حنائ : (مہندی) اس کی فضیلت کا بیان پہلے گزرچکا ہے اور اس کے فوائد کا بھی ذکر کیا جاچکا ہے اس لئے اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
حبتہ السودائ : (شونیز کلونجی) صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حدیث ابو سلمہ حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا :
” تم اس شونیز کو استعمال کیا کرو‘ اس لئے کہ اس میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاءموجود ہے“۔
السام : موت کو کہتے ہیں۔
حبةالسودائ: زبان فارسی میں شونیز کو کہتے ہیں‘ یہ زیرہ سیاہ ہے جسے ہندوستانی زیرہ بھی کہتے ہیں‘ حربی نے حضرت حسن سے نقل کیا ہے کہ یہ رائی کا دانہ ہے ہروی نے بیان کیا کہ بن کا سبز رنگ کا پھل ہے حالانکہ یہ دونوں خیال محض خیال ہیں حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں‘ صحیح بات یہی ہے کہ یہ شونیز (کلونجی) ہے۔
اس کے اندر بہت سے فوائد ہیں نبیﷺ نے اس کو ہر بیماری کا علاج فرمایا ہے اس کا مفہوم اس آیت میں بخوبی واضح ہوجاتا ہے‘ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”یعنی ہر چیز میں بربادی وغیرہ کی صلاحیت بحکم الہٰی پیدا ہوتی ہے“۔
یہ تمام امراض باردہ میں نافع ہے اور عارضی طور پر امراض حار یابس میں بھی نفع بخش ہے تر بارد دواﺅں کی قوتوں کو اس کی طرف تیزی سے لیجاتے ہیں‘ اس لئے کہ اس میں نفوذ اور قوت سرایت بہت زیادہ ہوتی ہے اگر اس کا معمولی انداز میں ان دواﺅں میں استعمال کیا جائے تو یہ بارد نفوذ اور سرایت کرکے خاصا نفع بخش ہوجاتا ہے۔
”قانون“ کے مصنف شیخ نے بصراحت تحریر کیا ہے کہ قرص کافور میں زعفران کی آمیزش سے تیزی آجاتی ہے کیونکہ زعفران میں قوت نافذغیر معمولی طور پر ہوتی ہے‘ اس قسم کی بہت سی مثالیں ہیں جن کو ماہر اطباءجانتے ہیں اور امراض حارہ میں گرم دواﺅں سے منفعت یہ کوئی بعید از قیاس بات نہیں۔
کیونکہ بہتیری دواﺅں میں اس کا تجربہ کیا جاچکا ہے چنانچہ انزردت کے مرکبات آشوب چشم میں کام آتے ہیں‘ اسی طرح شکر گرم ہونے کے باوجود آشوب چشم میں استعمال کی جاتی ہے‘ حالانکہ آشوب چشم ورم حار ہے‘ تمام اطباءاس پر متفق ہیں‘ ایسے ہی خارش میں گندھک بہت زیادہ مفید ہے۔
شونیز کا مزاج تیسرے درجہ میں گرم خشک ہے اس کے استعمال سے اپھارہ ختم ہوجاتا ہے کدو دانے اس سے نکلتے ہیں برص‘ اور میعادی بخار کے لئے نافع ہے اسی طرح بلغمی بخار کے لئے نفع بخش ہے سدے کھول دیتا ہے تحلیل ریاح کرتا ہے رطوبات معدہ کو خشک کرتا ہے اگر اس کو پیس کر شہد کے ساتھ معجون بنالیا جائے اور گرم پانی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو گردے اور مثانہ کی پتھری کو گلا کر نکال دیتا ہے اگر اس کو چند دن مسلسل استعمال کیا جائے تو پیشاب‘حیض لاتا ہے اور دودھ زیادہ پیدا کرتا ہے اور اگر اس کو سرکہ کے ساتھ گرم کرکے شکم پر ضماد کیا جائے تو کدو دانے کو ماردیتا ہے اور اگر تازہ اندرائن کے رس کے ساتھ معجون یا جوشاندہ کے طور پر استعمال کریں تو پیٹ کے کیڑوں کے نکالنے میں زیادہ نفع بخش ہے‘ معدہ کو جلاءدیتا ہے کیڑوں کی پیدائش کو روکتا ہے اورتحلیل ریاح کرتا ہے اور اگر اس کو باریک پیس کر کسی باریک کپڑے میں چھان لیں‘ اور اس کو برابر سونگھیں تو نزلہ بارد کو ختم کرے گا۔
اس کا تیل بالخورہ کے لئے نفع بخش ہے‘ مسوں اور بدن کے تل کی افزائش کو روکتا ہے اور اگر ساڑھے چار گرام پانی کے ساتھ اس کو پی لیں‘ تو دمہ اور ضیق نفس سے نجات مل جائے گی اور اس کا ضماد بارد سر درد کے لئے مفید ہے اور اس کے سات دانے کسی عورت کے دودھ میںبھگودیا جائے اور اس کو یرقان کے مریض کی ناک میں چڑھایا جائے تو اس سے پورا پورا فائدہ ہوتا ہے۔
اور اگر اس کو سرکہ میں ملا کر پکالیا جائے اور اس کی کلی کی جائے تو ٹھنڈک کی وجہ سے ہونے والے دانت کے درد میں مفید ہے‘ اور اگر اس کے سفوف کو ناک میں چڑھایا جائے تو ابتداءآنکھ سے پانی گرنے میں مفید ہے اور اگر سرکہ میں ملا کر اس کا ضماد کیا جائے‘ تو گرمی دانے اورتر کھجلی کو جڑ سے ختم کردیتا ہے اور دائمی بلغمی ورموں کو تحلیل کرتا ہے اور سخت ورموں کو ختم کردیتا ہے اور اگر اس کا تیل ناک میں چڑھایا جائے تو لقوہ کے لئے مفید ہے اور اگر اس کا تیل ڈھائی سے ساڑھے تین گرام استعمال کریں تو کیڑے مکوڑے کے ڈنک کے لئے نافع ہے‘ اور اگر خوب باریک پیس کر گندہ بروزہ کے پھل کے تیل میں ملا کر اس کے دو تین قطرے کان میں ٹپکائیں تو ٹھنڈک کی وجہ سے ہونے والے کان کے درد کے لئے نافع ہے اسی طرح ریاح اور سدے کو دفع کرتا ہے۔
اگر اس کو بھون کر باریک پیس لیں اور روغن زیتون میں ملاکر اس کے تین چار قطرے ناک میں ڈالیں تو اس زکام کو جس میں بکثرت چھینک آتی ہے ختم کردیتا ہے اور اگر اس کو جلاکر روغن چنبیلی یا روغن میں ملا کر پنڈلی کے زخموں پر سرکہ سے دھونے کے بعد ملا جائے تو بے حد مفید ہے اور اس سے زخم بھی مندمل ہوجائے گا اور اگر سرکہ کے ساتھ پیس کر برص‘ جسم کے سیا ہ داغ اور بھینسیا داد پر ملا جائے تو یہ بیماریاں جاتی رہیں گی‘ اور اگر اس کو باریک پیس کراس کا سفوف روزانہ دو درہم کے مقدار ٹھنڈے پانی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو باﺅلے کتے کے کاٹے کے لئے بہت مفید ہے‘اور وہ ہلاکت سے بچ جائیگا اور اس کے تیل کو ناک میں چڑھایا جائے تو فالج اور رعشہ کو جڑ سے ختم کردیتا ہے‘ اور ان کے مادے کو ختم کردیتا ہے اور اگر اس کا بخور کیا جائے تو کیڑے مکوڑے ختم ہوجاتے ہیں۔
اور اگر انزروت کو پانی میں گھول کر مقعد کے اندرونی حصہ پر مل دیا جائے پھر اس پر سفوف شونیز چھڑک دیا جائے تو یہ بواسیر کوختم کرنے کے لئے اعلیٰ ترین اوربے حد مفید سفوف ثابت ہوگا اس کے منافع ہمارے بیان سے بھی کہیں زیادہ ہیں‘ اس کی خوراک دو درہم کے مقدار تک ہے بعض اطباءکا خیال ہے کہ اس کا زیادہ استعمال مضر اور مہلک ہے۔
حریر : (ریشم) اس سے پہلے بیان کیا گیا ہے کہ نبیﷺ نے حضرت زبیر اور عبدالرحمٰن بن عوف ؓکو خارش کے روکنے کے لئے اس کے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی اس کا مزاج اور اس کے فوائد پہلے بیان ہوچکے ہیں اس کو دوبارہ یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔
حرف: (دانہ رشاد) ابو حنیفہ دینوری نے لکھا ہے کہ یہ وہی تخم ہے جس کو لوگ بطور دوا ستعمال کرتے ہیں اور یہ شفاءہے جس کے بارے میں رسول اکرمﷺ کی حدیث ہے اس کے پودے کو حرف کہتے ہیں اور عوام اسے تخم رشاد کہتے ہیں ابو عبید کا بیان ہے کہ شفاءحرف کا ہی دوسرا نام ہے۔
وہ حدیث جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے اسے ابو عبید وغیرہ نے حدیث ابن عباسؓ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:
”دو تلخ چیزوں میں کس قدر شفاءہے‘صبر اور تخم رشاد میں“
ابو داﺅد نے اپنی مراسیل میں اس کو بیان کیا ہے۔
اس کا مزاج تیسرے درجہ میں گرم خشک ہے یہ گرمی پیدا کرتا ہے‘ پاخانہ نرم کرتا ہے پیٹ کے کیڑے اور کدو دانے کو نکالتاہے ورم طحال کو تحلیل کرتا ہے‘ شہوت جماع کا محرک ہے‘ تر خارش اور بھینسیا داد کو جڑ سے ختم کرتا ہے‘ اور اگر شہد کے ساتھ ملا کر اس کا ضماد کیا جائے تو ورم کو تحلیل کرتا ہے اور مہندی کے ساتھ جوشاندہ بنا کر پلائیں تو سینے کو مادردیہ سے صاف کرتا ہے اور اسی جوشاندہ کے پینے سے کیڑے مکوڑوں کے نیشن سے بھی آرام ملتا ہے‘ اور اگر کسی جگہ پر اس کا بخور کیا جائے تو کیڑے مکوڑے وہاں سے بھاگ جاتے ہیں بالوں کے گرنے کو روک دیتا ہے اور اگر جو کا آٹا اور سرکہ سے آمیزکرکے اس کا ضماد کیا جائے تو عرق النساءکے لئے مفید ہے اور اورام حارہ کو بالآخر تحلیل کردیتا ہے۔
اور اگر پانی اور نمک کے ساتھ اس کو پھوڑوں پر ضماد کیا جائے تو اسے پکادیتا ہے اور تام اعضاءکے استرخاءکو روکتا ہے قوت باہ بڑھاتا ہے کھانے کی خواہش پیدا کرتا ہے جوف کی سوج ©ن‘ دمہ اور صلابت طحال کے لئے بے حد مفید ہے پھیپھڑے کو صاف کرتا ہے‘ حیض آور ہے عرق النساءکے لئے نفع بخش ہے اور اگر اس کو پیا جائے یا اس کا حقنہ لگایا جائے تو سرین کے سرے کا درد ختم ہوجاتا ہے کیونکہ حقنہ سے فضولات ختم ہوجاتے ہیں‘ اور سینے اور پھیپھڑے کے لیسدار بلغم کو ختم کرکے صاف کرتا ہے۔
اگر اس کا سفوف پانچ درہم کی مقدار گرم پانی سے استعمال کریں تو پاخانہ نرم کرتا ہے‘ ریاح کو تحلیل کرتا ہے اور ٹھنڈک سے ہونے والے درد قولنج کو دور کرتا ہے‘ اور اگر اس کے سفوف کو پیا جائے تو برص کے لئے مفید ہے اور اگر اس کو سرکہ کے ساتھ ملا کر برص اور جسم کے سفید داغ پر ضماد کیا جائے تو دونوں کے لئے مفید ہے اور ٹھنڈک اور بلغم کی وجہ سے پیدا ہونے والے سر درد میں نافع ہے اگر اس کو بھون کر پیا جائے تو پاخانہ بستہ کردیتا ہے بالخصوص اس کا سفوف کئے بغیر استعمال کریں تو اور زیادہ مفید ہے اس لئے کہ بھوننے کے بعد اس کا لیس دار مادہ تحلیل ہوجاتا ہے‘ اور اگر پانی میں پکاکر اس سے سر دھلایا جائے تو سرکو میل کچیل اور لیس دار رطوبتوں سے صاف کرتا ہے۔
حکیم جالینوس نے لکھا ہے کہ اس کی قوت رائی کے دانے کی طرح ہے‘ اسی لئے سرین کے درد میں جس کو عرق النساءکہتے ہیں‘اس کی سینکائی کرنا مفید ہے‘ اسی طرح سر درد میں بھی نافع ہے اگر ان بیماریوںمیں سے کسی ایک بیماری میں بھی گرم کرنے کی ضرورت پڑے تو یہ مفید ہے‘ اسی طرح رائی کے تخم سے سینکائی کرنا بھی مفید ہے۔
اور کبھی دمہ کے مریضوں کی دواﺅں میں بھی اس کو آمیز کیا جاتا ہے تاکہ اخلاط غلیظ کو پوری طرح ختم کردے‘ جس طرح تخم رائی اس کو جڑ سے ختم کردیتا ہے لہٰذا یہ ہر طرح سے رائی کے تخم کے مشابہ اور برابر ہے۔
حلبة:(میتھی) نبیﷺ سے منقول ہے کہ آپ نے سعد بن ابی وقاص ؓکی عیادت مکہ میں کی تو آپ نے فرمایا کہ کسی ماہر طبیب کو بلا لاﺅ چنانچہ حارث بن کلدہ کو بلایا گیا اس نے ان کو دیکھ کر کہا کہ کوئی خطرے کی بات نہیں ہے ان کے نسخہ میں میتھی کوتازہ عجوہ کھجور کے ساتھ جوش دیا جائے اور اسی کا حریرہ ان کو دیا جائے چنانچہ یہی کیا گیا تو یہ شفایاب ہوگئے۔
میتھی: دوسرے درجہ میں گرم اور پہلے درجہ میں خشک ہے پانی میں جوش دینے کے بعد اس کا جوشاندہ‘حلق‘سینہ اور شکم کو نرم کرتا ہے کھانسی‘خشونت اور دمہ تنگی تنفس کو دور کرتا ہے قوت باہ بڑھاتا ہے‘ریاح‘بلغم‘بواسیر کے لئے نہایت مجرب دوا ہے آنتوں میں رکے ہوئے کیموس کو نیچے لاتا ہے اور سینے کے لیس دار بلغم کو تحلیل کرکے باہر نکالتا ہے پیٹ کے پھوڑوں اور پھیپھڑے کی بیماریوں میں نافع ہے‘اور انتڑیوں میں ہوں تو گھی اور فالودہ کے ہمراہ اس کا استعمال مفید ہے۔
پانچ درہم وزن کے برابر فوہ کے ساتھ اس کا استعمال حیض آور ہے اور اگر اس کو پکا کر اس سے سر دھلایا جائے تو بالوں کو گھونگھریالا بناتا ہے سر کی بھوسی کو ختم کرتا ہے۔
اس کے سفوف کو سہاگہ اور سرکہ سے آمیز کرکے اس کا ضماد کریں تو ورم طحال کو تحلیل کرتا ہے اور عورت کے ورم رحم کی وجہ سے ہونے والے درد میں اگر اس کو میتھی کے پکائے ہوئے پانی میں بٹھادیاجائے تو درد جاتا رہتا ہے اور اگر معمولی حرارت والے سخت ورموں پر اس کا ضماد کیا جائے تو نفع ہوگا اور اس کو تحلیل کردے گا۔
اگر میتھی کا پانی پیا جائے تو ریاح کی وجہ سے ہونے والے مروڑ میں نافع ہے۔ ذمقالاء میں نافع ہے۔
اگر اس کو پکا کر چھوہارے کے ساتھ کھایا جائے تو شہد یا انجیر زرد کے ساتھ استعمال کیا جائے تو سینے اور معدہ میں پیدا ہونے والے لیسدار بلغم کو تحلیل کرتا ہے اور پرانی کھانسی کے لئے مفید ہے یہ قبض شکن اور مسہل ہے اور ناخنوں کے تشنج کے لئے نفع بخش ہے اور اس کے تیل کو موم کے ساتھ ملا کا ناخنوں پر ملا جائے تو سردی کی وجہ سے پیدا ہونے والی پھٹن کو دور کرتا ہے اس کے علاوہ اس میں بہتیرے فوائد ہیں:
قاسم بن عبدالرحمٰن سے روایت کی جاتی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میتھی کے ذریعہ شفاءحاصل کرو۔
بعض اطباءنے بیان کیا ہے کہ اگر لوگ میتھی کے فوائد سے آشنا ہو جائیں تو سونے کے دام کے برابر اس کی قیمت دے کر اس کو خریدنے لگیں گے۔