Home O Herbal

منگل, 02 20th

Last updateپیر, 21 اکتوبر 2013 6am

طب نبوی

زیر علاج مریضوں کو مناسب کھانا پانی دینے کی ہدایت

امام ترمذیؒ اور امام ابن ماجہؒ نے عقبہ بن عامر جہنی سے روایت کی:
”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے بیماروں کو زبردستی کھلانے پلانے کی کوشش نہ کرو کیونکہ اللہ پاک انہیں کھلاتا پلاتا ہے“
فاضلین اطباءنے اس حدیث کے مضمون پر سر دھننا شروع کیا کہ ان چند لفظوں میں جو جناب نبی کریم ﷺ کے زبان مبارک سے نکلے ہوئے ہیں کتنی حکمتیں ان میں پائی جاتی ہیں بالخصوص معالجین جو مریضوں کا علاج کرتے ہیں ان کے لیے تو بے شمار حکمتیں ہیں اس لیے کہ مریض کو جب کھانے پینے کی خواہش نہ ہو تو اس کا سبب مریض کی طبعیت کا مرض کے بگڑنے میں لگنا ہوتا ہے یا اس کی خواہش کے ختم ہونے کی بناءپر یا حرارت غریزی کی کمی کی بنیاد پر یا اس کے بالکل ختم ہونے کی وجہ سے غرض وجہ کچھ بھی ہو ایسے موقع پر مریض کو غذا دینا کسی طرح مناسب نہیں ہے۔
بھوک تو اعضاءکے غذا طلب کرنے کا نام ہوتا ہے کہ طبعیت اس غذا کے ذریعہ بدل مایتحلل کا نظم کرے اس لیے معدہ سے دور کے اعضاءقریب کے اعضاءسے جذب غذا کرتے ہیں پھر غذا کے جذب کرنے کا سلسلہ معدہ تک پہنچتا ہے جس سے انسان میں بھوک کا احساس ہوتا ہے اور غذا طلب کرتا ہے اور جب مریض ہوگا تو طبعیت مادہ مرض پختہ کرنے اور اس کے نکالنے کی طرف مشغول ہوجائے گی، اور طلب شراب و غذا سے کوئی سروکار ہی نہ رہ جائے گا ایسی صورت میں اگر کسی مریض کو غذا یا مشروب کے استعمال پر مجبور کیا جائے تو طبیعت اپنے عمل ہی کو معطل کردے گی اور بجائے مرض کے مادہ کے انضاج و اخراج کے دیے گئے کھانے کے پکانے، کھانے لگانے میں لگ جائے گی نتیجہ اس غذا سے مریض کو سخت نقصان پہنچے گا خصوصاً بحران کے وقت یا ضعف حرارت غریزی یا حرارت غریزی کے بالکل بجھ جانے کے وقت تو پوچھئے نہیں کیا گیا کچھ نہ ہوجائے گا اس وقت ایسی چیزوں کے استعمال کی ضرورت ہے جس سے اس کی رہی سہی قوت باقی رہے اس میں کسی قدر توانائی آئے نہ یہ کہ ایسی صورت اختیار کی جائے جس سے طبعیت اور مضمحل ہوجائے قوت اور سکت ٹوٹ جائے اس موقع پر تو لطیف غذا اور پاکیزہ مشروبات دیے جانے چاہیں جن کا مزاج معتدل ہو جیسے شربت نیلوفر، شربت عرق، سیب گل تازہ، عرق گلاب وغیرہ اور غذا میں چوزے کا شوربہ جس میں خوشبودار مسالے پڑے ہوں اور مناسب انداز کی مفرح اور منعش قوت خوشبو اور لخلخلے سنگھائے جائیں، لطیفے سنائے جائیں، خوش کن باتیں کی جائیں اس لیے کہ طبیب تو طبیعت کا ملازم ہے اسی کا یار غمگسار ہے۔ نہ کہ دشمن جفا شعار۔ عمدہ خون ہی بدن کی غذا ہے اور بلغم خون کی وہ قسم ہے جو پوری طرح پختہ نہ ہو بلکہ کسی قدر اس میں خامی رہ گئی ہو جن مریضوں کے جسم میں بلغم کی بڑی مقدار ہوتی ہے اور اصل غذا کی مقدار اس کثرت بلغم کی بنا پر تقریباً ناپید ہوجاتی ہے تو طبیعت بلغم کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور اسے پکاتی، خون بناتی اور اعضاءکے کام آتی ہے اور جسم و اعضاءکو دوسری غذا سے بے نیاز کردیتی ہے۔
طبیعت اس قوت کو کہتے ہیں جسے اللہ پاک نے بدن کی تدبیر اور اس کی حفاظت اس کی صحت کا وکیل بنایا ہے طبیعت انسانی جسم کی ساری زندگی نگرانی کرتی ہے۔
یہ بھی ذہن نشین رہے کہ مریض کو کبھی کھانا اور پانی دینے کی اور اسے قبول کرنے پر مجبور کرنے کی ضرورت پڑتی ہے اگرچہ یہ بہت کم ہوتا ہے مگر ایسا بھی ہوتا ہے اور عموماً غذا پر جبر کرنے کی اس وقت ضرورت ہوتی ہے جب مریض اختلاط عقل کا شکار ہو اس طرح سے حدیث کے عموم کو مخوص کرنے سے اور اس کے مطلق کو مقید کرنے کی ضرورت موجود ہو اس طرح حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ مریض بلا غذا کے ایک طویل مدت تک باقی رہتا ہے کہ انداز کی زندگی تندرست بھی بلا غذا کھائے نہیں گزار سکتا۔
اور رسول اللہ ﷺ کا قول ”یعنی اللہ مریضوں کو کھلاتا پلاتا ہے“ کا معنی زیادہ لطیف ہے۔ وہاں تک اطباءکی عقل کی رسائی نہیں بلکہ اس کا مطلب تو وہی سمجھ سکے گا جو قلب و روح کے معاملات اور اس کے اثرات بدن انسانی سے پوری طرح واقف ہو یا طبیعت کا انفعال ان تاثیرات روحی و قلبی سے ہو جس طرح کہ روح و قلب طبیعت سے منفعل ہوتے ہیں اس کی طرف ایک ہلکا اشارہ ہم کرتے ہیں۔
کہ نفس کو جب کسی ایسی چیز سے سابقہ پڑتا ہے جو اسے مشغول رکھتی ہیں خواہ چیز پسندیدہ ہونے کیوجہ سے یا ناپسند ہونے کی وجہ سے یا خطرناک ہونے کی وجہ سے نفس کو مشغول کردیتی ہے تو اس اشتغال کی وجہ سے غذا کی مانگ اور پیاس کی خواہش نہیں ہوتی نہ بھوک کا احساس ہوتا ہے بلکہ بعض اوقات تو سخت سے سخت درد و اذیت کا بھی احساس ختم ہوجاتا ہے ہر انسان کو ان سب باتوں اور واقعات سے سابقہ پڑتا ہے جب انسان کی یہ حالت ہو کہ اسے بھوک کی تکلیف نہ ہو ایسی صورت میں نفس کو کسی مفرح یا غیر معمولی نشاط آور چیز پیش آتی ہے تو وہ نشاط انگیز چیز غذا کے قائم مقام ہوجاتی ہے اس سے طبعیت آسودہ ہوجاتی ہے اور ساری قوتوں میں جان آجاتی ہے بلکہ ساری قوت دگنا ہوجاتی ہے اور خون کا جریان اتنا تیز ہوجاتا ہے کہ خون ظاہر جسم سے ابلتا نظر آتا ہے جس سے چہرہ پر رونق آجاتی ہے اور خون جسم سے جھلکنے لگتا ہے ایسے موقع پر اعضاءکو غذا کی عادت کے مطابق مانگ نہیں ہوتی اس لیے کہ طبعیت اس سے زیادہ پسندیدہ چیز کے ساتھ مشغول و مربوط ہوتی ہے اور جب طبعیت کا قابو اپنی محبوب شے پر ہوجاتا ہے تو اس سے کمتر چیز کی طرف متوجہ نہیں رہتی۔
اگر بدن پر وارد چیز تکلیف وہ غم انگیز اور خوفناک ہوتی ہے تو طبعیت اس سے جنگ کرتی ہے اور اسے بیخ وبن سے اکھاڑنے اور اس کی مدافعت میں لگ جاتی ہے اس جنگ کرنے کی وجہ سے اس کی مشغولیات کا رخ صرف مدافعت کی جانب ہوتا ہے نہ کہ غذا و مشروب کی جانب اور طبعیت ایسی چیزوں کو خلیفہ بنادیتی ہے جو اس گم شدہ قوت کو بازیاب کرسکے۔ چنانچہ قوت بازیاب ہوتی رہتی ہے۔ اگر طبعیت مقہود و مغلوب ہوجاتی ہے تو پھر قوت میں تدریجی انحطاط شروع ہوجاتا ہے اگر یہ جنگ جو طبعیت اور مرض کے مابین بگڑتی اور بنتی رہتی ہے باقی رہ جائے تو پھر قوت کبھی بڑھ جاتی ہے کبھی گھٹ جاتی ہے۔ غرض طبعیت و مرض کے مابین یہ جنگ بالکل آمنے سامنے لڑنے والی دشمن قوتوں کی طرح ہوتی ہے اور غلبہ تو جیتنے والے کے لیے ہے ہارا ہوا یا تو شہید ہوتا ہے یا زخمی یا قیدی۔
مریض کی اعانت منجانب اللہ ہوتی ہے اس کا تغذیہ اس انداز میں ہوتا ہے کہ اطباءاس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے اللہ کی یہ اعانت اس کے ضعف اور باری تعالیٰ کے سامنے انکساری و عاجزی کی بنیاد پر اسی تناسب سے ہوتی ہے جس تناسب سے وہ اپنا ضعف عاجزی درماندگی اللہ کے سامنے پیش کرتا ہے اس سے دوسرا نفع قرب الٰہی کی صورت میں حاصل ہوتا ہے اس لیے کہ باری تعالیٰ کی قربت سب سے زیادہ ٹوٹے دلوں کے ساتھ ہوتی ہے اللہ کی رحمت اس کے پلے میں ہوتی ہے اگر مریض اللہ کا دوست ہے تو اسے قلبی تغذیہ اللہ کی جانب سے ہوتا رہتا ہے جس سے اس کی طبعیت کی تمام قوتوں میں توانائی باقی رہتی ہے بلکہ اس کی توانائی اس کی قوت سے کہیں زیادہ ہوتی ہے جو وہ بدنی اور مادی غذاﺅں سے حاصل کرتا ہے جب اس کا ایمان و یقین جاگ جاتا ہے تو اس کا تعلق اللہ کے ساتھ ابھرآتا ہے اس کو اللہ کے ساتھ لگن ہوجاتی ہے اور وہ اس میں سر مست رہتا ہے چونکہ اس کے یقین کی قوت اور اللہ کے ساتھ حسن ظن بڑھ جاتا ہے اس کا شوق تیز تر ہوجاتا ہے اللہ سے راضی رہتا ہے اور اس کو راضی رکھنا چاہتا ہے ان سب چیزوں سے اس میں وہ توانائی وہ قوت اور ایسی جان آجاتی ہے کہ اس کے بیان کے لیے الفاظ نہیں ملتے نہ کسی طبیب کے نسخے میں اس کی گنجائش ہوتی نہ اس کے علم کی رسائی۔
کسی کی عقل بہت موٹی ہو اس کی طبعیت میں زیرکی کا کوئی شمہ نہ ہو تو وہ ان باتوں کو کیا سمجھے گا اور اس کی تصدیق کیا کرے گا ایسے لوگوں کے لیے صورت کے پرستاروں کو دیکھنا چاہیے کہ یہ عشاق ان مادی چہروں اور جسمانی بناوٹوں میں کیا کچھ نہیں پاتے ان کے لیے تن من دھن سب کچھ قربان کر گزرتے ہیں، بعضوں کو صورت سے عشق ہوتا ہے بعضوں کو جاہ کی طلب ہوتی ہے بعض مال کے رسیا ہوتے ہیں بعض علم کے شائق ہر ایک اپنے محبوب کے حصول اور اس کے وصول میں ایک عجیب توانائی ایک عمدہ فرحت محسوس کرتا ہے اس کا رات دن لوگ مشاہدہ کرتے ہیں اور ان انوکھے انداز پرستش کو دیکھتے ہیں۔
چنانچہ صحیح بخاری میں ایک روایت اس کی شہادت کے لیے کافی ہے۔
”نبی کریم ﷺ پے در پے روزے عرصے تک رکھتے مگر اپنے ساتھیوں کو اس وصال سے روکتے اور فرماتے کہ میں تمہاری طرز کا نہیں ہوں، مجھے تو میرا پروردگار کھلاتا ہے اور پلاتا ہے۔ پھر تم کہاں اور میں کہاں؟“
یہ بات سب جانتے ہیں کہ یہ کھلانا پلانا اس انداز کا نہ تھا جو دوسرے انسان غذا استعمال کرتے ہیں اور اپنے منہ سے کھاتے ہیں اگر منہ سے کھاتے ہوئے تو پھر آپ مواصل صیام کیسے ہوتے اور پھر دونوں میں فرق کی کوئی وجہ نہ تھی بلکہ و ہ تو کھانے پینے کے بعد روزہ دار ہی نہیں رہتے اسی لیے فرمایا ”میرا رب مجھے غذا دیتا ہے اور مشروب پلاتا ہے۔“
مزید براں آپ نے خود وصال ہی میں اپنے اور دوسروں کے مابین تفریق کرکے سمجھایا کہ آنحضرت جس پر قدرت رکھتے ہیں۔ اس پر ان کو قدرت نہیں ہے۔ اگر آپ اپنے منہ سے کھاتے پیتے ہوتے تو پھر یہ کیسے فرماتے یہ بات اسی کے سمجھ میں آئے گی جس کے حصہ میں غذائے روحانی و قلبی آچکی ہوگی اور اس کو قوت و تاثیر سے پوری طرح واقف ہوگا اور یہ کہ غذائے روحانی کو جسمانی غذا سے کوئی نسبت نہیں ہے۔

BLOG COMMENTS POWERED BY DISQUS