جماع کا بہترین وقت اور دیگر زریں اصول

جماع کا بہترین وقت یہ ہے کہ جماع غذا کہ ہضم ہونے کے بعد کیا جائے بدن میں اعتدال ہو نہ گرمی ہو نہ ٹھنڈک نہ خشکی ہو اور نہ رطوبت نہ امتلاءشکم ہو اور نہ شکم بالکل خالی ہو البتہ پر شکم ہو کر جماع کرنے سے جو ضرر ہوتا ہے وہ خالی پیٹ جماع کرنے سے ہونے والے ضرر کے مقابل کمتر ہوتا ہے اسی طرح کثرت رطوبت کے موقع پر جماع کرنے سے جو ضرر ہوگا وہ برودت کے وقت جماع کرنے سے ہونے والے ضرر سے کم ہوگا اور حرارت بدن کے وقت جماع برودت کے وقت کئے جانے والے جماع سے کم نقصان دہ ہوگا آدمی کو پوری طرح جوش اور شہوت کے وقت ہم بستر ہونا چاہیے کہ آدمی کا عضو تناسل پوری طرح ایستادہ ہو اور اس استادگی میں کسی تکلف اور کسی تخیل صورت کو دخل نہ ہو اور نہ بار بار عورت کو دیکھنے کے باعث ہوئی ہو اور یہ بھی مناسب نہیں کہ خواہ مخواہ شہوت جماع کو ابھارے اور خود کو بلا ضرورت اس میں مشغول کرے البتہ اگر کثرت منی ہو استادگی پوری ہو اور شہوت بھی پورے طور پر ہو اور جماع کرنے کی غیر معمولی خواہش ہو تو جماع کرنا چاہیے ایسی بوڑھی عورتوں اور کمسن لڑکیوں سے جماع نہ کریں جن سے لوگ عادتاً جماع نہیں کرتے یا ایسی عورت جس کو خواہش جماع نہ ہو مریضہ ہو بدشکل نفرت انگیز عورتوں سے جماع کرنے سے قوی جسمانی کمزور ہوتے ہیں اور یوں بھی جماع کی خاصیت ضعف پیدا کرنا ہے اور بعض اطباءکا جو یہ خیال ہے کہ شادی شدہ عورتوں سے جماع کرنا کنواری لڑکیوں سے زیادہ مفید اور صحت کے لئے نفع بخش ہے ان کا یہ خیال بالکل غلط ہے اور ان کا یہ قیاس مبنی بر فساد ہے اس سے بہتیروں نے گریز کیا اور یہ بات عقلاءاور دانشوروں کے خلاف ہے اور اس پر طبیعت وشریعت کا بھی اتفاق نہیں۔
کنواری عورتوں سے جماع کرنے میں عجیب خاصیت ہے اس عورت اور اس سے جماع کرنے والے مرد کے درمیان گہری محبت پیدا ہوجاتی ہے عورت کا دل شوہر کے پیار ومحبت سے لبریز ہوتا ہے اور وہ دونوں کی محبت کے درمیان کوئی دیوار حائل نہیںہوتی اور یہ تمام لذت ومحبت شادی شدہ عورت میں پائی نہیں جاتی۔
چنانچہ نبی اکرمﷺنے خود حضرت جابر ؓسے فرمایا کہ کیوں نہیں تونے کسی کنواری عورت سے شادی کرلی اور اللہ سبحانہ وتعالی نے جنت میں جن حوروں کی ازدواجی تعلق کے لئے رکھ چھوڑا ہے وہ کنواری ہوںگی کسی نے ان کو چھوا بھی نہیں ہوگا صرف وہی جنت میں چھو سکیں گے جن کے حصے میں وہ آئیں گی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے نبیﷺ سے عرض کیا کہ اگر آپ کا گزر ایسے درخت سے ہو جس میں اونٹ چرگیا ہو اور ایسے دوسرے درخت سے گزر ہو جس میں سے ابھی کسی اونٹ نے منہ نہ لگایا ہو تو ان دونوں میں سے اپنے اونٹ کو آپ کہاں چرانا پسند کریں گے؟ آپ نے فرمایا جس میں ابھی تک کسی اونٹ نے منہ نہ لگایا ہو۔اس تمثیل سے مراد وہ کنواری لڑکی ہے جس کو ابھی تک کسی مرد نے ہاتھ نہ لگایا ہو وہ میںہی ہوں۔
کسی پسند یدہ عورت سے جماع کرنے کے بعد کثرت منی کے استفراغ کے باوجود بدن میں کمتر کمزوری کااحساس ہوتا ہے اور قابل نفرت ناپسند عورت سے جماع کرنے کے بعد بدن کو بے حد کمزوری کا احساس ہوتا ہے گو کہ استفراغ منی کم ہو اور حائضہ عورت سے جماع کرنا فطرت وشریعت دونوں کے خلاف ہے اور نہایت ضرررساں ہے تمام اطباءاس سے کلی طور پر پرہیز کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
جماع کی سب سے عمدہ صورت یہ ہے کہ مرد عورت کے اوپر ہو اور ملاعبت اور بوسہ بازی کے بعد عورت کو چت لٹا کر اس سے جماع کرے اسی وجہ سے عورت کو فراش کہتے ہیں خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”الولد للفراش“ یعنی لڑکا عورت کے لیے ہے یہاں عورت کو فراش سے تعبیر کیا گیا اور یہ مرد کا عورت پر مکمل حاکمیت کو ثابت کرتا ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے:
”مرد عورتوں پر حاکم مقرر کئے گئے ہیں“۔
اور اللہ نے فرمایا: ”وہ (عورتیں) تمہارے لیے لباس ہیں اور تم (مرد) ان کی پوشش ہو“۔
اور اس انداز میں جمع کرنے سے لباس کا معنی پورے طور پر صادق آتا ہے اس لیے کہ مرد فراش اس کے لیے لباس ہے اور اسی طرح عورت کا لحاف اس کا لباس ہے غرض جماع کا یہ عمدہ انداز اسی آیت سے ماخوذ ہے اور یہی انداز شوہر بیوی میں سے ہر ایک کا دوسرے کے لیے لباس ہونے کا استعارہ بہتر طور پر کام دیتا ہے اور اس میں ایک دوسرا پہلو بھی ہے وہ یہ کہ جماع کے وقت عورت کبھی کبھی مرد سے بالکل چمٹ جاتی ہے اس طرح عورت مرد کے لیے ایک لباس کی طرح بن جاتی ہے۔
    جماع کی بدترین صورت یہ ہے کہ عورت مرد کے اوپر ہو اور مرد پشت کے رخ سے عورت سے جمع کرے یہ طبعی شکل کے بالکل مخالف ہے جس انداز پر اللہ تعالیٰ نے مردو عورت کو پیدا فرمایا ہے بلکہ یو کہیے نر اور مادہ کو پیدا کیا۔
    اس میں بہت سی خرابیاں ہیں منجملہ ان خربیوں میں سے ایک خرابی یہ ہے کہ منی کا پوری طرح سے اخراج دشوار ہوتا ہے اور کبھی عضو مخصوص میں منی کا کچھ حصہ باقی رہ جاتا ہے جو متعفن ہوکر فاسد ہوجاتا ہے جس سے جامع نقصان ہوتا ہے اور کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ فرج کی رطوبات عضو تناصل میں بہہ کر چلی جاتی ہے اس طرح سے رحم کو پوری طرح سے منی کو قابو میں رکھنا اور روکنا مشکل ہوتا ہے چناچہ تخلیق میں دقت ہوتی ہے نیز طبعی اور شرعی طور پر اس کام کے لیے عورت مفعول ہے تو جب فاعل بن جائے گی تو یہ طبیعت و شریعت دونوں کے خلاف ہوگا اور اہل کتاب اپنی عورتوں سے جماع ان کے پہلو کے پہل کنارے سے کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ طریقہ جماع عورت کے لیے آسان ترین ہوگا۔
    قریش اور انصار اپنی عورتوں سے پیچھے کی طرف سے جمع کرنا پسند کرتے تھے اس کو یہود نے معیوب قرار دیا اس پر اللہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی:
”تمہاری عورتیں تمہارے لیے کھیتی ہیں جس طرف سے چاہو اپنی کھیتی میں آﺅ“۔
    صحیح بخاری و مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ یہود کا خیال تھاکہ جب کوئی مرد اپنی عورت سے پیچھے کی طرف سے فرج میں جماع کرتا ہے تو بچہ احول (بھینگا) پیدا ہوتا ہے۔
    صحیح مسلم کی ایک روایت بایں الفاظ ہے کہ اگر خواہش ہوتو آگے یا پیچھے کی جانب سے جماع کرے اس میں کوئی مضائقہ نہیں البتہ یہ یاد رہے کہ جماع صرف ایک ہی سوراخ یعنی فرج میں ہو۔
    اوندھے منہ ہونا اور صمام واحد ہے مراد عورت کی شرم گاہ جو کھیتی و افزائش نسل کا مقام ہے لیکن عورت کی سرین میں جماع کرنے کو تاریخ میں کسی نبی برحق نے مباح نہیں قرار دیا اور جس نے بعض اسلاف کی طرح یہ نسبت کی کہ انہوں نے عورت کی سرین میں جماع کرنے کو مباح قرار دیا انہوں نے غلط بیانی سے کام لیا۔
    چنانچہ سنن ابو داﺅد میں حضرت ابو ہریرة ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کہ وہ شخص ملعون ہے جو عورت کی سرین میں جماع کرے“۔
    احمد اور ابن ماجہ کی روایت کے الفاظ تو اس سے بھی زیادہ سخت ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا جس نے اپنی عورت کی مقعد میں جماع کیا۔
    اور ترمذی ؒ و احمد بن حنبل ؒ کے الفاظ یوں ہیں۔
    ”جو شخص حائضہ عورت سے یا اپنی بیوی سے اس کی مقعد میں جماع کرے یا کسی کاہن کے پاس جائے اور اس کی بات کی تصدیق کرے تو اس نے رسول اللہ ﷺ کی شریعت کا کلیةً انکار کیا“۔
    اور بیہقی کے الفاظ اس طرح ہیں کہ مردوں اور عورتوں میں سے جس نے بھی کسی مقعد میں کچھ کیا تو اس نے کفران نعمت الہٰی کیا۔
    مصنف وکیع میں روایت ہے کہ مجھ سے زمعہ بن صالح نے حدیث بیان کی انہوں نے طاﺅس سے انہوں نے اپنے باپ سے اور ان کے باپ نے عمرو بن ربیع سے روایت کی ہے اور عمرو بن ربیع نے عبداللہ بن یزید سے روایت کی انہوں نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حق بات کہنے سے شرم نہیں کرتا عورتوں کی سرین میں تم لوگ جماع نہ کرو اور ایک مرتبہ فرمایا کہ ان کی مقعدوں میں جماع نہ کرو۔
    ترمذی میں طلق بن علی سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عورتوں کی سرین میں جماع نہ کر اللہ حق بات کہنے سے شرم نہیں کرتا۔
    اور ”الکامل“ میں ابن عدی کی ایک حدیث ہے جس کو محاملی سے انہوں نے سعید بن یحییٰ بن جبیر اموی سے روایت کیا انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے محمد بن حمزہ نے حدیث بیان کی انہوں نے زید بن رفیع سے انہوں نے ابو عبیدہ سے اور انہوں نے عبداللہ بن ؒ سے مفوعاً روایت کیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ عورتوں کی سرین میں جماع نہ کرو۔
    حضرت ابوذر ﷺ نے بھی مرفوعاً روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو عورتوں یا مردوں کی مقعد میں جماع کرے وہ اللہ و رسول کا منکر ہے۔
    اسمٰعیل بن عیاش نے سہیل بن ابی صالح نے انہوں نے محمد بن منکدر سے اور انہوں نے جابر بن عبداللہ سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ سے شرم کرو کہ اللہ حق بات کہنے سے شرم نہیں کرتا کہ عورتوں کی مقعد میں جماع نہ کرو اسی حدیث کو دارقطنی نے ان لفظوں میں بیان کیا کہ اللہ حق بات کہنے سے شرماتا نہیں تمہارے لیے جائز نہیں کہ عورتوں کی سرین میں جماع کرو۔
    علامہ بغوی نے بیان کیا کہ مجھ سے ہدبہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا کہ مجھ سے ہمام نے حدیث بیان کی انہوں نے بیان کیا کہ قتادہ سے پوچھا گیا کہ جو شخص اپنی بیوی کی دبر میں جماع کرے اس کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا کہ مجھ سے عمرو بن شعیب نے عن ابیہ عن جدہ کے واسطہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ لواطت صغریٰ ہے۔
    ترمذی میں ابن عباس ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرح نظر کرم نہیں کرے گا جو عورت یا مرد کی سرین میں جماع کرے۔
    ہم اس سے پہلے ابو علی حسن بن حسین بن دوما کی حدیث بیان کرچکے ہیں جو باءبن عازب سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس امت کے دس قسم کے لوگ اللہ عزوجل کے منکر ہیں، قاتل، جادوگر، دیوث، بیوی کی سرین میں جماع کرنے والا، زکوة نہ دینے والا اور جو شخص وسعت رکھتے ہوئے فریضہ حج ادا کئے بغیر مر گیا، شراب خور فتنہ برپا کرنے والا، اسلام کے خلاف برسرپیکار لوگوں کو ہتھیار بیچنے والا اور جو شخص ذوی المحارم سے نکاح کرے۔
    عبداللہ بن روہب نے بیان کیا کہ مجھ سے عبداللہ بن الہیعہ نے مشرح بن ھاعان عن عقبہ بن عامر کے واسطہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
”وہ شخص ملعون ہے جو عورتوں کی سرین یعنی ان کی مقعد میں جماع کرتا ہے“۔
    اور مسند ”حارث بن ابی اسامتہ“ میں ابو ہریرہ ؓ و ابن عباس ؓ کی حدیث مذکورہ ہے۔
    ان دونوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات سے پہلے ہم لوگوں کو خطبہ دیا اور مدینہ طیبہ میں آپ کا یہ آخری خطبہ تھا اس کے بعد آپ کا وصال ہوگیا اس خطبہ میں آپ نے ہم کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ”جو شخص کسی عورت کی سرین یا مرد یا لڑکے کی مقعد میں مباشرت کرے وہ قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ اس سے مردار سے بھی زیادہ بدبو آئے گی جس سے تمام لوگ پریشان ہوجائیں گے تاآنکہ وہ داخل جہنم ہوجائے اللہ اس کے اعمال خیر کو برباد کردے گا اور اس کو اس کی واپسی یا معاوضہ نہ ملے گا اور آتشیں تابوت میں اس کو داخل کیا جائے گا اور اس کے اوپر آتشیں کیلیں بھی ٹھونکی جائیں گی“۔
    حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ جس نے اس فعل بد سے توبہ نہ کی اس کے لیے یہ عذاب ہے۔
    ابو نعیم اصبہانی نے خزیمہ بن ثابت کی حدیث کو مرفوعاً روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اظہار حق میں نہیں شرماتا تم اپنی بیویوں کی سرین میں جماع نہ کرو۔
    امام شافعی ؒنے نقل کیا کہ مجھ کو میرے چچا محمد بن علی بن شافعی نے خبر دی انہوں نے بیان کیا کہ مجھ کو عبداللہ بن علی بن سائب نے خبر دی انہوں نے عمرو بن احیحہ بن جلاح سے انہوں نے خزیمہ بن ثابت سے روایت کی کہ ایک شخص نے عورتوں کو پیچھے سے جماع کرنے کی بات سوال کیا آپ نے فرمایا حلال ہے جب وہ مڑا تو آپ نے اس کو بلا کر دریافت کیا کہ تونے کس طرح کہا تھا دونوں سراخوں یا دونوں شگافوں میں کس میں یا دونوں سرینوں میں سے کس سوراخ میں کہا کیا اس کے پیچھے سے اس کی فرج میں جماع کرنے کے متعلق سوال کیا تھا؟ اگر تونے یہ سوال پوچھا تھا تو یہ جائز ہے اور اگر عورت کے پیچھے سے اس کی دبر میں جماع کرنے کے بارے میں تیرا سوال ہے تو یہ جائز نہیں ہے اللہ تعالیٰ اظہار حق سے شرم نہیں کرتا تم عورتوں سے ان کی سرین میں جماع نہ کرو۔
    اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ: ”یعنی عورتوں سے اسی مقام میں جماع کرو جہاں کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے“۔
    مجاہد نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عباس سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ جس مقام میں جماع کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے وہیں جماع کرو اور ایام حیض میں جماع سے بچے رہو اور علی بن ابی طلحہ نے ان سے نقل کیا کہ آپ فرماتے تھے کہ صرف فرج میں جماع کرنا ہے اور ا س کے سوا کسی دوسری جگہ روا نہیں ہے۔
    یہ آیت کریمہ عورت کی دبر میں جماع کرنے کی حرمت پر دو سبب سے دلالت کرتی ہے پہلا سبب یہ کہ عورتوں سے جماع کرنا کھیتی کے مقام یعنی پیدائش کے مقام میں مباح ہے یعنی فرج میں مباح ہے نہ یہ کہ مقعد میں جو آلائش کا مقام ہے اور اللہ کے اس فرمان سے مراد کھیتی کام مقام یعنی فراج ہے اور ایک دوسری آیت فاتو حرثکم انی شئتم سے بھی فرج میں جماع کرنا موکد ہو جاتا ہے اور اسی آیت سے عورت کے پیچھے سے اس کی فرج میں جماع کرنا بھی ثابت ہوگیا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انی شعتم یعنی جس انداز سے بھی آگے یا پیچھے سے تم چاہوں فرج میں جماع کرو۔
    حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ((فاتو حرثکم)) میں حرث سے مراد عورت کی فرج ہی ہے۔
    اور قابل غور بات یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ایام حیض میں عارضی ضرر کی وجہ سے فرج میں جماع کرنا حرام قرار دیا تو پھر مقعد میں جماع کرنا کیسے قابل قبول ہوگا جو ددای آلائش کا مقام ہے مزید برآں اس کے مفاسد بھی غیر معمولی ہیں اس لیے کہ اس سے انقطاع نسل کا مفسدہ تو ہے ہی پھر یہ اباحت عورتوں کی مقعد سے لڑکوں تک پہنچ کر مزید مفاسد کا ذریعہ بن جائے گی۔
    اس کے علاوہ اس سے حقوق نسوانی کا تلف کرنا بھی لازم آئے گا اس لیے کہ عورت سے جماع کرنا عورت کا حق ہے اور مقعد میں جماع کرنے سے یہ حق بری طرح مجروح ہوتا ہے نہ عورت کی خواہش کی تکمیل ہوگی اور نہ مقصود جماع حاصل ہوگا۔
    دوسری بات یہ کہ مقعد اس کام کے لیے نہیں بنائی گئی ہے اور نہ اس کی تخلیق کا یہ مقصد ہے بلکہ جماع کے لیے فرج ہی ہے لہٰذا جو لوگ فرج کو چھوڑ کر مقعد کی طرح رخ کرتے ہیں وہ شریعت اور حکمت الٰہی دونوں ہی کے منکر ہیں۔
    علاوہ ازیں یہ مردوں کے لیے ضرر رساں بھی ہے اس لیے تمام عقلاءو اطباءاس سے روکتے ہیں اور فلاسفہ بھی اس کو سفاہت وجہالت پر محمول کرتے ہیں اس لئے کہ فرج میں قوت جاذبہ ہوتی ہے جو مرد کی رکی ہوئی منی کو جذب کرلیتی ہے جس سے مرد کو آرام ملتا ہے اور مقعد میں جماع کرنے سے رکی منی کا پوری طرح اخراج نہیں ہو پاتا ایک تو مقعد کے بیرونی سوراخ کی تنگی دوسرے مفعول کے متاﺅل ہونے کی وجہ سے عضو مخصوص کو جلد از جلد اس سے باہر نکالنے کی خواہش ہوتی ہے اس لئے کہ لواطت غیر طبعی مجامعت ہے ۔
اس سے ایک دوسرے طریقہ سے بھی ضرر پہنچتا ہے وہ یہ کہ مقعد کے سوراخ کی تنگی کے باعث عضو مخصوص کو اس میں داخل کرنے میں بڑی جدوجہد کرنی پڑتی ہے جس سے آدمی جلد ہی تھک جاتا ہے اور خلاف امر فطری کا احساس الگ ہوتا ہے ۔
 مقعد گندگی اور آلائش کا مقام ہے اور لواطت کرتے وقت اپنی تمام آلائشوں کے ساتھ سامنے ہوتی ہے اور بعض اوقات عضو مخصوص الائش سے آلودہ ہو جاتا ہے ۔
عورت کو بھی اس سے سخت نقصان ہوتا ہے اس لئے کہ یہ کام اس کے لئے خلاف طبیعت وفطرت بالکل نادر ہوتا ہے جس سے انتہائی نفرت اور غیر معمولی وحشت پیدا ہوتی ہے ۔
اس فعل بد کے باعث انسان کو رنج وغم سے دوچار ہونا پڑتا ہے مستقبل میں افزائش نسل کی طرف سے مایوسی اور ماضی میں ضیاع قوت کا غم لاحق ہوتا ہے دوسرے فاعل اور مفعول ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگتے ہیں اس سے چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور سینے کا نور ختم ہو کر ظلمت آجاتی ہے اور دل کی روشنی مدھم پڑجاتی ہے اور اس کے چہرے پر ہونق کی طرح وحشت برستی رہتی ہے جس کو ادنی فراست والا دیکھ کر بھانپ لیتا ہے آخر میں سخت نفرت اور باہمی بغض وکینہ دونوں کے درمیان پیدا ہوجاتا ہے اور ازدواجی تعلق ٹوٹنے کی منزل تک پہنچ جاتا ہے اس سے کوئی بچ نہیں سکتا اس کا ربد کا انجام بہر حال بھگتنا ہی پڑے گا ۔
علاوہ ازیں فاعل ومفعول ( شوہر وبیوی ) کے حالات اس حد تک پیچیدہ ہوجاتے ہیں جن کی اصلاح کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی البتہ اگر کسی کو اللہ تعا لی سچی توبہ کی توفیق عطا کردے تو اصلاح ممکن ہے ۔
نیز اس کا ربد سے دونوں کے محاسن یکسر ختم ہو جاتے ہیں اور مصائب اس کی جگہ لے لیتے ہیں اس طرح دونوں کے درمیان محبت والفت ختم ہوجاتی ہے اور اس کی جگہ باہمی بغض وکینہ ایک دوسرے پر طعن وتشنیع ان کا شیوہ بن جاتا ہے ۔
اور یہ فعل نعمتوں کے زوال اور غضب الہی کے نزول کا سب سے بڑا سبب ہے اس لئے کہ یہ لعنت و غضب الہی کا سب سے بڑا سبب بنتا ہے اور اللہ اس کے فاعل سے کنارہ کش ہوجاتا ہے اور فاعل کی طرف ذرا بھی التفات نہیں کرتا اس قابل نفریں میں فعل کے بعد ہر چیز کی توقع ختم ہوجاتی ہے اور انسان کسی بھی برائی سے مخفوظ نہیں رہتا اور وہ بندہ کس طرح زندہ رہ سکتا ہے جس پر لعنت الہی اور غضب خداوندی برس رہا ہو اور اللہ نے اس سے اپنی رحمت کی نظر پھیر لی اور اس کی طرف کبھی بھی نظر کرم نہیں کرتا ۔
لواطت سے حیا ءوشرم کا کلیتہ خاتمہ ہوجاتا ہے اور حیا ءشرم ہی سے دلوں کی زندگی برقرار رہتی ہے جب ول اسے گنوادے گا تو پھر ہر قبیح چیز حسین وجمیل اور ہر اچھائی برائی لگنے لگتی ہے اس وقت انسان کا فساد قلبی اس مرحلہ پر پہنچ جاتا ہے جہاں سے لوٹنا ممکن نہیںہوتا ۔
لواطت سے اس کی طبیعت مسخ ہوجاتی ہے جس ترکیب پر اللہ نے اس کی تخلیق فرمائی تھی وہ ختم ہوجاتی ہے انسان اپنی فطرت سے نکل کر ایسی طبیعت میں تبدیل ہوجاتا ہے کہ اللہ نے اس انداز پر کسی حیوان کو مرکب نہیں فرمایا بلکہ وہ طبع منکوس ہے اور جب طبیعت مسخ ہوگئی تو دل بھی مسخ ہو جاتا ہے نہ کوئی عمل خیر باقی رہتا ہے نہ ہدایت تو اس وقت اعمال خبیثہ اور ھیئات شیطانیہ کو عمدہ سمجھنے لگتا ہے اور اب اضطراری طور پر اس کی حالت اس کا عمل اور اس کا انداز گفتگو سب بد سے بد تر ہوجاتا ہے ۔
اور انسان بے شرمی اور نفرت کا لبادہ پہن لیتا ہے اور لوگ بھی اس کو اسی لبادہ میں دیکھنا پسند کرتے ہیں لوگ اسے کمینہ وذلیل سمجھتے ہیں اور ہر شخص اس کو ایک گھٹیا اور کمتر انسان جانتا ہے ۔
اللہ کی بیشمار رحمتیں اور اس کی سلامتی اس ذات اقدس پر نازل ہو جس کی ہدایت وشریعت کی اتباع سے ہم کو سعادت دارین نصیب ہوئی اور جس کی مخالفت ن ہم کو دونوں جہاں کی تباہ وبربادی کے راستے پر ڈال دیا ۔