ثلج : (برف )
صحیح بخاری میں بنی کریمﷺ سے مروی ہے آپ نے فرمایا:
”اے اللہ میرے گناہوں کو پانی‘ برف اور اولے سے تو دھولے“۔
اس حدیث میں سمجھنے کا پیغام موجود ہے کہ بیماری کا علاج اپنی ضد سے کیا جاتا ہے‘چونکہ گناہوں میں حرارت اور سوزش ہوتی ہے اس لئے اس کا علاج اس کے مخالف چیز برف‘ اولہ اور ٹھنڈا پانی ہے‘ اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ گرم پانی سے میل کچیل عمدہ طریقہ صاف کیا جاتا ہے‘ کیونکہ ٹھنڈے پانی میں جسم کو سخت بنانے‘ اور اس کی قوت بخشنے کی خاصیت ہے جو گرم پانی میں نہیں ہے‘ اور گناہوں سے دو اثر مرتب ہوتے ہیں میل کچیل اور ڈھیلا پن‘ اس لئے ضرورت اس کی ہے کہ اس کا علاج ایسی چیز سے کیا جائے جو دل میں نظافت پیدا کرنے کے ساتھ ہی اسے مضبوط بھی کرے‘ اسی لئے یہاں آب سرد اور برف کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ ان دونوں باتوں کی طرف رہنمائی ہوجائے۔
برف صحیح قول کی بنیاد پر بارد ہے‘ اور جس نے اس کو گرم بتایااس نے غلطی کی‘ اور اس کو شبہ ہوا کہ حیوان کی پیدائش ٹھنڈے پانی میں ہوئی ہے حالانکہ اس سے حرارت کا کیا واسطہ اس لئے کہ کیڑے تو ٹھنڈے پھلوں میں بھی پیدا ہوجاتے ہیں‘ اور سرکہ میں بھی پیدا ہوجاتے ہیں جو کہ سرد ہوتا ہے اور اس کے استعمال کے بعد پیاس کا جو غلبہ ہوتا ہے‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹھنڈک سے حرارت بھڑکتی ہے اور خود اس میں ذاتی حرارت نہیں ہوتی برف معدہ اور اعصاب کے لئے مضر ہے اگر شدت حرارت کے باعث دانتوں میں درد ہو تو اس کے استعمال سے سکون حاصل ہوجاتا ہے۔
ثوم : ( لہسن) یہ پیاز کے انداز کا ہوتا ہے اور حدیث میں مذکور ہے کہ جو اسے کھانا چاہے اسے چاہئے کہ اس کو پکاکر اس کی بو ختم کرلے۔
آپ کے پاس بطور ہدیہ کھانا آیا‘ جس میں لہسن تھا تو آپ نے اسے حضرت ابو ایوب انصاری ؓکو بھیج دیا‘ ابو ایوب نے عرض کیا کہ اے رسول اللہﷺ آپ تو اس کو ناپسند کرتے ہیں اور میری طرف اسے بھیج کر کھانے کی دعوت دیتے ہیں آپ نے فرمایا کہ میں اس ذات اقدس سے سرگوشی کرتا ہوں جس سے تم نہیں کرتے۔
اس کا مزاج چوتھے درجہ میں حار یا بس ہے‘ انسانی جسم میں اس سے بڑی گرمی پیدا ہوتی ہے اور اس کے استعمال سے خاصی خشکی پیدا ہوتی ہے ٹھنڈے مزاج والوں کے لئے بہت نفع بخش ہے اسی طرح جس کامزاج بلغمی ہو یا جس کے فالج لگنے کا خطرہ ہے یہ نافع ہے منی کو خشک کرتا ہے سدوں کو کھولتا ہے غلیظ ریاح کو تحلیل کرتا ہے کھانا ہضم کرتا ہے دست لاتا ہے پیشاب آور ہے کیڑے مکوڑوں کے ڈنک اور ہر طرح ککے سرد ورموں میں تریاق کا کام کرتا ہے‘ اگر اس کو پیس کر سانپ کے کاٹے ہوئے یا بچھو کے ڈنک مارنے کی جگہ پر اس کاضماد کردیا جائے تو نفع دے گا اور تمام زہر کو کھینچ لے گا یہ بدن کو گرم رکھتا ہے‘ اور حرارت عزیزی کو بڑھاتا ہے بلغم ختم کرتا ہے اپھارہ کو تحلیل کرتا ہے‘ حلق کو صاف رکھتا ہے اور اکثر اجسام کے لئے محافظ صحت ہے پانی کے تغیر کے اثرات کو ختم کرتا ہے اور پرانی کھانسی کے لئے مفید ہے‘ اس کا کچا اور پکا کر اوربھون کر استعمال کیا جاتا ہے‘ ٹھنڈک لگنے کی وجہ سے سینے میں ہونے والے درد کے لئے نافع ہے حلق میں پھنسے جونک کو نکال پھینکتا ہے اگر اس کو پیس کر سرکہ‘ نمک اور شہد کے ساتھ آمیزہ کرلے کھوکھلے داڑھ پر رکھا جائے تو اسے ریزہ ریزہ کرکے گرادیتاہے اور اگر داڑھ یں درد ہو تو درد ختم کرتا ہے اور اگر اس کا سفوف ۲گرام شہد کے ساتھ استعمال کیا جائے تو بلغم اور پیٹ کے کیڑوں کو نکالتا ہے اور بدن کے سفید داغ پر شہد کے ساتھ اس کو لگانے سے فائدہ ہوتا ہے۔
لہسن کے نقصانات:اس سے نقصان بھی ہوتا ہے‘ درد سر پیدا کرتاہے‘ دماغ اور نگاہوں کو ضرر ہوتا ہے‘ نگاہ اور قوت باہ کوکمزور کرتا ہے‘ تشنگی پیدا کرتا ہے‘ صفراءکو جوش میں لاتا ہے گندہ دہنی پیدا کرتا ہے اور اگر اس کے کھانے کے بعد برگ سدا ب چبالیا جائے تو اس کی بدبو ختم ہوجاتی ہے۔
ثرید ©: صحیح بخاری وصحیح مسلم میں آپ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:
”حضرت عائشہؓ کو تمام عورتوں پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسی ثرید کو تمام دوسرے کھانوں پر فضیلت ہے“
ثرید اگرچہ مرکب ہوتی ہے جس کی ترکیب کے اجزاءروٹی اور گوشت ہوتے ہیں‘چنانچہ روٹی تمام غذا میں اعلیٰ ترین غذا ہے‘ اور گوشت تمام سالنوں کا سردار ہے‘ پھر جب دونوں کو ملادیا جائے تو پھر اس کی افضلیت کا پوچھنا ہی کیا۔
روٹی اور گوشت میں سے کون افضل ہے‘ اس سلسلہ میں لوگوں کے خیالات مختلف ہیں لیکن صحیح بات یہ ہے کہ روٹی کی ضرورت بہت زیادہ پڑتی ہے اور وہ سب کیلئے یکساں طور پر مطلوب ہے‘ اور گوشت افضل اور بہت عمدہ چیز ہے‘ دوسری غذاﺅں کے مقابل اسکو جو ہر بدن سے زیادہ مناسبت ہے نیز یہ جنتیوں کا بھی کھانا ہے‘ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں سے تخاطب فرمایا جنہوں نے سبزی‘ ککڑی‘ لہسن‘ دال اور پیاز کا مطالبہ کیا تھا اور من وسلویٰ سے گھبراگئے تھے۔
”کیا تم لوگ اچھی چیز کے بدلے ادنیٰ چیز لینا چاہتے ہو“۔
اکثر سلف نے فوم سے مراد گیہوں لیا ہے اس تقدیر کی بنیاد اس آیت کے اندر اس بات کی صراحت ہے کہ گوشت گیہوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔