حجامت کے لیے ہفتے کے دنوں کا تعین

خلال نے اپنی جامع میں لکھا ہے کہ حرب بن اسماعیل نے بیان کیا کہ میں نے احمد بن حنبل ؒ سے پوچھا کہ کیا حجامت کسی دن ناپسند اور ممنوع بھی ہے تو آپ نے فرمایا کہ چہار شنبہ اور شنبہ کو بیان کرتے ہیں۔
اور اسی کے لگ بھک وہ حدیث بھی ہے جو حسین بن حسان سے مروی ہے کہ میں نے ابو عبداللہ احمد بن حنبل ؒ سے دریافت کیا کہ سینگی کھنچوانا کس دن ممنوع ہے تو آپ نے کہا کہ چہار شنبہ و شنبہ کو بعض جمعہ کے دن کو بھی کہتے ہیں اور انہیں خلال نے ابو سلمہ اور ابو سعید مقبری کے واسطے سے حضرت ابو ہریرہ ؓ کی حدیث مرفوع لکھی ہے۔
”جس نے بدھ یا سنیچر کے دن پچھنا لگوایا پھر اسے جلد میں سفیدی یا برص کا مرض ہوگیا تو اسے خود کو ملامت کرنا چاہیے“۔
انہیں خلال نے محمد بن علی بن جعفر کی بات نقل کی ہے کہ یعقوب بن بختان نے احمد بن حنبل ؒ سے بال صفا لگانے اور سینگی کھنچوانے کے بارے میں سوال کیا کہ بدھ کو جائز ہے تو آپ نے اسے برا سمجھا اور یہ کہا کہ مجھے بتلایا گیا کہ ایک شخص نے بدھ کو بال صفا لگایا اور سینگی بھی کھنچوائی تو اسے برص ہوگیا تو میں نے ان سے کہا کہ کیا رسول اللہ ﷺ کی بات کی بے وقعتی کی؟ تو آپ نے فرمایا بلاشبہ۔
امام دارقطنی ؒ نے کتاب الافراد میں حدیث نافع کو یوں ذکر کیا ہے کہ نافع نے بیان کیا عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا کہ میرے خون میں ہیجان پیدا ہوگیا ہے اس لیے کوئی سینگی لگانے والے کو بلا لاﺅ جو ناتجربہ کار بچہ ہو نہ بے کار بڈھا ہو اس لیے کہ:
”رسول اللہ ﷺ کو کہتے سنا کہ حجامت سے یاد کرنے والے کی یادداشت اور عقل والے کی زیرکی میں زیادتی ہوجاتی ہے اللہ کا نام لے کر پچھنا لگواﺅ اور نہ پنج شنبہ نہ جمع نہ سنیچر نہ اتوار ان دونوں میں حجامت مت کرواﺅ بلکہ دو شنبہ کو پچھنے لگواﺅ اور برص و جذام جیسے جلدی امراض آسمان سے زمین کی جانب بدھ کو اترتے ہیں“۔
دارقطنی ؒ کی اس روایت میں زیاد بن یحییٰ منفرد ہیں‘ اور اسی روایت کو ایوب ؒ نے نافع ؒ سے بیان کیا ان کے الفاظ یہ ہیں:
”پچھنا لگواﺅ‘ دو شنبہ اور سہ شنبہ کو اور چہار شنبہ کو سینگیاں نہ کھنچواﺅ“۔
اور ابو داﺅد کی روایت میں حدیث ابوبکرہ سے ہے کہ آپ حجامت منگل کو پسند نہ کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ:
”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ منگل کو خون کا دن ہے اس دن ایک ایسی گھڑی ہوتی ہے کہ اس میں خون تھمتا ہی نہیں“۔