اس لیے ابتدا سب سے پہلے سبب مرض کی جانچ کی جائے گی پھر مرض کی تشخیص، پھر دوا تجویز کی جائے۔
     امراض آلیہ جن میں اعضا کی ہیت اپنی اصلی حا لت پر نہیں رہتی خواہ یہ تغیر شکل میں ہو کہ اس کی شکل بگڑ جائے یا کسی تجویف میں کہ زائد یا کم یا چھوٹی بڑی ہوجائے، یا کو ئی مجری ثانی، جو اپنی طبعی حالت پر نہ ہو یا عضو کی خشونت یعنی کھردراپن پڑھ جائے جہاں نہ ہونا چاہیے ہو جائے یا چکناہٹ میں طبعی انداز نہ ہو بلکہ ملاست غیر طبعی پیدا ہو جائے، کسی عضو کی تعداد کم و بیش ہوجائے مثلا پسلی انگلی وغیرہ یا طبعی مقدار سے بڑا ہو یا عضو اپنی وضع کے اعتبار سے بدلا ہوا ہو، مثلا قضیب یا دوسرے اعضاءکی جگہ بدلی ہوئی ہو جہاں ہونا چاہیے نہ ہو“ اس لیے کہ اعضاءکے ایک دوسرے میں جڑنے کے بعد اور طبعی گٹھ جوڑ سے ہی بد ن بنتا ہے، اسی کو اتصال کہتے ہیں، جب یہ اعضاءاپنے جوڑ و اتصال میں طبعی انداز پر نہیں ہوتے تو اسی کو تفرق اتصال کے نام سے تعبیر کرتے ہیں یا امراض عامہ جن میں متشابہ اور آلیہ دونوں ہی قسم کے امراض شامل ہیں۔
امراض متشابہ جن کے پیدا ہونے کے بعد مزاج کا اعتدال باقی نہیں رہتا اسی لیے ان امراض متشابہ کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ جن میں مزاج اعتدال سے الگ ہوجائے اور اسی خروج عن الاعتدال یعنی طبعی حالت سے غیر طبعی حالت و کیفیت میں پہنچنے کو مرض کہتے ہیں، بشرطیکہ اس غیر طبعی حالت کی وجہ سے بالفعل ضرر کا احساس ہو۔
امراض متشابہ کی آٹھ قسمیں ہیں، چار بسیط چار مرکب۔
بسیط میں بارد، حارر، رطب یا بس امراض شمار ہوتے ہیں۔
اور مرکب میں حار رطب، حار یا بس، باردر طب، اور بارد یا بس امراض شمار کیے جاتے ہیں۔
امراض کی آٹھوں قسمیں انصباب مادہ سے پیدا ہوتی ہیں یا بلا انصباب مادہ اگر مرض سے طبعی افعال میں کوئی فرق نہ پیدا ہو تو اس اعتدال سے خارج ہونے کو صحت کہتے ہیں۔
بدن انسانی تین حالتوں سے دوچار ہوتا ہے، طبعی حالت، حال خارج طبیعت اور وہ حالات جوان دونوں کے مابین ہوں، پہلی صورت میں انسان کا جسم تندرست ہوگا، دوسری میں مریض اور تیسری میں دونوں حالتوں کے مابین ہوگا، اس لئے کہ کوئی چیز اپنی ضد و مقابل کی طرف منتقل ہونے سے پہلے درمیانی واسطہ تلاش کرتی ہے۔
بدن کے طبعی حالت سے خارج ہونے کا سبب یا تو اندرونی ہوگا، اس لئے کہ بدن انسانی گرم سرد تر و خشک سے مرکب ہے، یا بیرونی ہوگا، اس لئے کہ خارج سے بدن پر جو چیز وارد ہوتی ہے کبھی موافق ہوتی اور کبھی وہ چیز ناموافق ہوتی ہے۔
اور جو ضرر کہ جسم انسانی کو پہنچتا ہے کبھی اس کا سبب سوءمزاج ہوتا ہے جو مزاج کے اعتدال سے دور ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے یا کسی عضو میں فساد پیدا ہونے کی وجہ سے یا کبھی قوی میں ضعیف و کمزوری کی بنیاد پر ہوتا ہے یا ان قوتوں کو لے کر چلنے والی روح کے ضعف و کمزوری کی بنا پر یا روح میں زیادت و اضافہ اس انداز کا پیدا ہو جاتا ہے کہ اعتدال زیادت نہ ہونے میں تھا، یا ایسا نقصان پیدا ہو جاتا ہے کہ اعتدال عدم نقصان میں تھا، یا ایسا تفرق پیدا ہوجاتا ہے کہ اعتدال اتصال بدن میں تھا، یا ایسا اتصال پیش آتا ہے کہ اعتدال تفرق اتصال میں متصور ہوتا ہے، کہ اعتدال اتصال بدن میں تھا، یا ایسا اتصال پیش آتا ہے کہ اعتدال تفرق اتصال میں متصور ہوتا ہے یا ایسا امتداد پیدا ہو جاتا ہے کہ وہاں انقباض کی ضرورت تھی یا کسی اور شکل کا اپنی وضع وشکل سے بدل جانا جس سے اس حصہ جسم میں یا خود جسم میں اعتدال باقی نہ رہ جائے۔ لہذا طلب طبیب وہی ہے جو انسانی جسم سے اور چیزوں کو علیحدہ کردے یا نکال ڈالے جن کے جسم میں جمع واکٹھا ہونے سے ضرر جسمانی پیدا ہوتا ہو یا ان چیزوں کو جسم میں یکجا کردے، جن کے منتشر ومتقرق ہونے سے جسم کو ضرر پہنچتا ہے یا اس چیز کو کم کردے جس کی زیادتی سے جسم میں بے اعتدالی آتی ہے، یا جس کی کمی کی وجہ سے جسم انسانی میں ضرر پیدا ہوتا، اسے زیادہ کردے، تاکہ ان تدابیر سے انسان کی مطلوب تندرستی اسے حاصل ہوجائے، یا انسان کے بگڑے اور بے ترتیب عضو وجسم کی صورت کو بگڑنے نہ دے اس کو بے ڈھنگا نہ ہونے دے، اور موجودہ بیماری کو اس کے ضد اور مقابل چیزوں اور تدبیروں سے ختم کردے، پرہیز اور احتیاط سے اس کے دور سے دور تک پھٹکنے کی راہ بند کردے یہ ساری تدابیر واحتیاط رسول اللہ ﷺ کی تدابیر مسنونہ میں شافی وکافی بن کر نظر آئے گی، اللہ کی مدد اور اس کی اعانت اس کے فضل سے پوری توقع ہے کہ وہ ہماری وست گیری کرے گی۔