پچھنا بدن کے سطحی حصہ کو ستھرا اور صاف بناتا ہے اس میں فصد سے زیادہ ظاہر جسم کے نقی و صفی بنانے کی صلاحیت ہے‘ او ر بدن کے گھرے حصوں کی صفائی کے لیے فصد بہترین چیز ہے حجامت سے جلد کے اطراف کا خون نکلتا ہے اور سطح بدن مواد ردیہ سے صاف ستھرا اور پاک ہوجاتا ہے۔
میرا خیال اس سلسلہ میں یہ ہے کہ حجامت اور فصد دونوں کے منافع وقت مقام عمر اور مزاج کی روشنی میں مختلف ہوتے ہیں‘ منطقہ حارہ (گرم علاقے) اور فصول حارہ (گرم موسم) اور گرم مزاج لوگ جن کا خون پوری طرح پختہ ہوتا ہے اس میں پچھنا زیادہ مفید ہے ان کو پچھنا لگانے سے وہ نفع حاصل ہوتا ہے جو فصد سے نہیں ہوتا اس لیے کہ جب خون میں نفج ہوجاتا ہے تو اس میں رقت پیدا ہوجاتی ہے وہ جلد کے اندرونی حصے کی طرف آجاتا ہے اس لیے حجامت سے ایسی صورت میں جو نفع متوقع ہے وہ فصد سے کسی قیمت میں نہیں حاصل ہوسکتا اسی لیے بچوں کو اور ان تمام لوگوں کو جو فصد کی طاقت نہیں رکھتے حجامت ہی زسے نفع پہنچتا ہے نہ کہ فصد سے ویسے اطباءکے ایک بڑے گروہ نے یہ طے کیا ہے کہ گرم علاقے میں حجامت ہی سے نفع پہنچتا ہے وہ فصد سے متوقع نہیں ہے اس لیے یہاں پچھنا لگا نا ہی مناسب ہے اور پچھنا لگانے کا وقت نصف ماہ یا اس کے بعد مناسب سمجھا جاتا ہے ورنہ مہینہ کے تین چوتھائی گزرنے کے بعد اس لیے کہ خون مہینے کے ابتدائی دنوں میں ہیجان اور جوش میں ہوتا ہے آخری ایام میں سکون پزیر ہوتا ہے درمیان میں اور اس کے بعد انتہائی زیادت و کثرت میں ہوتا ہے۔
شیخ نے قانون میں کہا ہے کہ پچھنا لگا نا ابتداءماہ میں کسی طرح روا نہیں اس لیے کہ ابتداءمیں اخلاط حرکت اور ہیجان سے نا آشنا ہوتے ہیں اور نہ آخر ماہ میں اس لیے کہ اس زمانے میں تزاید کے بجائے نقص ہوگیا بلکہ حجامت وسط ماہ میں ہونا چاہیے جب کہ اخلاط پوری طرح پر شور ہوتے ہیں اس لیے کہ چاند کی روشنی بڑھتی جاتی ہے اور روشنی کی زیادتی سے ہیجان اور جوش اخلاط لازمی ہے اور رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے۔
”آپ ﷺ نے فرمایا سب سے عمدہ علاج جو تم کرتے ہو حجامت اور فصد ہیں“۔
دوسری حدیث میں ہے:
”بہترین دوا حجامت اور فصد ہے“
اوپر والی حدیث میں اشارہ اہل حجاز اور (بلاد حارہ) گرم علاقوں کے رہنے والوں کی طرف ہے اس لیے کہ ان کا خو ن رقیق ہوتا ہے اور یہ رقت کی وجہ سے بدن کے سطحی حصے کی جانب اکثر موجود ہوتا ہے اس لیے کہ گرم علاقوں کی گرمی ان کو بیرونی جانب کھینچ لاتی ہے اور وہ خون رقت کی وجہ سے بآسانی جلد کے نواحی میں کھینچ کر جمع ہوجاتا ہے دوسری وجہ یہ ہے ان علاقوں کے رہنے والوں کے مسامات حرارت کی وجہ سے کشادہ ہوتے ہیں اور ان کے اعضاءکھوکھلے ہوتے ہیں اس کھوکھلا پن کی وجہ سے فصد میں خطرہ ہے اور حجامت ارادی تفرق اتصال ہے عروق سے کلی طور پر استفراغ حجامت کی وجہ سے پیدا ہوجاتا ہے اور عضو کے بہت سے ان عروق سے خون نکلتا ہے جن سے عموماً استفراغ ممکن نہیں اور فصد کے لئے مختلف رگوں کا تجویز کرنا نفع مخصوص کی بناءپر ہے چنانچہ فصد با سلیق حرارت جگر حرارت طحال اور دموی مواد کی بنا پر ہونے والے ہر قسم کے اورام کے لیے مفید ہے اسی طرح پھیپھڑے کے ورم دموی شوصہ (ایک جان لیوا اور دجوف شکم میں ریاح کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے) میں مفید ہے اسی طرح ذات الجنب حارا اور دیگر امراض دموی گھٹنے سے لیکر کولہے تک میں یکساں مفید ہے۔
اکحل میں فصد کرنا پورے بدن میںخون کی بنا پر ہونے والے امتلاءمیں نافع ہے اسی طرح وہ فساد دموی جس کا تعلق پورے جسم سے ہو اس میں بھی مفید ہے۔
قیفال کا فصد سر گردن کی تمام بیماریوں میں نافع ہے جو کثرت دم یا فساد خون کی وجہ سے پیدا ہوں ان میں نہایت درجہ نافع ثابت ہوتا ہے۔ فصد وداجین درد طحال دمہ ضیق النفس اور عصابہ ان تمام دردوں میں نافع ترین طریق علاج ہے مونڈھوں کا پچھنا کندھے اور حلق کے درد کے لئے مفید ہے۔
گردن کے پہلوی حصہ کا پچھنا سر کی بیماریوں اور اس کے دوسرے اجزاءچہرہ‘ زبان‘ کان‘ آنکھ، ناک‘ حلق کی بیماریوں میں غیر معمولی طور پر نافع ہے جبکہ خون کی زیادتی یا فساد خون کی وجہ سے یہ بیماریاں پیدا ہوگئی ہوں‘ حضرت انس کی روایت ہے۔
”رسول اللہ ﷺ اپنی گردن کے پہلوی حصوں اور گردن کے زیریں حصوں پر پچھنا لگوایا کرتے تھے“۔
اور صحیحین میں حضرت انس ؓ ہی کی روایت ہے۔
”رسول اللہ ﷺ تین بار پچھنے لگواتے ایک بار اپنے مونڈھے پر اور گردن پر اور دوبارہ گردن کے پہلوی حصوں پر“۔
اور صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ
”آپ نے پچھنا لگوایا جب کہ آپ محرم تھے یعنی احرام باندھے تھے یہ پچھنا آپ نے درد سر کی بنا پر لگوایا تھا جس سے آپ متاثر تھے“۔
اور ابن ماجہ میں ہے:
”حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ جبرئیل حجامتہ پہلوئے گردن و دوش کا حکم لے کر نازل ہوئے“
ابو داﺅد میں حضرت جابر ؓ کی حدیث مروی ہے۔
”حضرت جابر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے کولہے پر پچھنا لگوایا اس لیے کہ کولھا موچ کھا گیا تھا“۔