بطیخ:(تربوزہ) ابو داﺅد اور ترمذی نے روایت کیا ہے کہ نبیﷺ تربوز کو تر کھجور کے ساتھ کھاتے تھے اور فرماتے:
کہ ہم اس کھجور کی گرمی کو تربوز کی ٹھنڈک کے ذریعہ اور تربوز کی ٹھنڈک کو کھجور کی گرمی کے ذریعہ ختم کرتے ہیں“۔
تربوز کے بیان میں بہت سی احادیث وارد ہیں مگر اس ایک حدیث کے علاوہ کوئی صحیح نہیں ہے اس سے مراد سبز تربوز ہے‘ اس کا مزاج بارد رطب ہوتا ہے تربوز میں جلاءمواد ہے اور کھیرے ککڑی سے بھی زیادہ ہضم ہے‘ معدہ سے بسرعت اتر کر نیچے چلا جاتا ہے اور اگر معدہ کے لئے خلط تیار نہ ہو تو یہ اسی کی جانب تیزی سے مستحیل ہوجاتا ہے اور اگر اس کا کا کھانے والا گرم مزاج ہے تو یہ اس کے لئے بے حد مفیدہے اگر ٹھنڈے مزاج والا ہے تو اس کے ضرر کو دور کرنے کے لئے اسے سونٹھ وغیرہ جیسی چیزیں استعمال کرنی چاہیے اس کو کھانے سے پہلے کھانا چاہیے پھر کھانا کھایا جائے‘ ورنہ متلی اور قے ہونے کا اندیشہ رہتا ہے اور بعض اطباءکا خیال ہے کہ تربوز کو کھانے سے پہلے کھانا معدہ کو جلادیتا ہے‘ اور اسے پورے طور پر دھل دیتا ہے اور اس کی بیماری جڑ سے نکال پھینکتا ہے۔
بلح:(کچی کھجور جو نمو کے دوسرے مرحلہ میں ہو) امام نسائی اور ابن ماجہ نے اپنی سنن میں حدیث ھشام بن عروہ ؓ کو بیان کیا ہے جسے انہوںنے اپنے باپ عروہ سے اور انہوں نے عائشہ ؓسے روایت کیا ہے کہ عائشہ ؓنے بیان کیا:
”رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کچی کھجور کو چھوہارے کے ساتھ کھاﺅ اس لئے کہ شیطان جب ابن آدم کو کچی کھجور چھوہارے کے ساتھ کھاتے ہوئے دیکھتا تو کہتا ہے کہ ابن آدم رہ گیا حتٰی کہ نئی چیز کو پرانی کے ساتھ ملا کر کھارہا ہے“
اور ایک دوسری روایت میں یوں مذکور ہے:
”کچی کھجور کو چھوہارے کے ساتھ کھاﺅ اس لئے کہ شیطان جب ابن آدم کو کچی کھجور چھوہارے کے ساتھ کھاتے ہوئے دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ ابن آدم رہ گیا حتٰی کہ نئی چیز کو پرانی کے ساتھ ملا کر کھارہا ہے“
اس حدیث کو بزار نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور یہ اس کے ہی الفاظ ہیں۔
اس حدیث میں ”بالتمر“ کا بامع کے معنی میں ہے یعنی کچی کھجور کو چھوہارے کے ساتھ کھاﺅ۔
اطباءاسلام میں سے بعض نے کہا ہے کہ رسول اللہﷺ نے کچی کھجور کو چھوہارے کے ساتھ کھانے کا حکم فرمایا ہے نیم پختہ کھجور کو چھوہارے کے ساتھ کھانے کا حکم نہیں دیا ہے‘ اس لئے کہ کچی کھجور باردیابس ہوتی ہے اور چھوہارہ حار رطب ہوتا ہے ان دونوں کو ایک ساتھ کھانے سے ایک دوسرے کی اصلاح ہوگی اور نیم پختہ کو چھوہارے کے ساتھ کھانے سے یہ بات نہیں پیدا ہوگی کیونکہ دونوں ہی گرم ہیں اگرچہ چھوہارے کی حرارت نیم پختہ کھجور سے زیادہ ہے اور فن طب کے اعتبار سے بھی دو گرم یا دو بارد چیزوں کو ایک ساتھ استعمال کرنا جائز نہیں ہے جیسا کہ اس کو پہلے بھی بیان کیا جاچکا ہے اس حدیث میں فن طب کے بنیادی اصول کے جانب رہنمائی مقصود ہے‘ اور یہ بھی بتلانا مقصود ہے کہ ایسی تدابیر مدنظر رکھنی چاہئے‘جن سے غذا اور دوا کی کیفیات کا ایک دوسرے سے دفاع ہوسکے اور اس طبی قانون کی بھی رعایت کرنی چاہیے‘ جس سے صحت کو بحال رکھا جاسکے۔
کچی کھجور کا مزاج سرد اور خشک ہے‘ منہ‘ مسوڑھے اور معدہ کی بیماریوں میں نافع ہے‘ اور سینہ پھیپھڑے کی بیماری میں یہ نقصان دہ ہے کیونکہ اس میں خشونت پائی جاتی ہے یہ دیر ہضم ہے اس میں معمولی غذایئت بھی ہوتی ہے ۔ بلح کی کھجوروں کے درمیان وہی حیثیت ہے جو حصرم (کچے انگور) کی پختہ انگوروں میں ہوتی ہے دونوں ریاح پیدا کرتے ہیں بالخصوص ان دونوں کے کھانے کے بعدجب پانی پی لیا جائے تو پیٹ میں گڑبڑ پیدا ہوجاتی ہے ان کا ضرر چھوہارے کے استعمال سے جاتا رہتا ہے شہد اور مکھن کے استعمال سے بھی اس کا ضرر ختم ہوجاتا ہے۔
بسر (نیم پختہ کھجور):صحیح بخاری میں ہے کہ ابو الہیشم بن تھیان نے جب نبیﷺ اور حضرت ابو بکرصدیق وعمر ؓ کی مہمان نوازی کی تو اس موقع پر کھجور کا ایک خوشہ ان کی خدمت میں پیش کیا آپ نے فرمایا کہ تازہ کھجوروں کو چن کر لائے ہوتے‘ اس پر ابو الہیشم نے کہا کہ میری خواہش یہ تھی کہ نیم پختہ اور پختہ کھجوروں میں سے جسے آپ پسند کریں چن کر کھالیں۔
نیم پختہ کھجور حار یابس ہے اس کی خشکی اس کی حرارت سے بڑھی ہوئی ہے رطوبات کو خشک کرتی ہے معدہ صاف کرتی ہے پاخانہ روکتی ہے‘ اور منہ اور مسوڑہ کے لئے نافع ہے اس کی سب سے زیادہ نفع بخش وہ قسم ہوتی ہے جو باآسانی چور ہوجائے اور شیریں ہو اس کا زیادہ استعمال اور اسی طرح کچی کھجوروں کا زیادہ کھانا انتڑیوں میں سدے پیدا کرتا ہے۔
بیض:(انڈا ) امام بیہقہی ؒنے شعب الایمان میں ایک مرفوع اثر نقل کیا ہے کہ انبیاءمیں سے کسی نبی نے اللہ تعالیٰ سے اپنی غیر معمولی کمزوری کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو انڈا کھانے کا حکم دیا لیکن اس اثر کی صحت قابل غور ہے‘ نئے انڈے پرانے انڈوں سے عمدہ ہوتے ہیں‘ اسی طرح مرغی کا انڈا دیگر تمام پرندوں کے انڈے کے مقابل زیادہ معتدل ہوتا ہے کسی قدر برودت کی طرف مائل ہے۔
”قانون“ کے مصنف نے اس کی زردی کو حار رطب لکھا ہے یہ عمدہ صالح خون پیدا کرتا ہے معمولی طور پر تغذیہ کرتا ہے اور اگر انڈا ابال کر استعمال کیا جائے تو وہ معدہ سے تیزی کے ساتھ نیچے کی جانب جاتا ہے۔
ایک دوسرے طبیب نے لکھا ہے کہ زردی بیضہ مرغ مسکن درد ہے حلق اور سانس کی نالی کو چکنا اور ملائم کرتی ہے یہ حلق کے امراض کھانسی‘ پھیپھڑے ‘گردے‘ مثانہ کے زخموں کے لئے نفع بخش ہے اس کے استعمال سے حلق کی خشونت ختم ہوجاتی ہے بالخصوص شیریں بادام کے تیل کے ساتھ اس کا استعمال اور بھی نفع بخش ہے مواد سینہ کو پختہ کرکے اس کو نرم کرتا ہے اور حلق کی خشونت کے لئے مسہل ہے‘ اگر آنکھ میں گرم ورم ہوجائیں اور اس سے درد ہو تو انڈے کی سفیدی کے چند قطرے آنکھ میں ٹپکانے سے درد ختم ہوجائے گا اور آنکھ میں ٹھنڈک پہنچنے کی وجہ سے سکون ملے گا اور اگر آتش زدہ جلد پر اس کا ضماد کریں تو آبلے نہ آئیں گے اور اگر درد کے مقام پر اس کا ضماد کریں تو درد جاتا رہے گا اور اس کے ضمادسے لو سے حفاظت ہوگی اور اگر گوند کے ساتھ اس کو آمیزہ کرکے پیشانی پر ضماد کیا جائے تو نزلہ کے لئے مفید © ©ثابت ہوگا۔
مصنف ”قانون“ شیخ بوعلی سینا نے دل کی دواﺅں میں اس کا ذکر کیا ہے‘ اور لکھا ہے کہ اگرچہ یہ دل کی عام دواﺅں میں سے نہیں ہے پھر بھی اس کی زردی کوتقویت قلب میں خاص مقام حاصل ہے اس لئے کہ اس میں تین خوبیاں پائی جاتی ہیں یہ بہت جلد خون بن جاتی ہے دوسرے اس سے فضلہ کی مقدار کم ہوتی ہے اور تیسرے یہ کہ اس سے پیدا ہونے والا خون دل کی غذائیت کے کام آنے والے خون کی طرح ہلکا ہوتا ہے تیزی کے ساتھ دل کی جانب منتقل ہوجاتا ہے اسی لئے جو ہر روح کو تحلیل کرنے والے عام امراض کی تلافی کے لئے اسے مناسب مانا جاتا ہے کیونکہ اس سے بہت جلد تحلیل روح ہوتی ہے
بصل : (پیاز) ابو داﺅد ؒنے اپنی سنن میں حضرت عائشہؓ سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ آپ سے پیاز کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے جواب دیا کہ رسول اللہﷺ نے آخری کھانا جو تناول فرمایا تھا اس میں پیاز موجود تھاَ
اور صحیحین میں نبیﷺ سے حدیث جو منقول ہے‘ اس میں ہے کہ آپ نے پیاز کھانے والے کو مسجد میں داخل ہونے سے منع فرمایا ہےَ
پیاز کا مزاج تیسرے درجہ میں گرم ہے اس میں رطوبت فضولی ہے جو مختلف پانیوں کے استعمال کے ضرر سے بچاتی ہے زہریلی ہواﺅں کو دفع کرتی ہے اور شہوت کو برانگیختہ کرتی ہے معدہ قوی کرتی ہے اور باہ میںہیجان پیدا کرتی ہے اس کے استعمال سے منی زیادہ ہوتی ہے رنگ نکھرتا ہے بلغم ختم ہوجاتا ہے معدہ کو جلا ملتی ہے اور اس کا تخم استعمال کرنے سے بدن کے سفید داغ ختم ہوجاتے ہیں اور داءالثعلب پر اس کو رگڑنے سے خاصہ نفع ہوتا ہے‘ اگر اس کو نمک کے ساتھ استعمال کیا جائے تو مسوں کو جڑ سے ختم کردیتا ہے اور اگر مسہل دوا کے استعمال کے بعد اس کو سونگ لیں تو قے اور متلی نہیں آسکتی اور اس دوا کی بدبو بھی ختم ہوجائے گی اور اگر اس کے پانی کو نچوڑ کر ناک میں چڑھایا جائے تو دماغ صاف ہوتا ہے اور کان میں ٹپکائیں تو گراں گوشی کان کی طنین اور ریم گوش کے لئے نافع ہے اور سیلان اذن کے لئے مفید ہے اور آنکھ سے پانی بہنے کی صورت میں اس کو سرمہ کی سلائی سے لگائیں تو پانی کو روکتا ہے اور اگر اس کا تخم شہد کے ساتھ آمیز کرکے سرمہ کی طرح آنکھ میں لگائیں تو آنکھ کی سفیدی کے لئے نفع بخش ہے اور پکی ہوئی پیاز کثیر الغذاءہے‘ یرقان کھانسی اور خشونت کے لئے نافع ہے پیشاب لاتی ہے‘ پاخانہ نرم کرتی ہے اگر ایسے کتے نے کسی کو کاٹ لیا جو باﺅلا نہ تھا تو اس کے لئے مفید ہے اس کی ترکیب یہ ہے کہ پیاز کے پانی کو نچوڑ کر نمک اور برگ سداب کے ساتھ پکا کر مقام ماﺅف پر رکھا جائے اور اگر اسے حمول کیا جائے تو بواسیر کے منہ کھول دیتی ہے َ
لیکن اس میں نقصانات بھی ہیں کہ اس کے استعمال سے آدھے سر کا درد ہوتا ہے‘ اور درد سر پیدا کرتی ہے اس سے ریاح کی بڑی مقدار پیدا ہوتی ہے آنکھوں میں دھندلا پن پیدا کرتی ہے اور اس کا بکثرت استعمال کرنے سے نسیان ہوتا ہے عقل کو فاسد کرتی ہے منہ کے مزہ کو بگاڑتی ہے‘ اور منہ میں بدبو پیدا کرتی ہے جس سے ہم نشین اور فرشتوں کو اذیت پہنچتی ہے اگر اس کا استعمال پکا کر کریں تو یہ ساری مضرتیں ختم ہوجاتی ہیں۔
سنن میں مذکور ہے کہ نبی اکرمﷺ نے پیاز اور لہسن کھانے والے کو حکم دیا کہ وہ اسے پکا کر کھائیں اور اس کی بدبو کے خاتمہ کے لئے برگ سداب کا چبانا مفید ہے۔
باذنجان : (بینگن) ایک موضوع حدیث جس کی نسبت نبیﷺ کی طرف غلط طور پر کی گئی ہے‘ اس میں مذکور ہے کہ بینگن جس ارداہ سے کھائیں اسی کے لئے مفید ہے انبیاء کی طرف اس حدیث کی نسبت کرنا تو دور کی بات ہے‘ کسی عقلمند کی جانب اس کلام کو منسوب کرنا حماقت محض ہے
بینگن کی دو قسمیں ہیں ©: سیاہ اور سفید
اس کے مزاج کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ بارد ہے یا حار لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا مزاج حار ہے اس کے استعمال سے سوداءکے اندراضافہ ہوتا ہے اور بواسیر ہوتی ہے اسی طرح اس سے سدے پیدا ہوتے ہیں اور کینسر اور جذام جیسی مہلک بیماریاں رونما ہوتی ہیں‘ چہرے کو سیاہ کرتا ہے رنگ بگاڑتا ہے‘ اس کے استعمال سے منہ میں بدبو پیدا ہوتی ہے‘ البتہ سفید بینگن ان مضرتوں سے خالی ہے۔